25دسمبر بلیک اینڈ وائٹ اور خاموش فلموں کے ہر دل عزیزکامیڈین کے حوالے سے یادگارہے کیونکہ اسی روزمزاحیہ فلموں کے مشہور اداکار چارلی چپلن 41 ویں برسی ہے۔ بڑ ے بڑے بوٹ، ڈھیلی پینٹ، تنگ کوٹ، ہٹلر جیسی موچھیں، موٹی موٹی آنکھیں، گھنگھریالے بال، باولر ہیٹ اور ہاتھ میں چھری۔
جی ہاں یہ ہیں چارلی اچیپلن ! خاموش فلموں کا ایسا کامیڈین جس کے نام سے ہی چہرے پر مسکراہٹ آجاتی ہے۔
پانچ سال کی عمر میں اسٹیج پر جلوہ گر ہونے والے اس فنکار کو اپنے ہی ملک برطانیہ میں کوئی پہچان نہ ملی تو اس نے مفلسی کی زندگی چھوڑ کر نیویارک میں اپنے فن سے خوب نام کمایا۔
انہوں نے تقریباً سو فلموں میں کام کیا72 فلمیں لکھیں ،سات ڈائریکٹ کیں جبکہ تقریباً اکتیس فلمیں پروڈیوس کیں۔
چارلی وہ ڈائریکٹر اور فلمساز ہیں جن کی دو فلمیں گولڈ رش اورسٹی لائٹس دنیا میں اب تک بنائی جانے والی دس بہترین فلموں میں شمار کی جاتی ہیں۔
انیس سو انتیس میں پہلی آسکر ایوارڈ تقریب میں انہیں فلم دا سرکس پر بہترین اداکاری، ہدایتکاری ، فلمسازی اور اسکرپٹ میں مہارت پراسپیشل ایوارڈ سے نوازا گیا۔انہیں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ بھی ملا اور حکومت برطانیہ نے انہیں’سر‘ کے خطاب سے بھی نوازا۔
چارلی چپلن نے25 دسمبر1977ء کو وفات پائی اور اپنے چاہنے والوں کو چھوڑ کرچل بسے ۔
دنیا کی تمام فلم انڈسٹریز میں بہت سے مزاحیہ فنکار، فلمساز اور بہترین ہدایت کار پیدا ہوئے لیکن دنیا اب تک دوسرا چپلن نہیں دیکھ سکی ۔