• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

  السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

پسند آئیں گی؟

مَیں گزشتہ ڈیڑھ سال سے جنگ، سنڈے میگزین سے وابستہ ہوں۔ ’’پیارا گھر‘‘ کے لیے آپ نے تراکیب بھیجنے کو کہا ہے، تو میں کچھ اپنی خاص، روایتی ڈشز کی تراکیب بھیج رہی ہوں، امید ہے آپ کو پسند آئیں گی۔ (اسماء سعید، میٹروول، کراچی)

ج: جی، اِن شاء اللہ۔

بہت پیچھے چھوڑ دیا

جب تک یہ سطریں صفحہ قرطاس پر چمکیں گی، اُس وقت تک قوم نئے حکمران کا فیصلہ کرچُکی ہوگی اور ہم بادل ناخواستہ یا خوشی خوشی اُس حکومت کے ماتحت ہوچکے ہوں گے۔ ابھی تک دیکھنے میں یہی آیاہے کہ جب کوئی تہوار ہو، یا کوئی بڑا واقعہ، سنڈے میگزین اپنی رعنائیوں کے ساتھ سب سے آگے ہوتا ہے۔ ایسا ہی اس ’’الیکشن نمبر‘‘ میں بھی نظر آیا۔ ’’سرچشمۂہدایت‘‘ میں ایمان افروز تحریر پڑھ کر محمود میاں نجمی کو دُعائیں دینے کے بعد دیگر تحریروں سے لطف اندوز ہوئے۔ خواہ وہ طاہر حبیب کا انتخابی منشور ہو یا فاروق اقدس کی نیرنگئی سیاست۔ رئوف ظفر کے انتخابی اخراجات پڑھ کر تو جُھرجھری سی آگئی کہ ایک سِیٹ کے لیے اتنی فضول خرچی۔ طلعت عمران اقلیت کی طاقت کا مظاہرہ کرتے دکھائی دیئے، تو منور راجپوت حسب ِ روایت اس ہفتے پھر اِک نئی،دل چسپ اور معلوماتی تحریر کے ساتھ نمایاں تھے۔ الیکشن سے متعلق ان چونکا دینے والی تحریروں کے بعد، کچھ دیر سستانے کے بہانے ہم بھی تُرکی کی طرف نکل کھڑے ہوئے۔ ’’ہیلتھ اینڈ فٹنس‘‘ میں ہیپا ٹائٹس کے عالمی دن کے حوالے سے ڈاکٹر غلام علی اور ڈاکٹر ضیغم کی تحریریں قابلِ توجّہ رہیں۔ ’’پیارا گھر‘‘ تو اس بار بہت ہی پیارا لگا۔ اس لیے نہیں کہ اُس میں ہمارے ’’آم ہی آم‘‘ تھے۔ ویسا ہی خاصا رنگا رنگ تھا۔ ’’اسٹائل‘‘ کی جگہ درمیانی صفحات پر منور راجپوت کی مرتب کردہ ’’الیکشن تصاویر‘‘دیکھ کر تو دل باغ باغ ہوگیا۔ قصّہ مختصر، ’’الیکشن نمبر‘‘ کے حوالے سے ایڈیٹر، نرجس بٹیا اور اس کی ٹیم کی محنت ایک بار پھر رنگ لائی، اور دوسرے اخبارات کے ایڈیشنز کو بہت پیچھے چھوڑ دیا۔ (چاچا چھکّن، گلشن اقبال، کراچی)

ج:بہت شکریہ چاچا جی۔ ذرّہ نوازی ہے آپ کی۔

ننھی سی خواہش

سنڈے میگزین میں پہلے ہی صفحے پر محمود میاں نجمی کی تحریر پڑھ کر بہت اچھا لگتا ہے۔ انہوں نے جانوروں کے حقوق کے بارے میں بہت اچھی باتیں بیان کی تھیں۔ ’’پیارا گھر‘‘ میں ’’یہ آم ہے آم…کوئی عام پھل نہیں‘‘ چاچا چھکّن نے بہت خُوب لکھا۔ پڑھ کر آم کے بارے میں معلومات بھی ملیں اور مزہ بھی آگیا۔ ویسے تو میگزین میں انٹرویوز شایع ہوتے ہی رہتے ہیں، لیکن اگر آپ میری ایک ننّھی سی خواہش پوری کردیں، تو بہت ممنون ہوں گی۔ پلیز، پلیز ہاشم ندیم اور عمیرہ احمد کے انٹرویوز بھی شایع کردیں۔ (عروج محمد شفیق، اورنگی ٹائون، کراچی)

ج: ہاشم ندیم کا تفصیلی انٹرویو سنڈے میگزین میں شایع ہوچکا اور عمیرہ احمد انٹرویوز دینا پسند نہیں کرتیں۔ سو، تمہاری ننّھی سی خواہش پوری نہیں ہوسکتی اور صد شکر کہ ہم بھی ایک اور ’’ممنون‘‘ کی ممنونیت سے بچ گئے کہ خدا خدا کر کے ابھی تو پچھلے والے ایوانِ صدر سے رخصت ہوئے ہیں۔

سلامت تاقیامت نہیں، سلامت تادیر

نرجس بٹیا! سدا خوش رہو۔ ایک اچھا ایڈیٹر وہی ہوتا ہے، جو اچھا لیڈر بھی ہو۔ میگزین میں بدلتے حالات کی مناسبت سے مضامین کا انتخاب تمہاری دانش مندی و دُوراندیشی ہی کا نتیجہ ہے۔ یوں لگتا ہے کہ حالات کی نبض تمہارے ہاتھ میں ہے۔ الیکشن سے پہلے حضرت عُمر بن عبدالعزیزؒ کے مضامین کا چنائو تمہاری غیرمعمولی صلاحیتوں کا مظہر ہے۔ حضرت عُمر بن عبدالعزیزؒ پر بہترین اور خُوب صُورت مضامین شایع کرکے تم نے قوم کو ایک آئیڈیل حکمراں کے انتخاب کا پیغام دیا۔ بٹیا جی! تم نے15جولائی کے میگزین میں لکھا ’’اللہ پاک آپ دونوں ہی ہر فن مولا بزرگوں کا سایہ سلامت تاقیامت رکھے‘‘ تو پہلی بات تو یہ کہ کہاں محمود میاں نجمی جیسا صاحبِ علم و قلم اور کہاں مجھ جیسا ایک معمولی، بےکار، دھرتی کا بوجھ پروفیسر کہ جس کا وجود ہی اب اپنوں، غیروں پر بار ہے(ہماری امّاں کہا کرتی تھیں کہ جب آدمی فاضل ہو جاتا ہے، تو وہ نہ لیپنے کے کام آتا ہے اور نہ پوتنے کے)۔ اور محمود میاں نجمی کی علمی قابلیت، دینی معلومات اور نہایت عرق ریزی و ثابت قدمی سے منفرد فن پاروں کی تخلیق کی صلاحیت کا تو ایک زمانہ اور جنگ کے تمام قارئین معترف ہیں۔ دوسری بات، تم نے لکھا ’’سایہ سلامت تاقیامت رہے‘‘ تو اس دنیا کی تو ہر چیز فانی ہے۔ قیامت تک تو صرف شیطان ہی زندہ رہے گا۔ تمہیں ’’سلامت تادیر‘‘ لکھنا چاہیے تھا۔ اس مرتبہ سرِورق پر قومی لباس میں نوجوانوں کے اسٹائل اچھے لگے۔ طاہر حبیب کے دونوں ہی شماروں کے مضامین بروقت اور عُمدہ تھے۔ فاروق اقدس اور رئوف ظفر کی تحریریں بھی حالاتِ حاضرہ پر خُوب رہیں۔ منور راجپوت نے نئی اور پُرانی سیاسی جماعتوں کا بہترین تجزیہ کیا، تو ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی کی تحریریں بھی ان ہی کی طرح پاکیزہ وپوتّرہوتی ہیں۔ چچا چھکّن کی پہچان تو اب ’’چچا ٹوٹکے‘‘ کے طور پر بھی ہوگئی ہے۔ جب کہ مصباح طیب، ریحانہ ممتاز اور محمّد سلیم راجہ کے خطوط ’’آپ کا صفحہ‘‘ کا حاصل تھے۔ (پروفیسر سیّد منصور علی خان، کراچی)

ج :جی سر… مُستند ہے آپ کا فرمایا ہوا۔ آئندہ خیال رکھیں گے اور ’’سلامت تادیر‘‘ ہی لکھا کریں گے۔

ساتھ رہنے کی پاداشہیں

آج آپ سے تین شماروں پر بات ہوگی۔ 8جولائی کو میرے خط کو ’’اعزازی چٹھی‘‘ کا اعزاز ملا، سخت حیرانی ہوئی۔ میں اعزازی چٹھیاں پڑھتی رہتی ہوں، اُن جیسی رعنائی خیال میرے خطوط میں بالکل نہیں ملتی۔ آپ نے شاید ہر ہفتے ساتھ رہنے کی پاداش میں ’’سال کی مختصر ترین اعزازی چٹھی‘‘ میرے نام کر دی۔ اب آتی ہوں میگزین یعنی ’’گنج ہائے گراں مایہ نمبر‘‘ کی طرف۔ میرے خیال میں پورے سال کا سب سے معلوماتی سنڈے میگزین اسی شمارے کو قرار دیا جا سکتا ہے۔ قمر عباس اور عرفان جاوید نے لکھنے کا حق ادا کر دیا، ساتھ نادر و نایاب تصاویر کا خزانہ بھی ملا۔ بلاشبہ، سر عبدالقادر اپنی ذات میں ایک روشن استعارہ تھے اور اُن کی روشنی ان کی اگلی نسلوں تک منتقل ہو رہی ہے۔ حضرت عُمر بن عبدالعزیزؒ کے بارے میں پہلے بھی تفصیلاً پڑھ چُکے ہیں، اب بھی پڑھا اور آئندہ بھی پڑھ کر ایمان کو تازگی بخشتے رہیں گے۔ عبداللہ حسین کے بارے میں ایم اے اردو میں پڑھا تھا، اب اُن کی ذات کے بارے میں تفصیلی جان کاری بہت اچھی لگی۔ پرانی تاریخی عمارات کی بھی کیا ہی بات ہے۔ منور راجپوت نے عُمدہ قلم کشائی کی۔ ماڈل، ملبوسات اور دیگر سلسلے حسبِ روایت ہی تھے۔ اگلے شمارے کے ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ کا جواب نہیں۔ پریس کلب کی رپورٹ بس سرسری ہی پڑھی۔ فیصل آباد سے ڈاکٹر اطہر ’’ہیلتھ اینڈ فٹنس‘‘ کے ساتھ موجود نظر آئے اور ’’آپ کا صفحہ‘‘ کی رنگینیاں تو عروج ہی پر تھیں۔ تیسرے شمارے میں سیاست کا سامان زیادہ، ہماری دل چسپی کا کم تھا، البتہ سیّد ضمیر جعفری کا ’’انتخابی منشور‘‘ دل کو بہت بھایا۔ ڈاکٹر سمیحہ جب بھی آتی ہیں، چھاجاتی ہیں، اُن کو دیکھ کر ہمیشہ سوچتی ہوں، واقعی عورت حجاب میں رہ کر بھی تمام کام بہ طریقِ احسن انجام دےسکتی ہے۔ روبینہ شاہد اور چاچا جی ’’آپ کا صفحہ‘‘ سے ’’پیارا گھر‘‘ پر آگئے۔ دونوں تحریریں اچھی تھیں۔ اور ’’آپ کا صفحہ‘‘ پر محمد سلیم راجا اور پروفیسر مجیب کی چٹھیاں طوالت میں اپنی مثال آپ رہیں۔ (مصباح طیب، سرگودھا)

ج: ساتھ رہنے کی پاداش میں کیوں، ساتھ رہنے کے انعام میں۔

ایک سو اٹھارہ بار

سال مہینے، مہینہ ہفتے، ہفتہ دن، دن گھنٹے، گھنٹہ منٹ اور منٹ سیکنڈ جیسا گزرتا ہے، آپ جیسے مصروف لوگوں کا، ہم جیسوں کا تو سیکنڈ منٹ، منٹ گھنٹے، گھنٹہ دن، دن ہفتے، ہفتہ مہینے اور مہینہ، سال کی طرح گزرتا ہے۔ ہاں، انتظار رہتا ہے، تو بس اتوار کے دن کا، اور اتوار کے دن ’’سنڈے میگزین‘‘ کا۔ میں یہ جریدہ خریدنے کے لیے دو کلومیٹر پیدل چلتا ہوں اور جب مل جاتا ہے، تو یقین کریں، عید جیسی خوشی محسوس ہوتی ہے۔ واپسی کے دو کلومیٹر کا تو پتا ہی نہیں چلتا۔ راستے بھر ورق گردانی کرتا ہوں اور گھر پہنچتے ہی کھول کے بیٹھ جاتا ہوں، جب تک پورا پڑھ نہ لوں، چین نہیں آتا۔ خیر، دو شماروں پر تبصرہ حاضرِ خدمت ہے۔ ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ میں بہترین مضامین پڑھنےکومل رہےہیں۔ ’’سنڈے اسپیشل‘‘ میں گلزار احمد اور حالات و واقعات میں منور مرزا کے مضامین لاجواب تھے۔ انٹرویو میں حامد سعید کی گفتگو بہت پسند آئی تھی۔ ’’آپ کا صفحہ‘‘ تو میگزین کی روح ہے۔ ہاں، ’’ہیلتھ اینڈ فٹنس‘‘ میرا پسندیدہ صفحہ ہے، جب کہ ’’پیارا گھر‘‘ تو نام ہی کی طرح پیارا ہے۔ ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی کا اندازِ تحریر بہت پسند ہے۔ اور آپ کو پتا ہے ’’آپ کا صفحہ‘‘ میں اپنا خط میں نے ایک سو اٹھارہ بار پڑھا۔ (انور قریشی، گائوں خیر ساری بانڈہ، کاہی، ہنگو، خیبر پختون خوا)

ج: ایک سو اٹھارہ بار…؟؟ پھر تو ابتدا میں ٹھیک ہی لکھا آپ نے، واقعی آپ کا مہینہ، سال ہی کی طرح گزرتا ہو گا۔ یہاں تو رونا یہ ہے کہ دن،24گھنٹے کا کیوں ہوتا ہے اور اس میں سے بھی کچھ گھنٹے سونا کیوں پڑتا ہے۔

میرے کچھ سوالات

سنڈے میگزین ہر لحاظ سے پرفیکٹ ہے، بس صرف ناول کی کمی محسوس ہوتی ہے اور ہاں، مجھے آپ کی تحریر بے حد پسند ہے، لیکن آپ کم کم ہی لکھا کرتی ہیں۔ (آپ اتنی خاص جو ہیں) کیا نعت خواں، فرحان علی قادری کا انٹرویو ہوسکتا ہے۔ وہ مجھے بہت پسند ہیں۔ اور میرے کچھ سوالات ہیں، اگر آپ اُن سے پوچھ سکیں تو…   (امامہ خان)

ج: سچ بتائیں، تو ہم نے تو تمہارے خط میں پہلی بار یہ نام پڑھ کے ’’گوگل‘‘ کیا، تو پتا چلا کہ اس نام کے بھی کوئی نعت خواں صاحب ہیں۔ رہے تمہارے سوالات، تو اُن میں سے بیش تر کے جوابات تو انٹرنیٹ ہی پر موجود ہیں۔ مثلاً عُمر 22سال ہے۔ بلوچ فیملی سے ہیں، جیکب آباد کے رہنے والے۔ شادی نہیں ہوئی، ایک بھائی حامد علی قادری ہے اور سب سے بڑھ کر فیس بک اکائونٹ بھی رکھتے ہیں۔ تم فرینڈ ریکوئسٹ بھیج کر دیکھ لو۔ تمھارےایک دو سوالات جو رہ گئے ہیں، اُن کے جوابات بھی مل جائیں گے۔

چار نہیں، درحقیقت پانچ

تازہ شمارہ ’’مردانہ وجاہت‘‘ کی سادگی کے ساتھ ملا، لیکن کہیں کہیں کم عُمری کے رجحانات بھی دیکھنے میں آئے۔ سرِورق بنیادی طور پر چار، لیکن درحقیقت پانچ ماڈلز پر مشتمل تھا کہ غور سے تصویر دیکھنے پر عقب میں ایک ’’پولیس والا‘‘ بھی دکھائی دیا۔ ہاہاہا… ویسے مَردوں کو پوز دینے کی ضرورت نہیں ہوتی، اُن کا پورے قد سے کھڑا ہوجانا ہی ایک آفاقی پوز ہے۔ تصاویر کے حوالے سے شمارے کچھ ہلکےجارہے ہیں۔ محمود میاں نجمی کے مضمون میں بھی ’’انصاف کے ترازو‘‘ کا دایاں پلڑا اٹھا ہوا تھا، حالاں کہ دایاں نیچے (بھاری ہونے کی وجہ سے) ہونا چاہیے تھا۔ بہرحال، حضرت عُمر بن عبدالعزیزؒ کا دوسرا حصّہ بہترین رہا۔ کئی واقعات تو ’’آبِ زر‘‘ سے لکھنے کے قابل ہیں۔ ’’الیکشن2018ء‘‘ پر طاہر حبیب نے ماضی، حال اور مستقبل کے تناظر میں اچھا لکھا، لیکن مقامی مسائل کا کوئی حل وہ بھی پیش نہ کر سکے۔ فاروق اقدس نے ’’کپتان کے مخالفین‘‘ پر بہترین لکھا، تحریر کے چھوٹے چھوٹے واقعات، جدا کتاب کے موافق ہیں، بہت خُوب،فاروق صاحب۔ راجپوت نے پاکستانی سیاسی تاریخ کو درجہ بدرجہ بیان کرنے کی بھرپور سعی کی پھر پشاور پریس کلب، نیلسن منڈیلا،، وہ تاریخی دن، جب انسان چاند پر اُترا، ہیلتھ اینڈ فٹنس، پیارا گھر، عالمی افق اور ناقابلِ فراموش بھی حسبِ معمول عُمدہ انتخاب ثابت ہوئے۔ (پروفیسر مجیب ظفر انوار حمیدی، گلبرگ ٹائون، کراچی)

ج: پروفیسر صاحب! یہ تو آپ نے کمال کردیا۔ ’’میں نامے‘‘ سے تمہید باندھی۔ درمیانی حصّے میں جریدے پر تبصرہ رکھا اور آخری دو صفحات پھر اپنی ذات شریف کے لیے مختص کرلیے۔ یہ اچھا ہے۔ اس طرح جابجا ایڈیٹنگ کے سر درد کے بجائے ہمیں صرف پہلا اور آخری دو صفحات قلم زد کرنے پڑے اور جاں بخشی ہوگئی۔ ویسے تصویروں کی اس قدر گہرائی و گیرائی سے جانچ بھی کچھ آپ ہی کی فارغ البالی کا کمال ہے، یہ ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔

                                                                                                فی امان اللہ       

                        اس ہفتے کی چٹھی

بہت سال پہلے جب ہم تھوڑے بچّے ہوتے تھے، کیوں کہ بڑے تو ہم اب ہوئے ہیں، کھی کھی کھی… اِک سنڈے میگزین تھا، اس میں پوائنٹر سے لکھا کرتے تھے(خون والے زمانے، مطلب امّی والے زمانے کی تو نہیں ہوں میں) امّی جان پڑھیں گی، تو اِک زور کا ہوائی فائر آئے گا کہ’’ مَیں وی اوس زمانے دی نہیں آں…‘‘ کھی کھی کھی… کہ آخری خط کا جواب آیا…’’بی بی! کوئی ہور کم نئیں۔ میڈیکل وی پڑھ لے کہ خط ہی لکھدی رہنی ایں…‘‘بڑے بے آبرو ہوکر تیرے کوچے سے ہم نکلے، کھی کھی کھی… بس، تب سے خط لکھنا چھوڑ دیا۔ وقت گزرنے لگا، کچھ مہینوں میں گھر بدل لیا۔ نئی جگہ پر اخبار نہیں لگوایا۔ فائنل ایئر اور پھر ہائوس جاب، لکھنے کا بہت دل کیا، تو انسٹا گرام پر ایک ’’پنّا‘‘ بنالیا، "doctor blogger"کےنام سے… کھی کھی کھی۔ آہم…غلطی سے Fcps کا ٹیسٹ دیا، وہ بھی ہوگیا۔ کھی کھی کھی … پوسٹ گریجویشن کی پڑھائی، اسپتال کی24سے48گھنٹے والی ڈیوٹی، فیس بُک سے انسٹا گرام، اسٹوڈنٹ سے، پی جی(وہ اور بات ہے، نئے آنے والے بچّے اِک بار تو لازمی دھوکا کھاتے ہیں، پھر تین ماہ بعدجاتے ہوئے کہہ کے جاتے ہیں’’ہائے میم!آپ تو میم لگتی نہیں…‘‘)بس…اور لکھوں گی،تو نرجس ملک ’’گُچھا‘‘ کریں گی، کھی کھی کھی … اور کیا بدلا، بہت بالوں والا وزیر اعظم آیا، تے تھوڑے بالوں والا گیا(گنجا بولوں گی، تو، تو پھر نرجس ملک ’’گُچھا‘‘ کریں گی) کھی کھی کھی … لائٹ ویسے ہی جاتی ہے۔ پیٹرول ویسے ہی مہنگا ہے۔ مَیں لڑکی سے لڑکی ہی رہی، کھی کھی کھی … زندگی بدلنے لگی۔ کبھی کوئی فالوَر پوچھتا بھی کہ’’آپ وہ والی کومل ستار ہیں؟‘‘تو جواب نہیں دیتی۔ خزاں، بہار، سردی، گرمی کا سائیکل چلتا رہا…اب آپ لوگ پوچھیں گے،’’بی بی! سب صحیح تھا، ہون کیوں آئی ایں؟‘‘ نرجس ملک جواب دیں، بیٹیاں میکے کیوں آتی ہیں؟ ہائے تُسی تے سیڈ ہوگئے۔ ہوا یوں کہ کسی فالوَر نے میسیج کیاکہ آپ کا ذکر اب بھی میگزین میں ہوتا ہے۔ ہم نے حسبِ معمول اگنور کیا، پھر میسج آیا کہ آج کے میگزین میں بھی ہے اور ساتھ ہی امیج بھیج دیا۔ لکھا تھا ’’ڈاکٹر کومل نہ سہی، آپ تو ہیں…‘‘ دل کو تھوڑاچُبھا‘ پر بات صحیح ہے۔ آنے والے لوگ، جانے والوں سے زیادہ اچھے اور قابل ہوتے ہیں…اور …ہمیں نئے آنے والوں کے لیے جگہ خالی چھوڑنی ہی چاہیے۔ مجھے پتا ہے، جو لکھا ہے، چَھپ جائےگا، پراصول، اصول ہوتا ہے، اس لیے تبصرہ حاضر ہے۔ سرِورق پر تھوڑی صحت مند خاتون براجمان تھیں۔ پر کوئی نہیں، کوئی نہیں، بڑی عید ہے۔ کھی کھی کھی… ’’سنڈے اسپیشل‘‘ کے لیے توقع تھی کہ عید سے متعلق کچھ ہوگا، مگر حج کے بارے میں تحریر دیکھ کر بہت خوش گوار حیرت ہوئی۔ اگلے صفحے پر ہاتھی کرسی پہ بیٹھا ہوا تھا۔ مَیں کچھ بولوں گی، تو پھر نرجس ملک ’’گُچھا‘‘ ہوں گی۔ کھی کھی کھی… ملک ارشد پشاور کی بسوں کے بارےمیں کچھ بتارہے تھے۔ اور عمّار صاحب کی باتیں اتنی اچھی کیوں نہ ہوں، آخر کچھ اثر انور مسعود کا بھی تو آنا تھا۔ پر وہ بھی کم کم ہی نظر آتے ہیں۔ پتا نہیں کیوں، اپنے معین اختر یاد آگئے۔ ’’خاک ہوگئے کیسے کیسے نگینے لوگ‘‘۔ بیچ والے صفحات پر باجی پوچھ رہی تھیں، ’’مَیں نظر میں ہوں، یا نظر مجھ میں ہے…‘‘ اب کیا بولوں، دونوں ہی باتیں نہیں ہیں۔ پھر وہی بات، نرجس ملک’’گُچھّا‘‘ کریں گی، کھی کھی کھی…’’پیارا گھر‘‘ میں حمنہ نے شُکر سے متعلق مختصر سی، مگر بہت ہی پیاری تحریر لکھی۔ اگر ایک شخص آپ پر کوئی معمولی احسان کرتا ہے، تو بے ساختہ زیرِلب’’شکریہ، تھینک یو، جزاک اللہ خیرا‘‘ جیسے الفاظ آجاتے ہیں اور اگر وہ کسی تنگی سے نکال دے، تو آپ اُس کے احسان مند ہوجاتے ہیں، بے ساختہ کہتے ہیں’’مَیں کن الفاظ میں آپ کا شُکریہ ادا کروں؟‘‘ تو پھر مالکِ ارض و سما اور رب العالمین کے ساتھ ہمارا معاملہ کیسا ہونا چاہیے، جس کا ارشاد ہے’’اُسی نے تمہیں تمہاری منہ مانگی کُل چیزوں میں سے دے رکھا ہے، اگر تم اللہ تعالی کے احسان گِننا چاہو تو انہیں گِن نہیں سکتے۔‘‘ اور ہاں،آئمہ بیگ کا انٹرویو تو اتنے غور سے نہیں پڑھا، جتنا لاسٹ والی تصویر کا نیکلیس غور سے دیکھا… کھی کھی کھی ۔ زندگی رہی تو پھر کبھی۔ (ڈاکٹر کومل عبدالستّار، لیاقت میڈیکل اسپتال ، حیدر آباد)

ج:کومل… اتنے عرصے بعد تمہاری تحریر پڑھ کے، کھنکتی سی’’کھی کھی کھی‘‘ سُن کے کتنا اچھا لگا، تمہیں بتا نہیں سکتے۔ یقین مانو،ہمارا دن اچھا ہوگیا۔ اب آہی گئی ہو، تو آتی جاتی رہنا۔ پتا نہیں کب، یوں ہی بے ارادہ تمہیں کہہ دیا ہوگا کہ’’تمہیں خط لکھنے کے علاوہ کوئی کام نہیں‘‘ اور تم بُرا ہی مناکے بیٹھ گئی۔ سچ تو یہ ہے کہ تمہارا آنا ہمیشہ ہی سے بہت اچھا لگتا ہے۔ ہمیں ہی نہیں، ’’آپ کا صفحہ‘‘ کے سب قارئین کو بھی۔    

                            گوشہ برقی خُطوط

٭ میرا نام فہیم مقصود ہے، غلطی سے فہیمہ لکھ دیتی ہوں۔ اور یہ کس نے کہا کہ فہیم صرف مَردوں کا نام ہوتا ہے۔ یہ عورتوں کا بھی ہوسکتا ہے، اِسی لیے میرا بھی ہے۔ ہاں، اس بار میگزین کچھ بہتر تھا۔ (فہیم مقصود، لاہور)

ج: اپنا ہی نام بار بار غلط لکھنے کی غلطی بھلا کون کرتا ہے۔ اور بھئی، اب تو جو دَور چل رہا ہے، بعضوں کو مجسّم دیکھ کر اندازہ لگانا مشکل ہوجاتا ہے کہ موصوف ہیں یا موصوفہ، تو پھر ناموں ہی پر کیا موقوف۔

٭ جنگ، سنڈے میگزین کا مستقل قاری ہوں۔ محمود میاں نجمی کی خدمت میں ایک گزارش لے کر آیا ہوں کہ اسلامی تاریخی شخصیات پر وقتاً فوقتاً کچھ نہ کچھ لکھتے رہیں۔ مَیں خود طب کے شعبے سے وابستہ ہوں۔ صحتِ عامّہ کے ضمن میں اگر کچھ لکھنا چاہوں تو کیا لکھ کے بھیج سکتا ہوں۔ (ڈاکٹرحمید خان کاکڑ، کوئٹہ)

ج: کیوں نہیں ڈاکٹر صاحب، موسٹ ویلکم۔

٭ آپ کے ننّھے منّے سے میگزین میں بھی خاصی معیاری تحریریں پڑھنے کو مل جاتی ہیں۔ (امیر خان، کراچی)

ج: اب ایسا بھی ننّھا مُنّا نہیں ہے۔ آج کل اشتہارات میں کمی کے باعث، صفحات کی تعداد کچھ کم ہے، وگرنہ تو ہم 60,40,32اور 100صفحات تک کے تگڑے تگڑے شمارے بھی آپ کی نذر کرچکے ہیں۔

٭اللہ!آپ نے میری پہلی ہی ای میل شایع کردی۔ اُف!مجھے تو یقین ہی نہیں آرہا۔ (نرمین انصاری)

ج: لو، اب تو دوسری بھی کردی۔ اب کہیں بے یقینی کے سمندر میں ڈوب ہی نہ جانا۔

٭ محمود میاں نجمی کا ’’حج و عُمرہ کے احکام و مسائل‘‘ سے متعلق مضمون پڑھ کے دلی خوشی ہوئی۔ اندازِ بیاں تو اعلیٰ تھا ہی، سیرحاصل معلومات بھی حاصل ہوئیں۔ اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ جنگ گروپ کی اس کاوش کو ادار ے کے لیے صدقہ ٔ جاریہ بنادے۔ (حافظہ سندس بتول)

ج: آمین۔

٭ الیکشن سے متعلق تمام تر مضامین اور خصوصاً ’’الیکشن نمبر‘‘ کا تو جواب نہ تھا۔ بلاشبہ، آپ لوگوں کی محنت واضح نظر آتی ہے۔ کوئی بھی اہم موقع، ایونٹ اچھی تحریروں سے خالی نہیں جاتا۔ (ملائکہ اعظم، ہنجرا، ویروالہ، سیال کوٹ)

ج: کیوں جائے خالی، جب ہم یہاں بیٹھے ہی اِسی کام کے لیے ہیں۔ 

تازہ ترین