• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فروا حسن

8اکتوبر2005 ء، 3 رمضان المبارک 1426ہجری کا زلزلہ، پاکستان کی تاریخ کا بدترین اور اُس سال دنیا کا چوتھا بڑا زلزلہ شمار کیا گیا، جس کی شدّت 7.6 اور گہرائی 15کلو میٹر (49000 فٹ) تھی۔ اس زلزلے نے بہ یک وقت پاکستان، بھارت اور افغانستان کو متاثر کیا۔ محتاط اندازے کے مطابق زلزلہ اسّی ہزار سے زاید جانیں نگل گیا، جب کہ زخمیوں کی تعداد بھی ستّر ہزار سے زیادہ بتائی گئی۔ سب سے زیادہ ہلاکتیں آزاد کشمیر اور خیبر پختون خوا میں ہوئیں۔ نیز، قریباً ڈھائی لاکھ افراد بے گھر ہوئے۔ یہ زلزلہ ایک ایسے وقت آیا، جب اسکولز میں کلاسز جاری تھیں، سو عمارات منہدم ہونے سے زیادہ تر ہلاکتیں بچوں کی ہوئیں۔ وائس آف امریکا کی 31جنوری کو زلزلے سے متعلقہ خبر دیکھی، تو پھر دُکھ تازہ ہو گیا کہ صوبہ بلوچستان کے علاقے، لسبیلہ میں زلزلے کے باعث مکان کی چھت گرنے سے دو ماہ کی بچّی ہلاک ہو گئی، جب کہ زلزلے کے جھٹکوں سے متعلقہ علاقے میں اسکولز اور مکانات کی دیواریں گرنے سے کئی بچّے زخمی ہو ئے۔ چین، جاپان، ایران اور تُرکی کے بعد زلزلوں کے اعتبار سے پاکستان پانچواں حسّاس ترین مُلک شمار کیا جاتا ہے، جس کا شمالی علاقہ، بھارتی اور یوریشین ٹیکٹونک پلیٹس پر مشتمل ہے۔ زلزلے کی پٹّی پر موجود علاقوں کے لیے حفاظتی تدابیر کا اختیار کیا جانا انتہائی ضروری ہے تا کہ قیمتی جانوں کے زیاں کو کم سے کم کیا جا سکے۔ سو، زلزلوں کے خطرات میں گِھری تقریباً تمام ہی ریاستیں اب پیش گوئی کی نسبت، اس کی تباہ کاریوں سے پہنچنے والے نقصان کے ازالے کی تدابیر کے بارے میں سوچ رہی ہیں۔

زلزلہ کیا ہے اور یہ کیوں آتا ہے ؟ اس حوالے سے جامعہ این ای ڈی کے وائس چانسلر اور معروف سِول انجینئر، پروفیسر ڈاکٹر سروش حشمت لودھی کا کہنا ہے کہ’’ زلزلہ، دراصل زمین کی اچانک حرکت ہے، جس سے چٹانوں میں جمع شدہ توانائی خارج ہو کر زلزلے کی لہریں پیدا کرتی ہے اور پھر یہ لہریں جائے وقوع سے باہر کی جانب پھیل کر زمین میں ارتعاش پیدا کرتی ہیں۔ زمین کا مرکزی منطقہ (core) مائع ہے اور ہر وقت ابلتا رہتا ہے۔ اس زیرِ زمین مائع کے ابلنے سے توانائی پیدا ہوتی رہتی ہے اور اسی وجہ سے اوپری سطح پر پلیٹس ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتی ہیں۔ یہ ارضیاتی پرتیں یعنی ٹیکٹونک پلیٹس آہستہ آہستہ سرکتی ہیں۔ کہیں یہ پلیٹس ایک دوسرے سے الگ بھی ہو جاتی ہیں اور جہاں الگ ہوتی ہیں، وہاں زمین کی گہرائی بڑھ جاتی ہے۔ اس کی مثال فلپائن کی زیرِ سمندر خندق، ماریانہ ٹرنچ (Mariana trench)ہے، جو زمین کی سب سے گہری جگہ ہے۔ جہاں تک سوال زلزلے سے بچائو اور احتیاطی تدابیر کا ہے، تو ایسا انفرااسٹرکچر بنایا جائے، جو جھٹکے برداشت کر سکے۔ اس کے لیے سب سے پہلے یہ اندازہ لگانا ضروری ہے کہ کس علاقے میں کتنی شدّت کا زلزلہ آ سکتا ہے اور پھر اسی کے مطابق عمارات تعمیر کی جائیں۔‘‘ ساحلی اور میدانی علاقوں کی نسبت پہاڑی علاقوں میں زیادہ تباہی کیوں ہوتی ہے؟ اس حوالے سے ڈاکٹرسروش کا کہنا ہے’’ چوں کہ دیہات میں کم زور اور کچّے مکانات ہوتے ہیں، اس لیے وہ جھٹکوں سے گر جاتے ہیں۔ دراصل سارا معاملہ قوّتِ برداشت کا ہے، اگر کوئی عمارت پہاڑ پر ہے اور قوّتِ برداشت رکھتی ہے، تو وہ ٹوٹنے یا گرنے سے محفوظ رہے گی۔ تعمیرات کو باقاعدہ ڈیزائن کیا جانا، میٹیریل، کوالٹی وغیرہ کا چیک پیچیدہ مراحل ہیں، لیکن ان ہی کی بہ دولت عمارت اس قابل ہوتی ہے کہ زلزلے کے جھٹکے برداشت کر سکے۔‘‘

دنیا میں روایتی طور پر زلزلے کے پیش گوئی نظام کو بہتر کرنے ہی پر فوکس رکھا جاتا ہے، تاکہ حفاظتی انتظامات کیے جا سکیں، حالاں کہ آج تک زلزلے کی پیش گوئی اس قدرتی آفت سے بچائو اور سلامتی کی مکمل ضمانت نہیں دے سکی ۔ زلزلوں کی آماج گاہ، جاپان نے کسی حد تک پیش گوئی کا نظام مرتّب کرنے میں کام یابی حاصل کی، لیکن اس کے شہر، کوبے (kobe)میں آنے والے زلزلے نے اُن کے بھی یقین کے ستونوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس روایتی طرزِ فکر کے برعکس ،ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی جانیں زلزلے سے نہیں، بلکہ ہماری بنائی گئی ناقص عمارتوں سے ضائع ہوتی ہیں۔ دنیا بھر میں آنے والے زلزلوں میں ہونے والی تباہ کاریوں نے ثابت کیا ہے کہ عمارتوں میں زلزلے کے شدید جھٹکے سہارنے کی قوّت زیادہ ہونی چاہیے یا کم سے کم یہ قوّت اتنی ضرور ہو کہ عمارت میں موجود افراد زندہ حالت میں باہر آ سکیں۔ پروفیسر ڈاکٹر سروش لودھی نے اپنی کتاب،’’زلزلے‘‘ میں، تدابیر کے مختلف پہلو اُجاگر کرتے ہوئے اُنہیں اسٹرکچرل اور غیر اسٹرکچرل کیٹیگریز میں تقسیم کیا ہے۔ اسٹرکچرل تدابیر کے مطابق، ایسی عمارتیں اور تنصیبات، جن میں ممکنہ زلزلے کی قوّت سہارنے کی اہلیت نہ ہو ، ان میں اس کمی کو دُور کرنا چاہیے۔ نیز، نئی عمارات اس طرح تعمیر کی جائیں کہ وہ زلزلے کی قوّت سہار سکیں۔ پھر یہ کہ ذرائع آمد و رفت اور اہم پائپ لائنز وغیرہ کے لیے ایسے راستے استعمال کیے جائیں، جو زلزلے کی پٹی سے ہٹ کر ہوں۔ غیر اسٹرکچرل تدابیر میں مناسب تعلیم و تربیت، اداروں کا قیام اور ان کا استحکام، حکومت کی جانب سے ان تمام اُمور پر اخلاقی، تیکنیکی اور مالی مدد، عوام کے تمام طبقات تک آگہی کا جامع نظام اور اس سے متعلق تیاری کے فیصلے اور ہنگامی صُورتِ حال سے نمٹنے کے ذرائع وانتظام سے آگہی وغیرہ شامل ہیں۔ لہٰذا ماہرین کی ان آراء کو بھی مدّ ِ نظر رکھنا لازمی ہے کہ زلزلے سے ہونے والے نقصان کا انحصار، صرف زلزلے کی قوّت ہی نہیں، طرزِ تعمیر اور تعمیر میں استعمال ہونے والے میٹریل پر بھی ہے۔

تعمیرات کے ڈیزائنز سے متعلق این ای ڈی یونی ورسٹی کے شعبہ ارتھ کوئیک کے چیئرمین، پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود رفیع کا خیال ہے کہ’’ عمارت کے ڈیزائن کی تیاری اور تعمیر زلزلے سے متعلقہ اُصول و ضوابط کو مدّ نظر رکھ کر ہی کی جانی چاہیے۔ اگر ہم زلزلے کے خطرات میں گِھرے علاقوں میں مقیم ہیں، تو پھر عمارت ایسی ہونی چاہیے کہ جو زلزلہ کو برداشت کرنے کے قابل ہو۔‘‘ مِنی پاکستان( کراچی) کے اطراف موجود زلزلے کی تین پلیٹس کے بارے میں اُن کا کہنا ہے کہ’’ اسٹڈیز بتا رہی ہیں کہ کراچی کو مستقبل قریب میں خطرناک زلزلے کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، جب کہ شہر میں موجود عمارات کی زلزلہ برداشت کرنے کی استعداد ایک سوالیہ نشان ہے۔‘‘شمالی علاقہ جات، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر بنیادی طور پر وسطی ایشیا میں اُفق پر بھارتی پلیٹ کے کنارے کے ساتھ ساتھ ہیں، کیوں کہ اس علاقے میں دو ٹیکٹونک پلیٹس متصادم ہیں، لہٰذا یہاں زلزلوں کی کثرت ہے، لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ زلزلوں کے خوف سے مُلک کو اُس کے حال پر چھوڑ دیاجائے۔’’ یارانِ وطن‘‘ کے مصنّف، عرفان صدیقی نے کیا خُوب لکھا ہے ’’ جاپانی قوم ایک بہادر اور جفاکش قوم ہے، جو ہر تباہی کے بعد پہلے سے زیادہ مضبوط قوم کی شکل میں سامنے آتی ہے۔ ستمبر کے شروع میں جاپان کو ایک خطرناک طوفان نے نشانہ بنایا اور ابھی یہ قوم پوری طرح سنبھلی بھی نہ تھی کہ خطرناک زلزلہ آگیا۔ جاپان کا شہر، فوکو شیما سونامی سے تباہ ہو چکا تھا، لیکن حکومت اور عوام نے مل کر صرف چھے برسوں میں اس شہر کو پہلے سے زیادہ جدید طرز پر کھڑا کردیا۔ زلزلوں کا مسکن جاپان، تمام دنیا کے لیے بہترین مثال ہے، مِن حیث القوم ہمیں اس کی آبادکاری سے درس حاصل کرنا چاہیے اور اپنے طرزِ تعمیرات کو بھی جدید بنیادوں پر ُاستوار کرنا چاہیے۔‘‘

تازہ ترین