آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ 15؍ ذیقعد 1440ھ19؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قیام پاکستان سے آج تک قوم صحت اور تعلیم کی بہتر سہولیات کے خواب دیکھتی رہی ہے۔ 71سال کے دوران کئی حکومتوں نے ان سہولتوں کی فراہمی کے بلند و بانگ دعوے کئے۔ سرکاری اسکولوں میں تعلیمی معیار اور ہسپتالوں میں صحت کے لئے گراں قدر خدمات سرانجام دینے کی باتیں کرنے والی شخصیات متاثر کن کارکردگی پیش نہ کر سکیں۔ میڈیکل سائنس میں ترقی کے ساتھ ساتھ نت نئی بیماریوں سے آشنائی ہونے لگی۔ پاکستان میں اوسط عمر میں سالانہ کمی ہوئی۔ تعلیم کے شعبے میں پرائیویٹ سیکٹر نے خوب پذیرائی حاصل کی مگر صحت کا شعبہ بین الاقوامی سطح پر کام کرنے والی این جی اوز اور حکومتی سرپرستی کے باوجود سوالیہ نشان بنا رہا۔ ناقص خوراک اور سب سے بڑھ کر پینے کا مضر صحت پانی مہلک بیماریوں کے ساتھ ساتھ کئی قیمتی جانوں کے اضیاع کا باعث ثابت ہوا۔ اربوں روپے کے منصوبے ناقص حکمت عملی کے باعث ریت کی دیوار ثابت ہوئے مگر صاف پانی کی فراہمی کو کسی طور یقینی نہ بنایا جا سکا۔ چند سال قبل پاکستان میں صاف پانی کی فراہمی کیلئے واٹر اسکیمیں متعارف کروائی گئیں۔ صرف ٹوبہ ٹیک سنگھ میں 85کروڑ روپے کی خطیر رقم خرچ کرکے صاف پانی کی فراہمی کا منصوبہ بنایا گیا۔ ناقص منصوبہ بندی کے باعث قوم کا پیسہ بھی سرخ فیتوں کی نذر ہو کر فائلوں میں دب کر رہ گیا۔ سابق حکومت کے دور میں صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے بلند بانگ دعوے مایوس کن نعروں کی شکل اختیار کر گئے۔ صاف پانی کی فراہمی کیلئے سابق حکومت نے ایک (صاف پانی) کمپنی بنائی، جس میں ماہر افراد کی خدمات حاصل کی گئیں لیکن صاف پانی کمپنی بہتر کمانڈ نہ ہونے کے باعث کچھ نہ کر سکی۔ بعد ازاں چیف ایگزیکٹو کیلئے بیورو کریسی میں اچھی شہرت، خداداد صلاحیتوں کے حامل اور پروجیکٹس کو کامیابی سے چلانے کی مہارت رکھنے والے وسیم اجمل چودھری کو منتخب تو کرلیا گیا لیکن سابق حکمرانوں کے فیصلوں کی وجہ سے انہیں ڈیلیور نہ کرنے دیا گیا، جن فیصلوں میں سابق حکمرانوں کے پیوستہ مفادات شامل تھے، اور تفتیشی تحقیقاتی ایجنسیاں بھی ان پیوستہ مفادات کے تمام تر شواہد ہونے کے باوجود درست سمت کی جانب نہ جا سکیں۔ غلط فیصلوں سے ہوئے نقصانات پر پردہ ڈالنے کیلئے سابق سی ای او وسیم اجمل چودھری کی پراجیکٹ مینجمنٹ کی خداد صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کی بجائے وسیم اجمل سمیت اس کی ٹیم کو انکوائریوں اورجھوٹے مقدمات میں پھنسا کر عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے کی کوششیں کی گئیں، لیکن عدالتوں نے ان پر بنائے گئے مقدمات کو بظاہر بدنیتی پر مبنی قرار دے کر رہا کر دیا مگر صاف پانی کی فراہمی کا منصوبہ جوں کا توں ہی رہا۔

لیکن اب وزیر اعظم عمران خان کی پی ٹی آئی حکومت نے عوام کو صحت، تعلیم اور انصاف کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے مثبت اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ جس میں صاف پانی کی عام آدمی کو فراہمی یقینی بنانے کیلئے پنجاب میں وزیراعظم عمران خان اس کی تمام تر ذمہ داری گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کو سونپ دی ہے۔ جس کیلئے آب پاک اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا جا چکا ہے۔ جس کے سربراہ گورنر پنجاب چودھری محمد سرور ہونگے، وزات ہائوسنگ اتھارٹی کی معاونت کرے گی۔ گورنر پنجاب چودھری محمد سرور نے اپنے سابق دورِ گورنری میں صاف پانی کیلئے گراں قدر کوششیں کیں اور اب ان کی اپنی این جی او سرور فائونڈیشن نے پنجاب کے پسماندہ علاقوں میں 150واٹر فلٹریشن پلانٹ لگائے جن سے 15لاکھ لوگ مفت صاف پانی حاصل کر رہے ہیں۔ 15لاکھ عوام کو صاف پانی کی فراہمی کے تمام تر اخراجات سرور فائونڈیشن برداشت کر رہی ہے۔ گورنر پنجاب کے عوامی خدمت کے اس جذبے سے صاف ظاہر ہے کہ اس مرتبہ پنجاب کے عوام کو صاف پانی کی فراہمی کا خواب پی ٹی آئی کی حکومت میں شرمندہ تعبیر ہوگا کیونکہ اب اس منصوبے میں عزم، حوصلہ اور ایمانداری واضح دکھائی دے رہی ہے۔ گورنر سرور کا وعدہ ہے کہ اب پنجاب کے ہر شخص کو صاف پانی ملے گا ۔

ایک اطلاع ہے کہ آب پاک اتھارٹی کے تحت پنجاب بھر میں 20ہزار سے زائد واٹر فلٹریشن پلانٹس لگانے کا چودھری سرور ارادہ رکھتے ہیں جس کیلئے پنجاب بھر میں میپنگ کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ واٹر فلٹریشن پلانٹس پر ڈیوٹی دینے کیلئے وزیراعظم عمران خان کے ملازمت دینے کے پروگرام کے تحت ہزاروں نئی اسامیاں بھی پیدا ہونگیں۔ گورنر پنجاب چودھری سرور واٹر فلٹریشن پلانٹس پر کام کرنے والے آپریٹرز کو ماہر بنانے کیلئے یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (UET) میں 2روزہ تربیتی کورس بھی ڈیزائن کروا رہے ہیں، جس سے ان پلانٹس کے آپریٹر تربیت یافتہ ہو سکیں گے۔ سابق ادوار کے بند پڑے منصوبوں کو بھی ایماندار اور باہمت ٹیم کے ذریعے چالو کیا جائے گا۔ ایک خبر یہ بھی ہے جو واٹر فلٹریشن پلانٹس سابق حکومت کے دور میں ڈیڑھ کروڑ روپے کی لاگت میں لگائے گئے تھے اور اس میں سے زیادہ تر بند پڑے ہیں، ان سے زیادہ بہتر واٹر فلٹریشن پلانٹس 10لاکھ سے سے 30لاکھ روپے کی لاگت سے لگائے جائیں گے۔ کچھ پلانٹس سولر انرجی سے بھی چلائے جائیں گے۔ چودھری سرور کی کامیابیوں اور ڈیلیور کرنے کے عہد کی غمازی اس بات سے بھی ہو رہی ہے کہ اب بلاتفریق واٹر فلٹریشن پلانٹس لگائے جائیں گے تاکہ زیادہ تمام ضروری علاقوں کے عوام کو پہلے صاف پانی مہیا کیا جائے۔ ایک خبر یہ بھی ہے کہ چودھری سرور پنجاب کی عوام کو مرحلہ وار صاف پانی فراہمی کو سپیڈی اور یقینی بنانے کیلئے آب پاک اتھارٹی، این جی اوز اور صنعتی سیکٹرز کو بھی استعمال میں لائیں گے ۔

گورنر پنجاب چودھری سرور کی ہدایت پرآپٹما کی 200ملیں بھی اپنے سٹاف اور اردگرد کی آبادی کو اپنی مدد آپ کے تحت فلٹریشن پلانٹ لگا کر صاف پانی مہیا کریں گی جبکہ یونیورسٹیاں بھی اپنے سٹاف اور قریبی آبادیوں کو واٹر فلٹریشن پلانٹس لگا کر صاف پانی مہیا کریں گے۔ اگر ان تمام منصوبوں کی کامیابی کے لئے ٹرانسپرنسی اور اکائونٹبیلٹی کو اپنا شعار بنایا جائے تو طویل عرصہ تک یہ کم لاگت منصوبے حکومت کے صاف پانی کی فراہمی کے خواب کو عملی جامہ پہنا سکتے ہیں۔ صاف پانی پروجیکٹ کے علاوہ پنجاب میں ٹورازم کی صنعت کو فروغ دینے کیلئے ریلی جیئزٹورازم اینڈ ہیریٹیج کمیٹی نے بھی باضابطہ کام شروع کر دیا ہے جس کی چیئرمین شپ کی ذمہ داری بھی وزیر اعظم عمران خان نے گورنر پنجاب چودھری سرور کو سونپی ہے۔ چودھری سرور کے عزم اور ڈیلیور کرنے کی صلاحیتوں پر نظر دوڑائی جائے تو یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ یقیناً چودھری سرور پی ٹی آئی کی حکومت کے وعدوں کی تکمیل کے لئے پرعزم ہے ۔پی ٹی آئی کی حکومت ایماندار لوگوں کو خدمت کا موقع دے کر قوم کی تقدیر سنوارنے کے لئے محض نعروں پر یقین نہیں رکھتی بلکہ عملی اقدامات سے اس جنگ کو جیتنے کے لئے نبرد آزما ہے۔ آخر میں ایک خبر یہ بھی ہے کہ پنجاب کابینہ میں بہت بڑی تبدیلیاں ہونے جا رہی ہیں ۔ چونکہ اب آنیاں جانیاں نہیں کام کرنا پڑے گا، وزیراعلیٰ کی پیر کے روز سے اچانک شروع ہونے والی پھرتیاں بھی اسی تناظر میں ہیں۔ عمران خان نے قابلِ عمل منصوبوں کی تفصیلات وزیراعلیٰ سمیت تمام محکموں سے طلب کرلی ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں