آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ19؍رمضان المبارک 1440 ھ25؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اس حقیقت کا آشکار ہونا کہ زمینی کا شت سے حاصل ہونے والی آمدنی قومی سطح پر جی ڈی پی کا صرف پانچ یا چھ فیصد سے زیادہ نہیں ہے میرے لئے بھی نہایت حیرت کی بات تھی۔ اگر اس کو ایک دو یا چار فیصد بھی بڑھا دیا جائے تو یہ حقیقت اپنی جگہ پر قائم رہتی ہے کہ پاکستان کی نجات بہت بڑے پیمانے پر صنعتی شعبے کو وسیع کرنے پر ہے۔ پاکستان میں صنعتی شعبے میں گونا گوں رکاوٹوں کے ساتھ ساتھ خود سرمایہ دار طبقہ بھی آزاد منڈیوں میں مقابلہ کرنے کی بجائے ریاستی وسائل اور سبسڈیز پر انحصار کرتا ہے۔ مزید بر آںصنعتی ترقی کو وسعت دینے کے لئے معاشی عناصر کے ساتھ ساتھ ثقافتی اور نظریاتی بیانیےکو بھی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

زمینی کاشت کاری جی ڈی پی کا پانچ یا چھ فیصد حصہ ہوتے ہوئے چالیس فیصد عوام کا پیٹ نہیں پال سکتی اور ہمارے خیال میں ایسا ہو بھی نہیں رہا کیونکہ دیہی آبادی کا ایک حصہ شہروں اور بیرون ملک سے رقومات بھیج کر اپنے گاؤں میں پس ماندگان کو پالنے کی کوشش کر رہا ہے جو کہ مسئلے کا مستقل حل نہیں ہے۔ دیہی آبادیوں کا اکثریتی حصہ عملاً بیروزگار یا نیم روزگار ہے جس کا مطلب ہے کہ پاکستان اپنے بہت سے انسانی وسائل ضائع کر رہا ہے اور ان پرغیر پیداواری ہوتے ہوئے بھی معاشی وسائل صرف کر رہا ہے۔ اس پہلو سے دیکھیں تو شایدپاکستان میں بیروزگاری تیس سے لیکر چالیس فیصد تک ہو سکتی ہے۔ بیروزگاری کو ماپنے کے موجودہ طریقے تصویر کا اصلی رخ پیش نہیں کرتے۔یہ ایک بہت بنیادی بحث ہے جس پر علیحدہ بات کرنے کی ضرورت ہے۔

دیہی آبادی میں وافر بیروزگاری کو واضح کرنے کے لئے میں اپنے ہی خاندان کی مثال آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔ ہمارے خاندان کی کھیتی باڑی پچیس ایکڑ زمین تک محدود تھی۔ اس کے لئے میرے ایک بھائی کے ساتھ ایک ملازم رکھا جاتا تھا جو دن رات ہمارے ساتھ ہوتا تھا۔ اس کے علاوہ میرے والدین اور میری بھابی سمیت گھر کے تین چار افراد روزانہ کے کام نپٹانے کے لئے شب و روز محنت کرتے تھے۔ مویشیوں کی دیکھ بھال اور کھیتوں پر کام کرنے والوں کے لئے کھانے پینے کا سامان فراہم کرنا پورے خاندان کی شراکت داری سے ممکن ہوتا تھا۔ یہی نہیں بلکہ فصلوں کے پکنے کے موقع پر (مثلاً کپاس کی چنائی یا گندم کی کٹائی وغیرہ) مزید لوگ کام کے لئے بلائے جاتے تھے۔ اس سارے قصے میں یہ شامل نہیں ہے کہ گھر کی خواتین مختلف ضروریات کے لئے چرخہ کاتنے جیسے اور بہت سے فرائض سر انجام دیتی تھیں۔ کھیتوں پر بھی مزدور پیشہ اور کمی (دستکار) اپنی بہت سی ضروریات (مثلاً اپنے مویشیوں کے لئے چارے کا حصول) کے لئے ہاتھ بٹاتے تھے۔ گویا کہ پچیس ایکڑ کی کھیتی باڑی کے لئے آٹھ سے لے کر دس افرادکی محنت درکار تھی۔ اب مشینی کاشت کاری پر انحصار کرتے ہوئے اس سارے کام کے لئے ایک فرد بھی ہمہ وقت باروزگار نہیں سمجھا جا سکتا۔ اب گھر کی خواتین کا کھیتی باڑی میں کوئی کردار باقی نہیں رہااور گھریلو کاموں کے لئے بھی مشینوں (واشر، ریفریجریٹر، مائیکرو ویووغیرہ) کے استعمال کی وجہ سے ان کی محنت میں بہت کمی واقع ہوئی ہے۔ اس منظر نامے کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ وثوق کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ ہماری جیسی کھیتی باڑی کے لئے ایک دو کو چھوڑ کر باقی سب بیروزگار یا نیم روزگار ی کی صورت حال سے دوچار ہیں۔یہی وجہ ہے کہ میرا کوئی بھتیجا کھیتی باڑی کے پیشے سے منسلک نہیں ہے۔

مندرجہ بالا صورت حال کا تقاضا ہے کہ اس مسئلے کی گہرائی کو سنجیدگی سے سمجھا جائے لیکن ہمارے شہروں سے آئے ہوئے روایتی معیشت دان معاشرے میں اتنی ڈرامائی تبدیلیوں کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ بیروزگاری کی سطح کو کسی اور انداز میں دیکھ رہے ہوتے۔ اب اگر یہ سمجھ لیا جائے کہ ملک کی تیس فیصد سے زیادہ آبادی پیداواری عمل میں حرف زائد کی طرح ہے تو پالیسی سازوں پر صدماتی کیفیت طاری ہو جانا چاہئے۔ اور دنیا کے باقی ممالک کی مثالیں بھی ہمیں بتاتی ہیں کہ کھیتی باڑی کے شعبے میں بہت ہی کم لوگوں کی ضرورت ہے۔ اس لئے آبادی کو با مقصد روزگار مہیا کرنے کے لئے صنعتی شعبے کو جلد از جلد وسعت دینے کی ضرورت ہے۔

پاکستان میں صنعتی شعبے کو پھیلانے کے لئے ریاستی پالیسیاں ناکام ہو چکی ہیں۔ پاکستان کا زیادہ تر سرمایہ رئیل اسٹیٹ کی سٹے بازی کے تصرف میں ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان میں بجلی ، گیس اور صنعتی پیداوار کے لئے لازمی عناصر کی قیمتیں اس قدر زیادہ ہیں کہ ملکی سرمایہ کار عالمی منڈیوں میں مقابلہ کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔ اسی وجہ سے پاکستان کی درآمدات برآمدات سے کہیں زیادہ ہیں اور تجارتی خسارہ بڑھتا جا رہا ہے۔پاکستان کے مقابلے میں بنگلہ دیش جیسے ممالک میں پیداواری لاگت بہت کم ہے جس کی وجہ سے پاکستانی صنعتیں بھی وہاں منتقل ہو رہی ہیں۔ اس لئے پالیسیوں میں اہم ترین تبدیلی کا مطمح نظر ہر پہلو سے پیداواری لاگت کو بہت نیچے لاناہونا چاہئے۔ پاکستان کو بجلی اور گیس جیسے پیداواری عناصر کی قیمتیں نیچے لانے کے لئے انقلابی اقدامات اٹھانے ہوں گے جن میں سابقہ حکومتوں کے قائم کردہ ڈھانچوں (آئی پی پیز وغیرہ) کو از سر نو ترتیب دیا جانا چاہئے۔ اسی طرح عالمی منڈیوں میں مقابلے کی سکت پیدا کرنے کے لئے حکومت کو صنعتی سبسڈیز دے کر سرمایہ دار طبقے کو وقتی سہارے دے کر منافع خوری کی پالیسی کو ترک کرنا پڑے گا۔

پاکستان میں صنعتی کلچر یا ماحول پیدا کرنے کے لئے نظریاتی بیانیے میں بھی بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں جنسی تعصبات کو دور کرنے کے علاوہ تعلیمی نظام کو بھی بہتر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ نہ صرف جدید اور بہتر ذہن پیدا ہوں بلکہ معاشرے میں نیچے سے اوپر جانے کے مواقع ہر شہری کو میسر ہوں۔ دوبارہ بنگلہ دیش کی مثال کو دیکھئے جہاں خواتین نے ٹیکسٹائل انڈسٹری میں شمولیت سے ایک انقلاب پیدا کردیا ہے۔ پاکستان جیسے سرمایہ داری ڈھانچے میں معیاری تعلیم ہی افراد کو ترقی کی فضا مہیا کر سکتی ہے۔ اگر اعلی تعلیم صرف صاحب ثروت لوگوں تک محدود رہتی ہے تو معاشرے میں طبقاتی تقسیم خطرناک نتائج پر منتج ہو سکتی ہے۔

معاشی ترقی میں عوام کو حصہ دار بنانے کے لئے سستے مکانات اور صحت کی سہولتوں کا فراہم کیا جانا ضروری ہے۔ اس سلسلے میں موجودہ حکومت کا سستے مکانات فراہم کرنے کا منصوبہ نہایت موزوں ہے۔ اگر موجودہ حکومت سرکاری تعلیم کے معیار کو بلند کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو وہ صنعتی ترقی کا بہت بنیادی تقاضا پورا کر سکتی ہے۔ بہر حال پاکستان کی تمام تر آبادی کو با مقصد روزگار مہیا کرنے کے لئے انقلابی سوچ چاہئے اور ماضی میں رہنے کی بجائے آج کی صورت حال کا سامنا کرنے کی ضرورت ہے۔ صنعتی ترقی کے بغیر نہ ہی دیہی عوام کی حالت سنور سکتی ہے اور نہ ہی شہروں کے لوگ بہتر زندگی کا خواب دیکھ سکتے ہیں۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں