آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 20؍رمضان المبارک 1440ھ26؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی میں دارالصحت اسپتال کے عملے کی مجرمانہ غفلت کا نشانہ بننے والی 9 ماہ کی نشوا کو سپرد خاک کردیا گیا۔

نشوا کو اسپتال کے ملازم نے غلط انجکشن لگایا جس سے اُس کا 71 فیصد دماغ مفلوج ہوگیا تھا، حالت تشویش ناک ہونے پر اُسے دوسرے اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

نشوا کے والد کا کہنا تھا کہ نشوا کو دستوں کی شکایت پر گلستان جوہر کے دارالصحت اسپتال لایا گیا تھا، 7 اپریل کو اسپتال کے ملازم نے صرف ایک منٹ کے اندر، نشوا کو ایک ایسا انجکشن لگایا جو انسانی جسم میں ڈرپ کے ذریعے 24 گھنٹے میں لگایا جاتا ہے۔

والد کا کہنا تھا کہ انجکشن کے نتیجے میں نشوا کے ہاتھ پاؤں ٹیڑھے اور ہونٹ نیلے ہونے لگے، سانسیں اُکھڑنے لگیں اور دماغ کا 71 فیصد حصہ مفلوج ہوگیا، اُسے تشویشناک حالت میں یونیورسٹی روڈ پر واقع نجی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں 16 روز تک انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں اُسے موت سے زندگی کی طرف لانے کی سرتوڑ کوششیں کی گئیں تاہم وہ زندگی کی بازی ہار گئی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ کراچی کے نجی کلینکس میں جعلی ڈاکٹروں کی بھرمار ہے، آپریشن تھیٹر میں سرجن کے بجائے او ٹی ٹیکنیشنز آپریشن کررہے ہیں، جھاڑو دینے اور چادریں بدلنے والے نرسنگ اسٹاف کا کام کررہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ نجی کلینکس میں غلط انجکشنز لگائے اور غلط دوائیں دی جارہی ہیں، شہری پیروں پر چل کر اسپتالوں میں آرہے ہیں اور بھاری فیسوں کے باوجود لاشوں کی صورت واپس جارہے ہیں، یہ روز کا معمول ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں