آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 15؍شعبان المعظم 1440ھ 21؍اپریل 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
٭’’نعیم راشد ہمارا ہیرو ہے، مَیں آپ سے التجا کرتی ہوں کہ اُن کا نام لیں، جنہوں نے اس واقعے میں جان گنوائی، نہ کہ اُس کا، جس نے اسے انجام دیا۔‘‘
(جیسنڈا آرڈرن کے تاریخی جملے)
٭ مارچ1858ء میںکرائسٹ چرچ کے نواح میں ہندوستان سے تعلق رکھنے والے دو گواہوں نے قرآن پاک کے انگریزی نُسخے پر حلف اُٹھا کر عدالت میں گواہی دی
٭ جیسنڈا آرڈرن حقیقی معنوں میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کا سدِّباب چاہتی ہیں، اُن کے انسان دوست رویّے پرانہیں اقوامِ عالم خراجِ تحسین پیش کر رہی ہیں اور نوبیل امن انعام کے لیے نام زد کرنے کی خاطر دو قرار دادوں پر دست خطی مُہم کا آغاز بھی ہو چُکا ہے
٭نیوزی لینڈ کے اخبار، ’’دی پریس‘‘ نے اپنے صفحۂ اول پر خبریں شایع کرنے کی بہ جائے مسلمانوں سے اظہارِ یک جہتی کے لیے جَلی حروف میں لفظ ’’سلام‘‘ شایع کیا اور ایسا تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا
٭مجموعی طور پر نیوزی لینڈ ایک پُر امن مُلک ہے، جہاں مختلف قومیّتوں، نسلوں اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کا احترام کیا جاتا ہے اور وہ خوش و خُرّم زندگی بسر کر رہے ہیں،معیارِ زندگی، صحت، تعلیم کی سہولتوں،شخصی آزادیوں اور مضبوط معیشت کے سبب اس کا شمار مثالی ممالک میں ہوتا ہے
٭سانحۂ کرائسٹ چرچ کے 50شہداء میں سے 9کا تعلق پاکستان سے ہے، جب کہ ایک پاکستانی زخمی ہوا۔ 8شہداء کی تدفین نیوزی لینڈ میں اور ایک کی کراچی میں ہوئی
٭1986ء کی مردم شماری کے مطابق، نیوزی لینڈ میں مسلمانوں کی تعداد 2,500تھی، جو2006ء میں 36ہزار اور 2013ء میں 46ہزار تک پہنچ گئی، جب کہ ’’انٹرنیشنل مسلم ایسوسی ایشن آف نیوزی لینڈ‘‘ کے صدر، طاہر نواز کے مطابق، اس وقت یہاں مسلمانوں کی آبادی 60ہزار تک پہنچ چُکی ہے
٭سیکڑوں خواتین نےاسکارف پہن کر مسلمانوں سے اظہارِ یک جہتی کیا،شہداء کی یادگار پر امن و محبّت پر مبنی بینرز،کتبے لگائے گئے، ایک گرجا گھر کے سامنے متاثرین کی یاد میں جوتوں کے 50سفید جوڑے رکھے گئے 

نائن الیون کے بعد دُنیا سیاسی افراتفری، عسکریّت پسندی اور دہشت گردی سمیت دیگر بُحرانوں میں دھنستی چلی گئی۔ دُنیا بَھر بالخصوص اسلامی ممالک میں پُر تشدّد واقعات میں بے پناہ اضافہ ہوا اور مسلمان کم و بیش روزانہ ہی ان کا نشانہ بننے لگے۔ کلمہ گو ایک دوسرے کی جان کے دَرپے ہو گئے، لیکن کسی مسلمان رہنما نے اپنے ہم مذہب افراد کے زخموں پہ مرہم تک رکھنے کی کوشش نہیں کی۔ ایسے میں نیوزی لینڈ جیسے سیکیولر مُلک کی ایک ملحدوزیرِ اعظم نے دہشت گردی کی نذر ہونے والے 50مسلمانوں کے لواحقین کے غم میں شریک ہو کر اور ان کی دل جوئی و اشک شوئی کر کے اسلامی رہنمائوں کی گردنوں سے سریا نکال دیا۔ مسلمانوں کے قتلِ عام پر کیوی حُکّام کے علاوہ شہری بھی رنجیدہ نظر آئے اور پورا مُلک ہی مُلک کی ایک فی صد آبادی پر مشتمل زخموں سے چُور مسلم کمیونٹی کے لئے سایۂ عافیت بن گیا۔ دھان پان سی جیسنڈا آرڈرن نے اپنے حُسنِ سلوک سے انسانی جان کی حُرمت اور رنگ، نسل و مذہب کے امتیاز کے بغیر شہریوں سے ریاست کی ماں سی اپنائیت اور اُن کے حقوق کے تحفّظ کو ثابت کر دکھایا، جو دُنیا بَھر کے حُکم رانوں کے لیے ایک سبق ہے۔ جیسنڈا کا یہ عمل جہاں اقوامِ عالم میں اُن کی مقبولیت کا باعث بنا، وہیں اس نے غیر مسلم دُنیا کی ہم دردیوں کا رُخ بھی مسلمانوں کی جانب موڑ دیا ۔ نیز، القاعدہ، طالبان اور داعش جیسی شدّت پسند تنظیموں کی وجہ سے مسلمانوں پر لگنے والا دہشت گردی کا لیبل بھی ہٹنا شروع ہو گیا ہے۔

نیوزی لینڈ … ایک خوش حال مُلک

نیوزی لینڈ ایک خوش حال مُلک ہے، جو اپنے سبزہ زاروں، قدرتی مناظر، صاف سُتھری آب و ہوا اور کثیر الثّقافتی معاشرے کی وجہ سے دُنیا میںمنفرد مقام رکھتا ہے۔ مجموعی طور پر نیوزی لینڈ ایک پُر امن مُلک ہے، جہاں مختلف قومیّتوں، نسلوں اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کا احترام کیا جاتا ہے اور وہ خوش و خُرّم زندگی بسر کر رہے ہیں۔ یہاں عدل و انصاف کا نظام مثالی ہے اور شہریوں میں برداشت اور رواداری پائی جاتی ہے۔ نیوزی لینڈ، آسٹریلیا کے مشرق میں 2ہزار کلومیٹر کی دُوری پر واقع ہے ۔ یہ دو بڑے شمالی و جنوبی جزائر کے علاوہ تقریباً 600چھوٹے جزائر پر مشتمل ہے ۔ یہاں تیرہویں صدی عیسوی میں پولی نیشینز آ کر آباد ہوئے اور انہوں نے ’’ماوری تہذیب‘‘ کو پروان چڑھایا۔ جرمن سیّاح، ابیل تسمان وہ پہلا یورپی باشندہ تھا، جس نے 1642ء میں اس سرزمین پر قدم رکھا، جب کہ برطانوی سیّاح، جیمز کُک نے اس کا نام نیوزی لینڈ رکھا۔ 1840ء میں برطانیہ اور ماوری قبائلی سربراہ نے ’’ویٹنگی معاہدے‘‘ پر دست خط کیے اور اس سے اگلے برس نیوزی لینڈ، برطانیہ کی نوآبادی بن گیا۔ گرچہ 1907ء میںنیوزی لینڈ کو برطانیہ سے آزادی مل گئی، لیکن تاحال تاجِ برطانیہ ہی ریاستی سربراہ ہے۔ معیارِ زندگی، صحت، تعلیم، شخصی آزادیوں اور معاشی اعتبار سے اس مُلک کا شمار دُنیا کے مثالی ممالک میں ہوتا ہے۔

چند دل چسپ حقائق

نیوزی لینڈ کے باسیوں کو ’’کیویز‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہاں پائی جانی والی مخلوقات میں انسانوں کا حصّہ صرف 5فی صد ہے اور یہاں سب سے زیادہ پینگوئنز پائے جاتے ہیں۔ نیوزی لینڈ میں پایا جانے والا کیوی وہ واحد پرندہ ہے، جو اُڑ نہیں سکتا ، جب کہ یہاں سانپ بالکل نہیں پائے جاتے۔ اس مُلک کا کوئی بھی گوشہ سمندر سے 128کلومیٹر سے زاید فاصلے پر نہیں۔ نیوزی لینڈ میں کرپشن نہ ہونے کے برابر ہے اور اس کی تین سرکاری زبانیں ہیں، جن میں انگریزی، مائوری اور اشاروں کی زبان شامل ہیں۔ ماؤنٹ ایورسٹ سَر کرنے والے پہلے فرد کا تعلق بھی اسی سر زمین سے تھا اور پلاسٹک سرجری کا موجد، ہارلوڈ گیلیز بھی کیوی تھا۔ نیوزی لینڈ کا رقبہ برطانیہ کے مساوی ہے۔ یہ دُنیا کا واحد مُلک ہے، جس کے دو قومی ترانے ہیں۔ یہاں ایک بھی جوہری توانائی پیدا کرنے کا مرکز نہیں اور جیلوں میں موجود 94فی صد قیدی مَرد ہیں۔ نیوزی لینڈ کے چار قومی تہواروں کے دوران ٹی وی چینلز پر کوئی اشتہار نشر نہیں ہوتا۔ اس مُلک نے دُنیا میں پہلی بار 19ستمبر 1893ء کو خواتین کو ووٹ کا حق دیا۔ یہاں ہر فرد کے پاس اوسطاً 10بھیڑیں ہیں۔ دُنیا بَھر میں سب سے زیادہ گالف کورسز نیوزی لینڈ میں ہیں۔ مُلکی قانون کے تحت ہر اسکول جوہری تجربے کے لیے ایک پائونڈ یورینیم اور ایک پائونڈ تھوریم رکھ سکتا ہے اور اگر دھماکا ہو جائے، تو اس پر 10لاکھ ڈالرز جُرمانہ عاید کیا جاتا ہے۔

نیوزی لینڈ میں اسلام کی آمد

نیوزی لینڈ کی آبادی کا صرف ایک فی صد حصّہ مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ یہاں 1769ء میں دو ہندوستانی مسلمانوں نے اسلام کی بنیاد رکھی۔ بعض دستاویزات کے مطابق، 1840ء اور 1874ء نیوزی لینڈ کے مسلمانوں کے لیے اہمیت کے حامل سال ہیں کہ جب انہیں اس مُلک میں ایک گروپ کے طور پر تسلیم کیا گیا۔ 1874ء کی مردم شماری کے مطابق، نیوزی لینڈ میں بسنے والے مسلمانوں کی تعداد 17تھی، جن میں سے 16اوٹیگو اور ایک آک لینڈ میں قیام پزیر تھا۔ پُرانی دستاویزات کے مطابق، نیوزی لینڈ میں مسلمانوں اور اسلام کو ’’محمڈنز‘‘ ، ’’محمتنز‘‘ اور ’’محمدنزم‘‘ کہا جاتا تھا۔ ’’فیڈریشن آف اسلامک ایسوسی ایشن آف نیوزی لینڈ‘‘ کے مطابق، 1850ء میں ایک مہاجر مسلمان خاندان کرائسٹ چرچ میں آباد ہوا۔ 13مارچ1858ء کو روزنامہ، لیٹلٹن ٹائمز نے سپریم کورٹ کے ایک کیس کے حوالے سے لکھا کہ کرائسٹ چرچ کے نواح میں ہندوستان سے تعلق رکھنے والے دو گواہوں، زیرا اور مندیا نے قرآن پاک کے انگریزی نُسخے پر حلف اُٹھا کر عدالت میں گواہی دی۔ مذکورہ اخبار نے بھی ان گواہان کے مذہب کے لیے ’’محمتن‘‘ کا لفظ استعمال کیا۔ یہ دونوں ’’اکبر‘‘ نامی بحری جہاز کے ذریعے نیوزی لینڈ پہنچے تھے۔ ان کے 4بچّے تھے، جن میں سے آخری دو 1859ء اور 1861ء میں کرائسٹ چرچ میں پیدا ہوئے۔ 1901ء کی مردم شماری کے مطابق، نیوزی لینڈ میں مسلمانوں کی تعداد 41تھی۔ 1906ء سے 1920ء کے درمیان 3گُجراتی مسلمان مَرد یہاں پہنچے اور انہوں نے ایک چھوٹی سی دُکان قائم کی۔ 1950ء میں اُن کے خاندان بھی یہیں آکر بس گئے اور بعد ازاں یہ برادری نیوزی لینڈ میں مسلمانوں کے رہنما کے طور پر سامنے آئی۔ 1986ء کی مردم شماری کے مطابق، نیوزی لینڈ میں مسلمانوں کی تعداد 2,500تھی، جو2006ء میں 36ہزار اور 2013ء میں 46ہزار تک پہنچ گئی، جب کہ ’’انٹرنیشنل مسلم ایسوسی ایشن آف نیوزی لینڈ‘‘ کے صدر، طاہر نواز کے مطابق، اس وقت یہاں مسلمانوں کی آبادی 60ہزار تک پہنچ چُکی ہے۔ 1950ء میں نیوزی لینڈ میں پہلی اسلامی تنظیم، ’’نیوزی لینڈ مسلم یونین‘‘ رجسٹرہوئی۔ 1959ء میں آک لینڈ میں پہلا اسلامی مرکز قائم کیا گیا اور 1979ء میں پہلی مسجد تعمیر ہوئی۔ 1951ء میں یوگوسلاویہ سے نقل مکانی کر کے آنے والے مظہر سکری نے 1979ء ہی میں ’’فیڈریشن آف اسلامک ایسوسی ایشنز آف نیوزی لینڈ‘‘ (FIANZ) کی بنیاد رکھی۔ 1984ء میں ایک پاکستانی سائنس دان، ڈاکٹر اشرف چوہدری مذکورہ ایسوسی ایشن کے صدر منتخب ہوئے اور ان کے دَور ہی میں نیوزی لینڈ میں پہلی باقاعدہ مسجد تعمیر ہوئی، جس کا نام ’’النّور مسجد‘‘ رکھا گیا۔ اسے دُنیا کی پہلی اور آخری جنوبی مسجد ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ بعد ازاں، پاکستانی نژاد اشرف چوہدری نے لیبر پارٹی کے پلیٹ فارم سے نیوزی لینڈ کی سیاست میں قدم رکھا اور 2002ء میں نیوزی لینڈ کے پہلے مسلمان سینیٹر منتخب ہوئے۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ان کے حلف اُٹھانے کے لیے نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ میں پہلی مرتبہ قرآنِ پاک لایا گیا۔

جیسنڈا آرڈرن کون …؟

نیوزی لینڈ کی دو مساجد میں فائرنگ سے 50نمازیوں کی شہادت کے انتہائی لرزہ خیز واقعے کے بعد کیوی وزیرِ اعظم، جیسنڈا آرڈرن کی انسان دوستی اور جرأت مندانہ اندازِ قیادت نے جگ بَھر میں اَن مِٹ نقوش چھوڑے اور اس کی وجہ سے انہیں عالمی شُہرت حاصل ہوئی، جب کہ اس سے قبل پارلیمنٹ اور عالمی ادارے کے اجلاس میں اپنی شِیرخوار بیٹی کے ساتھ تصاویر ہی ان کی پہچان تھیں۔ جیسنڈا نے 2017ء میں محض 37برس کی عُمر میں وزیرِ اعظم منتخب ہو کر نیوزی لینڈ کی 150سالہ تاریخ میں وزارتِ عُظمیٰ کا قلم دان سنبھالنے والی سب سے کم سِن رہنما کا اعزاز حاصل کیا۔ نیشنلسٹ پارٹی اور بائیں بازو کی اعتدال پسند لیبر پارٹی پر مشتمل مخلوط حکومت کی سربراہی کرتے ہوئے جیسنڈا کو ابھی 16ماہ ہی ہوئے تھے کہ کرائسٹ چرچ کا سانحہ ہو گیا۔ آرڈرن 26جولائی 1980ء کو نیوزی لینڈ کے شہر، ہیملٹن میں پیدا ہوئیں۔ اُن کے والد پولیس افسر تھے، جب کہ والدہ اسکول میں کیٹرنگ اسسٹنٹ کے طور پر کام کرتی تھیں۔ یونی ورسٹی آف وائے کاٹو سے سیاسیات اور تعلقاتِ عامّہ کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد سابق برطانوی وزیرِ اعظم، ٹونی بلیئر کی پالیسی مُشیر کے طور پر خدمات انجام دینے کے لیے لندن منتقل ہو گئیں۔ ان کی پرورش ایک مورمن عیسائی کے طور پر ہوئی، لیکن بعد ازاں ہم جنس پرستوں کے حقوق کی حمایت کی خاطر انہوں نے 2005ء میں مذہب سے علیحدگی اختیار کر لی۔ لیبر پارٹی کی رہنما بننے سے پہلے جیسنڈا غریب بچّوں کی فلاح و بہبود کے مِشن سے وابستہ تھیں۔ انہوں نے 17برس کی عُمر میں لیبر پارٹی کے لیے رضاکارانہ طور پر کام شروع کیا اور 2008ء میں نیوزی لینڈ کی کم عُمر ترین رُکنِ پارلیمان بنیں۔ کیوی وزیرِ اعظم موسیقی کی بھی دل دادہ ہیں۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ ایک مقامی اسٹور پر مختلف اقسام کے میوزک پلے کرتی رہیں اور 2014ء میں آک لینڈ میں ہونے والے ایک میوزک فیسٹیول میں 45منٹ تک ڈی جے کے فرائض بھی انجام دیے۔ ٹی وی پروڈیوسر، کلارک گفورڈ، جیسنڈا کے ہم سفر ہیں، جن سے اُن کی دوستی کا آغاز تب ہوا ، جب انہوں نے جیسنڈا کو پارلیمان میں پیش کیے گئے سیکیورٹی بِل پر اپنے تحفّظات سے متعلق خط لکھ کر آگاہ کیا۔ وہ اگست 2017ء میں نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف منتخب ہوئیں اور 26اکتوبر 2017ء کو نیوزی لینڈ فرسٹ اور لیبر پارٹی کے اتحاد سے بننے والی مخلوط حکومت کی سربراہ کے طور پر اُن کا انتخاب کیا گیا۔ وہ نیوزی لینڈ کی تیسری خاتون وزیرِ اعظم ہیں۔ 24جون 2018ء کو ان کے بطن سے ایک بچّی نے جنم لیا، جس کا نام نیویتے اروھا آرڈرن رکھا گیا اور یوں وہ دَورِ اقتدار میں ماں بننے والی دُنیا کی دوسری حُکم راں بن گئیں۔ اس سے قبل یہ اعزاز سابق وزیرِ اعظم پاکستان، شہید بے نظیر بُھٹّو کے پاس تھا، جن کے دَورِ وزارتِ عظمیٰ ہی میں اُن کی بیٹی، بختاور کی ولادت ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ کیوی وزیرِ اعظم کو ستمبر 2018ء میں نیلسن منڈیلا امن کانفرنس اور اقوامِ متّحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اپنی 3ماہ کی شِیر خوار بچّی کے ساتھ شرکت کرنے والی پہلی رہنما کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

سانحۂ کرائسٹ چرچ … کیوی وزیرِ اعظم کے لازوال کلمات

سانحۂ کرائسٹ چرچ کے بعد جیسنڈا آرڈرن نے متعدد مواقع پر نیوزی لینڈ کے غم زدہ مسلمانوں کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کیا اور اُن کے کلمات نے دُنیا بَھر کے مسلمانوں سمیت انسانیت کا درد رکھنے والے ہرفرد کے دل جیت لیے۔ اس موقعے پر عالمی ذرایع ابلاغ کی توجّہ حاصل کرنے والے اُن کے تاریخی فقرےاورزرّیں افکار ذیل میں پیش کیے جا رہے ہیں :

٭ ’’نیوزی لینڈ کے ہر طبقے کی حفاظت یقینی بنانا میری ذمّے داری ہے۔‘‘

٭’’اس دہشت گردی کے شکار وہ تارکینِ وطن ہیں، جنہوں نے نیوزی لینڈ کو اپنا گھر بنایا۔ ہاں! یہ ان کا گھر ہے اور وہ ہمارا حصّہ ہیں، جب کہ جس شخص نے اس بدترین جُرم کا ارتکاب کیا، وہ ہم میں سے نہیں۔آج کا دن ہماری تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے۔ یہ حملہ اس لیے ہوا کہ ہم یک رنگی کی بہ جائے نسلی و سماجی رنگا رنگی پر یقین رکھتے ہیں۔براہِ کرم حملہ آور کی پُر تشدّد یڈیوز اور اس کے تحریری جواز کو آگے نہ بڑھائیں،تاکہ اس پُر تشدّد سوچ کو آکسیجن نہ مل سکے۔‘‘

٭ ’’نیوزی لینڈ کے شہریوں کا یہ فرض ہے کہ وہ یہاں بسنے والوں کو تحفّظ کا احساس دلائیں اور نسل پرستی پر مبنی ہر اقدام کو چیلنج کریں۔‘‘

٭ ’’مَیں ہر اُس فرد کو، جو نیوزی لینڈ کو اپنا گھر سمجھتا ہے، چاہے اُس کا کوئی بھی مذہب یا قومیت ہو، یقین دلانا چاہتی ہوں کہ وہ یہاں اپنے آپ کو محفوظ تصوّر کرے۔‘‘

٭ ’’یہ حملہ ایک آسٹریلوی شہری نے کیا، لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہمارے ہاں یہ مسئلہ نہیں پایا جاتا۔ سفید فام قوم پرستی ایک عالمی مسئلہ ہے۔ ہماری ذمّے داری ہے کہ ہم اس سوچ کو جڑ نہ پکڑنے دیں اور ایک ایسا ماحول بنائیں، جہاں اس طرح کے خیالات کو پنپنے کی اجازت نہ ہو۔‘‘

٭ ’’میرا نہیں خیال کہ کوئی بھی رہنما، کہیں بھی اس طرح کے واقعے کے لیے پہلے سے ذہنی طور پر تیار ہوتا ہے اور ایک پُرامن مُلک کی، جہاں 200قومیّتوں سے تعلق رکھنے والے اور 60مختلف زبانیں بولنے والے افراد بستے ہیں، وزیرِ اعظم کے طور پر یہ خبر میرے لیے ایک صدمہ تھی۔‘‘

٭ ’’نیوزی لینڈ آپ کے ساتھ سوگ وار ہے۔ ہم ایک ہیں۔‘‘

٭ ’’ہم متّحد اور ایک جسم کی مانند ہیں۔‘‘

٭ ’’مسلمان شہریوں کو اس بات کا پورا حق حاصل ہے کہ وہ مُلک میں اپنی عبادات و مذہبی رسومات مکمل امن و امان کے ساتھ انجام دیں۔‘‘

٭ ’’یہ میری ذمّے داری ہے کہ مَیں ہر طبقے کی حفاظت یقینی بناؤں۔‘‘

٭ ’’پیغمبرِ اسلام، حضرت محمد ﷺ کے مطابق، تمام مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں۔ اگر جسم کے کسی ایک حصّے میں درد ہو، تو پورا بدن تکلیف محسوس کرتا ہے۔‘‘

٭ ’’اس مشکل گھڑی میں تمام شہری متّحد ہیں۔ مسلمان برادری کے خلاف حملے یا نفرت انگیز کارروائیاں مُلک کو تقسیم نہیں کر سکتیں۔‘‘

مسلمانوں سے اظہارِ یک جہتی کا لازوال نمونہ

سانحۂ کرائسٹ چرچ کے نتیجے میں اُن کے لواحقین کو پہنچے والے صدمے کا جو عکس کیوی وزیرِ اعظم، جیسنڈا آرڈرن کی شخصیت اور طرزِ عمل میں نظر آیا، اُس کی نظیر نہیں ملتی۔ اس اندوہ ناک واقعے کے بعد خاتون وزیرِ اعظم نے دُنیا کے دیگر سربراہانِ حکومت و مملکت کی طرح صرف تعزیّتی پیغامات اور لواحقین کے ساتھ اظہارِ ہم دردی پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ سانحے کے فوراً بعد نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ میں پہلی مرتبہ ایک مسلمان عالمِ دین، مولانا نظام الحق تھانوی کو دعوت دی گئی اور انہوں نے قرآنِ پاک کی سورۂ بقرہ کی چار آیات تلاوت فرمائیں۔ اس کے بعد قائدِ حزبِ اقتدار نے اپنی تقریر کا آغاز ’’السّلامُ علیکم‘‘ سے کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہمارے لیے وہ افراد اہم ہیں، جو کرائسٹ چرچ کی ایک مسجد میں بے گناہ مارے گئے۔ ہم انہیں ہمیشہ احترام و محبّت سے یاد کریں گے۔ نعیم راشد ہمارا ہیرو ہے، جس نے دوسرے انسانوں کو بچانے کی خاطر اپنی جان کی قربانی دی، لیکن آپ مُجھے کبھی اُس شخص کا نام لیتے ہوئے نہیں سُنیں گے، جس نے اس خوف ناک اور قابلِ نفرت جُرم کا ارتکاب کیا۔ وہ ایک دہشت گرد ، ایک درندہ اور ایک انتہا پسند ہے ۔ یاد رکھیں کہ اُسے نیوزی لینڈ کے طاقت وَر قانون کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘‘ علاوہ ازیں، جب جیسنڈا نے مُلک کی مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں کے ساتھ مل کر متاثرین کے اہلِ خانہ اور مسلم کمیونٹی کے افراد سے ملاقات کی، تو وہ سیاہ شلوار قمیص میں ملبوس اور اسی رنگ کا دوپٹا اوڑھے ہوئے تھیں۔ وہ متاثرہ خواتین سے گلے ملیں اور اُن سے مستقبل کے لائحہ عمل کے حوالے سے آراء بھی لیں۔

دوسری جانب کرائسٹ چرچ کی النّور مسجد کے بالمقابل واقع، ہیگلے پارک میں 20ہزار افراد نے بہ یک وقت جمع ہو کر شہید نمازیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے ساتھ متاثرین سے اظہارِ یک جہتی کیا۔ نیوزی لینڈ کے سرکاری ریڈیو اور ٹی وی چینل پر جمعے کی اذان، خطبہ اور نماز براہِ راست نشر کی گئی۔ اس موقعے پر ایک خصوصی تعزیّتی تقریب بھی منعقد کی گئی، جس میں جیسنڈا آرڈرن بھی موجود تھیں۔ دہشت گردی کا نشانہ بننے والے نمازیوں کے سوگ میں دو منٹ خاموشی اختیار کی گئی، جب کہ نیوزی لینڈ کے علاوہ دُنیا کے دوسرے متعدد ممالک میں بھی جمعے کے روز خصوصی تقریبات منعقد کی گئیں۔ جیسنڈا آرڈرن نے ہیگلے پارک میں نمازِ جمعہ کی ادائیگی سے قبل حضورِ پاک ﷺ پر درود و سلام پیش کرتے ہوئے اس جملے سے اپنے خطاب کا آغاز کیا کہ’’ جو ایمان رکھتے ہیں، اُن کی باہمی رحم دلی، ہم دردی اور احساس ایک جسم کی مانند ہوتا ہے۔ اگر جسم کے کسی ایک حصّے میں تکلیف ہوتی ہے، تو سارا جسم درد محسوس کرتا ہے۔‘‘ خاتون وزیرِ اعظم نے مسلمانوں سے اظہارِ یک جہتی کرتے ہوئے کہا کہ ’’پورا نیوزی لینڈ آپ کے دُکھ میں شریک ہے۔ ہم سب ایک ہیں۔‘‘ اس موقعے پر ہیگلے پارک میں نصب ایک بڑی اسکرین پر انگریزی زبان میں ’’ہمیں آپ سے پیار ہے‘‘ اور مائوری زبان میں ’’ثابت قدم رہیں‘‘ جیسی عبارتیں دمک رہی تھیں، جب کہ امامِ مسجد، جمال فودا نے وقوعے کے وقت بقیہ نمازیوں کو حملہ آور سے بچانے پر پولیس، مقامی شہریوں اور وزیرِ اعظم کا شکریہ ادا کیا۔ شہداء کے لیے بنائی گئی عارضی یادگار پر اَن گنت شہریوں نے متاثرین کے لیے امن اور محبّت کے پیغامات کے سجائے۔ دریں اثنا، کرائسٹ چرچ میں واقع ایک گرجا گھر کے سامنے شہداء کی یاد میں جوتوں کے 50سفید جوڑے رکھے گئے۔ کئی مسلمانوں نے یادگار پر آ کر فاتحہ خوانی اور نماز ادا کی، جب کہ بچّوں، بڑوں نے یادگار پر پُھول رکھے۔ اس دوران شہریوں نے مختلف بینرز اُٹھا رکھے تھے اور ایک بینر پر یہ حوصلہ افزاء پیغام بھی درج تھا کہ ’’تم ہمیں خوف زدہ کرنے میں کام یاب نہیں ہو سکے۔‘‘

جمعے کی نماز کے دوران نیوزی لینڈ میں ہیوی موٹر بائیکس چلانے والے گروہ نے، جسے عُرفِ عام میں ‘‘بائیکرز گینگ‘‘ کہا جاتا ہے، مساجد کے باہر پہرہ دیا۔ اس موقعے پر نیوزی لینڈ کے شہریوں کی جانب سے مسلمانوں کے ساتھ اظہارِ یک جہتی کی مُہم کے سلسلے میں ’’اتحاد و اتفاق کی خاطر حجاب‘‘ کال بھی دی گئی اور نیوزی لینڈ کی غیر مسلم خواتین کی ایک بڑی تعداد نے جمعے کے روز اسکارف پہنا۔ مُہم کے منتظمین کی ہدایت پر مسلمانوں کے ساتھ یگانگت کی خاطر سوشل میڈیاپر#headscarfforharmony کا ہیش ٹیگ استعمال کرتے ہوئے حجاب کی تصاویر پر مشتمل پوسٹس شیئر کی گئیں اور خواتین اینکرز اور رپوٹرز نےبھی اسکارف پہن کر اپنےفرائض انجام دیے۔ مساجد پر حملوں کے متاثرین سے اظہارِ یک جہتی کے لیے قومی سطح پر دو منٹ کی خاموشی کے فوراً بعد ہی مختلف فقرے سامنے آئے، جن میں نیوزی لینڈ کی قدیم زبان مائوری کا دو لفظی جملہ، ’’کیا کاہا‘‘ یعنی ’’ہمّت نہ ہاریں‘‘ بھی شامل تھا، جب کہ دیگر پیغامات کچھ یوں تھے کہ ’’ہم ایک ہی فضا میں سانس لیتے ہیں، ہم ایک ہی زمین پر چلتے ہیں، ہمارا ایک سا خُون بہتا ہے۔ یہ آپ کا گھر ہے اور آپ کو یہاں پر محفوظ ہونا چاہیے تھا۔ آپ، آپ کا خاندان، آپ کے دوست اور آپ کی برادری ہمارے دِلوں میں بستی ہے۔ ہم آپ کا درد محسوس کر سکتے ہیں۔ ہماری آنکھیں آپ کے لیے اشک بار ہیں۔ اپنے پیاروں کوبھینچ کر گلے لگائیں۔‘‘اس موقعے پر نیوزی لینڈ کے اخبار، ’’دی پریس‘‘ نے اپنے صفحۂ اول پر خبریں شایع کرنے کی بہ جائے مسلمانوں سے اظہارِ یک جہتی کے لیے جَلی حروف میں لفظ ’’سلام‘‘ شایع کیا اور ایسا تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا۔ نیز، سانحۂ کرائسٹ چرچ کے بعد قومی پرچم سرنگوں کر دیا گیا۔ وزیرِ اعظم، جیسنڈا آرڈرن نے عہد کیا کہ وہ حملہ آور کا نام کبھی نہیں لیں گی۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’’دہشت گردی سے اُسے بہت سی چیزیں مطلوب تھیں، جن میں سے ایک شُہرت بھی تھی، اس لیے آپ کبھی مُجھے اُس کا نام لیتے نہیں سُنیں گے۔ وہ دہشت گرد ہے، وہ مجرم ہے، وہ انتہا پسند ہے، لیکن مَیں جب بھی اس بارے میں بات کروں گی، تو وہ بے نام رہے گا۔‘‘ کیوی وزیرِ اعظم نے ویلنگٹن میں کہا کہ ’’مَیں آپ سے التجا کرتی ہوں کہ اُن کا نام لیں، جنہوں نے اس واقعے میں جان گنوائی، نہ کہ اُس کا، جس نے اسے انجام دیا۔‘‘

’’ہمارے دل ٹوٹے ہیں، ہم نہیں‘‘، امام النّور مسجد

شہداء کی یاد میں منعقدہ تقریب میں مسجدِ النّور کے امام، جمال فودا نے خصو صی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’نیوزی لینڈ کے شہریوں نے ثابت کر دیا کہ وہ کسی کو بھی اپنا معاشرہ تقسیم کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ حملہ آور نے کروڑوں انسانوں کے دل دُکھائے، لیکن آج مَیں اُسی مقام پر محبّت اور ہم دردی کے جذبات اُمڈتے دیکھ رہا ہوں۔ ہمارے دل ٹوٹے ہوئے ہیں، لیکن ہم نہیں۔ ہم زندہ ہیں، ہم متّحد ہیں اور ہم کسی کو بھی اپنی صفوں میں پُھوٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ دُنیا سے نفرت انگیز تقاریر اور خوف و دہشت کی پالیسی کا خاتمہ کیا جائے، کیوں کہ 50بے قصور افراد کی شہادت راتوں رات نہیں ہوئی، بلکہ یہ اسلام دشمنی ، نفرت اور بعض سیاسی قائدین کی جانب سے کی جانے والی اسلام مخالف تقاریر کا نتیجہ ہے۔‘‘ ایک اور امامِ مسجد نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’’شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ اس کے ذریعے اسلام کا جمال دُنیا کے سامنے آئے گا۔ یہ صرف اسلام ہی کے نہیں، بلکہ اپنے وطن کے بھی شہداء ہیں۔ مَیں آپ لوگوں کی محبّت، ہم دردی اور یگانگت کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ مَیں محترمہ وزیرِ اعظم کا بے حد شُکر گزار ہوں۔ آپ ہم ہی میں سے ہیں اور نیوزی لینڈ کی حکومت کا بھی شکریہ ۔‘‘

جان کی بازی ہارنے والے پاکستانی

سانحۂ کرائسٹ چرچ کے 50شہداء میں سے 9کا تعلق پاکستان سے ہے، جب کہ ایک پاکستانی زخمی ہوا۔ 8شہداء کی تدفین نیوزی لینڈ میں اور ایک کی کراچی میں ہوئی۔ شہداء میں کراچی سے تعلق رکھنے والے ذیشان رضا اور ان کے والدین، غلام حسین اور کرم بی بی شامل ہیں۔ غلام حسین اور کرم بی بی کی پیدایش کراچی میں ہوئی تھی۔ غلام حسین پی آئی اے کے سابق ملازم تھے اور ان کی اہلیہ گھریلو خاتون تھیں۔ ذیشان رضا اُن کے اکلوتے بیٹے تھے، جنہوں نے ابتدائی تعلیم کراچی کے علاقے، ملیر سے حاصل کی تھی اور میکینیکل انجینئر تھے۔ ذیشان نے2004ء میں ایک مقامی کمپنی میں ملازمت اختیار کی ، لیکن 2013ء میں اسے خیر باد کہہ دیا۔ 2014ء کے اوائل میں وہ نیوزی لینڈ منتقل ہو گئے اور یہاں آک لینڈ کی گڈ وڈ انڈسٹری سے وابستہ ہوئے۔ وہ سانحے سے چند روز قبل ہی کرائسٹ چرچ آئے تھے ، جب کہ اُن کے والدین رواں برس جنوری میں سیّاحتی ویزے پر اپنے بیٹے سے ملاقات کے لیے نیوزی لینڈ گئے تھے۔ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والے 50سالہ، نعیم راشد اور اُن کا 21سالہ بیٹا، طلحہ نعیم بھی شہداء میں شامل ہیں۔ نعیم راشد 2010ء میں پی ایچ ڈی کے لیے اپنی اہلیہ اور تینوں بچّوں کے ساتھ نیوزی لینڈ گئے ، جہاں وہ استاد کی حیثیت سے خدمات بھی انجام دے رہے تھے۔ نعیم راشد نے اپنے سینے پر گولیاں کھا کر کئی نمازیوں کی جان بچائی اور شہید پاکستانی ہیرو کی اس بہادری پر وزیرِ اعظم پاکستان، عمران خان نے اُن کے لیے قومی ایوارڈ کا بھی اعلان کیا۔ جان کی بازی ہارنے والے40سالہ ہارون محمود 5برس قبل بائیو کیمسٹری میں پی ایچ ڈی کے لیے اپنی بیوی اور دو بچّوں سمیت نیوزی لینڈ گئے تھے۔ شہید ہارون کی اہلیہ، کرن بھی پی ایچ ڈی ہیں، جنہوں نے اسلام آباد کی قائدِ اعظم یونی ورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی، جب کہ ہارون اسلام آباد کے شہید ذوالفقار علی بُھٹّو انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے فارغ التّحصیل تھے۔پاکستانی شہداء میں شامل لاہور سے تعلق رکھنے والے سہیل شاہد نے 2008ء میں پنجاب یونی ورسٹی سے کیمیکل انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی تھی۔ وہ 2017ء میں بہتر مستقبل کی تلاش میں نیوز ی لینڈ منتقل ہوئے اور وہاں ایک کمپنی میں پروڈکشن منیجر کے طور پر کام کر رہے تھے۔ کراچی کے علاقے، لیاقت آباد سے تعلق رکھنے والے 34سالہ سیّد جہان داد علی مائیکرو سافٹ کی پارنٹر کمپنی، انٹرجین سے منسلک تھے اور 2012ء میں نیوزی لینڈ منتقل ہوئے ۔ نیز، اُن کے پاس وہاں کی شہریت بھی تھی۔ نسل پرستی کی بھینٹ چڑھنے والے کراچی کے علاقے، فیڈرل بی ایریا کے مکین، سیّد اریب شاہ اپنے والدین کے اکلوتے بیٹے تھے۔انہوں نے کراچی ہی میں چارٹرڈ اکاؤنٹینٹ کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد سانحے سے تقریباً 3برس قبل بین الااقوامی کمپنی، پرائس واٹر ہاؤس کوپرز، نیوزی لینڈ میں ملازمت اختیار کی۔ شہید اریب واحد پاکستانی ہیں، جن کی تدفین اپنے وطن ہوئی۔ سانحے میں زخمی ہونے والے واحد پاکستانی، 66سالہ امین ناصرکا تعلق حافظ آباد سے ہے۔

نعیم راشد شہید کی بیوہ کے حوصلے و استقامت نے صحافی کو اشک بار کردیا

سانحۂ کرائسٹ چرچ کے بعد شہید نعیم راشد کی بیوہ، عنبرین نعیم نے ایک مشہور بین الاقوامی خبررساں ادارے کو انٹرویو دیا۔ اس موقعے پر شہید کی اہلیہ کی متانت اور صبر و استقامت دیکھ کر انٹرویو لینے والی رپورٹر کی آنکھیں بَھر آئیں۔ عالمی ذرایع ابلاغ کی توجّہ کا مرکز بننے والی گفتگو ذیل میں مِن و عن پیش کی جا رہی ہے۔

عنبرین نعیم :میرے خاوند بہت اچّھے انسان تھے۔ ہماری شادی 1996ء میں ہوئی۔ مَیں جانتی ہوں کہ وہ بہت بہادر انسان تھے۔ بہت مدد گار اور پیار کرنے والے۔ پیار آپ کو وہی سکھاتا ہے، جو انہوں نے کیا۔ انہوں نے لوگوں کی جان بچانے کی کوشش کی، کیوں کہ وہ محبّت کرنے والے انسان تھے۔

رپورٹر :کیا آپ اپنے بیٹے کی سب سے اہم خصوصیت ہمیں بتا سکتی ہیں؟

عنبرین نعیم :وہ بچپن ہی سے سب کا بہت زیادہ خیال رکھتا تھا اور دوسرے بچّے اس سے بہت جلد متاثر ہو جاتے تھے۔ ہم دوسرے بچّوں کو طلحہ کی مثالیں دیتے تھے۔ میرے شوہر اور بیٹے نے دوسروں کی خاطر اپنی جانیں قربان کیں اور اللہ تعالی بھی ہم سے یہی چاہتا ہے۔ یہ (اسلام) امن اور محبّت کا دِین ہے۔

رپورٹر :ایمان کے علاوہ دوسری کون سی چیز ہے، جس نے اُس لمحے آپ کو طاقت دی؟

عنبرین نعیم :مَیں سمجھتی ہوں، وہی (ایمان) اصل طاقت ہے۔ مُجھے دُکھ ہے، تو اُس دہشت گرد پر… مُجھے اُس پر ترس آتا ہے کہ اُس کے دل میں پیار نہیں۔ اُس کا دل نفرت سے بھرا ہوا تھا۔ وہ سکون سے محروم ہے۔

رپورٹر :کیا آپ دوبارہ مسجد جائیں گی؟

عنبرین نعیم :جی ضرور۔ یہی وہ سبق ہے، جو مَیں نے سیکھا ۔ مُجھے کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔ اس واقعے نے مُجھے مضبوط بنا دیا۔یہ کیفیت صرف میری نہیں، بلکہ مَیں نے اپنی بہنوں کو بھی یہی کہتے سنا کہ’’ ہم مزید مضبوط ہو گئی ہیں۔‘‘

رپورٹر :آپ میری زندگی کی سب سے متاثر کُن شخصیت ہیں۔ کیا مَیں آپ کو گلے لگا سکتی ہوں؟

عنبرین نعیم :ضرور۔(پھرعنبرین نعیم کا حوصلہ دیکھ کر دنگ رہ جانے والی رپورٹر نے انہیں گلے لگایا اوررونے لگیں)

 (وزیرِ اعظم پاکستان، عمران خان نے شہید نعیم راشد کی اہلیہ کے اس انٹرویو کو اپنے ٹویٹر اکائونٹ سے شیئر بھی کیا)۔

نیم خود کار ہتھیاروں کی تمام اقسام پر پابندی

کرائسٹ چرچ حملے کے6روز بعد نیوزی لینڈ کی حکومت نے مُلک میں تمام اقسام کے فوجی طرز کے نیم خود کار ہتھیاروں اور رائفلز پر پابندی عاید کر دی۔ اس موقعے پر وزیرِ اعظم جیسنڈا آرڈرن کا کہنا تھا کہ مُلک میں فوجی ساختہ نیم خود کار اسلحے کی دست یابی نیوزی لینڈ کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ اس حوالے سے قانون سازی 11اپریل تک وضع کر دی جائے گی۔ ممنوعہ اسلحے کی واپسی کے ضمن میں نئی اسکیم بھی متعارف کروائی جائے گی اور ایسے اقدامات کیے جائیں گے کہ جن سے پابندی عاید ہونے سے پہلے اسلحے کی خریداری کی روک تھام کی جا سکے۔ بندوقوں کو نیم خود کار ہتھیاروں میں تبدیل کرنے والے پارٹس اور بہت زیادہ گنجایش رکھنے والے میگزینز پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ پولیس کا مؤقف تھا کہ حملہ آور نے فوجی طرز کا اسلحہ استعمال کیا، جس میں بعض ترامیم کرکے اسے مزید مُہلک بنایا گیا اور مروّجہ قوانین کی رُو سے یہ عمل غیر قانونی نہیں تھا۔ یاد رہے کہ نیوزی لینڈ میں بالخصوص دیہی علاقوں میں قانونی مقاصد کے لیے آتشیں ہتھیار رکھنے اور استعمال کرنے کی اجازت ہے۔

سوشل میڈیا پر لائیو اسٹریمنگ پر پابندی کامطالبہ

دہشت گرد اپنے سَر پہ لگے کیمرے کی مدد سے کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں نمازیوں پر خود کار ہتھیار سے گولیوں کی بوچھاڑ کو فیس بُک پر براہِ راست نشر کرتا رہا۔ فائرنگ کی زد میں آنے والے مسلمانوں کا تعلق اُردن، مصر، پاکستان، بنگلا دیش، انڈونیشیا، متّحدہ عرب امارات، افغانستان، شام، کویت اور بھارت سے تھا۔ پُر تشدّد واقعے کی ویڈیو وائرل ہونے اور 50نمازیوں کی شہادت پر دُنیا بَھر میں غم و غُصّے کی لہر دوڑ گئی۔ اس موقعے پر نیوزی لینڈ کی وزیرِ اعظم نے سوشل میڈیا صارفین سے سانحے کی لائیو اسٹریمنگ شیئر نہ کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم یہ سب خاموشی سے ہرگز قبول نہیں کریں گے۔ مواد شایع کرنے والے محض پوسٹ مین نہیں۔ وہ احساسِ ذمّے داری کے بغیر ہر قسم کے منافعے کے حق دار نہیں ہو سکتے۔‘‘ دوسری جانب آسٹریلوی وزیرِ اعظم، اسکاٹ موریسن نے بھی حملے کی لائیو اسٹریمنگ کو بروقت نہ روکنے پر فیس بُک سمیت دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو تنقید کا نشانہ بنایا اور دُنیا بَھر میں پُر تشدّد واقعات کی لائیو اسٹریمنگ پر پابندی عاید کرنے کی اپیل کی۔ نیز، انہوں نے جی 20تنظیم کے سربراہ اور جاپان کے وزیرِ اعظم، شینزو ایبے سے اس معاملے کو تنظیم کے آیندہ اجلاس میں اُٹھانے کی درخواست بھی کی۔ اس واقعے کے بعد نیوزی لینڈ کے کئی بینکس اور کمپنیز نے فیس بُک سے اپنے اشتہارات ہٹا لیے اور فرانس میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے خلاف مقدّمہ درج کیا گیا۔

مغربی ممالک میں مسلمانوں پر حملوں کے واقعات

گزشتہ چند برسوں میں اسلامو فوبیا بڑھنے کی وجہ سے غیر مسلم ممالک بالخصوص مغرب میں مسلمانوں پر حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا، جن میں سے چند واقعات ذیل میں پیش کیے جا رہے ہیں:

اگست 2016ء :امریکی شہر، نیو یارک کے علاقے، کوئنز کی ایک مصروف شاہ راہ پر ایک امامِ مسجد اور اُن کے ایک ساتھی کو قتل کیا گیا۔ پولیس نے نفرت انگیزی کو واقعے کا سبب قرار دیا اور حملہ آور کو گرفتار کر کے اس کے خلاف قتل کا مقدّمہ درج کیا گیا۔

دسمبر 2016ء :ایک 30سالہ فرد نے سوئس شہر، زیورخ کی ایک مسجد میں فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 3شہری زخمی ہوئے۔ گرچہ حملہ آور جائے وقوع سے فرار ہونے میں کام یاب ہو گیا، تاہم مسجد سے کچھ ہی دُور واقع ایک نہر کے قریب سے اس کی لاش ملی۔

جنوری 2017ء :کینیڈا کے شہر، کیوبک کی ایک مسجد پر ایک مسلّح شخص کی فائرنگ سے 6نمازی شہید اور درجنوں افراد زخمی ہوئے۔ اس وقت حملہ آور عُمر قید کی سزا بُھگت رہا ہے۔

مئی 2017 ء : امریکی ریاست اوریگن میں دو افراد کو اُس وقت ہلاک کر دیا گیا کہ جب انہوں نے ٹرین میں بیٹھی بہ ظاہر مسلمان دکھائی دینے والی دو خواتین کے ساتھ بد تمیزی کرنے والے ایک شخص کو روکنے کی کوشش کی۔ مسلمانوں کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والے 35سالہ حملہ آور نے چاقو سے3مسافروں کو نشانہ بنایا، جن میں سے دو ہلاک اور ایک شدید زخمی ہوا۔

جون 2017 ء : برطانوی دارالحکومت، لندن میں ایک 48سالہ شخص نے نمازِ عشاء کی ادائیگی کے بعد مسجد سے باہر نکلنے والے نمازیوں پر اپنی گاڑی چڑھا دی۔ اس واقعے میں ایک 51سالہ مسلمان جاں بحق، جب کہ 9زخمی ہوئے اور ڈرائیور کو دہشت گردی کے جُرم میں 43سال قید کی سزا سُنائی گئی۔

اگست 2017ء :اسپین کے مختلف شہروں میں مسلمان مخالف کارروائیاں دیکھنے میں آئیں۔ مسلمانوں شہریوں کو تشدّد کا نشانہ بنایا اور ہراساں کیا گیا۔ مساجد پر آتش گیر مواد پھینکا گیا اور میٹرو بس میں ایک مسلمان خاتون کو زخمی کیا گیا۔

رواداری، وسعتِ قلبی میں پیغمبرِ اسلامﷺ کا کوئی ثانی نہیں

اسلام شرفِ انسانیت کا علم بردار دِین ہے۔ اسلام کا کوئی ایسا اصول یا ضابطہ نہیں، جو شرفِ انسانیت کے منافی ہو۔ اسلامی ریاست میں دیگر طبقاتِ معاشرہ کی طرح اقلیتوں کو بھی ان تمام حقوق کا مستحق قرار دیا گیا ہے، جن کا ایک مثالی معاشرے میں تصوّر کیا جا سکتا ہے۔ اسلام نے محض مذہبی رواداری کی تلقین ہی نہیں کی، بلکہ اسے اسلامی ممالک کے دستور کے جزوِ لاینفک کے طور پر متشکّل بھی کر دیا۔ اسلام نے تمام مفتوحہ اقوام اور غیر مسلم اقلیتوں کے ساتھ مذہبی رواداری کے علاوہ انہیں مذہبی آزادی کی ضمانت فراہم کی اور ان کے جان و مال، عزّت و آبرو اور عقیدہ و مذہب کا جس قدر تحفّظ کیا ، تاریخِ عالم اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ سورۃ البقرہ کی آیت ہے کہ’’دِین میں کوئی زبردستی نہیں، حقیقت گُم راہی سے الگ ہو چُکی ہے۔‘‘ اسلام مذہب پر عمل درآمد کے معاملے میں افراد کو پوری آزادی دیتا ہے۔ اسلامی تعلیمات، احترامِ آدمیت و احترامِ مذاہب پر مبنی ہیں۔ قرآنِ حکیم میں ایک مقام پر صراحت کے ساتھ یہ بیان فرما دیا گیا کہ ’’( اے مسلمانو) تم ان کے ان معبودوں کو بُرا بَھلا مت کہو، جن کو وہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں۔‘‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام میں کسی دوسرے مذہب کو بُرا بَھلا کہنا یا طعن و تشنیع کا نشانہ بنانا قطعاً ممنوع ہے۔ یہ ایک عیاں حقیقت ہے کہ اسلام کی رحمت و شفقت کا دائرہ کسی خاص طبقے اور کسی خاص قوم و ملّت تک محدود نہیں، بلکہ بِلا تفریقِ مذہب و ملّت پورے عالمِ انسانیت تک وسیع ہے۔ اسلام نے ساری مخلوق کواللہ کا کُنبہ قراردیا ہے اور اس کے ساتھ نیکی و بھلائی کا حُکم دیا ہے۔ رسول اللہﷺ کا ارشادِ گرامی ہے کہ’’ساری مخلوق اللہ کا کُنبہ ہے اور اس کے نزدیک سب سے پسندیدہ وہ ہے، جو اس کے کُنبے کے ساتھ نیکی کرے۔ ‘‘(طبرانی) دینِ اسلام نے بِلا تفریق تمام انسانوں کو انسانیت کے رشتے سے بھائی مانا ہے اور اُنہیں بھائیوں کی طرح اتحاد و اتفاق کے ساتھ رہنے کی تلقین کی ہے۔ اس حوالے سے محسنِ انسانیت، حضرت محمد ﷺکا ارشادِ گرامی ہے کہ ’’ایک دوسرے سے تعلقات منقطع نہ کرو، ایک دوسرے سے منہ نہ پھیرو، ایک دوسرے سے کینہ نہ رکھو اور ایک دوسرے سے حسد نہ کرو اور اللہ کے بندو، بھائی بھائی بن جائو۔ ہر انسان کو دوسرے انسان کے ساتھ رحم و کرم کی تعلیم دی گئی ہے، جو انسان دوسرے پر رحم نہیں کرتا، وہ رحمتِ خداوندی کا مستحق نہیں ہے۔‘‘ (ترمذی) پیغمبرِ اسلام ﷺ نے غیر مسلموں کے ساتھ ربط و ضبط میں رواداری، وسعتِ قلبی، بلند ہمّتی، عالی حوصلگی اور مساوات کا جو عملی نمونہ پیش کیا ہے، دُنیا میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ’’خبردار، جس کسی نے کسی معاہد (غیر مسلم/اقلیتی فرد) پر ظلم کیا، یا اس کا حق مارا، یا اس کو اس کی استطاعت سے زیادہ تکلیف دی، یا اس سے کوئی چیز اس کی خوشی کے بغیر لی، تو مَیں روزِ قیامت اس کی طرف سے (مسلمان کے خلاف) جھگڑوں گا۔‘‘ (ابودائود/السنن) ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ ﷺ کے سامنے سے ایک جنازہ گزرنے لگا، تو آپﷺ اس کے لیے کھڑے ہو گئے۔ عرض کیا گیا، یا رسول اللہ ﷺ،یہ یہودی کا جنازہ ہے؟ فرمایا: ’’کیا وہ انسان نہیں ہے؟ (صحیح مسلم، کتاب الجنائز) حضور اکرم ﷺنے غیر مسلموں سے حُسنِ سلوک، رواداری کا مظاہرہ اور ان کے حقوق کا تحفّظ صرف عام حالات ہی میں نہیں کیا، بلکہ جنگ کی حالت میں بھی اس کا عملی نمونہ پیش کرکے دکھایا۔ جنگِ بدر کے موقعے پر مسلمانوں نے پانی کے چشمے پر حوض بنا کر وہاں پڑاؤ ڈال لیا، تو جب دشمن پانی لینے آیا، تو آپﷺ نے فرمایا کہ انہیں پانی لے لینے دو۔ (السیر النبوی لابن ہشام) میثاقِ مدینہ، صلحِ حدیبیہ، فتحِ مکّہ اور معاہدۂ نجران سیرتِ طیبہ ﷺکے وہ تاریخی شاہ کار ہیں، جن سے رسولِ اکرم ﷺ کی مذہبی اعتدال پسندی، تحمل و برداشت، بُردباری اور رواداری کا پتا چلتا ہے اور یہ انسان دوستی، برداشت و رواداری، احترامِ انسانیت، پُر امن بقائے باہمی، غیر جانب داری اور امن و سلامتی کا پیغام دیتے نظر آتے ہیں۔ تاہم، نیوزی لینڈ کی وزیرِ اعظم اور وہاں کے غیر مسلموں کا رویّہ دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ جس اعلیٰ اخلاق کا درس اسلام نے ہمیں دیا، اس پر عمل وہاں ہو رہا ہے۔

وہ ادائے دلبری ہو کہ نوائے عاشقانہ…

آج دُنیا بَھر میں اسلحے کے سوداگر اپنا کاروبار چمکا رہے ہیں اور ان کے لیے انسانی جان اور انسانیت کی فلاح و بہبود کی کوئی اہمیت نہیں۔ پھر آج تک دُنیا کی قد آور شخصیات اور ممتاز سیاسی رہنماؤں نے بھی دہشت گردی اور نفرت انگیزی کےخاتمے کے لیے کوئی سنجیدہ اقدامات نہیں کیے۔ پوری دُنیا میں اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ۔ اگر مسلمان عسکریّت پسندوں کو دہشت گردی کے واقعات کا ذمّے دار ٹھہرا کر اُن کی مذمّت کی جاتی رہی، تو ایک سفید فام نسل پرست کی کرائسٹ چرچ میں دہشت گردی کی بھی عالمی سطح پر اتنی ہی شدّت سے مذمّت کی گئی۔ یاد رہے کہ انسان عبادت گاہوں ہی میں خود کو سب سے زیادہ محفوظ تصوّر کرتے ہیں اور گرد و پیش سے بیگانہ ہو کر اپنے معبود کے عبادت میں گُم ہو جاتے ہیں، لہٰذا وہ کسی بھی دہشت گرد کا آسان ترین ہدف ہوتے ہیں۔ کرائسٹ چرچ کی مساجد میں دہشت گردی کا نشانہ بننے والے افراد بھی عبادت میں منہمک تھے، جب کہ دوسری جانب دہشت گرد نے بیش قیمت جانوں کو اپنی جنون کی بھینٹ چڑھا کر اور اس خون کی ہولی کو سوشل میڈیا پر براہِ راست نشر کر کے سَستی شُہرت حاصل کرنے کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی تھی، لیکن وہ تقدیر کا یہ اَمر فراموش کر گیا کہ اُس کا یہ قبیح فعل انسانوں کو تقسیم کرنے کی بہ جائے ایک دوسرے کے قریب بھی لا سکتا ہے۔ کیوی وزیرِ اعظم، جیسنڈا آرڈرن حقیقی معنوں میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کا سدِباب چاہتی ہیں۔ ’’گن لابنگ‘‘ کرنے والوں سے نمٹنے اور فوجی نوعیت کے نیم خود کار ہتھیاروں پر پابندی لگانے کے علاوہ انہوں نے دُنیا کو یہ پیغام بھی دیا کہ وہ کثیر الثّقافتی اور کثیرالمذہبی معاشرے کو خوش حال اور پَھلتا پُھولتا دیکھنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات پر عمل درآمد کر کے دکھائیں گی۔ جیسنڈا نے سانحۂ کرائسٹ چرچ کی تحقیقات کے لیے رائل کمیشن بنانے کا اعلان کیا۔ انہوں نے امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ سے کہا کہ اُن کے لیے ثقافتی تنوّع سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے اور وہ مسلمانوں سے ہم دردی اور محبّت کو ہمیشہ مقدّم رکھیں گی۔ کیوی وزیرِ اعظم کے اس انسان دوست رویّے پر دُنیا انہیں ’’امن کی سفیر‘‘ قرار دے رہی ہے اور انہیں نوبیل امن انعام کے لیے نام زد کرنے کی خاطر دو قرار دادوں پر دست خطی مُہم کا آغاز ہو چُکا ہے۔ ان میں سے ایک قرارداد change.org اور دوسری ایک فرانسیسی ویب سائٹ،awaz.orgکی جانب سےلانچ کی گئی ہے، جب کہ دُبئی میں برج الخلیفہ کو ان کی ایک باحجاب مسلمان خاتون سے گلے ملتے وقت کی تصویر سے روشن کیا گیا۔اسی طرح یو اے ای کے وزیرِ اعظم، شیخ محمد نے مخلصانہ ہم دردی اور حمایت پر جیسنڈا آرڈرن کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انہوں نے دُنیا کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے دل جیت لیے۔ ممتاز امریکی اخبار، نیو یارک ٹائمز نے اپنے اداریے میں ان کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ ’’ دُنیا کو آرڈرن جیسی اچّھی رہنما سے سیکھنا چاہیے۔ انہوں نے خوف کا جواب دیا ، گن کنٹرول کے مسئلے کو سنبھالا، اپنے حلقۂ انتخاب کو سُنا اور افسوس کا اظہار کیا۔‘‘ پاکستانی وزیرِ اعظم، عمران خان نے اپنی کیوی ہم منصب سے گفتگو میں کہا کہ وہ نیوزی لینڈ کی انتظامیہ کی جانب سے مسلمانوں کو دی جانے والی عزّت اور احترام کو دل سے سراہتے ہیں۔ مذکورہ رہنمائوں کے علاوہ دیگر قائدین اور عالمی ذرایع ابلاغ نے بھی مسلمانوں کے ساتھ جیسنڈا کے حُسنِ سلوک کو خُوب صُورت الفاظ میں سراہا، جب کہ مسلمان سوشل میڈیا صارفین نے کیوی وزیرِ اعظم اور عوام کے کردار کی کچھ یوں مدح سرائی کی کہ ’’ہم نیوزی لینڈ کی وزیرِ اعظم، حکومت اور عوام کے جذبے کی قدر اور تحسین کرتے ہیں۔ ان کا طرزِ عمل پوری دُنیا کے لیے روشن مثال ہے۔ یہ رویّہ اپنا کر ہی دُنیا سے نفرتیں مٹائی جا سکتی ہیں اور امن کا خواب شرمندۂ تعبیر ہوسکتا ہے۔ تاریخ میں ان کا نام سُنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ بہ حیثیتِ مسلمان ہمیں بھی اپنے رویّوں، جذبات اور احساسات میں مثبت تبدیلی لانا ہو گی۔‘‘ جیسنڈا کے حُسنِ اخلاق سے متاثر ہو ایک مسلمان نوجوان نے اُن سے ملاقات میں کہا کہ ’’ میری دُعا ہے کہ ایک روز آپ بھی مسلمان ہو جائیں۔ مَیں تین دن سے مسلسل رو رہا ہوں۔ آپ ایک بے مثال شخصیت کی مالک خاتون ہیں۔ میری خواہش ہے کہ دُنیا کے تمام لیڈرز آپ جیسے ہوجائیں۔‘‘ دوسری جانب انسانیت کے دشمنوں نے جیسنڈا آرڈرن کو ٹویٹر پر بندوق کی تصویر بھیجی، جس کے ساتھ یہ جملہ بھی درج تھا کہ ’’اگلی باری آپ کی ہے ۔‘‘ پولیس نے اس واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں ، جب کہ ٹویٹر انتظامیہ نے دھمکی آمیز پیغام بھیجنے والے فرد کا اکائونٹ معطّل کر دیا ہے۔ جگر مراد آبادی نے ٹھیک ہی کہاہے کہ؎وہ ادائے دلبری ہو کہ نوائے عاشقانہ …جو دلوں کو فتح کر لے، وہی فاتحِ زمانہ۔ 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں