آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات10؍جمادی الاوّل 1440ھ 17؍جنوری2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

زندگی کو جینے کےفن سے عبارت کیا جائے تومبالغہ آرائی نہ ہوگی۔ سیکھنے کا عمل تاعمر جاری رہتا ہے ۔ہرکام کے لیےہمیں مہارت، تکنیک اور فن کا لحاظ رکھنا پڑتا ہے۔ مصور و مجسمہ ساز، ادیب و شاعر، موسیقار وگلوکار، اداکار و صداکار، استاد و ماہر تعلیم یا پھر دانشور ومدبر بننے کے لیے ہمیں فنی رموز درکار ہوتے ہیں۔ یہاں ہم’’ مصورانہ ذہانت‘‘ رکھنے والے طالب علموں کیلئے کچھ منفردگُر لائے ہیں، جن پر عمل کر کے اپنی فنکارانہ مہارت کے ذریعے عظیم مصوروں میں اپنا نام لکھواسکتے ہیں۔

فن ریاض مانگتا ہے: ڈرائنگ اور مصوری میں کمال یا دسترس حاصل کرنے کیلئے روزانہ مشق کرنا ایسی عادت ہے، جسے کرتے کرتے آپ ماہر مصور بن جائیں گے۔

رنگوں کی پہچان رکھیں: آپ نےکلر بلائنڈ کی اصطلاح ضرورسنی ہوگی۔ کچھ طالب علموں میں رنگوں کی پہچان نہیں ہوتی۔ وہ کئی رنگوں میں امتیاز نہیں کرپاتے جبکہ دوسرے رنگوں کو جاننے میں بڑے مشاق ہوتے ہیں۔ انہیں دھنک کے سات رنگوں سے نکلے تمام شیڈز کی پہچان ہوتی ہے۔ اگر آپ مصورانہ ذہانت رکھنے والے’’ رنگ مزاج‘‘ ہیں تو مصوری اور فوٹو گرافی آپ کے کیریئر کو چار چاند لگا سکتی ہے۔ رنگوں کی پہچان کے حوالے سے بیسک آرٹ کا طریقہ کار مختلف رہا ہے، جس میں بنیادی سیاہ و سفید رنگ کے شیڈز اور ٹونز کے مطابق رنگ سازی کی جاتی ہے یا پھر نیلے اور پیلے رنگ کے شیڈز میں سے خاکستری و سبز رنگ نکالے جاتے ہیں۔ تاہم سیاہ و سفید اور نیلے وپیلے رنگوں کو مصوری میں زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ رنگوں کی نفسیات سمجھنے سے پہلے یہ سوچیں کہ آپ کونسا منظر کینوس پر بنانا چاہتے ہیں۔

معیار پر سمجھوتہ نہ کریں: فن پارے کی بات ہو اورمعیار نہ ہو، بھلا یہ کیسے ممکن ہے۔ اپنی مکمل توجہ کمالِ فن میں لگائیں، قیمت کا تعین فن پارہ خود کرے گا۔

ہم عصر مصوروں کے فن پارے دیکھیں: پینسل ڈرائنگ، اسکیچ اور کینوس پر بنائے ست رنگی مصوری کے شاہکار اور فن پاروں کی تاریخ بہت شاندار رہی ہے۔ مونا لیزا کی مسکراہٹ ہو یا وان گوگ کا پیلا رنگ، پکاسو کی تجریدی مصوری ہو یاچغتائی و صادقین کی ’’مغل و ہند مصوری‘‘ اور’’خمیدہ و کانٹے دارنقوش‘‘، گل جی کی موزیک پینٹنگز ہوں یا آذر زوبی کے لکڑی کے مجسمے، غرض یہ کہ آپ کو چاہیے کہ مشرقی و مغربی مصوروں کے انفرادیت کے حامل شاہکار دیکھیں۔ یہ عین اس طرح ہے جیسے کسی بھی شاعر و افسانہ نگار یا ناول و ڈراما نویس کو دیگر شعرا ء کے کلام، افسانے، ناول اور ڈرامے پڑھنے یا دیکھنے پڑتے ہیں۔ مصور کیلئے مشاہدہ اتنا ہی لازم ہےجتنا کہ کسی ادیب کو۔

شاگردی لازمی ہے: مصوری کا فن جاننے کیلئے کسی مصور سے ڈرائنگ اور اسکیچ پورٹریٹ بنانے کے بنیادی اصول سیکھنے لازمی ہیں۔ ماہر مصوروں سے رموزِ فن جاننے کیلئے شاگردی میں آنا پڑتا ہے، بالکل ایسے ہی جیسے شاعری و کہانی میں ہمیں اساتذہ کی رہنمائی درکار ہوتی ہے۔ طبع فن کیلئے ہمیں اپنے ہم پیشہ و ہم مرتبہ لوگوں کے ساتھ ملنا جلنا اور اٹھنا بیٹھنا پڑتا ہے۔ دورِ جدید میں ڈیجیٹل جنریشن کا نیااسٹائل گرافک پینٹنگ اور فوٹو پینٹنگ ہے۔

فن کا نیا زاویہ اپنائیں: اگر آپ روایتی فن مصوری کے دلدادہ ہیں اور عام طور پر پینسل یا کلر پینسل استعمال کرتے ہیں تو آپ کو پلاسٹک، گرافکس اور پینافلیکس کیلئے ڈیجیٹل مصوری کا راستہ اپنانا ہوگا، یہ آج کا مارکیٹ ٹرینڈبھی ہے۔ آپ کو پاکستان میں فن پاروں کی نمائش اورعالمی آرٹ میوزیمزمیںآویزاں فن پاروں کی اکیس جہات ملاحظہ کرنی ہوں گی۔ کسی کے کیے گئے کام پر فن نہ آزمائیں بلکہ کوئی ’’نیا زاویہ‘‘ اپنائیں اور مصوری کا اپنا رنگ لائیں کیونکہ یہی انفرادیت ہمیں شاہکار مصورانہ فن پاروں کو سراہنے پر مجبور کرتی ہے۔

اسٹروکس کا بغور مشاہدہ کریں: جب ہم برش پھیرنے کی بات کرتے ہیں تو ایسے میں گل جی فوراً یاد آتے ہیں، جو ہمیشہ الٹا اسٹروک لگاتے تھے، ایسا ہی پیار آپ کو بھی برش سے کرنا ہوگا۔ رنگ کو کتنا لینا ہے یا پھر آئوٹ لائن کہاں کھینچنی ہے، یہ آپ کا کمالِ فن ہے،جس پر آپ امن ایوارڈ اور صادقین ایوارڈ کےمستحق بھی بن سکتے ہیں۔ پرائمری اسکیچ ڈرائنگز کی کئی ویب سائٹس موجود ہیں، جو آپ کے مصورانہ تخیل کو جِلا بخش سکتی ہیں۔

ابتدا خود سے کریں: خود پر غور کریں، آپ کو ایک ایک مسام سے پھُوٹےرنگوں کے عجب سلسلے دکھائی دیں گے۔ لال رنگ خون میں تو ہے ہی لیکن جِلد میں خاکستری و گندمی، زرد اور مٹیالے رنگ کی آمیزش بھی ہے جبکہ گورا اور کالا بنیادی رنگ کہے جاتے ہیں۔ انسانی جسم کے رنگوں کو پرکھتے ہوئے باریک بینی سے کسی منظر کو من و عن پیش کرنا ہی دراصل مصوری و فوٹو گرافی کو اعلیٰ مقام عطا کرتی ہے۔ ایسے میں روحانی دنیا میں رنگ و روشنی کے حوالے سے قوس قزاح کے سات رنگوں کو بھی جاننا ہوگا۔

روایتی مصور نہ بنیں:اپنی راہ خودچنتے ہوئے روایتی مصوری نہ کریں۔ روایتی ڈگر پر بنائی جانے والی تصاویر روایتی ہی رہتی ہیں۔ مصوری کے تخلیقی انداز کو اپناتے ہوئے کچھ ایسا کر دکھانا ہوگا، جو آپ سے پہلے کسی نے نہ کیا ہو۔ عظیم مصوروں کی بھی یہی انفرادیت ہمیں مسرور و مسحور کرتی ہے،تو پھر کیوں نہ آپ بھی کچھ الگ کر دکھائیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں