• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نئے دور کا صوفی شاعر…فادر مختار عالم

تحریر:سرفراز تبسم…لندن
صوفی شعراء کا عمومی و خصوصی دونوں طرح کا تعلق سرزمین پاکستان سے رہاہے۔ وارث شاہ کی بات ہو یا بُلے شاہ،میاں محمد بخش یا سلطان باہو، ان کے بعد استاد دامن اور ساغر صدیقی جیسے فقیر صفت شعراء کا سلسلہ چلتا رہا ہے اگر میں اسی ترتیب سے آج کے موجودہ دور کو دیکھوں تو مجھے آج کے نئے صوفی منظر نامہ میں بابا نجمی اور فادر مختار عالم کے نام روشن نظر آتے ہیں۔ آج جس معاملہ پر مجھے بات کرنی ہے اس کی نسبت فادر مختار عالم سے ہی ہے شاید بہت سے لوگ ان سے واقف نہ ہوں تاہم یہ آپ کے لئے حیرت کا باعث ہو کہ ان کی شعری کائنات ہزاروں صفحات پر ان کی کتابوں کی صورت بکھری ہوئی ہے۔ آیئے ایک نظر ان کی کتابوں پر ڈالیں۔ اُڈاری، تن ونجھلی، سورج کے ساتھ ساتھ، بول فقیرا، جانا تخت ہزارے، بے نوراں چوں نور، جدوں دا جگایا ای، پانچواں موسم، سوال یہ ہے، جاندا جاندا، آئو پار چلیں، کہانی کچھ یوں ہے۔ میرے لئے یہ بہت حیرت اور خوشی کا لمحہ تھا جب میں نے TCSکا پارسل کھولا تو اندر سے برِصغیر کے معروف صوفی شاعر فادر مختار عالم کی طرف سے تین کتابیں اور ایک غزل CDموصول ہوئیں باترتیب کتابوں کے نام ’’بے نوراں چوں نور، جدوں دا جگایا ای، آئو پارچلیں، میرے فہم وادراک کی وسعت کیلئے میری ذاتی لائبریری کیلئے گراںقدر اضافہ ہیں۔ اس انمول عقیدت اور محبت کا میں تاحیات مقروض رہوں گا تاہم اس خوبصورت تحفہ کا کیسے شکریہ ادا کیا جائے دیر تک اسی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد خیال آیا کے میں ان کی کتابوں کے لئے کچھ لکھوں گویا یہ خیال ایسے ہی ہے جیسے سورج کو چراغ دکھانے کی جسارت کرنا لہٰذا اپنی سی کوشش کر کے ان کی ادبی زندگی کا ذرہ سا خلاصہ کر رہا ہوں۔ کوئی ڈیڑھ دو دہائی قبل جب میں نے لکھنے کا آغاز کیا تو میرے ایک قابل دوست (شہزاد انجم، جو خود بہت اچھے مصنّف، مترجم اور موسیقی کے استاد ہیں اور آج کل نیویارک میں کلیسیائی خدمات میں سرگرمِ عمل ہیں) مختار عالم کی ایک نظم اکثر محفلوں میں سنایا کرتے تھے، لہٰذا یہ میرا پہلا تعارف تھا اس باکمال صوفی شاعر سے۔ اس کے بعد جب ان کی کتابوں کا مطالعہ کیا تو مطالعالیاتی بھوک نے ان کا دیوانہ بنا دیا۔ جولائی 2000میں جب میں نے ’’برگِ افکار‘‘ (مسیحی شعراء کا شعری انتخاب) شائع کیا تو ان کے بارے میں جو ایک مختصر سا تعارف اس کتاب میں شائع ہوا کچھ یوں تھا:’’فادرمختار عالم کا تعلق خوشاب سے ہے شعر سے ان کی لگن روح کی ہے، انہوں نے پنجابی زبان میں شعر کہے اور تن ونجلی، بول فقیرا، جاناں تخت ہزارے، اڈاری جیسی نایاب کتابیں پنجابی ادب کو دیں۔ ان کے کلام میں سچائی کی تمام کڑیاں آپسی میں ملتی جلتی نظر آتی ہیں۔ انہوں نے عشق الٰہی اور عشقِ مجازی کو باہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ’’جاناں تخت ہزارے‘‘ میں وہ لکھتے ہیں۔ ’’تخت ہزارہ بلو دا گھر نئیں کہ اک واری ناں لوو تے سارا ملخ لین بنان تے ٹکٹ کٹان لگ پوے۔ ایدھر تے کوئی ورلا ای منہ کردا اے اوہ ایس لئی کہ ایدھر جہیڑا وی گیا ماریا گیا ،آخر تخت ہزارہ ہے کیہ۔۔۔؟ تخت ہزارہ سقراط دا سچ اے، تخت ہزارہ منصور دا نالحق اے، تخت ہزارہ مہاتما بدھ دا نروان اے، تخت ہزارہ حضرت مسیح ولوں خدائی دا راج اے، تخت ہزارہ باطن دی آزادی اے۔ جیہڑی ظاہر ہو جائے تے، پاگل ای ائوے۔۔ پاگل ای ائوے،، ہوجاندی اے۔ تخت ہزارہ عاماں لوکاں لئی منڈیاں کڑیاں دے جان آلی تھاں ایں، ساڈے ہان دا کوئی اودھر نوں ٹرے تے، کھی کھی کھی کھی، کردے نیں تے کہندے نیں بابا ۔۔! توں کوئی ہیر ایں‘‘۔
فادر مختار عالم کی ایک پنجابی غزل کا چرچا کتاب کی جہاں جہاں تقریبِ رونمائی ہوئی ہوتا رہا، آپ بھی ان کی اس پنجابی غزل کو بھول نہیں پائیں گے۔
بھجن والہ پانڈا اوڑک بھج گیا
ساڈا جی ہن تیرے ولوں رج گیا
کد تیکر اوہ بوہڑ سلامت رہنا سی
جہیڑا میرے گھر دے کنگرے کج گیا
ہر ویلے دروازہ کُھلا رہندا سی
اج توں لے فر تیرے ولوں وج گیا
ساڈے پچھوں جو مرضی آ آکھیں پر
ایہہ نہ آکھیں دنیا دا بے لج گیا
کر دی رہیں نتارے پیار دی بازی وچ
کہنے کھادی مار تے کیہڑا بھج گیا
سانوں پیار کرن دا وتر نہ آیا
یا فر تیرا پیار کرن دا چج گیا
ساڈی لمبڑ داری پاویں کھس گئی
تیرا وی تے چوہدر والا چھج گیا
تیرا جانا مختاراؔ کوئی وکھرا نیئں
کل گیا کوئی ایتھوں تے کوئی اج گیا
تازہ ترین