آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 16؍شعبان المعظم 1440ھ 22؍اپریل 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آصف اور بلاول زرداری کے دو بہت سیاسی نوعیت کے بیانات پر مبنی خبریں پڑھ کر برجستہ اردو کا متروک محاورہ ’’کٹورے پہ کٹورہ بیٹا باپ سے بھی گورا‘‘یاد آگیا، محاورے کی تشریح پھر کبھی سہی سردست سیاست کی طرف آتے ہیں،اب جبکہ مولانا فضل الرحمٰن ن لیگ اور پیپلز پارٹی سمیت حکومت مخالف کوئی جاندار ا ور متحد اپوزیشن پلیٹ فارم بنانے میں کامیاب نہیں ہوئے، ایک ایسا مشترکہ محاذ جو ان کی خواہش کے مطابق عمران حکومت کو ریت کی دیوار بنادے۔دوسری جانب احتسابی عمل میں بھی تیزی آگئی اور وزیر اعظم عمران خان کی انتخابی مہم میں، لاہور میں ان کے قریب ترین ساتھی، پنجاب کے سینئر وزیر علیم خاں سنگین الزامات کے باعث نیب کے ہاتھ لگ گئے ہیں اس سے ایک جانب نیب پر عوام کے اعتماد کا گراف بڑھ گیا تو دوسری جانب کتنے ہی وائٹ کالر کرائمز کے الزامات کی زد میں آئے، سابق صدر زرداری کے سیاسی ابلاغ کی ٹون حکومتی رویے کے ساتھ ساتھ فلیکچوئیٹ کرتی رہی، وزیر اعظم عمران خان کے این آر او کو غداری قرار دیتے ہی ان کا معنی خیز بیان سامنے آگیا جو مکمل شعوری تیاری کے ساتھ ادا کیا گیا ہے جس میں وہ عرصے سے متروک وہ’’سندھ کارڈ‘‘ پھر کھیلتے نظر آرہے ہیں جس کا استعمال وہ پنجاب میں پیپلز پارٹی کی مقبولیت کھونے کے بعد اکثر کرتے لیکن صدر مملکت اور سندھ میں قطعی مرضی کی حکومت بنانے اور چلانے کے بعد ’’سندھ کارڈ‘‘ کو جیب میں ڈال چکے تھے۔ اب اسے انہوں نے بڑی مہارت سے باہر نکالا ہے جس کے لئے انہیں اندرون سندھ، ٹنڈو آدم میں بے موسمی جلسہ عام کا انتظام کرنا پڑا ہے۔ فرماتے ہیں ’’اب کوئی بنگلہ دیش نہیں بننے دیں گے۔‘‘ یہ وزیر اعظم عمران خان کے این آر او کو غداری قرار دینے کے خاصے رسمی اعلان کا جواب معلوم دیتا ہے کہ اگر احتسابی عمل تم نے اپنی کمٹمنٹ کے مطابق ہی جاری رکھا تو ’’سندھ کارڈ‘‘ پھر نکل آئے گا۔ پھر بولے ’’پہلے ہم ان کے ہاتھوں میں کھیلے اور بنگلہ دیش بن گیا‘‘ یہاں انہوں نے پی پی کی تاریخ کو مسخ کرنے کی مہارت استعمال کرتے ہوئے بات تاریخی حقیقت کے بالکل برعکس کی۔ یہ بڑی آسانی سے ثابت ہوسکتا ہے کہ الیکشن 70کے انتخابی نتائج ذوالفقار علی بھٹو کی خواہش کے برعکس آنے کے بعد جنرل یحییٰ خاں نے نہیں انہوں نےڈھاکہ میں منعقد ہونے والا اسمبلی کا اجلاس ملتوی کراکے مشرقی پاکستان میں شورش برپا کرادی اور جب اسے جنرل ٹکاخاں کی قیادت میں کچلنے کے لئےکارروائی کی گئی تو بھٹو صاحب نے ڈھاکہ سے لاہور پہنچ کر بیان داغ دیا کہ ’’خدا کا شکر ہے کہ پاکستان بچ گیا‘‘ حقیقت یہ ہے کہ مشرقی پاکستان بھٹو کے اس اعلان کے بعد ہی عملاً وفاق پاکستان سے الگ ہوگیا تھا۔ زرداری صاحب ٹنڈو آدم کے جلسے میں بولے ’’یہ لوگ ہماری یونیورسٹیاں لے گئے، اب سول ایوی ایشن کو بھی اسلام آباد لے جارہے ہیں۔‘‘ یہ نہ بتایا کہ اعلیٰ تعلیم، سائنس و تحقیق اور ٹیکنالوجی، 18ویں ترمیم میں وفاقی دائرے میں محفوظ کئے گئے جس کی صریحاً خلاف ورزی کرتے ہوئے، سندھ حکومت نے وفاق میں پی پی حکومت کا غیر آئینی اور انتہائی ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے سندھ کا اپنا ایچ ای سی بنالیا پھر جو سندھ کی پہلے ہیخستہ حال یونیورسٹیوں کا حشر ہوا ہے، وہ ایک قومی المیہ ہے۔ سندھ حکومت کے اس غیر آئینی اور 18ویں ترمیم سے متصادم اقدام پر سندھ ہی سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ تعلیم و تحقیق کو پہلی مرتبہ قومی بجٹ کی اولین ترجیحات میں لانے والے پروفیسر ڈاکٹر عطاء الرحمٰن قانونی جنگ میں سپریم کورٹ گئے، مقدمہ جیتا لیکن سندھ کارڈ اور حکومت دونوں کا تباہ کن استعمال کرکے سندھ میں ایچ ای سی کے قیام کی بنیاد رکھی گئی جس کی تقلید میں پنجاب سمیت دوسرے صوبوں نے بھی اپنے اپنے صوبے میں ایچ ای سی بنالیے۔ یوں یونیورسٹیوں پر صوبائی سیاسی کنٹرول کرنے کے لئے آئین بلڈوز کردیا گیا لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں، کہ کہیں ’’سندھ کارڈ‘‘نہ استعمال کرنے لگیں، حالانکہ وہ پھر بھی باہر نکل آیا۔ پی پی کی وفاقی اور صوبائی حکومت نے کراچی اور حیدرآباد کا جو حشر کیا ہے، کیا وہ ایم کیو ایم کے’’کراچی کارڈ‘‘ کو برداشت کرسکتی ہے کہ وہ بھی ’’بوقت ضرورت‘‘ کراچی کو صوبہ بنانے کی صدا لگادیتی جو پی ٹی آئی کے کراچی میں جگہ بنانے سے دب گئی، لیکن صوبہ جنوبی پنجاب کی تقلید میں کراچی صوبے کی صدا کو دبایا جاسکے گا؟ نتیجہ خیز بنتے احتسابی عمل پر آصف زرداری نے اپنے اس ابلاغی حملے کو یہ کہہ کر کور دینے کوشش بھی کی کہ اس جنگ میں پشتون بلوچ اور پنجابی ہمارے ساتھ ہیں۔ گویا اسٹیٹس کو کی سیاست مانندِ چراغ ِسحر ی ہے۔

ادھر پی پی کے ریکورٹ وارث بلاول زرداری نے واشنگٹن میں بیان داغا ہے کہ ’’ملکی صحافت کو تاریخ کی بدترین سنسر شپ کا سامنا ہے۔‘‘ بھلا پاپا کے متذکرہ بیان جس میں انہوں نے بالواسطہ احتسابی عمل کی تیزی اور اس میں خود کے آنے کے امکانات کو ’’بنگلہ دیش بننے کی صورتحال‘‘ سے مشابہہ قرار دیا ہے اور جس چالا کی سے صوبائیت کا پرچار کیا ہے، سب کچھ تو شائع اورنشر ہوگیا سنسر شپ کہاں ہے؟ بلاول نے جو بیان دیا کہ ’’پاکستان کو سیکورٹی سوچ سے باہر آنا ہوگا‘‘ تو پاکستان باہر آگیا، وزیر اعظم عمران خان نے اپنی واضح پالیسی کا اعلان کردیا ہے کہ ’’پاکستان اب جنگوں کا نہیں امن کا پارٹنر بنے گا۔‘‘ ایک حد تک پاکستان سیکورٹی کے چیلنجز سے تادم دو چار نہیں؟ جو بھارتی عزائم ہیں، جس طرح وہ افغان سرزمین کو استعمال کرکے افغان اور دوسری بیرونی ایجنسیوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کرکے موقع بہ موقع پاکستان کے خلاف دہشت گردی کررہا ہے اس میں ا سٹیٹ آف پاکستان کو بھی اپنی سیکورٹی کا جواب دینا ہے، جوابی کارروائی کے بجائے بھاری بھرکم اخراجات سے پاک افغان سرحد کے 700کلو میٹر پر باڑ لگانےکا اقدام دہشت گردی کو پرُامن اقدامات سے روکنے کا واضح اشارہ نہیں؟ بلاول نے پاکستان کے سیکورٹی اسٹیٹ بننے کا بیان وہاں دیا ہے جہاں عشروں سے بھاری سرمایے سے لابنگ کرکے پاکستان کو شمالی کوریا جیسی سیکورٹی ا سٹیٹ ہونے کا ورلڈ وائڈ امیج دیا جارہا ہے گویا اسٹیٹس کو کی سیاست کے تناظر میں کٹورے پہ کٹورہ بیٹا باپ سے بھی گوراہ معلوم نہیں دے رہا؟

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں