آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 22؍محرم الحرام 1441ھ 22؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سندھ اور وفاق کے درمیان اختیارات کی جنگ؟

سندھ حکومت اور وفاقی حکومت کے درمیان خلیج بڑھتی جارہی ہے ساتھ ہی ساتھ پی پی پی قیادت کی مشکلات میں بھی اضافہ ہوتاجارہا ہے پی پی پی کی قیادت پر نیب کے مقدمات سمیت پرانے گرفتار ملزمان کے ذریعے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے جبکہ پی پی پی کی قیادت اس دباؤ کو کم کرنے اور حکومت کودباؤ میں لانے کے لیے سندھ میں لگاتار جلسے کررہی ہے صرف سندھ میں جلسے کرنے کی وجہ سے بعض حلقے اسے پی پی پی کی قیادت کی جانب سے سندھ کارڈ استعمال کرنے کے مترادف قرار دے رہے ہیں اور اس ضمن میں حال ہی میں ٹنڈوآدم جلسے کا بھی حوالہ دیتے ہیں جہاں سابق صدر نے اپنے خطاب میں بنگلہ دیش کا بھی حوالہ دیا کہاجارہا ہے کہ منی لانڈرنگ اور جعلی بینک اکاؤنٹس کیس تیزی سے منطقی انجام کی طرف بڑھ رہا ہے اس حوالے سے آئندہ چند ہفتے پیپلزپارٹی کی لیڈرشپ اور سندھ میں پی پی پی حکومت کے لیے ہیجان خیز ہوسکتے ہیں۔نیب میں پیپلزپارٹی کی قیادت اور سندھ کے بیوروکریٹس کے خلاف 30 ریفرنسزکی تیاری جاری ہے۔ جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں 16ریفرنس دائر کرنے کی سفارش کی تھی مگر ٹھوس مواد کی روشنی میں نیب نے 30 ریفرنس دائر کرنے کافیصلہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی آصف علی زرداری، فریال تالپور، مرادعلی شاہ، انورمجید اور اے جی مجیدنیب کی طلبیوں، پیشیوں اور گرفتاریوں کے حصار میں آنے والے ہیں، یہ عمل اب کسی دن بھی شروع ہونے والا ہے۔ نیب ضروری سمجھے گا تو بلاول بھٹو کو شامل تفتیش کرسکتا ہے۔ اس معاملے کے اہم ترین گواہ اومنی گروپ کے زیرحراست چیف فنانشل افسراسلم مسعود ہیں اور سعودی حکام نے پاکستان کی درخواست پر انہیں گرفتار کیا تھا اسلم مسعود کی پاکستان آمد اور اس کیس میں ان کی گواہی بہت اہم ہوگی۔ اسلم مسعود جدہ میں گرفتاری کے بعد ویڈیوپیغام میں چشم کشا انکشافات کرچکے ہیں انہوں نے اومنی گروپ سے منسلک درجنوں جعلی اکاؤنٹس کا کچاچٹھا کھولا ہے تمام چیک بکس ان کے پاس تھیں نیب کو 19 مارچ تک جعلی بینک اکاؤنٹس کی تفتیش مکمل کرنی ہے۔ پیپلزپارٹی کے ایک اور سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے خلاف نیب ریفرنس دائرہوچکا ہے جبکہ پیپلزپارٹی کے رہنما شرجیل میمن ، ڈاکٹرعاصم، آغاسراج درانی، سہیل انورسیال، اویس مظفرٹپی، جام خان شورو اور اعجازجاکھرانی کے خلاف بھی نیب کی تحقیقات جاری ہیں۔ غور طلب بات یہ ہے کہ صرف پیپلزپارٹی کی قیادت ہی نہیں تحریک انصاف کے رہنماؤں کے خلاف بھی گھیراتنگ ہوا ہے اس سے قبل ن لیگ کو بھی نیب کیسز سے ابھی تک خلاصی نہیں ملی۔دوسری جانب سندھ ہائیکورٹ میں نقیب اللہ قتل کیس میں آصف زرداری کے قریبی دوست سابق ایس ایس پی راؤ انوار کی ضمانت منسوخی کی استدعا کی جاچکی ہے اس کیس میں ایس ایس پی ملیرراؤانوار ، سابق ڈی ایس پی قمراحمد، سابق سب انسپکٹر محمد یاسین، سابق اے ایس آئی سپردخان اور سابق ہیڈ کانسٹیبل خضرحیات نے ضمانت حاصل کررکھی ہے جو ان مقدمات میں نامزد ملزمان بھی ہیں جنہوں نےد وران تفتیش اہم شہادتوں کو جائے وقوع سے غائب کردیا تھا جس کی وجہ سے استغاثہ کو اپنا کیس ثابت کرنے کے لیے جدیدتکنیکی ڈیجیٹل شہادتوں کا سہارا لیناپڑا ہے۔ڈاکٹررضوان نے رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ تمام ڈیجیٹل شواہد سے ملزمان کا جعلی پولیس مقابلہ اور پہلے سے جھوٹے پولیس مقابلے کی منصوبہ بندی وتکمیل واقعہ کا ہونا ثابت ہوتا ہے ملزمان گرفتار ی کے خلاف سے اپنے اہلخانہ سمیت روپوش ہوگئے ہیں سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار سمیت دیگر ملزمان انتہائی سفاک، چالاک، بااثر اور طاقتور افسران رہے ہیں۔ ان ملزمان کی ضمانت کنفرم ہونے کی وجہ سے اس بات کا قوی امکان ہے کہ یہ پراسیکیوشن اور گواہان کو منحرف کردیں گے یا پھر ان کو لاپتہ کرادیں گے ڈاکٹر رضوان کی پیش کی گئی رپورٹ میں نقیب اللہ قتل کیس کے اہم چشم دیدگواہ شہزاد جہانگیر کو لاپتہ کئے جانے کا انکشاف کیا ہے رپورٹ میں کہا گیا کہ چشم دیدگواہ ملزمان کے اثرورسوخ کے باعث پہلے ہی منحرف ہوچکا تھا اور یہ ملزمان کے اثرورسوخ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اگر ملزمان کی ضمانت منسوح نہ کی گئیں تو سارے گواہ منحرف ہوسکتے ہیں۔یہ تمام واقعات پی پی پی کی قیادت کے لیے اچھاشگون نہیں ہے دوسری طرف پی پی پی کی قیادت حکومت پر مسلسل سیاسی دباؤ بڑھارہی ہے پی پی پی کے لگاتارجلسوں نے عام انتخابات کا سماں باندھ دیا ہے۔ ٹنڈو محمدخان میں جلسہ عام میں خطاب کےد وران سابق صدر آصف علی زرداری نے کئی پیغامات دیئے۔ انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پی پی پی کی قیادت نیابنگلہ دیش نہیں بننے دیں گے اٹھارہویں ترمیم پر ڈاکہ پڑتا نظرآرہا ہے مگر ہم اپنے حق کے لیے لڑیں گے ، گھبرانے کی ضرورت نہیں، ان کی ٹانگیں ابھی سے ہی ڈگمگارہی ہیں تمام صوبے ہمارے ساتھ ہیں یہ پاکستان کے وسائل کی جنگ ہے اور ہم یہ جنگ لڑتے رہیں گے اب یہ سول ایوی ایشن کو بھی اسلام آباد لے جانا چاہتے ہیں جس کے لیے وہاں دفاتربنیں گے جن کے اخراجات میں سے وہ کمیشن کھائیں گے۔پی پی پی اور وفاقی حکومت کے درمیان اعصابی جنگ جاری ہے جس کا نتیجہ اسی ماہ نکلنے کا امکان ہے دوسری طرف مسلم لیگ(ن) کے دور کے وزیربحری امور مائیکل کامران کو نیب نے گرفتار کرلیا ہے ، اس کے بعد مسلم لیگ(ن) کے کراچی سے تعلق رکھنے والے دوموجودہ اور ایک سابق ایم پی اے کی گرفتاری بھی عمل میں آسکتی ہے ادھر چھ ماہ گزرنے کے باوجود کراچی سے کئے گئے وعدے پورے نہیں کئے گئے اور کراچی کے لیے پی ٹی آئی کی حکومت نے کسی قسم کا کوئی پیکیج نہیں دیا جس کا شکوہ پی ٹی آئی کی اتحادی ایم کیو ایم تو کرتی رہی ہے تاہم اس بار پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی بھی پھٹ پڑے اور پی ٹی آئی کے ارکان قومی اسمبلی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ سندھ حکومت نے کراچی کے ساتھ ناانصافی کے ریکارڈ توڑ دیئے ہیں کراچی اور سندھ میں امن وامان کی خراب صورتحال اور دیگر معاملات پر ہم سندھ حکومت کو متنبہ کرتے ہیں کہ وہ جلد صورتحال کو بہتر بنائے بصورت دیگر ہم سندھ اسمبلی اور وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہراحتجاج پر مجبورہوں گے۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید