آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر18؍ذیقعد 1440ھ22؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسلامی تعاون تنظیم او آئی سی نے 2018ءکے دوران دنیا بھر میں موجود مسلم آبادی کا سالانہ جائزہ جاری کردیا۔تنظیم کا کہنا ہے کہ 50کروڑ مسلمان غیر مسلم ممالک میں اقلیت کے طور پر آباد ہیں۔ ان میں ہندوستان اور چین میں سب سے زیادہ مسلمان آباد ہیں۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ سن 2050ء تک ہندوستانی مسلمان دنیا کے ہر ملک سے زیادہ ہوجائیں گے۔ ان کی تعداد30کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔

 او آئی سی نے توجہ دلائی کہ اسے غیر مسلم ممالک میں آباد مسلمانوں کے حالات کا احساس ہے اور ا ن کے تئیں اپنے فرائض کا بھی اسے علم ہے۔

او آئی سی کے منشور میں یہ بات موجود ہے کہ وہ مسلم اقلیتوں کا دفاع کرے گی۔ ان کے شہری، ثقافتی اور سیاسی حقوق دلانے کیلئے کردارادا کریں گے ۔

جائزے میں بتایا گیا ہے کہ سب سے زیادہ مسلمان جنوب مشرقی ایشیا میں آباد ہیں جہاں دنیا کی کل آبادی کے60 فیصد سے زیادہ ہ لوگ بستے ہیں۔

مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے ممالک میں دنیا کی کل آبادی کا 20فیصد آباد ہے ۔ انڈونیشیا میں اس وقت سب سے زیادہ مسلمان رہ رہے ہیں۔

جائزے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ غیر مسلم ممالک میں آباد مسلمان متعدد چیلنجوں سے دوچار ہیں ۔ خانہ جنگی ، نسلی کشمکش یا سیاسی ہنگاموں کی وجہ سے انہیں مشکلات درپیش ہیں۔

افریقی ممالک میں آباد مسلمان 53.1فیصد ، ایشیائی ممالک میں 32.1فیصد، یورپی ممالک میں 7.6، آسٹریلیامیں 1.7، شمالی امریکہ میں 1.7فیصداور جنوبی امریکہ میں0.4فیصد ہیں۔

بعض مقامات پر انسانی حقوق بھی برابر نہیں مل پارہے ۔ کبھی کبھار انہیں اقتصادی امداد کی ضرورت ہوتی ہے اور قدرتی آفات آنے پر انسانی امداد درکار ہوتی ہے۔

دیگر حالات میں مسلم اقلیت ملکی قانون کے مطابق جملہ انسانی حقوق اور مکمل شہریت کے حقوق حاصل کئے ہوئے ہیں البتہ معاشرے میں سماجی و اقتصادی امتیاز سے دوچار ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں