آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ14؍رجب المرجب 1440 ھ22؍ مارچ 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حکمرانوں کو گاہے یہ خیال چٹکیاں کاٹتا ہے رعایا کو داد رسی کا موقع فراہم کیا جائے تاکہ وہ اپنی شکایات اور عرضیاں براہ راست حاکم وقت تک پہنچا سکیں۔ مغل بادشاہوں نے اس مقصد کیلئے شاہی محل کے جھروکے سے ’’درشن‘‘ کی روایت متعارف کروائی۔ بادشاہ کی جھلک دیکھنے والوں میں اکثریت ان سائلین کی ہوتی جو اپنے مسائل اور پریشانیاں بیان کیا کرتے۔ بعد ازاں دربارِ عام کی صورت میں عوام کو حاکمِ وقت تک رسائی کا موقع فراہم کیا گیا۔ برطانوی تسلط کے زمانے میں انگریز سرکار نے کھلی کچہریوں کا سلسلہ شروع کیا جو آج بھی جاری و ساری ہے۔ قیام پاکستان کے بعد حکومتوں نے انواع و اقسام کے شکایات سیل متعارف کرائے تاکہ ناانصافی کا شکار مظلوم افراد زنجیر عدل ہلا سکیں۔ ان شکایات سیل کی حقیقت آشکار کرتے ہوئے قدرت اللہ شہاب نے ’ڈپٹی کمشنر کی ڈائری‘ میں عیدو نامی سائل کی داستانِ حسرت بیان کی ہے۔ انبالہ سے ہجرت کرکے ضلع جھنگ میں آباد ہونے والے اس مہاجر کو متروکہ اراضی الاٹ ہوئی تھی جس پر کاشتکاری کے ذریعے وہ اپنے خاندان کی کفالت کر رہا تھا مگر اس دوران کسی بے رحم پٹواری نے الاٹمنٹ منسوخ کرنے کی دھمکی دی تو اس نے گورنر پنجاب، وزیراعلیٰ، وزیر بحالیات، کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور دیگر حکام کو داد رسی کیلئے درخواست بھجوا دی۔ لاٹ صاحب، وزیراعلیٰ، وزیر بحالیات و دیگر حکام کے دفاتر کا طواف کرنے کے بعد یہ درخواستیں ’’برائے مناسب کارروائی‘‘ سرکاری افسروں کی میز پر آتی گئیں اور فرض شناس افسر رپورٹ طلب کرنے کیلئے اسے ماتحت حکام کی طرف بھجواتے چلے گئے یہاں تک کہ یہ تمام درخواستیں افسر مجاز یعنی اسی پٹواری کے پاس جا پہنچیں جو اس غریب سائل کی اراضی ہڑپ کرنے کے درپے تھا۔ گویا اسی ’’عطار کے لونڈے‘‘ کو مسیحائی کرنے کا کہہ دیا گیا جس کے سبب بیمار ہوئے تھے۔ اس نے ازراہ تلطف، سائل عیدو کو پٹوار خانے طلب کیا اور ان درخواستوں کا پلندہ اس کے منہ پر دے مارا۔ قدرت اللہ شہاب کے بقول اس پٹواری نے لگی لپٹی رکھے بغیر تنک کر کہا ’’اب تم یہ درخواستیں جھنگ، ملتان یا لاہور لے جائو اور ان کو اپنے سالے باپوں کو دے آئو‘‘عیدو اس تذلیل و تحقیر کے بعد بھی کوئے داد رسی کے طواف سے باز نہ آیا اور سرکاری دفاتر کی خاک چھانتا رہا۔ اس دوران پٹواری نے اس کی الاٹمنٹ منسوخ کر دی اور ضابطے کی کارروائی پوری کرنے کے بعد رپورٹ تحریر فرمائی ’’جناب عالی! سائل مسمی عیدو فضول درخواست ہائے دینے کا عادی ہے۔ اسے متعدد بار سمجھایا گیا کہ اس طرح حکام اعلیٰ کا وقت ضائع کرنا درست نہیں، لیکن سائل اپنی عادت سے مجبور ہے۔ سائل کا چال چلن بھی مشتبہ ہے اور اس کا اصل ذریعہ معاش فرضی گواہیاں دینا ہے۔ مشرقی پنجاب میں اس کے پاس کوئی زمین نہیں تھی۔ بمراد حکم مناسب رپورٹ ہذا پیش بحضورِ انور ہے‘‘ گرداور اور قانون گو نے یہ لکھ کر درخواستیں تحصیلدار کے دفتر بھجوا دیں کہ ’’رپورٹ پٹواری مفصل ہے‘‘۔ درخواستیں اسی گول دائرے میں گھومتی ہوئی ان اعلیٰ حکام کے پاس واپس آگئیں جنہوں نے ’’برائے مناسب کارروائی‘‘ مارک کیا تھا۔ اس دوران ہر سرکاری افسر نے ایک ہی جملے کا اضافہ کیا ’’رپورٹ پٹواری مفصل ہے‘‘۔

نواز شریف جب دوسری مرتبہ وزیراعظم بنے تو عوامی شکایات کے ازالے کیلئے ایک ہاٹ لائن قائم کی گئی جس کا نمبر ڈائل کرتے ہی آپ کا رابطہ ایوان وزیراعظم میں ہو جاتا اور مخصوص اوقات میں وزیراعظم بذات خود ٹیلیفون کال وصول کرتے اور لوگوں سے مسائل دریافت کرتے۔ وزیراعظم سیکریٹریٹ میں شکایات سیل کسی نہ کسی انداز میں ان کے جانے کے بعد بھی کام کرتا رہا۔ عمران خان وزیراعظم بنے تو انہوں نے جدید تقاضوں کے عین مطابق ’’سٹیزن پورٹل‘‘ کے نام سے ایک موبائل ایپلیکیشن متعارف کروائی جس کے ذریعے پاکستانی شہری اپنے مسائل کے حل کیلئے براہ راست وزیراعظم سے رجوع کر سکتے ہیں۔ چند روز قبل وزیراعظم کے معاون خصوصی افتخار دُرانی کے ذریعے معلوم ہوا کہ اب تک 110000شکایات موصول ہوئی ہیں جن میں سے 16770عرضیاں نمٹا دی گئی ہیں جبکہ 84000درخواستوں پر ’’مناسب کارروائی‘‘ کی جا رہی ہے۔ میرا خیال تھا کہ اب زمانہ بدل چکا ہے اور پاکستان ’’رپورٹ پٹواری مفصل ہے‘‘ کی گردان سے نکل چکا ہوگا لیکن بعض سائلین کی بیان کردہ تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ ہم آج بھی اسی دور میں زندہ ہیں اور عوامی شکایات کا ازالہ اسی انداز میں کیا جا رہا ہے۔

سعودی عرب میں روزگار کیلئے مقیم پاکستانی شہریوں کے بچوں کو تعلیم فراہم کرنے کی غرض سے 1960سے پاکستان انٹرنیشنل اسکول جدہ کام کر رہا تھا مگر کیمرج کے معیار کی تعلیم فراہم کرنے کی غرض سے 1995میں پاکستان انٹرنیشنل اسکول جدہ (انگلش سیکشن) کے نام سے ایک نیا تعلیمی ادارہ قائم کیا گیا۔ یہ دونوں غیر منافع بخش تعلیمی ادارے ہیں جو طلباء و طالبات سے موصول ہونیوالی فیسوں پر انحصار کرتے ہیں مگر فیسوں میں بے تحاشا اضافہ کرکے ان تعلیمی اداروں کو سونے کی چڑیا بنا دیا گیا ہے اور پاکستان انٹرنیشنل اسکول جدہ (انگلش سیکشن ) کی سالانہ آمدنی پانچ کروڑ سعودی ریال تک پہنچ چکی ہے۔ یہاں 2008ء میں ایک بی اے پاس کو پرنسپل تعینات کیا گیا جن کے دور میں مالی بے ضابطگیوں کی شکایات موصول ہوتی رہیں مگر یہ خاتون پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر سینیٹر منتخب ہونے کے بعد تک اس عہدے پر براجمان رہیں۔ گزشتہ ماہ سعودی عرب میں مقیم پاکستانی شہریوں نے ’’سٹیزن پورٹل‘‘ کے ذریعے وزیراعظم عمران خان کو شکایت کی کہ اب پھر اثر و رسوخ کی بنیاد پر بی اے پاس شخص کو بھاری تنخواہ اور پرکشش مراعات کے عوض پرنسپل بنا دیا گیا ہے۔ بتایا گیا کہ پرنسپل کی ماہانہ تنخواہ تیس ہزار سعودی ریال ہے جبکہ اس کی رہائش کیلئے انتہائی پوش علاقے میں قائم بن محفوظ کا ایک گھر کرائے پر لیا گیا ہے جس کا سالانہ کرایہ 136000سعودی ریال ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ مالی بے ضابطگیوں اور میرٹ کے برعکس بھرتیوں کا سلسلہ بھی عروج پر ہے اور ان فضول خرچیوں کیلئے بچوں کی فیسوں میں بار بار اضافہ کیا جاتا ہے۔

درخواست دینے والے پاکستانی شہری بتاتے ہیں کہ اب انہیں ایک شخص ٹیلیفون کرکے اسی طرح کا مشورہ دے رہا ہے جس طرح پٹواری نے درخواستیں منہ پر مارتے ہوئے عیدو کو دیا تھا۔ مبینہ طور پر انکوائری افسر مقرر ہونے والے صاحب کی طرف سے بتایا جا رہا ہے کہ یہ درخواست وزیراعظم سیکریٹریٹ سے انہیں مارک کی گئی ہے، بہتری اسی میں ہے کہ اپنی شکایت واپس لے لو ورنہ میں لکھ کر بھیج دونگا کہ شکایت بے بنیاد اور لغو ہے۔ لیکن اسکے باوجود سائلین آرام سے نہیں بیٹھیں گے تاوقتیکہ رپورٹ پٹواری مفصل ہونے کے بعد وزیراعظم سیکریٹریٹ اس شکایت کو داخلِ دفتر نہ کر دے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں