آپ آف لائن ہیں
منگل14؍ محرم الحرام 1440 ھ25؍ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
غالب معاشیات سے ناواقف تھے۔ مگر تھے انسان، معاشی ضروریات کے محتاج اور ان کی تکمیل سے پریشان چنانچہ غیرشعوری طور پر ان کے اکثر اشعار میں معاشی رنگ جھلکتا نظر آتا ہے ۔ اس وقت ہم عوام بھی ایسے چکر میں پھنس گئے ہیں جہاں امید کی کوئی کرن کسی درز سے جھانکتی نظر نہیں آتی۔ انتخابات سے بڑی توقعات وابستہ کرلی ہیں ، فی الحال دشوار گزار راہوں سے گزرنا ہوگا۔ ہر انتخابی حلقہ وزیراعظم کا حلقہ نہیں ہے جسے 15ارب روپے کی خطیر رقم مل جائے، پہلے تو اسے نیپرا کے اس مطالبے کی ادائیگی کرنا ہوگی جہاں بجلی کے نرخوں میں پچھلے مہینوں سے ادائیگی کرنا ہوگی۔ اکتوبر کیلئے 48پیسے فی یونٹ اور نومبر کیلئے 20 پیسے فی یونٹ مگر اس سے زیادہ پرلطف یہ لطیفہ ہے کہ بجلی کا 139ارب کا خسارہ بجلی کے صارفین کی جانب منتقل کردیا جائے۔
2۔ سی این جی کے نرخوں میں اضافہ۔ اب ریجن I میں گیس 79.44 روپے اور ریجن II میں 78.55 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت ہوگی۔ ان میں اسٹیشن کے مالکوں کو علی الترتیب 4.32 روپے 5.20 روپے فی کلو ابریٹنگ اخراجات ملیں گے۔ آل پاکستان سی بی ایسوسی ایشن نے یہ نرخ مسترد کردیئے ہیں اور فیول ایڈجسٹمنٹ کا اطلاق عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کے فیصلے آنے پر ہوگا۔ ویسے سی این جی کی لوڈ شیڈنگ بڑھتی جارہی اور اس کا دائرہ گھریلو صارفین تک پہنچ رہا ہے۔ گیس

اسٹیشن 24 اور 36 گھنٹے بند کردینے سے عوام کو دو طرح نقصان پہنچ رہا ہے اول تو ٹرانسپورٹرز کو گیس نہیں ملتی اور ان کی گاڑیاں بند ہوجاتی ہیں، دوسرے نجی ٹرانسپورٹ بند ہوجانے سے محنت کشوں، چھوٹے اور متوسط ملازموں ، اسکول کے بچوں اور اساتذہ کو آنے جانے میں بڑی دقت ہوتی ہے۔ وقت اور پیسے کا ضیاع ہوتا ہے۔ اس سے بجلی کی پیداوار متاثر ہوتی ہے، جس سے صنعتی پیداوار کا حجم کم اور لاگت بڑھ جاتی ہے دوسرے معمولات زندگی کے علاوہ پانی کی فراہمی بھی متاثر ہوتی ہے۔3۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے ڈسکاؤنٹ کی شرح میں کمی کی بنا پر قومی بچت کی اسکیموں کی شرح منافع گھٹادی گئی۔ ان کی شرح میں چار مہینہ پہلے بھی کمی کی جاچکی تھی اب اسپیشل سیونگز سرٹیفکیٹ پر منافع کی شرح 9.80 روپے فی صد، ریگولر انکم سرٹیفکیٹ پر 10.36 فی صد، ڈیفنس سیونگز اور سیونگز اکاؤنٹ پر 96.68، بہبود اور پنشنرز اکاؤنٹس پر 10.12 فی صد منافع ملے گا۔ دراصل ان اسکیموں سے جہاں حکومت کو رقوم ملتی ہیں وہاں غریب اور متوسط طبقوں کو اپنی آمدنی بڑھانے اور بڑھتے ہوئے مصارف پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے۔ ان اسکیموں کو کاروباری نقطہ نظر کے بجائے فلاحی نگاہ سے دیکھا جائے۔4۔ بینکوں نے یکم جنوری سے اپنے شیڈول چارجز میں تو اضافہ کردیا لیکن سیونگ اکاؤنٹس کی شرحوں میں کسی اضافے کا اعلان نہیں کیا۔5۔ سب سے اہم عوامی مسئلہ گندم اور آٹے کا بحران ہے۔ گندم یا گندم کا آٹا ہماری غذائی ضروریات کا اہم ترین بنیادی جزو ہے۔ گندم میں ملک نہ صرف خود کفیل ہے بلکہ وہ گندم برآمد بھی کرتا ہے۔ آئندہ مہینے ایک لاکھ ٹن گندم ایران کو درآمد کیا جانے والا ہے۔ کراچی اور حیدرآباد میں شدید قلت محسوس کی گئی، کہا جارہا ہے کہ سندھ میں لاکھوں ٹن گندم موجود ہے جو صوبے کی مارچ تک کی ضروریات کے لئے کافی ہوگا۔ مارچ میں سندھ کی نئی فصل آجاتی ہے۔ قلت کی وجہ یہ بتائی گئی کہ گندم کا سرکاری نرخ 2800 روپے فی کلو ہے اور کھلے بازار میں گندم 3200 روپے میں فروخت ہورہا اس لئے تاجر اور برآمد کار سرکاری گندم خرید کر نفع کما رہے ہیں۔ حیدرآباد میں 100 چکیاں اور کراچی میں 60 چکیاں بند ہوگئی ہیں۔ حیدرآباد میں تو مظاہرہ بھی ہوا۔ گندم کے دام تین روپے سے سات روپے فی کلو تک بڑھ گئے ۔ تازہ ترین اطلاع ہے کہ حیدرآباد میں معاملات طے ہوگئے۔ 4,100 جن بوریوں کے چالان جمع کرائے جاچکے تھے ان کو گندم اٹھانے کی اجازت دے دی گئی اور 3,500 بوری ہر روز فراہم کی جائے گی۔ پتہ نہیں کراچی کا معاملہ کس نہج پر ہے۔
مزید برآں پاکستان اور ایک برطانیہ کی کمپنی نے ملک کی زرعی صورت حال کا جائزہ لے کر اپنی رپورٹ پیش کی ہے جس کے مطابق آئندہ سالوں میں ماحولیاتی اور موسمی تبدیلیوں کی وجہ سے پاکستان میں غذا اور پانی کی قلت ہوجائے گی۔ گرمی کا موسم طویل ہوجائے گا۔ سردی کا موسم سکڑ جائیگا۔گرمی کی وجہ سے گلیشیئر تیزی سے پگھلنا شروع ہوجائیں گے اور سطح سمندر میں 6ملی میٹر کی سالانہ شرح سے اضافہ اور ساحلی علاقہ سمندر برد ہونے لگے گا۔ اسی اندیشے سے سندھ کے ساحل پر ایک نئے شہر ذوالفقار آباد کی بنیاد رکھی مگر مقامی افراد کی طرف سے اسکی مخالفت ہورہی ہے کہ یہاں غیر سندھی آکر سندھ کی آبادی کا تناسب بدل دیگے۔ یہی مسئلہ گوادر میں درپیش ہے ۔بعض دوسرے اسباب کی بناء پر بھی عوام کو مہنگائی یا ٹیکسوں کا ہدف پورا نہ ہونے پر نئے ٹیکسوں کا بار اور کرپشن کے بار کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔فی الحال اگلا ہفتہ سیاسی طور پر بڑا پرخطر نظر آرہا ہے۔ سب مل کر دعا کریں ملک توڑ پھوڑ اور ہنگامہ آرائی سے محفوظ رہے ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں