آپ آف لائن ہیں
جمعہ7؍صفر المظفّر 1442ھ 25؍ستمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پولیس میں اصلاحات کے لیے ایک اور کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ یہ کمیٹی وزیراعظم عمران خان نےسانحہ ساہیوال کے بعد تشکیل دی ہے، جس میں پنجاب پولیس کے کائونٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے اہل کاروں کی فائرنگ سے چار افراد قتل ہوگئے تھے۔ ان میں سے تین افراد کو جے آئی ٹی کی ابتدائی رپورٹ میں بے گناہ اور ایک شخص کو مشکوک قرار دیا گیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی قائم کردہ اس اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی کا مقصد یہ ہے کہ خیبر پختونخوا کی طرز پر پنجاب پولیس میں اصلاحات کی جائیں تاکہ آئندہ ایسے سانحات رونما نہ ہوں اور پنجاب میں ایک بہتر پولیس فورس وجود میں آسکے۔ 1947ء سے اب تک پولیس میں اصلاحات کے لیے درجنوں کمیٹیاں اور کمیشن تشکیل دیئے گئے۔ ان کی 20سے زیادہ رپورٹس ہمارے سرکاری ریکارڈز کے ’’آرکائیوز‘‘ میں موجود ہیں، جن پر یا تو عمل درآمد نہیں ہوا اور اگر جزوی عمل درآمد ہوا تو اس کے کوئی مثبت نتائج نہیں نکلے۔ زیادہ تر کمیٹیاں اور کمیشن وفاقی سطح پر قائم کیے گئے جبکہ کچھ صوبوں نے خود بھی قائم کیے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے مئی 2018ء میں پولیس ریفارمز کمیٹی تشکیل دی تھی۔ اب ایک اور کمیٹی بن گئی ہے۔ اصلاحات کی بجائے ہمارے ہاں پولیس کا نظام وقت کے ساتھ ساتھ مزید بگاڑ کا شکار ہوتا چلا گیا اور اب تو حقیقت یہ ہے کہ بعض اوقات نوآبادیاتی دور سے بھی بدتر صورت حال محسوس ہوتی ہے۔ پاکستان میں مثالی پولیس فورس بنانے کا مقصد حاصل نہ ہونے کا بنیادی سبب یہ ہے کہ پولیس اصلاحات کو محض انتظامی معاملہ تصور کرلیا گیا ہے۔ عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ پولیس میں سیاسی مداخلت ختم ہوجائے اور اچھے پولیس افسران تعینات کردیئے جائیں تو سب کچھ ازخود ٹھیک ہوجائے گا۔ پاکستان تحریک انصاف کی قیادت اس تصور کی سب سے بڑی حامی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ پنجاب میں حکومت ملنے اور پاک پتن کے واقعہ کے بعد تحریک انصاف اپنے اس مؤقف کی وضاحت میں الجھی ہوئی ہے۔ معروضی حقیقت یہ ہے کہ پولیس کا مسئلہ صرف سیاسی مداخلت نہیں ہے بلکہ اس سے بڑا کوئی اور مسئلہ ہے۔ ساہیوال کے واقعہ میں اب تک ایسے کوئی شواہد نہیں ملے کہ کار پر فائرنگ کرنے کا حکم کسی ایسے سیاستدان نے دیا ہو، جو حکومت کا حصہ ہو۔ سابق وزیراعلیٰ پنجاب نے تو سی ٹی ڈی کو سیاسی مداخلت سے ہمیشہ محفوظ رکھا۔ سی ٹی ڈی یا اس طرح کے پولیس ونگز دیگر صوبوں میں بھی قائم ہوئے۔ ان میں سیاست دان مداخلت کرنا بھی چاہیں تو مداخلت نہیں کرسکتے۔ اس وقت پورے ملک میں جو تھانہ کلچر ہے، اس کا ذمہ دار بھی صرف سیاست دانوں کو قرار نہیں دیا جاسکتا۔ صرف پنجاب میں ہی نہیں بلکہ پورے ملک میں پولیس مقابلے ہوتے ہیں۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ پولیس کے ساتھ ساتھ دیگر سیکورٹی اداروں اور ملزمان کے مابین مقابلے ہوتے ہیں اور لوگ مارے جاتے ہیں۔ ساہیوال کے واقعے کی طرح ہر واقعہ کا نوٹس نہیں لیا جاتا ہے۔ کراچی میں نقیب اللہ اور اس کے قتل یا معصوم بچی امل عمر کے قتل پر ورثاء یا سول سوسائٹی کا جو ردعمل سامنے آیا، وہ بھی ہر واقعہ پر نہیں ہوتا ہے۔ بڑے پیمانے پر یہ واقعات پاکستان میں اس وقت شروع ہوئے، جب ملک میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے رعایتی پالیسی کے طور پر پولیس اور دیگر سیکورٹی اداروں کو مکمل چھوٹ دی گئی۔ کراچی میں 1990ء کے عشرے میں بڑے پیمانے پر پولیس مقابلے ہوئے۔ پھر یہ سلسلہ پورے ملک میں دراز ہوتا گیا۔ 2001ء کے نائن الیون کے واقعہ کے بعد مقابلوں (ان کائونٹرز) کو پالیسی کے طور پر ضروری اقدام قرار دیا گیا۔ اگرچہ ان مقابلوں میں دہشت گرد بھی مارے گئے لیکن کئی بے گناہ بھی اس پالیسی کا شکار ہوئے۔ اب معاملہ بہت پیچیدہ ہوگیا ہے اور اس بات کے امکانات موجود ہیں کہ ساہیوال جیسے کئی المیے رونما ہوسکتے ہیں۔ اب اس ریاستی پالیسی کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس پالیسی کی آڑ میں بہت کچھ اداروں اور افراد کی مرضی اور منشا کے خلاف ہورہا ہے اور مخصوص مفادات نے معاملات کو مزید پیچیدہ بنادیا ہے۔ پولیس پر ان اداروں اور افراد کا کنٹرول بہت حد تک ختم ہوگیا ہے، جنہیں پولیس کے نظام میں خرابیوں کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔ احتساب کا وہ نظام بھی قائم نہیں کیا گیا، جو قانون میں موجود ہے۔ مثلاً پنجاب پولیس اس وقت بھی پولیس آرڈر 2002ء کے تحت کام کررہی ہے، جس کے تحت پبلک سیفٹی کمیشن یا کمپلینٹ کمیشن کا قیام لازمی ہے تاکہ پولیس کے خلاف شکایات کی تحقیقات ہوں اور ان شکایات کا ازالہ کیا جاسکے۔ دیگر صوبوں میں بھی اس طرح کا کوئی کمیشن یا ادارہ نہیں ہے، جو پولیس کی زیادتیوں پر اس کا احتساب کرسکے۔ بھارت میں 1977میں قائم کردہ نیشنل پولیس کمیشن کی سفارشات پر بھارت کی تمام ریاستوں (صوبوں) میں عمل کیا جاتا ہے۔ پولیس کے خلاف شکایات کے ازالے کیلئے وہاں ہر ضلع میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج کی سربراہی میں ڈسٹرکٹ انکوائری اتھارٹی قائم ہے۔ پولیس کی سالانہ کارکردگی کی سالانہ رپورٹ ریاستی (صوبائی) اسمبلیوں میں پیش کی جاتی ہے۔ ہمارے پالیسی سازوں کو بھی اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا کی پولیس کو بہتر قرار دیتی ہے لیکن وہ یہ حقیقت نہیں بتاتی کہ اس صوبے میں امن وامان کو اتنا بھی پولیس کنٹرول نہیں کرتی ہے، جتنا دیگر صوبوں کی پولیس کرتی ہے۔ خیبرپختونخوا میں مبینہ ماورائے عدالت اقدامات کے خلاف عوام میں بڑے پیمانے پر ناراضی پائی جاتی ہے۔ پنجاب اور سندھ میں بھی کچھ پولیس مقابلوں پر سامنے آنے والے ردعمل کا ادراک کرنا چاہئے۔ پولیس میں اصلاحات کیلئے نہ صرف ریاستی پالیسی کی تبدیلی پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا بلکہ ان لوگوں کا بھی سخت احتساب کرنا ہوگا، جو بے گناہ لوگوں پر اس پالیسی کی آڑ میں گولیاں چلاتے ہیں۔ پولیس میں اصلاحات سے پہلے ریاستی پالیسی میں بنیادی اور کیفیتی تبدیلی لانا ہوگی، ورنہ سانحۂ ساہیوال کے قائم کردہ پولیس ریفارمز کمیٹی کی سفارشات بھی نتیجہ خیز نہیں ہوسکیں گی اور اتنا بھی نہیں کہا جاسکے گا کہ


’’کی مرے قتل کے بعد اس نےجفا سے توبہ‘‘۔