آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر17؍ رجب المرجب 1440ھ 25؍مارچ2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسکول کا دور سب سے یادگار ہوتا ہے، جب نوجوان طلبہ و طالبات بے فکر، غم ِمعاش سے آزاد،کھیل اور پڑھائی میں مشغول نظر آتے ہیں۔3سال سے16برس کا یہ تعلیمی زمانہ تاعمر کیریئر کی راہیں متعین کرتا ہے،لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا تعلیمی کامیابی کا تعلق ہمارے جینز میں تو نہیں؟ کیا ہمارے مقدر میں کامیابی یا ناکامی لکھی ہے؟ اگر ایسا ہے تو پھر کوشش کیوں؟ لیکن سائنس دان مصر ہیں کہ ہمارا ڈی این اے(DNA) ہمیں تعلیمی سرگرمیوں میں سرفراز کرتا ہے۔

ڈی این اے کیا ہے؟

کرہ ارض پر متحرک زندگی ڈی این اے (Deoxyribonucleic Acid) کے رموز سے عبارت ہے۔ جاندار اپنی ظاہری ساخت، رویہ اور چال چلن، خلیات میں موجود ڈی این اے کے جینیٹک کوڈز سے ہی پاتے ہیں ۔ ڈی این اے کوڈز میں تحریرِ حیات کا عکس موروثی اکائی(genotype) میں پایا جاتا ہے۔ماں باپ کی کوئی عادت (trait) ،آنکھ کا رنگ، قد وغیرہ اولاد میں منتقل ہوجاتی ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ والدین کی علمی وراثت بھی ڈی این اے کوڈ کی صورت اگلی نسل میں منتقل ہوتی ہے۔ یہ جینز والد اور والدہ کے بھی ہو سکتے ہیں اور دادا دادی، پڑدادا پڑدادی کے بھی۔ انہی جینز کو آج کل تعلیمی جینز کہا جاتا ہے۔

تعلیمی جینز کیسے منتقل ہوتے ہیں؟

سائنسدانوں نے سینکڑوں جینز کو ذہانت سے منسلک کیا ہے۔ کئی دہائیوں تک جینیاتی محققین ذہانت کے پیچھے کارفرما موروثی عوامل کی تلاش کرتے رہے، لیکن انہیں زیادہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ لیکن اب جینیاتی مطالعہ جات اس قدر وسیع اور مؤثر ہوگئے ہیں کہ یہ ذہانت سے وابستہ جینیاتی فرق کی کھوج کریں۔ آئس لینڈ کے سائنس دانوں نے ایک لاکھ سے زائد مقامی باشندوں کے تعلیمی میلان کا جائزہ لیا تو پتہ چلا کہ ذہین ماؤں کے تعلیمی جینز بمشکل بچوں میں منتقل ہوپاتے ہیں۔ پروفیسر عمرانیات آکسفورڈ یونیورسٹی میلنڈا ملز کا کہنا ہے،’’ہمارے جینز میں ذہانت کا تعلق ماحول اور مسلسل ارتقائی عمل سے ہے‘‘۔ اسے ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہر معیشت جوناتھن بیو چھمپ فطری انتخاب کہتے ہیں، جس نے امریکی آبادی میں تعلیم اور ترکیب و تالیف میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا ہے،’’ٹیکنالوجی کے نئے ذرائع نے جہاں ذہانت کو بلند کیا ہے، وہیں ہم اس فطری ذہانت سے محروم ہورہے ہیں، جو ہمارے اجداد میں پائی جاتی تھی۔ اس وقت علم کی بہتات تو ہے لیکن ہم آئن اسٹائن ، ابن رشد اور بو علی سینا سے تعلیمی جینز اپنی نسل میں منتقل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ہمیں معیاری تعلیم و اقدارکے لیے فطرت سے دوستی کرنا ہوگی‘‘۔

تعلیمی کامیابی کے ضامن جینز

بین الاقوامی سائنس دانوں کی ٹیم نے جب 30 اور زائد عمر کے15یورپی ممالک سے تعلق رکھنے والے11لاکھ سے زائد لوگوں کی جینیاتی ترکیب و تالیف اور تعلیمی تاریخ کا معائنہ کیا تو ایسے74سنگل نیوکلیو ٹائیڈ پولی مور فزمز(Single Nucleotide Polymorphisms) دریافت ہوئے،جن کا براہ راست تعلق تعلیمی کامیابیوں سے ہوتا ہے، تاہم یہ صرف20فیصد جینز ہیں۔ پولی جینک اسکورمیںبھی براہ راست تعلیمی کامیابی سے وابستہ جینز اور ڈی این اے کا مکمل پتہ نہیں لگایا جا سکا۔ اس ضمن میں سب سے اہم کامیابی امریکی سائنس دانوں کو اس وقت حاصل ہوئی، جب انہوں نے تین تعلیمی جینز کا سراغ لگایا۔ کالج آف کرمنالوجی اینڈ کرمنل جسٹس فلوریڈا یونیورسٹی کے پروفیسر کیون بیور(Kevin Beaver) اور ان کی ٹیم نےہزاروں امریکی طالب علموں سے تحقیقی سروے اور لیبارٹری نتائج ک ذریعے پتہ چلایا ہے کہ ہماری اسکول، کالج اور یونیورسٹی میں تعلیمی کامیابیوں کا تعلق DAT1،DRD2 اورDRD4نامی تین ایجوکیشن جینز سے ہے، جن کی وجہ سے توجہ میں باقاعدگی آتی ہے، ترغیب و حوصلہ پیدا ہوتا ہے جبکہ ذہنی مہارتیں اور ذہانت بڑھتی ہے۔ دماغ کی ذہانت کا ماخذ پانے کا یہ سفر ابھی جاری ہے اور کلینیکل سائیکاٹرسٹ، نیورو سائنس، حیاتیات و جینیات میں تیزی سے پیش رفت ہورہی ہے۔

سائنسدانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ تعلیم کے میدان میں ہر ایک سال گزارنے سے انسان کی زندگی میں اوسطاً 11ماہ کا اضافہ ہوتا ہے۔ محققیں کے گروپ نے چھ لاکھ سے زیادہ افراد کے ڈی این اے کا مطالعہ کیا۔یہ تحقیق نیچر کمیونیکیشن نامی جرنل میں شائع ہوئی، جس میں بتایا گیا کہ محققوں نے انسانی ڈی این اے میں مخصوص تقلب یا میوٹیشن کی موجودگی کا پتہ چلایا ہے، جو لمبی عمر پر اثرانداز ہوتا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں