شروع شروع میں تو یہ ایک انتخابی مہم تھی لیکن جوں جوں آگے بڑھتی گئی تو ایک تحریک کی شکل اختیار کرگئی۔ اور اس تحریک کو خوبصورت ایمان افروز اور جذبوں کو توانا کرنے والا نام دیا گیا تھا۔ یہ نام تھا ’’تحریک نظام مصطفی‘‘، اس نام کا ایک پس منظر تھا۔ یہ نام مولانا نورانی اپنی پوری سیاسی جدوجہد میں ہمیشہ وضاحت سے بیان کرتے رہے۔ 1974ء کی تحریک تحفظ ختم نبوت کامیاب ہوئی اور قومی اسمبلی نے 1973ء کے آئین میں ترمیم کرکے قادیانیوں اور لاہوری گروپ کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا تو مولانا نورانی نے قوم کو پیغام دیا کہ مقام مصطفیٰ کے تحفظ میں کامیابی کے بعد اب ہم ’’نظام مصطفیٰ‘‘ کے نفاذ کے لئے عملی جدوجہد کریں گے۔ 1977ء کے الیکشن کی مہم دیکھتے ہی دیکھتے تحریک نظام مصطفیٰ میں ڈھل گئی اور اس انتخابی مہم میں حکومت بھی اسلام کے نفاذ کے حوالے سے ہی رائےعامہ کو اپنے حق میں ہموار کرنے لگی۔ ذوالفقار علی بھٹو اسلامی امہ کے اتحاد کے سلسلے میں اپنی خدمات بیان کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اسلامی سربراہ کانفرنس بلوائی، قوم کو ایک متفقہ اسلامی دستور دیا اور وہ بار بار کہتے کہ ہم مساوات محمدی پر یقین رکھتے ہیں۔ اسلام ہمارا دین ہے پاکستان قومی اتحاد کے لیڈر بھٹو صاحب اور ان کے بعض وزرا کی شخصی خامیوں تنقید کرتے۔ مولانا نورانی کہتے کہ ہمیں حقیقی اسلام چاہئے جس پر سبز گنبد کے مکین آقائے دوجہاں محمد مصطفیٰﷺ کی چھاپ لگی ہو۔ جوں جوں الیکشن کے دن قریب آتے گئے اس تحریک میں جان پڑتی گئی۔ اس میں اب مذہبی جوش خروش تھا اور ملک کے تمام مسالک کے علماء مشائخ اور عوام کو اس طرح متحد شاہد پھر نہیں دیکھا گیا۔ بھٹو صاحب نے بھی بھرپور مہم چلائی ہوئی تھی۔ ان کےبعض وزراء مثلاً کوثر نیازی اور عبدالحفیظ پیرزادہ بھی متحرک تھے لیکن یہ بھٹو صاحب ہی تھے جو مسلسل دورے کر رہے تھے۔ لاہور سے ملتان وہ براستہ سڑک آئے، ان کی کار جگہ جگہ رکتی رہی اور لوگوں کے ہجوم سے وہ خطاب کرتے آئے۔ بھٹو صاحب عوامی مزاج کو خوب سمجھتے تھے اور وہ عوام سے براہ راست رابطے کو پسند کرتے تھے لیکن وہ چونکہ وزیر اعظم تھے اس کے سیکورٹی کے حوالے سے غیر معمولی انتظامات کرنے پڑتے تھے۔ پھر بھی وہ موقع تلاش کرکے عوام میں گھل مل جاتے تھے۔ رائو رشید آئی جی پنجاب وہ اس انتخابی مہم کے دورے میں بھٹو صاحب کے ساتھ ساتھ تھے۔ اوکاڑہ اور ساہیوال کے درمیان ملیں اور فیکٹریا ہیں۔ یہاں مزدورں کا جھمگھٹا تھا وہ اپنے اپنے کام پر آرہے تھے۔ بھٹو صاحب نے آئی جی پنجاب سے کہا کہ میں یہاں رکوں گا۔ رائو رشید نے کہا آپ کا اترنا مناسب نہیں۔ خطرے کا امکان ہے لیکن انہوں نے کہا میں نے ضرور لوگوں سے ملاقات کرنا ہے۔ رائو رشید کے پوچھنے پر بھٹو صاحب نے یہ بتایا کہ وہ کس جگہ رکھیں گے۔ ایک جگہ بھٹو صاحب نے دیکھا کہ ایک تندور پر مزدوروں کا رش ہے۔ تندور والا گرم گرم روٹیاں لگا رہا ہے اور لوگ اس کے تندور کے اردگرد بیٹھ کر دال کے ساتھ روٹیاں کھا رہے ہیں۔ بھٹو صاحب نے اپنی گاڑی رکوائی اور تندور کی طرف چل پڑے۔ ان کے جانے سے پہلے پہلے سادہ کپڑوں میں پولیس کے اہلکاروں نے تندور کے اردگرد قبضہ کرلیا بھٹو صاحب عوامی شلوار قمیض پہنے تھے تندور والے کے پاس جاکر بیٹھ گئے اور کہا کہ میں بھی ان مزدوروں کے ساتھ دال روٹی کھائوں گا۔ اب کیا تھا، مزدوروں نے اپنے درمیان ملک کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو دیکھا تو خوشی سے دیوانے ہوگئے اور نعرے لگانے لگے۔ دیکھتے ہی دیکھتے اردگرد کی فیکٹریوں سے مزدوروں کے قافلے ادھر بھاگتے ہوئے آنے لگے۔ پولیس کے ہوش اڑ گئے لیکن بھٹو صاحب نے چند لقمے لئے اور مزدوروں سے ہاتھ ملا کر گاڑی میں بیٹھ کر چلے گئے لیکن سارا دن اس جگہ یہی چرچا رہا کہ بھٹو صاحب ہمارے درمیان تھے اور ہمارے ساتھ زمین پر بیٹھ کر انہوں نے تندور کی روٹی اور دال کھائی تھی۔ بھٹو صاحب کی عوامی رابطہ مہم کا انداز، ملتان میں ایک رات کو دیر گئے وہ حرم گیٹ کے باہر ایک پان والے کے کھوکھے پر جا پہنچے اور اس کو کہا کہ مجھے یاد ہے کہ جب میں ایوب خان کے خلاف تحریک چلا رہا تھا اور کوئی مجھے جلسہ کرنے نہیں دیتا تھا تو تم نے اپنے کھوکھے کا بنچ مجھے دیا تھا اور یہاں کھڑے ہو کر میں نے تقریر کی تھی۔ کھوکھے والے کے ساتھ چند منٹ بیٹھ کر اور وہاں سے پان چبا کر بھٹو صاحب تو چلے گئے لیکن ملتان میں بھٹو صاحب کی غریبوں سے ہمدردی اور عوام سے رابطے کی شہرت ہوگئی لیکن بھٹو صاحب سے ایک بہت بڑی غلطی یہ ہوئی کہ انہوں نے لاڑکانہ کی نشست سے اپنے آپ کو بلا مقابلہ کامیاب کرالیا۔ وہاں ان کے ہارنے کا کوئی امکان نہیں تھا۔ ان کے مقابلے میں جماعت اسلامی کے مولانا جان محمد عباسی تھے۔ انہیں اغوا کرلیا گیا۔ جب تک کاغذات نامزدگی داخل کرانے کی تاریخیں تھیں وہ بازیاب نہیں ہوئے اس طرح اخبارات میں اعلان چھپ گئے کہ قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو صاحب بلامقابلہ کامیاب ہوگئے۔ یہ ایک نفسیاتی حربہ تھا لیکن عوام پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوئے بھٹو صاحب کی دیکھا دیکھی ان کے وزرائے اعلیٰ نے بھی اپنے آپ کو بلامقابلہ کامیاب کرالیا۔ لوگوں میں دن بدن یا تاثر بڑھ رہا تھا کہ یہ انتخابات آزادانہ اور منصفانہ نہیں ہوں گے۔ پاکستان قومی اتحاد کی مہم مولانا مفتی محمود، مولانا شاہ احمد نورانی، نوابزادہ نصراللہ خان اور بیگم نسیم والی خان، مشترکہ طور پر چلا رہے تھے۔ لیکن ایئرمارشل اصغر خان کے اجتماعات عموماً علیحدہ ہوتے تھے۔ وہ اپنی مقبولیت کے عروج پر تھے۔ انتخابی مہم کے دوران وہ کراچی گئے تو ایئرپورٹ پر ایک بڑا ہجوم ان کا منتظر تھا ان کے شہر کے مرکزی علاقے تک جاتے جاتے لاکھوں کا ہجوم ان کے اردگرد تھا۔ ہر طرف انسان ہی انسان نظر آتے تھے۔ لیکن اخبارات کو ہدایات دی جاتی تھیں کہ ایئرمارشل اصغر خان کی خبروں کو نمایاں شائع نہ کیا جائے۔ لوگ صورتحال اور صحیح خبروں کے لئے بی بی سی اور اردو سروس سنتے تھے جلال پور پیروالا شہر سے پیپلز پارٹی کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل اور وفاقی وزیر مواصلات سید ناصر علی رضوی انتخابات میں حصہ لے رہے تھے ان کا تعلق کہروڑ پکاسے تھا لیکن وہ پارٹی کی ہدایات پر یہ الیکشن جلال پور سے لڑ رہے تھے۔ ان دنوں عرس کے اجتماعات میں پیپلز پارٹی اور قومی اتحاد کے لیڈر اور امیدوار شریک ہوتے تھے اور دعا کی درخواست کرتے تھے۔ بڑے بھائی صاحب دعا کرتے کہ اللہ تعالیٰ اسلام کو کامیابی عطا فرمائے۔ وفاقی وزیر سید ناصر علی رضوی نے پیغام بھجوایا کہ وہ ملنا چاہتے ہیں۔ یہ پیغام ہمارے والد صاحب کے ایک مرید خان غلام محمد خان لیکر آئے میں وزیر صاحب کو ملنے چلا گیا وہ دیوان سید غلام عباس بخاری کےبنگلے پر ٹھہرے ہوئے تھے۔ میں اس وقت کالج میں پڑھتا تھا۔ میری عمر بیس سال تھی، انہوں نے محبت سے ملاقات کی اور خواہش ظاہر کی وہ سجادہ نشین صاحب سے ملنا چاہتے ہیں۔ میں نے گھر آکر بھائی جان صاحبزادہ میاں فتح محمد قادری سے وزیر صاحب کی خواہش کا ذکر کیا تو انہوں نے اجازت دے دی۔ دوسرے دن وزیر صاحب جھنڈے والی سرکاری گاڑی میں اپنے کارکنوں کے ہجوم کے ساتھ آگئے حالانکہ ان سے طے ہوا تھا کہ وہ خاموشی سے آئیں گے اور چلے جائیں گے۔ بہرحال ہمیں دوسرے دن جلسہ عام میں اس کی وضاحت کرنا پڑی کہ ہم پیپلز پارٹی میں شامل نہیں ہوئے کیونکہ اخبارات میں شائع ہونے والی تصویروں سے غلط تاثر پھیل گیا تھااس جلسہ عام میں وضاحت کی ذمہ داری میری تھی میں نے ہی اس موضوع پر خطاب کیا۔