ڈاکٹر عبدالتوحیدخان
ہر بچّہ عطیۂ خداوندی ہے،جس کا خیال رکھنا اور بہتر نگہداشت کرنا والدین ہی نہیں، معاشرے کی بھی ذمّے داری ہے، تاکہ وہ ایک اچھے ماحول میں بہترطور پرپرورش پاسکے۔ دوسری جنگِ عظیم میں لاکھوں بچّوں کو کئی تکالیف کا سامنا کرنا پڑا، جس کے پیشِ نظر عالمی سطح پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ سال میں کوئی ایک دِن ایسا ضرور مخصوص کیا جائے کہ جس روزماہرینِ صحت دنیا بَھر میں موجود بچّوں کو درپیش صحت سے لے کر دیگر مسائل تک کا جائزہ لیں اور ان کی بہتری، فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لیے مل جُل کر ایک مربوط لائحہ عمل ترتیب دیں۔بلاشبہ مہذّب دنیا کے باسیوں کی یہ ذمّے داری ہے کہ وہ اُن تمام بچّوں کی جانب، جو کسی بیماری میں مبتلا ہیں، کسی قسم کے تشدّد کا شکار ہیں یا کسی بھی طرح نظر انداز ہورہے ہیں، بَھرپور توجّہ دیں اور ایسے عملی اقدامات کریں کہ جن کے نتیجے میں وہ صحت مند اور خوش حال زندگی بسر کر سکیں۔
سو،امریکی حکومت نے 1928ءمیں پہلی بار فیصلہ کیا کہ آئندہ برس سے یعنی 1929ء سے ہر سال یکم مئی کو ’’بچّوں کی صحت کا عالمی یوم‘‘ منایا جائے گا۔تاہم،پھر1960ء سے ایک مشترکہ فیصلے میں یہ دِن اکتوبر کے پہلے پیر کو منتقل کر دیا گیا اورتب سے تاحال، ہر برس ماہِ اکتوبر کا پہلا پیر’’چائلڈ ہیلتھ ڈے‘‘کے طور پر منایا جارہا ہے، جس کا بنیادی مقصد ہر سطح تک بچّوں کے تحفّظ ،بہتر نشوونما اور صحت سے متعلق معلومات عام کرنا ،دورانِ حمل حاملہ کی دیکھ بھال،غذا کاخیال رکھنا، ڈاکٹر سے باقاعدہ معائنہ کروانا، بیماریوں کی مؤثر روک تھام ، حادثات سے بچائو اور بچّوں کو ان کے حقوق کے بارے میں آگہی فراہم کرنا ہے۔نیز، عالمی سطح پر ایک دوسرے سے تعاون، معلومات کا تبادلہ اور بچّوں کے تحفّظ کے لیے اشتراک پر زور دینا بھی ہے،لہٰذا دنیا کے تمام مُمالک یہ دِن اپنے رسوم و رواج کے مطابق مناتے ہیں۔چندمُمالک میں تو اس روز بچّوں کو باقاعدہ تحائف بھی دئیے جاتے ہیں۔
دُنیا بَھر کے ترقّی پزیر مُمالک میں،بشمول پاکستان ، بچّوں کی صحت کے حوالے سے صورتِ حال تسلی بخش نہیں۔تحقیق سے یہ بات ثابت ہے کہ ایک صحت مند معاشرے اور تعمیر و ترقّی میں بالواسطہ تعلق ہوتا ہے، اور صحت مند معاشرے کی ابتدا صحت مند بچّوں ہی سے ہوتی ہے،جب کہ پاکستان میں صحت کے لیے صرف 2فی صدبجٹ مختص کیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس فلپائن میں یہ شرح 8.4 اور امریکا میں17.1فی صد ہے۔ بدقسمتی سے دیگرترقّی پزیر مُمالک کی طرح پاکستان میں بھی بچّوں کے صحت کے مسائل زچگی ہی سے شروع ہوجاتے ہیں۔ یونیسیف کی نوزائیدہ بچّوں کی شرحِ اموات کے حوالے سےجاری کی جانے والی ایک رپورٹ کے مطابق، اب اس فہرست میں پاکستان، افغانستان اور سینٹرل افریقن مُمالک کو پیچھے چھوڑکرپہلے نمبر پر آگیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں 2016ءکے اعدادوشمار کے مطابق ہر ایک ہزار میں سے 46یعنی ہر 22بچّوں میں سے ایک بچّہ پیدایش کے پہلے ہی ماہ میں انتقال کرجاتا ہے، جب کہ وسطی افریقی مُمالک میں یہ شرح24بچّوں میں سے ایک اور افغانستان میں25میں سے ایک ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ2016ء میں پاکستان میں ایک برس کے دوران دو لاکھ 48ہزار نومولود ہلاک ہوئے، جو کہ دنیا بَھر میں ہلاک ہونے والے بچّوں کا دس فی صد تھے۔ان اموات کی اہم وجوہ میں طبّی سہولتوں کی عدم فراہمی،درست نگہداشت نہ ہونا، پیدایش کی پیچیدگیاں، قبل از وقت ولادت، نمونیا، ملیریا،اسہال اور قلتِ خوراک وغیرہ شامل ہیں۔ پاکستان دنیا کا ساتواں مُلک ہے کہ جہاں ہر سال5 برس کی عُمرتک کے90ہزار بچّے نمونیے کی وجہ سے لقمۂ اجل بن جاتے ہیں۔و زارتِ قومی صحت کے مطابق پاکستان میں بچّوں کی قبل از زچگی شرحِ اموات40 فی صد، پیدایش کے بعد دَم گُھٹنے سے21فی صد ،جب کہ مختلف انفیکشنز سے ہلاک ہونے والوں کی شرح18فی صد ہے،حالاں کہ اگر دورانِ حمل، حاملہ کو مناسب خوراک کے ساتھ درست مشاورت اور طبّی مدد فراہم کی جائے، تو یہ شرح بہت حد تک کم کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح بچّوں میںٹائیفائڈ کے سبب ہلاک ہونے والے مُمالک کی فہرست میں بھی پاکستان نمایاں ہے۔یاد رہے،آلودہ، ناصاف پانی کےذریعے پھیلنے والے امراض میں ٹائیفائڈ، ہیضہ، پیچش اورپیٹ کے کیڑے وغیرہ شامل ہیں،لہٰذا اگر صرف پانی ہی اُبال کر استعمال کرلیا جائے،تو بچّوں کی ایک بڑی تعداد آلودہ پانی کے ذریعے پھیلنے والےامراض سے محفوظ رہ سکتی ہے۔
عموماً ترقّی یافتہ مُمالک میں زچگی کا عمل ماہر معالج کے ہاتھوں انجام پاتا ہے اور زچّہ و بچّہ کی دیکھ بھال اور نگہداشت پر خاص توجّہ دی جاتی ہے، مگر بدقسمتی سے ہمارے یہاں نیم خواندہ دائیوں کے ہاتھوں غیرمحفوظ طریقے سے زچگی کروانے اور دیگر سہولتوں کی عدم دستیابی کے باعث قبل ازوقت پیدا ہونے والے بچّے کئی امراض میں مبتلا ہوجاتے ہیں، جو بعض اوقات جان لیوا بھی ثابت ہوتے ہیں۔ پھر بچّوں کی اموات میں غربت اور تنگ دستی کا بھی بہت بڑا ہاتھ ہے۔صحرائے تھرہی کو دیکھ لیں،جوغذا اور پانی کی قلّت اور اس قلّت کے سبب جنم لینے والے کئی مسائل سے دوچار ہے، جس کے اثرات زچّہ و بچّہ پر بھی بُری طرح مرتّب ہورہے ہیں۔اس کا اندازہ غذائی قلّت کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے بچّوں کی تعداد سے بھی لگایا جاسکتا ہے۔اگر اس درد کو محسوس کرتے ہوئے محض غذائی قلت دُور کرنے کے لیے کچھ ٹھوس اقدامات کرلیے جائیں، تو یقیناًکئی قیمتی جانوں کو بچایا جاسکتا ہے۔ نیز،حکومت اور فلاحی اداروں کے تعاون سے جگہ جگہ صحت کے مراکزبھی قائم کیے جائیں،جہاں زچّہ وبچّہ کو مفت علاج معالجے کی سہولتیں میسّر ہوں۔ ہمارے مُلک کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ زیادہ تر والدین، بچّوں میں مناسب وقفہ بھی نہیں رکھتے، جس کے اثرات زچّہ اور بچّہ دونوں ہی پر مرتّب ہوتے ہیں،لہٰذا اس حوالے سے بھی آگہی عام کرنے کی ضرورت ہے۔
بچّوں کی صحت کے حوالے سے ایک بہت اہم بات حفاظتی ٹیکوں کا بروقت اور مناسب استعمال بھی ہے۔ہمارے معاشرے میںویکسی نیشن، خصوصاً پولیو کے قطروں سے متعلق کئی مفروضے عام ہیں، لہٰذا اس ضمن میں بھی والدین کا حفاظتی ٹیکوں سے متعلق بالکل درست معلومات حاصل کرنا ازحد ضروری ہے۔ کیوں کہ بروقت حفاظتی ٹیکہ جات کے استعمال سے نہ صرف بچّےجان لیوا بیماریوں اور عُمر بھر کی معذوری سے بچ سکتے ہیں، بلکہ اس طرح ان کی زندگیوں کو پُرسکون اور اطمینان بخش بھی بنایا جا سکتا ہے۔ ایک ریسرچ کے مطابق پاکستان میں بچّوں کی خاصی بڑی تعداد نفسیاتی امراض کا بھی شکارہے۔ ان عوارض کی وجوہ میںمتعدد جینیاتی، سماجی، معاشرتی اور معاشی عوامل شامل ہیں۔
بدقسمتی سے ہمارے ہاں ذہنی عوارض سے متعلق ہر سطح پر آگہی کا سخت فقدان پایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نہ تو بروقت مرض تشخیص ہوتا ہے اور نہ ہی تشخیص شدہ بیماریوں کا درست علاج ہو پاتا ہے۔ ان مریضوں میں بہت بڑی تعداد ذہنی طور پر پس ماندہ بچّوں پر مشتمل ہے۔ پھر یہ حقیقت بھی نہیں جھٹلائی جاسکتی کہ اگرکچھ امراض جیسا کہ تپِ دق، گردن توڑ بخار وغیرہ کا بروقت علاج نہ ہو، توان کی کوئی پیچیدگی ذہنی امراض کا سبب بھی بن سکتی ہے۔خیال رہے، خطرناک ذہنی امراض کی نسبت معمولی یا درمیانی نوعیت کے ذہنی امراض جیسے اُداسی، گھبراہٹ وغیرہ پر مناسب علاج اور مشاورت کے ذریعے با آسانی قابو پایا جاسکتا ہے۔پھر ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ بچپن میں ہونے والی مختلف زیادتیاں بھی مختلف قسم کی نفسیاتی اور جسمانی بیماریوں کو جنم دیتی ہیں۔سو، معاشرے میں ان امراض کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے معاشرتی و سماجی رجحانات اور رویّوں میں تبدیلی بھی ناگزیر ہے،جب کہ ایسے طبّی اداروں کا بھی قیام عمل میں آنا چاہیے، جہاں تشدد یا زیادتی کے شکار بچّوں کو مناسب علاج معالجہ فراہم ہوسکے، تاکہ انہیں مستقبل میں کسی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔
علاوہ ازیں، بچےکی غذا ،پہلے ہی دِن سے بے حد اہمیت کی حامل ہے کہ مناسب اور بروقت غذا نہ صرف اُس کی بہتر نشوونما کے لیے ضروری ہے، بلکہ کئی مسائل اور بیماریوں سےبھی بچائےرکھتی ہے۔ پاکستان میں متعدد بچّے قلّتِ خوراک کا شکار ہیں،جس کا سب سے اہم سبب اس حوالے سے مناسب آگہی کا نہ ہونا ہے۔ بچّوں کی صفائی، خوراک اور لباس کا خیال ماں کی اوّلین ذمّے داری ہی نہیں، بلکہ اس کے لیے ایک چیلنج کی بھی حیثیت رکھتی ہے۔تحقیق سے ثابت ہے کہ غذائی اعتبار سے ماں کا دودھ ایک بہترین قدرتی غذا ہے، جس میں وہ تمام غذائی عناصر شامل ہوتے ہیں، جو بچّے کی نشوونما کے لیے بے حد ضروری ہیں،لیکن آگہی نہ ہونے کے سبب بہت سی مائیں، بچّوں کو اپنا دودھ نہیں پلاتیں۔ واضح رہے کہ ماں کے دودھ کی کوئی قیمت نہیں ہوتی اور اس کا درجۂ حرارت بھی نارمل ہوتا ہے۔ مشاہدے میں ہے کہ عموماً خرچہ کم کرنے کے لیے مائیں گائے یا ڈبّے کے دودھ میں پانی، تجویز کردہ مقدار سے زائد ملادیتی ہیں، نتیجتاً بچّہ غذائی کمی کا شکار ہوجاتا ہے،جب کہ گائے یا ڈبّے کے دودھ میں پانی ملانے سے ساتھ ہی جراثیم بھی شامل ہو جاتے ہیں۔ نیز، بوتل کے ذریعے دودھ پینے والے بچّوں میں پیٹ درد سمیت کئی طبّی مسائل بھی عام ہیں،جب کہ پیدایش کے فوراً بعد بچّے کو اپنا دودھ پلانا دینی و طبّی دونوں اعتبار سے خاصا مفید ہے کہ اس دودھ میںبیماریوں سے محفوظ رکھنے والے تمام تراجزاءموجودہوتے ہیں، لہٰذا حاملہ کو دورانِ حمل ہی دودھ پلانے کی اہمیت کا احساس دلایا جائے۔ نیز، دودھ پلانے والی ماؤں کی حوصلہ افزائی بھی کی جائے۔ اگر پولیو ورکرز یا لیڈی ہیلتھ ورکرز گھر گھر جا کر اس حوالے سے آگہی فراہم کریں، تو چند ہی برسوں میں بچّوں کی صحت کا معیار خاصابُلند ہوسکتا ہے۔
پھر،غربت کے باعث متعدد بچّے انتہائی کم عُمری میں محنت مشقت پر بھی مامور کردیئے جاتے ہیں۔ واضح رہے، قانوناً پاکستان میں بھی چائلڈ لیبر کی اجازت نہیں۔ عام طور یہ بچّے ہوٹلوں، گیراجوں، گھریلو صنعتوں یا فیکٹریوں میں کام کرتے ہیں۔اور اگر ان کا واسطہ کیمیائی مادّوں سے پڑے، تو وہ اس سے وابستہ طبّی پیچیدگیوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔جیسا کہ پیٹرول پمپ میں کام کرنے والے بچّوں کو لیڈ جیسے عنصر اور رنگ بنانے والے اداروں میں اسپرٹ یا دیگر کیمیکلز کا سامنا رہتا ہے،جن کے مضر اثرات ان کی نشوونما پر بھی مرتّب ہوتے ہیں۔ اگرچہ ہمارے مُلک میںچائلڈ لیبر کا قانون تو موجودہے،مگر مکمل طور پر عمل درآمد نہیں کیا جاتا۔ اسی طرح بچّوں میں منشیات کاتیزی سے بڑھتا ہوا رجحان بھی ان کی صحت کے لیے سنگین مسئلہ بنتا جارہا ہے۔
کم عُمر بچّوں میں چرس، ہیروئن وغیرہ کے استعمال کی شرح بہت کم پائی جاتی ہے، لیکن چھالیا، سپاری ،پان ،گٹکا،سگریٹ، مین پوری وغیرہ کا استعمال بےحد عام ہے۔حالاں کہ اس حوالے سےبھی قوانین موجود ہیں، مگر کئی وجوہ کی بنا پرعمل درآمد نہ ہونے کے سبب کئی معصوم بچّوں کی صحت ہی نہیں، مستقبل بھی داؤ پر لگ جاتا ہے۔اس ضمن میں والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ بچّوں کو وقتاً فوقتاًنشہ آور اشیاء کےمضر اثرات سے آگاہ کریں،تاکہ وہ اس بُری علّت سے محفوظ رہ سکیں۔ایک اور پہلو، بچّوں میں خواندگی کی کم شرح بھی ہے، جسےہرگز نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ اصل میں تعلیم کے ذریعے بچّوں میں صحت کےحوالے سےدرست آگاہی فراہم کی جاسکتی ہے، مگر بدقسمتی سے پاکستان میں تعلیمی شعبے کی صورتِ حال ہرگز تسلی بخش ہے ۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مُلک بَھر میں بیس ملین کے قریب بچّے تعلیم حاصل کرنے سے محروم ہیں۔سو، تعلیم کی صورتِ حال بہتر کرکے بھی بچّوں کو صحت سے متعلق بنیادی معلومات فراہم کی جاسکتی ہیں۔ مختصر الفاظ میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ بچّوں میں امراض کی سب سے بڑی وجہ انہیں بنیادی ضروریات سے محروم رکھنا ہے۔
بچّوں کی صحت کے عالمی یوم کے ضمن میں عالمی سطح پر ہر سال گزشتہ برس کا جائزہ لیا جاتا ہے اور آنے والے سال کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے، تاکہ اس ضمن میں مزید بہتری لائی جاسکے، لیکن یہ اُسی صورت ممکن ہے،جب انفرادی طور پر بھی بھرپور ذمّے داری سےکوشش کی جائے، لہٰذا بچّوں کی بہتر نشوونما اور صحت کے لیے والدین اپنےبچّوں پربھر پور توجّہ دیں۔ دینِ اسلام میں بچّوں پر شفقت کا حکم دیا گیا ہے۔ ہادیِ برحقﷺ نے خود عمل کرکے دکھایا کہ معصوم بچّوں سے کیسا برتائو رکھا جائے۔ اگر ہم اسلامی تعلیمات پر عمل کریں، ان سے پیار، محبّت شفقت کا برتاؤ اختیار کریں، تو ظاہر سی بات ہے کہ بچّوں کی نشوونما پر بہت مثبت اثرات ہی مرتّب ہوں گے۔ نیز، ہم پر یہ فرض بھی عاید ہوتا ہے کہ ہم بچّوں کو حادثات، غربت، بھوک اور تعصب جیسے منفی جذبات سے محفوظ رکھنے کے لیےعملی اقدامات کریں اور انہیں ان کے رنگ یا نسل کے باعث نہیں، بلکہ ان کی شخصیت ،صلاحیتوں کے اعتبار سے شناخت کیا جائے۔
(مضمون نگار، جنرل فزیشن ہیں اور الخدمت اسپتال،کراچی میں خدمات انجام دے رہے ہیں)