آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات19؍محرم الحرام 1441ھ 19؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سعودیہ میں قیددوہزارمیں صرف 200 پاکستانیوں کو رہائی ملی،فرحت اللہ بابر

اسلام آباد (عاصم یاسین، آئی این پی )پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے سیکریٹری جنرل سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا ہےکہ سعودی عرب میں قید 2000پاکستانیوں میں سے صرف 200 کو رہائی دی گئی ہے جبکہ سعودی ولی عہد نے اپنے حالیہ دورہ پاکستان کے موقع پر وعدہ کیا تھا کہ سعودی عرب میں قید تمام پاکستانیوں کو رہا کیا جائے گا۔ اسلام آباد کے ایک مقامی ہوٹل میں جسٹس پروجیکٹ پاکستان کی رپورٹ کے اجراءکے موقع پر تقریر میں سابق سینیٹر نے وزیراعظم سے کہا کہ سعودی ولی عہد سے باقی پاکستانیوں کی رہائی کے لئے بھی کہیں جنہیں انہوں نے خود سعودی عرب میں پاکستانیوں کا سفیر قرار دیا تھا۔ سینیٹر بابر نے کہا کہ پاکستانیوں کو مختلف اسامیوںپر بھرتیوں میں بے تہاشہ بے قائدگیاں ہیں جس میں انسانی اسمگلنگ سے لے کر مزدوروں سے منشیات کا کام کرانے تک بے قاعدگیاں شامل ہیں جنہیں ٹھیک کرنے کی کسی بھی حکومت نے کوشش نہیں کی۔ قانون اس بات پر پابندی لگاتا ہے کہ کوئی بھی بھرتی کرنے والی ایجنسی استحصال نہ کرے لیکن یہ بے اصول عناصر مستقل یہ کام کر رہے ہیں۔ پارلیمنٹ تو صرف قانون بنا سکتی ہے لیکن اس کے بعد ان پر عملدرآمد کرانے کا کوئی اختیار نہیں۔ پارلیمنٹ نے 2013ءمیں قانون بنایا تھا کہ کالعدم تنظیمیں نئے ناموں سے کام نہیں کر سکتیں لیکن اس کے

باوجود یہ تنظیمیں بلا روک ٹوک نئے ناموں سے کام کرتی رہیں۔ پاکستان سے باہر جا کر کام کرنے والے مزدورں کا مکمل ڈیٹا تیار کیا جائے اور ان ممالک سے قونصلر کی سطح پر تحفظ کی پالیسی کے معاہدے کئے جائیں اور اس کے علاوہ قیدیوں کی منتقلی اور جاں بحق ہونے والے مزدوروں کی لاشوں کو پاکستان واپس لانے کا بھی معاہدہ کیا جائے۔ چونکہ اہل اور پیشہ ور مترجم میسر نہیں ہے اس لئے سعودی عرب کی عدالتوں سے یہ مزدور جیلوں میں چلے جاتے ہیں۔ انہوں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ غیرممالک میں کام کرنے والے مزدوروں کے حقوق اور ان کے اہل خاندان کے حقوق کے بین الاقوامی کونشن کی توثیق کی جائے۔

اہم خبریں سے مزید