آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 13؍رمضان المبارک 1440ھ19؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تعلیمی سیکٹر تباہ ہو رہا ہے، حکومت ان معاملات کو کیوں نہیں دیکھتی، سپریم کورٹ

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ نے نجی جامعات کی بھرمار اور ڈگریوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دور ان اٹارنی جنرل اور ایچ ای سی سے 15 روز میں جواب طلب کر لیا ۔ جمعرات کو سپریم کورٹ میں نجی جامعات کی بھرمار اور ڈگریوں سے متعلق کیس کی سماعت جسٹس گلزار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ سماعت کے دور ان سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل اور ایچ ای سی سے 15 روز میں جواب طلب کر لیا ۔ جسٹس گلزاراحمد نے کہاکہ حکومت ان معاملات کو کیوں نہیں دیکھتی ،تعلیمی سیکٹر تباہ ہو رہا ہے۔ جامعات کی مشروم گروتھ ہو رہی ہے۔ ڈگریاں بیچی جا رہی ہیں، نسلیں تباہ ہو رہی ہیں، ایک نسل تباہ ہو چکی ہے، دوسری لائن میں لگی ہوئی ہے، عدالتوں میں لانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، نیب اور ایف آئی اے بھی کیا کرلیں گی،پر سٹن یونیورسٹی کا مین کیمپس کوہاٹ میں ہے، میں نے اس کا بورڈ کراچی میں بھی دیکھا۔الخیر یونیورسٹی نے ایگزیکٹ والا کام کر رکھا ہے۔ دریں اثنا سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج جسٹس گلزار احمد نے گوجرانوالہ میں خواتین سکول پر تجاوزات سے متعلق کیس کی سماعت کے دور ان واضح کیا ہے کہ چھوٹا سا مسئلہ بھی حل نہیں کر سکتے تو عہدے پر کیوں ہیں؟ چیف سیکرٹری مسئلہ حل کریں ورنہ نتائج بھگتیں۔ جمعرات کو سپریم کورٹ میں گوجرانوالہ میں خواتین سکول پر تجاوزات سے

متعلق کیس کی سماعت جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی ۔ سماعت کے دوران وکیل پنجاب حکومت نے کہاکہ محکمہ تعلیم کو متبادل زمین دینے کیلئے تیار ہیں۔ جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ حکومت ہمیں لالی پاپ کیوں دے رہی ہے، خواتین کا اسکول ٹرسٹ کی زمین پر اور شہر کے دل میں تھا۔ جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ ٹرسٹ پراپرٹی کی جگہ کچی آبادی کیسے بن گئی؟ ٹرسٹ زمین کو ریگولر کرنا قانون کیخلاف ہے۔جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ غیر قانونی کام کرنے والے افسران کیخلاف کیا کارروائی ہوئی؟ ۔جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ چیف سیکرٹری پنجاب کل تک مسئلہ حل کریں۔جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ چھوٹا سا مسئلہ بھی حل نہیں کر سکتے تو عہدے پر کیوں ہیں؟ چیف سیکرٹری مسئلہ حل کریں ورنہ نتائج بھگتیں۔جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ سکول کیلئے زمین 13 کلومیٹر دور دینے کا کیا جواز ہے؟ کچی آبادی کو کیوں نہیں منتقل کر دیتے؟ 13 کلومیٹر دور بچے کیسے جائیں گے؟ ۔بعد ازاں سماعت (آج)جمعہ تک ملتوی کر دی گئی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں