آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل3؍ربیع الثانی 1440ھ11؍دسمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شائرین رانا

پیارے ساتھیو! نومبر کے آغاز کے ساتھ ہی ہمیں شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کی یاد آجاتی ہے، جن کا یوم ولادت 9 نومبر کو ہے۔ ارے ہم تو بھول گئے کہ آپ کو اقبال بھولے ہی کب تھے، کیونکہ انکی لکھی گئی نظمیں قریباً ہر روز آپ کی زبان پر ہوتی ہیں۔ جی ہاں ساتھیو! سکول کا آغاز تو ہوتا ہی علامہ اقبال کی خوبصورت دعا سے ہے، جسے بچے اسمبلی کے دوران یک زبان ہو کر پڑھتے ہیں، جس کے مصرعے کچھ یوں ہیں۔

لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری

زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری

اس دعا کی ادائیگی کے وقت بچے بہت پُرجوش ہوتے ہیں اور ہونا بھی چاہئے، کیونکہ اس نظم میں وہ اپنے وطن سے محبت اور اس کے لئے محنت کرنے کا عہد کر رہے ہوتے ہیں۔ آپ کوایک بات بتائوں ننھے دوستو! اب آپ پر ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ اس دعا کے پیش نظر اپنی زندگی میں بھی محنت اور لگن پیدا کرکے نہ صرف اپنے امی ابو بلکہ، ملک و قوم کا بھی دنیا میں نام روشن کریں۔

اب چلتے ہیں علامہ صاحب کی دیگر نظموں کی جانب، جو ہماری نصابی کتابوں میں موجود ہیں اور ہمارے لئے سبق آموز بھی ہیں۔ علامہ اقبال کی بچوں کے لئے کی گئی شاعری حکمت سے خالی نہیں ہے۔ ہر نظم میں ہم سب کے لئے سبق پوشیدہ ہے، جیسے ’’ایک گائے اور بکری‘‘ کی نظم میں گائے بکری سے حضرت انسان کا شکوہ کرتی دکھائی دیتی ہے، مگر بکری، جوگائے سے چھوٹی اور کمزور جانور ہے، نے بڑی سمجھ داری سے گائے پرانسان کا ان کے لئے خلوص بیان کرنے کی کوشش کی ہے، جس پر گائے پچھتاتے ہوئے کہتی ہے۔

یوں تو چھوٹی ہے ذات بکری کی

دل کو لگتی ہے بات بکری کی

ایک اور نظم ’’پرندے کی فریاد‘‘ ہے، جس میں ایک پرندہ، جسے قید کرلیا جاتا ہے، اپنی فریاد بیان کرتے ہوئے ماضی کو یاد کرر ہا ہے کہ جب وہ آزاد تھا تو اس کی زندگی کس قدر خوبصورت تھی اور جب سے قید ہوا زندگی ویران سی لگنے لگی ہے۔ پرندہ آخر میں کہتا ہے کہ

آزاد مجھ کو کر دے، او قید کرنے والے

میں بے زباں ہوں قیدی ، تُو چھوڑ کر دعا لے

دیکھا بچو! آزادی کتنی بڑی نعمت ہے، ہم سب خوش قسمت ہیں کہ آزاد وطن میں آنکھ کھولی۔ ہمیں اپنی آزادی کی قدر کرنی چاہئے، اس سے یہ بھی سبق ملتا ہے کہ کسی بھی بے زبان جانور یا چرند پرند کو قید مت کرو، کیونکہ جس طرح آپ اپنے گھروں میں خوشی خوشی رہتے ہیں، اسی طرح ان کا بھی حق ہے کہ وہ آزاد فضا میں سانس لیں۔ اب آتے ہیں ایک ایسی نظم کی جانب، جس میں ہمیں زندگی گزارنے کے طریقے بتائے، عنوان ہے ’’ایک مکڑا اور مکھی‘‘۔ اس نظم میں مکڑا اپنی چکنی چپڑی باتوں سے بالآخر مکھی کونگلنے میں کامیاب ہو جاتا ہے، جب کہ خوشامد کے جال میں پھنس کر مکھی اپنی جان گنوا بیٹھتی ہے۔ اس نظم سے سبق ملتا ہے کہ ہمیں دوسروں کی باتوں پر دھیان دینے کے بجائے، اپنی سوچ کے مطابق قدم آگے بڑھانا چاہیں۔ ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں کہ جب بھی کوئی آپ کے سامنے صرف آپ کی اچھائیاں بیان کرے تو سمجھ لیں کہ اسے آپ سے کوئی کام ہے، وگرنہ دوست اگر تعریف کرتا ہے تو وہ آپ کی شخصیت میں موجود خامیوں کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔ اس لئے بچو! ہمیشہ خوشامد کرنے والے دوستوں سے بچیں۔

ننھے دوستو! جگہ کی کمی کے باعث ہم آپ کو علامہ اقبال کی نظمیں پوری تو نہیں لکھ کر دے سکتے، تاہم آپ سب کوشش کریں کہ موبائل فون، لیپ ٹاپ یا ٹیب پر ویڈیو گیم کھیلنے کے بجائے، علامہ اقبال کی بچوں کے لئے لکھی گئی نظمیں نکالیں اور ان کو غور سے پڑھنے کی ضرور کوشش کریں اور ہاں اسکولوں میں ’’اقبال ڈے‘‘ کی تیاریاں بھی عروج پر ہیں۔ ان میں شرکت کرکے علامہ اقبال کو بھرپور انداز سے خراجِ عقیدت پیش کریں کہ شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال کی نظمیں ہم سب کو زندگی گزارنے کا درس دیتی ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں