آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر20؍ شوال المکرم 1440 ھ 24؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شنگھائی : ٹام ہانکوک

چین کی دو بڑی ڈیری کمپنیوں نے اس سال ریکارڈ منافع کمایا ہے تاہم وہ جنوب مشرقی ایشیا میں پیداواری سہولتوں میں سرمایہ کاری کے ذریعے فروخت میں اضافہ چاہتی ہیں،کیونکہ ان کی ملکی مارکیٹ میں ترقی سست روی کا شکار ہے۔

چین کی مینگنیو ڈیری جس نے جمعرات کو کہا کہ 2018 میں 69 ارب رینمبنی آمدنی پر اس کا منافع 49 فیصد اضافے کے ساتھ 452 ملین ڈالر پہنچ گیا تھا، اس نے دہی کی پیداوار کے لئے نومبر میں انڈونیشیا میں 50 ملین ڈالر کیا لاگت سے ایک فیکٹری کھولی تھی۔

مینگنیو کے ریسرچ اینڈ ڈیولمپنٹ ڈپارٹمنٹ میں مینجر شی یو ڈونگ نے ایک انٹرویو کہا کہ بین الاقوامیت ہماری اہم حکمت عملیوں میں سے ایک ہے۔ جنوب مشرقی ایشیا بڑٰی آبادی کا حامل ہے اور یہاں بڑی کھپت کی صلاحیت ہے۔

ایشیا کی بڑی ڈیری کمپنی یلی نے نومبر میں تھائی لینڈ کے سب سے بڑے آئس کریم کار خانہ دار چھومتھانا کے 81 ملین ڈالر میں حصول کا اعلان کیا۔

ڈیٹا کمپنی یورو مانیٹر کے مطابق مننکی اور یائی مشترکہ طور پر چین کی ڈیری مارکیٹ کا تقریبا نصف کنٹرول کرتی ہیں۔ دونوں کمپنیاں منگولیا کے اندر ہہوٹ میں ہیں۔

2017 میں مجموعی طور پر 122 ارب رینمبینی کا دہی چین میں فروخت ہوا۔

ییلی 2018 میں جسے 6.4 ارب رینمبینی کے ساتھ خالص منافع میں 7 فیصد اضافہ ہوا،نے گزشتہ ماہ نیوزی لینڈ کی دوسری بڑی ڈیری کوآپریٹو ویسٹ لیںڈ کو قرض سمیت 404 ملین ڈالر میں خریدنے پر اتفاق کیا۔ اس معاہدے کو ریگیولیٹری کی منظوری کا انتظار ہے۔

گولڈ مین ساکس کے مطابق، دونوں کمپنیوں کی ملکی مارکیٹ کو شیر خوار فارمولہ( جو دونوں کمپنیوں کی آمدنی کا بڑا ذریعہ ہے) کی فروخت کے ساتھ باد مخالف کا سامنا ہے،ملکی شرح پیدائش میں کمی کے باعث 2020 میں کم ہونے سے قبل اس سال ہموار ہونے کیلئے تیار ہے۔

آزاد صنعتی تجزیہ کار سونگ لیانگ کے مطابق حالیہ برسوں میں مارکیٹ کے استحکام نے منفاع کو فروغ دیا، لیکن ملکی ترقی اب سست روی کا شکار ہے۔ انہوں ے مزید کہا کہ اب دنیا بھر میں سب سے تیزی سے بڑھتی ہوئی ڈیری مارکیٹ جنوب مشرقی ایشیا ہے۔

یورو مانیٹر کے مطابق دہی کی فروخت میں اضافہ کرکے دونوں کمپنیوں نے کمزور تر فارمولا کی طلب کیلئے ازالہ کیا ہے۔ 2017 میں تازہ دودھ سے آگے نکلتے ہوئے چینی دہی کی فروخت 122 ارب رینمبینی تک پہنچ گئی تھی۔

مینگنیو، جسے فرانس کے ڈینون کی حمایت حاصل ہے، کا مقصد پانچ سال کے اندر اندر دہی کا انڈونیشا کے صف اول کا برانڈ بننا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ان کا دہی جو کمرے کے درجہ حرارت پر رکھنے کیلئے تیار کیا گیا ہے، جنوب مشرقی ایشیا کے لئے مناسب ہے جہاں کولڈ چینز کم ترقی یافتہ ہیں۔

مینگنیو کے مسٹر شی نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ ہماری صنعتی چین کی بین الاقوامیت کیلئے ایک مستتحکم بنیاد قائم ہو اور اسی طرح ساتھ ہی عالمی ٹیلنٹ کو متوجہ کرنا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں