• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فوجداری اپیلز 3 ماہ میں نمٹا دینگے، زیرالتوا مقدمات کی تعداد جلد صفرہوجائے گی، جھوٹے گواہوں کے باعث ملزم چھوٹ جاتے ہیں، الزام عدالتوں پر آتا ہے، چیف جسٹس

اسلام آباد(نمائندہ جنگ، نیوز ایجنسیاں) چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس آصف سعیدکھوسہ نےکہاہےکہ دوسےتین ماہ میں تمام زیرالتوافوجداری اپیلیں نمٹادیں گے، قتل کےمقدمات نمٹانے میں پہلے 15سے 18سال لگتےتھے، اللہ کاشکرہے اب وقت کم ہوکر4سے5سال تک آگیا،آئندہ 2سے 3 ماہ میں 2019ء کی اپیلوں پرسماعت کا آغاز کردینگے، جلد زیرالتوا مقدمات کی شرح صفر ہوجائیگی،جھوٹے گواہوں کی وجہ سے اصل ملزم بری ہوجاتے ہیں لیکن الزام عدالتوں پر لگایا جاتا ہے۔ پیرکوچیف جسٹس آصف سعیدکھوسہ کی سربراہی میں3 رکنی بنچ نے فوجداری مقدمات سےمتعلق اپیلوں پرسماعت کی۔چیف جسٹس آصف سعیدکھوسہ نے وکلاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ یہ سب کچھ آپ کے تعاون سےہی ممکن ہوا ہے۔ ایک فاضل وکیل نےکہاکہ کوئٹہ میں بھی آپ نے ہی تمام زیرالتو مقدمات ختم کئے، جس پر فاضل چیف جسٹس نے کہاکہ اسلام آباد میں تو پورے ملک سے مقدمات آتے ہیں ۔سماعت کےدوران پہلا فوجداری مقدمہ گجرات کے رہائشی ڈاکٹرشمس الرحمٰن پر2010ء میں اہلیہ کوقتل کرنےکے الزام سےمتعلق تھا، دوسرا فوجداری مقدمہ خاوندکی جانب سےاہلیہ کی قابل اعتراض تصویر انٹرنیٹ پرشیئرکرنےسےمتعلق تھا۔بنچ نےشمس الرحمٰن کی رہائی کیخلاف اپیل پرسماعت کی اور عدالت نےہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتےہوئے انکی رہائی کیخلاف دائراپیل مسترد کردی۔ عدالت نےکہاکہ استغاثہ جرم ثابت کرنےمیں ناکام رہاجبکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بھی تاخیرکی گئی، اسلئےشک کافائدہ دیتے ہوئےملزم کو رہا کیا جاتاہے۔سپریم کورٹ کے بنچ نےدوسرےکیس کی سماعت کرتے ہوئے اہلیہ کی خاوند کی ضمانت کی منسوخی کیلئے دائر درخواست بھی خارج کردی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئےکہ تصویرمیں ملزم خودبھی موجودہے، اپنی فحش تصویرکوئی خودشیئرنہیں کرتا، درخواست گزار اورملزم کے درمیان کاروباری تنازعات چل رہےہیں۔دوران سماعت چیف جسٹس نےریمارکس دیئےکہ اس وقت ہم اپریل 2018ءکی اپیلوں کی سماعت کررہےہیں، آئندہ 2سے3ماہ میں2019ء تک کی اپیلوں پرسماعت کاآغاز کر دیا جائیگا جس سے فاصلہ کم ہوتا جارہا ہے اور جلد زیر التوا مقدمات کی شرح صفر ہوجائے گی۔ چیف جسٹس کا ریمارکس میں مزید کہنا تھا کہ اپریل 2018 میں دائر ہونے والی اپیلوں پر آج سماعت ہو رہی ہے،3 ماہ بعد جو فوجداری اپیل آئے گی ساتھ ہی مقرر ہوجائیگی۔

تازہ ترین