• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خفیہ ایجنسی نے استعفے پر مجبور کیا، سابق بنگلادیشی چیف جسٹس کا الزام

کراچی (نیوز ڈیسک) بنگلادیش کے سابق چیف جسٹس ایس کے سنہا نے اپنی کتاب میں الزام عائد کیا ہے کہ گزشتہ سال ملک کی انٹیلی جنس ایجنسی نے انہیں زبردستی استعفیٰ دینے پر مجبور کیا۔ گزشتہ سال آئینی ترمیم کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ سنانے کے بعد انہیں زبردست دبائو کا سامنا تھا جس کے بعد انہوں نے عہدے سے استعفیٰ دیدیا تھا۔ انہوں نے بنگلادیشی انٹیلی جنس ایجنسی ’’ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فورسز انٹیلی جنس (ڈی جی ایف آئی)‘‘ پر الزام عائد کیا کہ ایجنسی نے جبراً استعفے کے حالات پیدا کیے۔ 16؍ ستمبر کو جاری ہونے والی اپنی کتاب میں انہوں نے انہوں نے اُن سنسنی خیز واقعات کا بھی ذکر کیا ہے جن کی وجہ سے وہ استعفے پر مجبور ہوئے تھے۔ ’’بروکن ڈریم: رول آف لاء، ہیومن رائٹس اینڈ ڈیموکریسی‘‘ نامی کتاب میں ایس کے سنہا کا کہنا ہے کہ ڈی جی ایف آئی کی جانب سے دھونس دھمکیوں، اہل خانہ کو نقصان پہنچانے کی دھمکیوں کے بعد میں نے اپنا استعفیٰ بھجوایا۔ کتاب میں ایجنسی کا ذکر مجموعی طور پر 63؍ مرتبہ کیا گیا ہے۔ ملک کے پہلے اقلیتی چیف جسٹس اور وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے درمیان اس وقت تنازع پیدا ہوا تھا جب چیف جسٹس نے اس آئینی ترمیم کو کالعدم قرار دیا جس کے تحت ججوں کے مواخذے کا اختیار پارلیمنٹ کو دیا گیا تھا۔ ایس کے سنہا وہ پہلے چیف جسٹس ہیں جنہوں نے عہدے سے استعفیٰ دیا۔ انہوں نے لکھا ہے کہ استعفے کے بعد انہیں ان کی رہائش گاہ میں محصور کردیا گیا، وکلا اور دوستوں کو ملنے کی اجازت نہیں تھی جبکہ سادہ کپڑوں میں ملبوس ایجنسی کے اہلکاروں نے سپریم کورٹ کا کنٹرول سنبھال لیا تھا، اس دوران مجھ پر کرپشن اور رشوت جیسے الزامات عائد کیے گئے، یہ الزامات ڈی جی ایف آئی کے چیف نے خود ملاقات میں عائد کیے جس پر میں نے انہیں کہا کہ آپ اپنی حد سے تجاوز کر رہے ہیں، آپ کو مجھ سے اس طرح بات کرنے کا اختیار کس نے دیا۔ اکتوبر میں بنگلادیشی حکومت نے صحت کے مسائل کو بنیاد بنا کر ایس کے سنہا کو بیرون ملک بھجوا دیا جبکہ وزیر قانون نے اعلان کیا کہ چیف جسٹس کو کینسر ہے۔ تاہم، آسٹریلیا جاتے ہوئے چیف جسٹس نے اس بات کی تردید کی اور بتایا کہ وہ بالکل ٹھیک ہیں اور جلد واپس آئیں گے۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے اپیلیٹ کورٹ کے جج کو عبوری چیف جسٹس مقرر کرنے کے فیصلے کو بھی چیلنج کیا۔
تازہ ترین