آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل15؍رمضان المبارک 1440ھ 21؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مکتب یا مکتبہ؟

پچھلے دنوں ایک کہنہ مشق لکھا ری کے کالم میں ’’مکتبۂ فکر ‘‘ کی ترکیب نظر سے گزری۔ بہت تعجب ہوا کہ اتنے پڑھے لکھے اور تجربے کار محقق اور ادیب نے مکتب اور مکتبہ کے فرق پر غور نہیں کیا۔دونوں میں بہت فرق ہے اور اسی لیے مکتبۂ فکر کی ترکیب درست نہیں ہے۔

’’مکتبہ ‘‘عربی میںکتب خانے یا لائبریری کو کہتے ہیں۔ ہمارے ہاں بعض کتب فروش اور ناشر یعنی پبلشر بھی اپنے کاروبا ریا دکان کے نام میں مکتبہ کا لفظ لکھتے ہیں، مثلاً مکتبۂ فلاں۔ گویا مکتبہ کے ایک معنی اردو میں ہیں :ناشر یا تاجر ِ کتب کا کام یعنی طباعت و اشاعت و تجارتِ کتب ۔نیز کتابوں کی اشاعت یا تجارت کے ادارے (کمپنی )کو بھی اب اردو میں مکتبہ کہنے لگے ہیں۔لیکن مکتب عربی کا لفظ ہے اور اس کے لغوی معنی ہیں وہ جگہ جہاں لکھنا سکھایا جاتا ہے ، مراد یہ کہ جہاںتعلیم دی جاتی ہے۔ اسے درس دینے کی جگہ یعنی مدرسہ اور آج کی زبان میں اسکول (school)کہہ لیجیے۔ مکتب ِ فکر کا مطلب ہے کسی خاص نظریے یا نظریات کا مجموعہ، نیزکوئی خاص فلسفہ یا فکر یا اس کے ماننے والے۔ شعر و ادب یا مصوری کے کسی خاص انداز یا اسلو ب کو بھی اسکول یا مکتب ِ فکر کہتے ہیں اوراسے اردو میں دبستان بھی کہا جاتا ہے، جیسے دبستانِ لکھنؤ یا دبستان ِ دہلی(دبستان فارسی کا لفظ ہے اور اس کے معنی اسکول ہی کے ہیں) ۔ گویا مکتبِ فکر یا دبستان ِ فکر وہ ہے جسے انگریزی میں اسکول اوف تھاٹ (school of thought) کہا جاتا ہے۔اردو میں اسے دبستان ِ فکر بھی کہتے ہیں ۔ شان الحق حقی نے اپنی انگریزی بہ اردو لغت میں اسکول اوف تھاٹ کے معنی ’’مدرسۂ فکر ‘‘درج کیے ہیں ۔

گویادرست ترکیب مکتب ِ فکر ہے اور مکتبۂ فکر کے تو معلوم نہیں کیا معنی ہوں گے۔

مکاتب یا مکاتیب ؟مکاتب اور مکاتیب دو الگ الگ لفظ ہیں لیکن ان دونوں الفاظ کے استعمال میں یا ان کے املا میں احتیاط نہیں کی جاتی جس سے معنی بدل جاتے ہیں ۔مکتب( یعنی اسکول) کی جمع ہے مکاتب ۔گویا مکتب ِ فکر کی جمع ہوگی مکاتب ِ فکر۔ جبکہ مکاتیب جمع ہے مکتوب کی۔ مکتوب کے لفظی معنی ہیں لکھا ہوا۔ خط کو بھی مکتوب کہتے ہیں۔ مکاتیب کے معنی ہوئے خطوط، جیسے مکاتیب ِ شبلی یعنی شبلی کے خطوط، مکاتیب ِ مشاہیر یعنی مشہور لوگوں کے خطوط۔مکتوب کی جمع مکاتیب بھی ہے اور مکتوبات بھی ۔ گویا مکتوبات ِ غالب اور مکاتیب ِ غالب کا ایک ہی مفہوم ہوگا یعنی خطوطِ غالب۔

لیکن مکاتب اور مکاتیب کے معنی میں خاصا فرق ہے ،اسے ملحوظ رکھنا چاہیے۔ 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں