آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات15؍ جمادی الثانی 1440ھ 21؍فروری 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

٭’’خط و کتابت‘‘ کیو ںغلط ہے؟

’’خط کتابت ‘‘کو’’ خط و کتابت ‘‘ لکھنا اس لیے غلط ہے کہ یہ دراصل ’’ کتابتِ خط‘‘ کی مقلوب صورت ہے ۔ کتابت کے معنی ہیں لکھنا اور کتابتِ خط کا مطلب ہوا خط لکھنا ۔ جب یہ ترکیب مقلوب صورت میں یعنی اضافت کے بغیر اور پلٹی ہوئی حالت میں آئی تو ’’خط کتابت ‘‘ کی ترکیب بنی ، یعنی خط لکھنا ۔ اب بتایئے کہ ’’خط و کتابت ‘‘کیسے درست ہوسکتا ہے کیونکہ ’’و ‘‘ تو ’’اور‘‘ کے معنی میں ہے اورخط و کتابت کے مفہوم ہو گا’’ خط اور لکھنا ‘‘، جو بے معنی بات ہے۔گویاخط کتابت درست ہے ، خط و کتابت غلط ہے۔

٭پیشِ لفظ نہیں پیش لفظ

اردو میں پی ایچ ڈی کرنے والی ایک طالبہ نے جب پیش لفظ کو’’ پیشِ لفظ‘‘ یعنی اضافت کے زیر کے ساتھ پڑھا تو کلیجہ بیٹھ گیا۔ اگر اردو میں پی ایچ ڈی کرنے والوں کا یہ عالم ہے تو عام لوگوں کا مذکور کیا؟ اس ترکیب میں بھی الفاظ کی ترتیب پلٹ گئی ہے اور یہ پہلے لفظ ِ پیش تھا ۔ پیش کا مطلب ہے آگے ۔ لفظ ِ پیش کامطلب ہے جو لفظ پہلے یا آگے آئے۔ اضافت جب مقلوب ہوئی تو زیر نکل گیا ،الفاظ کی ترتیب الٹی اور ترکیب بن گئی’’ پیش لفظ ‘‘۔اصل کتاب سے پہلے دیباچے یا مقدمے وغیرہ کو اسی لیے پیش لفظ کہتے ہیں کہ وہ گویا پہلا لفظ یا پہلی بات ہوتی ہے۔ پیش لفظ کو پیش ِ لفظ لکھنا اور بولنا افسوس ناک ہی کہا جاسکتا ہے ۔

٭بصد ِ ادب نہیں بصد ادب

پیش لفظ کو پیشِ لفظ بولنے والی تو خیر طالبہ تھی لیکن جب اردو کے ایک پروفیسر صاحب کو ’’بصدِ ادب ‘‘ بولتے سنا تو نہ پوچھیے کیسا جی جلا(اور اردو کی حالتِ زار کی وجہ بھی سمجھ میں آگئی)۔ یہاں بھی اضافت کی کوئی ضرورت نہیں ۔’’ بہ‘‘ یا’’ بَ‘‘ کا مطلب ہے ’’سے‘‘۔ بصد ادب یعنی سَو(۱۰۰) ادب سے، مراد یہ کہ بہت ادب سے، بہت احترام سے ۔ تعظیم کا اظہار کرنے کے لیے کہتے ہیں۔

ان پروفیسر صاحب سے تو کچھ کہنا سوئِ ادب ہوتا لیکن آپ سے بصد ادب درخواست ہے کہ اسے’’ بصد ادب‘‘ بولا کیجیے یعنی یہ اضافت کے بغیر ہی یہ درست ہے۔

٭چشم ِزدن نہیں چشم زدن

چشم زدن کی ترکیب کی بھی ان دنوں شامت ہوئی ہے اور لوگ اسے چشم ِ زدن (یعنی میم کے نیچے اضافت کے زیر کے ساتھ )پڑھنے لگے ہیں ۔’’زدن ‘‘فارسی کا مصدر ہے ، اس کے معنی ہیں مارنا۔ زدن ہی سے زدہ(ماراہوا، جیسے آفت زدہ)، زن (مارنے والا، جیسے شمشیر زن )، زدگی (لگنے کی حالت یا کیفیت ، جیسے ہوا زدگی)جیسی تراکیب بنی ہیں ۔ آتش زدگی اورفاقہ زدہ میں یہی ’’زدن‘‘ ہے جو شکل بدل بدل کر آرہا ہے۔ غم زدہ کا مطلب ہے غم کا مارا۔ شمشیر زنی ،راہ زن، نقب زنی ، زد و کوب ، سکہ زن ، زباں زد ِ خاص و عام،سر زنش، نام زد (جس کو ملا کر یعنی نامزد لکھا جاتا ہے )، حیرت زدہ، خوف زدہ اور قلم زد میں بھی یہی ’’زدن‘‘ مختلف انداز میں جلوہ دکھا رہا ہے بلکہ خندہ زن (یعنی ہنستا ہوا )ہے۔ (فارسی میں ایک اور’’ زن‘‘ بھی ہے مگر وہ الگ لفظ ہے اور اس کے معنی ہیں عورت)۔

چشم کا مطلب ہے آنکھ۔ تو چشم زدن کا مطلب ہوا’’ آنکھ مارنا‘‘۔ یہ ’’پلک جھپکنا ‘‘ کے معنی میں بھی آتا ہے ۔گویا’’ چشم زدن میں ‘‘ کا مطلب ہوا’’ پلک جھپکتے میں‘‘ ، یعنی فوراً،اتنی دیر میں جتنی دیر پلک جھپکنے میں لگتی ہے، ایک لمحے میں۔ تو درست تلفظ ہوگا ـ چشم زدن (بغیر اضافت کے )۔اس کا استعمال یوں ہوگا کہ ’’راہ زنی کا یہ واقعہ چشم زدن میں پیش آیا‘‘، یعنی ایک لمحے میں ، بہت تیزی سے۔  

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں