آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ16؍ ذیقعد 1440 ھ 20؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

  • تحریر:عالیہ کاشف عظیمی
  • ماڈل:سنبل خان
  • ملبوسات:انجم ز کلیکشن، لبرٹی، لاہور
  • آرایش:سلیک بائے عینی
  • عکّاسی:ایم کاشف
  • لے آؤٹ:نویدرشید

شادی جیسے دِل نشین، خُوب صُورت، اَن مول بندھن، اس یادگار ترین موقعے کے لیے ہر لڑکی کی خواہش ہوتی ہے کہ اُس کا پہناوا اس قدر حسین ومنفرد ہو کہ دیکھنے والے دَم بخود رہ جائیں۔ تب ہی تو دُنیا بَھر کے ڈیزائنرز اپنی اپنی مُلکی روایات کے پیشِ نظر ان پیراہنوں میں نت نئی اختراعات کرتے ہیں، جب کہ بیش تر مُمالک میں تو دلہن کا لباس وہاں کی ثقافت کا اظہار کرتا نظر آتا ہے۔

جیسے جاپان میں دلہنیں سفید رنگ کا روایتی کیمونو زیبِ تن کرتی ہیں، تو اٹلی میں نیلے یا سبز رنگ کا پہناوا پہنا جاتاہے یا پھر ان ہی رنگوں میں سے کسی ایک رنگ کا تاج سَر پر سجا لیا جاتا ہے۔ مراکش میں بھی دلہن کے لیے سفید رنگ ہی مخصوص ہے۔ کورین برائیڈ اپنے مُلک کا روایتی پہناوا ہنبوک(Hanbok)زیبِ تن کرتی ہے، تو اُردن میں مختلف انداز کے سفید رنگ کے ملبوسات عام ہیں، البتہ سَر پر سِلک فیبرک میں سبز رنگ کا کپڑا ضرور باندھا جاتا ہے۔ کینیا میں بنّو رانی کا لباس چاہے جس بھی رنگ کا ہو، مگر تین نقاب کا استعمال لازمی ہے۔ ان میں سے ایک سَر کے اوپر لیا جاتا ہے، دوسرے سے چہرہ ڈھانپا جاتا ہے، تو تیسرے کو سَر کے گرد اچھی طرح لپیٹ لیتے ہیں۔ سری لنکن دلہنیں مشرق و مغرب کے حسین امتزاج سے آراستہ ہوتی ہیں۔ یعنی سِلک فیبرک میں ایمبرائیڈرڈ ساڑی اور یورپی طرز کا نقاب۔ بہرحال، عروسی جوڑا چاہے ثقافتی ہو یا پھر جدّت و ندرت کا مرقّع، ہوتا مہنگا ہی ہے۔ اور محض چند گھنٹوں کے لیے زیبِ تن کیے جانے والے بھاری بَھر کم پہناوے پر ہزاروں سے لاکھوں روپے خرچ ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے آج کل کئی مُمالک کی طرح پاکستان میں بھی عروسی ملبوسات کرائے پر دستیاب ہیں اور60سے70ہزار روپے مالیت کے حسین پہناوے6سے7ہزار روپے میں ایک دِن کے لیے باآسانی مل جاتے ہیں۔لباس کی واپسی کے بعد اسے ڈرائی کلین کروا کے تین سے چار بار کے استعمال کے بعد فروخت کر دیا جاتا ہے۔ 

ان پہناووں میں دلہن کے لیے شرارے، غرارے، میکسیاں اور فراکس، جب کہ دولہا کے لیے شیروانی، تھری پیس سوٹس وغیرہ شامل ہیں۔ لیکن…ہم تو یہی کہیں گے کہ جو بات بھائو تائو کے بعد مَن پسند عروسی پہناوا خریدنے کی ہے، وہ بھلا کرائے کے ملبوسات کی کہاں۔ تو لیجیے، آج ہم نے اپنی بزم ایسے ہی کچھ حسین و جدید ملبوسات سے آراستہ کردی ہے۔

ذرا دیکھیے، سُرخ بنارسی شرارے کے ساتھ سلور رنگ پیپلم کس قدر پیارا لگ رہا ہے۔ پیپلم کے فرنٹ پر دبکے، موتی، نگوں اور ستاروں کا بھاری کام ہے، تو سَر پر شاہانہ انداز کی دوپٹا پگڑی کی ہم آمیزی تو بہت ہی خُوب ہے۔ پھر سلور اور گولڈن رنگوں کے امتزاج میں شرارے اور قمیص کے بھی کیا ہی کہنے۔ بنارسی فیبرک میں سلور رنگ شرارے کے باٹم پر ٹرکوائزر رنگ بنارسی پٹّی جچ رہی ہے، تو کنٹراسٹ میں گولڈن رنگ کام دار قمیص کا انداز بھی لاجواب ہے۔ پھر ایک جانب میسوری فیبرک میں ٹی پنک رنگ ٹیل اَپر کے ساتھ سلور رنگ شرارہ جدّت و ندرت میں اپنی مثال آپ ہے، تو دوسری جانب گولڈن ٹرکوائز اور میجنٹا رنگوں کے امتزاج میں کام دار فرنٹ اوپن ٹیل اَپر اور شرارے کے دِل کش انتخاب کا بھی جواب نہیں۔ جب کہ عروسِ نو کی زیبایش و آرایش سے قبل کے انداز، سفید رنگ زِپر ٹرائوزر کے ساتھ جارجٹ فیبرک میں سیاہ رنگ شرٹ کی سادگی و عمدگی کے بھی کیا ہی کہنے۔

شادی بیاہ کا سیزن پورے جوبن پر ہے۔ ہمارے جس بھی رنگ و انداز پر نگاہ ٹھہر جائے، منتخب کرلیں۔ چاروں اَور شہنائی کے ساتوں سُر آپ ہی آپ بجنے لگیں گے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں