آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍رجب المرجب 1440ھ 18؍مارچ 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسلام آباد (مہتاب حیدر) انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے تحریک انصاف حکومت کے تحت پانچ سال میں بیرونی محاذ پر 19 ارب ڈالرز کے مجموعی نیٹ فنانسنگ فرق کی منصوبہ بندی کرکے بالکل واضح کردیا ہے کہ اسلام آباد کے پاس آئی ایم ایف سے تازہ بیل آؤٹ پیکج لینے کے علاوہ اب کوئی دوسرا آپشن نہیں بچا۔ اب تحریک انصاف کی حکومت اگلے ماہ (اپریل 2019) میں آئی ایم ایف سے اس کے مشن کو اسلام آباد بھیجنے کیلئے باضابطہ درخواست کرنے پر غور کر رہی ہے تاکہ اسٹاف سطح پر معاہدے کی صورت میں آئی ایم ایف پروگرام کو مئی یا جون 2019 میں فنڈ کے ایگزیکٹو بورڈ کے سامنے پہنچایا جائے۔ حکومت اگلا بجٹ مئی17 یا غالباً عید الفطر کے بعد جون میں لانے پر غور کر رہی ہے، اس لئے آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے تحتپہلے کے تمام ایکشنز کے مطابق اقدامات کئے جائیں گے۔ آئی ایم ایف کی جانب سے کئے گئے اسٹاف سطح کے اسیسمنٹ اور مسلسل پاکستانی حکام کے ساتھ شیئر کرنے میں آئی ایم ایف نے ابتداء میں جاری مالی سال کیلئے 10 ارب ڈالرز کے فنانسنگ فرق کی

منصوبہ بندی کی تھی لیکن دوست ممالک خصوصاً سعودی عرب اور یو اے ای سے 3، 3 ارب ڈالرز اور تاخیر سے ادائیگی پر آئل کی سہولت کے بعد آئی ایم ایف اب بھی مالی سال 2018-19 کیلئے 2 ارب ڈالرز کے فنانسنگ فرق پر غور کر رہا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں