آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل10؍ربیع الثانی 1440ھ18؍دسمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا کے قدیم مذاہب میں یوگا کو عبادت کا درجہ حاصل ہے مگر حالیہ برسوں میں سائنسی تحقیق سے یہ معلوم ہوا ہے کہ جسمانی اور نفسیاتی ورزش کا یہ طریقہ انسانی صحت پر خوشگوار اثرا ت مرتب کرتاہے، اس کے علاوہ اعضائے رئیسہ کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں مدد کرتا ہے۔یوگا سنسکرت زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے قابو پانااور متحد کرنا۔ بدھ مت اور ہندومذہب میں یوگا کی جسمانی اور سانس کی ورزشوں اور مراقبے کے عمل کو اپنے نفس پر قابو پانے اور صحت مند رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اپنی کئی خصوصیات کی بنا پر دنیا بھر میں یوگا کی مقبولیت میں اضافہ ہورہاہے۔

دل کی صحت

حالیہ سائنسی تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ دل کی دھڑکن کی رفتار کو اپنے معمول پر رکھنے میں یوگا اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ ماہرین کا کہناہے کہ ایسے افرا د جنہیں اپنی دھڑکن کو معمول پر رکھنے کے لیے ادویات کا سہارا لینا پڑتا ہے ، وہ یوگا کے ذریعےدواؤں سے چھٹکارا حاصل کرسکتے ہیں۔ انٹرنیشنل جرنل آف میڈیکل انجینئرنگ اور ٹائمز آف انڈیا میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یوگا دل کی صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔

فٹنس

یوگا کے ذریعے نہ صرف آپ جسمانی طور پر فٹ رہتے ہیں بلکہ ذہنی اور جذباتی طور پر بھی آپکی شخصیت متوازن رہتی ہے ۔ یوگا کی مدد سے آپ اپنی زندگی بھرپور اور خوشگوار بنا سکتے ہیں۔

وزن میں کمی

روزانہ مشقوں کے ذریعے ہمارے اندر ایسی صلاحیت پیدا ہوجاتی ہے، جس سے ہم اپنی غذا کے انتخاب میں محتاط ہوجاتے ہیں اور ایسی غذاؤں کا انتخاب کرتے ہیں جن کی ہمیں ضرورت ہوتی ہے۔ اس طرح یہ احتیاط ہمارے وزن میں کمی کا باعث بنتی ہے۔

تھکن سے نجات

روزانہ کچھ منٹ کی مشق ذہنی اور جسمانی تھکن سے مکمل طور پر نجات دلانے کا بہترین ذریعہ ہے ۔ یوگا کی مشقیں ذہنی دباؤ کم کر کے ہمیں پُرسکون بناتی ہیں۔

بےخوابی کا علاج

ہماری زندگی جسم ،دماغ اور روح کا مجموعہ ہے۔ جس طرح جسم کی کوئی بے قاعدگی ہمارے ذہن پر اثرانداز ہوتی ہے، اسی طرح ہمارے ذہن کی ناگواری یا بے سکونی بھی ہمارے جسم پر اثر انداز ہو کر بے خوابی کا باعث بنتی ہے ۔ یوگا کی مشق ہمارے جسم کو طاقت بخشتی ہے، اسی طرح سانس کی خاص تکنیک اور مراقبے کی مشق ذہنی دباؤ کو کم کر کے پُرسکون نیند کا باعث بنتی ہے۔

دس باتیں، دس احتیاطیں

یوگا کی تمام مشقوں کے آغاز سے پہلے درج ذیل باتوں پر غور اور عمل کرنا ضروری ہے ۔

1۔ وہ جگہ جہاں ان مشقوں کو کیا جائےوہ صاف اور ہوا دار ہو، مسہری یا چوکی کا استعمال ممنوع ہے۔ یہ مشقیں سخت اور ہموار جگہ پر قالین، دری اور چادر بچھاکر کی جاتی ہیں۔

2۔ آپ کے کپڑے ڈھیلے ڈھالے ہوں اور گرم نہ ہوں۔ سخت سردی کے موسم میں ہلکے گرم کپڑے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

3۔تمام ورزشیں خالی پیٹ یا صبح کے وقت ناشتے سے پہلے نہایت بہتر اور مؤثر ہوتی ہیں۔ ورزش کے آدھے گھنٹے کے بعد اچھی غذا مثلاً کسی پھل کا تازہ جوس اور دودھ پیا جا سکتا ہے۔ اگر صبح موقع نہ ملے تو کھانے کے چار گھنٹے بعدیہ مشقیں کر لیں مگر24گھنٹوں میں صرف ایک بار ہی کریں۔

4 ۔ جس جگہ ورزش کر رہے ہوں وہاں شور و غل نہ ہو ۔

5 ۔ ہر ورزش کے دوران ایک مخصوص وقت کے لیے ٹھہرنا یا رکنا بھی ضروری ہے ۔

6 ۔ ورزش کے دوران وقفوں میں جسم کو ڈھیلا چھوڑ کر گہرے اور لمبے سانس لیں یعنی جتنا ممکن ہوسانس کو ناک کے ذریعے پھیپھڑوں میں جمع کر کے منہ کے ذریعے پورا سانس باہر نکالیں۔ یہ طریقہ یوگا کا ایک نہایت اہم پہلو ہے۔ سانس کے اس عمل سے جسم کا دوران خون نارمل ہوتا ہے۔ صبح کے وقت گہرے سانس لینے سے خون پتلا ہوتا ہے، جو انسان کو بلڈپریشر سے محفوظ رکھتا ہے ۔

7 ۔تمام ورزشوں کو شروع کرنے سے پہلے دوران خون تیز کرنے اور جسم کو ہلکا گرم کرنے رکھنے کے لیے سب سے پہلے تھوڑی اچھل کود ، دوڑ یا وارم اپ کی چند ہلکی پھلکی ورزشیں توجہ سے کرنی چاہئیں ۔

چند بنیادی ورزشیں

ذیل میں ہم چند بنیادی ورزشوں کی تفصیل درج کر رہے ہیں ۔ یہ وارم اپ ورزشیں پوری توجہ، اعتماد اور لگن سے کی جائیں تو نتائج بتدریج سامنے آئینگے ۔

گردن کا گھمائو

دونوں پیروں کو باہم ملا کر سیدھے کھڑے ہو جائیں۔ گردن سے نچلے حصے کے بدن کو ساکن رکھتے ہوئے گردن کے اوپر سر کو جتنا ممکن ہو نیچے کی طرف جھکائیں۔ سر کو گردن پر جس انداز سے گھڑی کی سوئی دھیرے دھیرے حرکت کرتی ہے آپ بھی دائرے میں حرکت دیں۔ اب یہی چیز ویسے ہی دوسری طرف کیلئے کریں یعنی اگر دائیں جانب گردن گھمائی تھی تو اب بائیں سمت میں یہی عمل دہرائیں۔ درمیان میں ایک منٹ کا وقفہ دے کر دس چکر اسی طرح مکمل کر لیں۔ سر کو اوپر اٹھا کر ناک سے لمبے اور گہرے سانس لے کر منہ سے خارج کریں۔ دو چار سانس لینے کے بعد اب دوبارہ سر کو قدرے نیچے جھکائیں کہ جسم پر اس کے جھکائو کا اثر نہ ہو۔

کمر کا گھمائو

دونوں پیروں کے درمیان تقریباً ایک سے ڈیڑھ فٹ تک درمیانی فاصلہ رکھ کر سیدھے کھڑے ہو جائیں اور دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں سے کمر کی دونوں سائیڈ کو اس طرح گھما کر پکڑبنائیں کہ دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کا رُخ کمر کی جانب ہو جبکہ دونوں ہاتھوں کے انگوٹھے جسم کے سامنے کے رخ پر اپنی گرفت بنائیں۔ اب دونوں ٹانگوں کے گھٹنوں کو سیدھا اور اوپری جسم کو بھی قدرے یکساں حالت میں رکھتے ہوئے درمیانی جسم یعنی کمر اور پیٹ کو دائرے کی صورت میں گھڑی دار سمت میں گھمائیں۔ ا ب پہلی حالت کے مطابق بالکل اسی طرح 10چکر مکمل کریں۔ اس ورزش کو کرنے سے کمر پیٹھ اور ریڑھ کی ہڈی کے تمام مہرے اچھی طرح وارم اپ ہو جاتے ہیں، جو جسمانی لچک اور اعصابی رابطوں میں قوت پیدا کرتے ہیں ۔

گھٹنوں کا گھمائو

دونوں پیروں کے پنجوں کو آپس میں ملا کر سیدھے کھڑے ہوجائیں۔اوپری جسم کو قدرے نیچے جھکا کر دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں اور انگلیوں سے دونوں ٹانگوں کے گھٹنوں پر اپنی گرفت بنائیں جبکہ گھٹنے بھی آپس میں ملے ہوئے حالت میں ہوں۔ یہ حالت ایسی ہے جیسے نماز میں رکوع میں جاتے ہوئے قیام کیا جاتا ہے۔ اب گھٹنوں کو جسم کے سامنے نکالتے ہوئے پیروں کی ایڑھیوں کو ہلکا سا اٹھائیں اور پیروں کے پنجوں پر جسم کا توازن قائم کریں۔ اسی حالت میں جسم کو توازن میں رکھتے ہوئے دونوں گھٹنوں کو باہم ملی ہوئی حالت میں اور انگلیوں کی گرفت کے ساتھ دائرہ نما گھڑی جیسی سمت میں حرکت دیں۔ گھڑی کی سوئی جیسی دائرہ نما حرکت کے 10چکر کرنے کے بعد اس عمل کو الٹا دہرائیں ۔

ان تمام مشقوں کا انسانی جسم اور روح سے گہرا تعلق ہے۔ اگر یوگا کے ذریعے ذہنی ، روحانی اور جسمانی صلاحیتوں کو بیدار کر کے بروئے کار لایا جائے تو زندگی میں خوشگوار انقلاب لایا جاسکتا ہے ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں