آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات 20؍ ذوالحجہ 1440ھ 22؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حضرت ایّوب علیہ السّلام، حضرت یعقوب علیہ السّلام کے بیٹے، عیص کی اولاد میں سے تھے۔ علّامہ ابنِ عساکرؒ کے مطابق، حضرت ایّوبؑ کی والدہ، حضرت لوط علیہ السّلام کی بیٹی تھیں، اس طرح آپؑ، حضرت لوطؑ کے نواسے ہوئے۔حضرت ایّوبؑ سے متعلق معلومات کے ذرائع قرآنِ کریم، تورات یا پھر وہ اقتباسات ہیں، جو عرب مؤرخین نے قدیم تاریخ سے اخذ کر کے تحریر کیے۔حضرت ایّوبؑ سے متعلق سب سے قدیم شہادت تورات کے اُس صحیفے میں ملتی ہے، جو اُن کے نام سے منسوب ہے۔’’ صحیفہ سفرِ ایّوبؑ‘‘ تورات کا سب سے قدیم صحیفہ ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ’’ سرزمینِ عوض‘‘ کے رہنے والے تھے۔ نہایت سچّے، اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے، برائیوں سے دُور رہنے والے کامل انسان تھے۔ ہر وقت یادِ الٰہی میں مشغول اور اللہ تعالیٰ کا شُکر ادا کرتے رہتے۔ آپؑ نہایت امیرکبیر تھے۔ اللہ تعالیٰ نے مال و دولت، جائیداد، شان دار محلّات، نوکر چاکر اور کثیر اولاد سے نوازا۔ قرآنِ پاک میں آپؑ کا ذکر چار سورۂ مبارکہ میں آیا ہے۔ سورۃ النساء، سورۂ انعام، سورۃ الانبیاء اور سورۂ ص۔ سورۃ النساء اور سورۂ انعام میں دیگر انبیائے کرامؑ کے ساتھ، حضرت ایّوبؑ کا نام مذکور ہے، جب کہ سورۃ الانبیاء اور سورۂ ص میں آپؑ پر آنے والی سخت ترین آزمائشوں، مصائب و آلام اور اُن پر صبر و شُکر، پھر اللہ تعالیٰ کی جانب سے بہترین انعام کا ذکر ہے۔محقّقین نے لکھا کہ حضرت ایّوبؑ کا زمانہ، حضرت یعقوبؑ اور حضرت موسیٰ علیہ السّلام کے درمیان تھا، یعنی تقریباً 1300 اور 1500 قبلِ مسیح کے درمیان۔آپؑ کی اہلیہ کے نام پر مؤرخین میں اختلاف ہے۔ کسی نے اُن کا نام لیا بنتِ میشا ابنِ یوسفؑ لکھا ہے، تو کسی نے رحمت بنتِ افراہیم ابنِ یوسفؑ۔

بیٹے، بیٹیاں

حضرت ابن مسعودؓ نے فرمایا کہ حضرت ایوبؑ کے سات لڑکے اور سات لڑکیاں تھیں، جو سب آپؑ پر آنے والی آزمائش کے دنوں میں انتقال کر گئے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اُن کی آزمائش ختم کی، تو اُنہیں مزید اولاد عطا فرمائی۔ (تفسیر قرطبی)روایات کے مطابق، آپؑ کے ستائیس بیٹے اور بیٹیاں ہوئیں۔

سخت ترین آزمائش

علّامہ ابنِ کثیرؒ فرماتے ہیں کہ حضرت ایّوبؑ کو اللہ تعالیٰ نے بہت مال و دولت، زمین و جائیداد، مویشی، غلام اور اولاد عطا فرمائی تھی۔ پھر جب آپؑ کو آزمائش میں مبتلا کیا، تو یہ سب چیزیں واپس لے لیں۔ اُنھیں طرح طرح کی بیماریاں لاحق ہوگئیں اور کوئی عضو صحیح سالم باقی نہ رہا، سوائے دِل اور زبان کے۔ ان تمام مصیبتوں، مشکلات اور بیماریوں کے باوجود، آپؑ نہایت صابر و شاکر ثابت ہوئے۔ اللہ عزّ و جل سے ثواب کی آس لگائے بیٹھے رہتے اور دن و رات اُس کا ذکر کرتے رہتے۔ آپؑکے پورے جسم پر بڑے بڑے پھوڑے ہوگئے، جن میں کیڑے پڑ گئے تھے۔ کوئی ساتھ نہ بیٹھتا تھا، دوست احباب بھی وحشت کرتے تھے ،حتیٰ کہ آپؑ کو شہر سے باہر ایک کوڑے کرکٹ کے ڈھیر پر ڈال دیا گیا۔ لوگوں کا آپؑ سے ملنا جلنا بند ہوگیا اور کوئی بھی غم خوار نہ رہا، سوائے بیوی کے، جو اُن کا بے حد خیال رکھتیں اور اُن کی خدمت میں لگی رہتیں۔ سعدیؒ فرماتے ہیں کہ حضرت ایّوبؑ کا گوشت تک جسم سے جَھڑ چُکا تھا، صرف ہڈّیاں اور پٹّھے باقی رہ گئے تھے۔ بیوی باریک ریت لے کر آتیں اور اُن کے نیچے بچھاتیں تاکہ جسم کو تکلیف نہ ہو۔ پھر جب بیوی کو خدمت کرتے طویل زمانہ گزر گیا، تو ایک مرتبہ حضرت ایّوبؑ سے کہا’’ اگر آپؑ اپنے پروردگار سے دُعا کریں، تو وہ آپؑ کو ان مصائب سے رہائی عطا فرمائے گا‘‘، اس پر آپؑ نے حیرت انگیز جواب دیا کہ’’ مَیں ستّر سال تک صحیح سالم رہا، تو کم از کم اللہ کے لیے ستّر سال تو صبر کر لوں۔‘‘ یہ سُن کر بیوی خاموش ہوگئیں اور خدمت جاری رکھی۔حضرت مجاہدؒ سے مروی ہے کہ حضرت ایّوبؑ پہلے انسان ہیں، جنھیں چیچک اور دیگر جِلدی بیماریاں ہوئیں۔ ابنِ جریر اور ابنِ ابی حاتمؒ نے فرمایا کہ حضرت انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا’’لوگوں میں شدید ترین آزمائشیں انبیاء علیہم السّلام پر آئی ہیں‘‘ اور فرمایا کہ’’ آدمی آزمائش میں اپنے دین کے بہ قدر مبتلا ہوتا ہے، لہٰذا اگر وہ اپنے دین میں مضبوط ہوگا، تو اُس کی آزمائش بھی زیادہ ہوگی۔‘‘ (قصص الانبیاء۔ ابنِ کثیر)

بارگاہِ الٰہی میں دُعا

ابن ابی حاتمؒ فرماتے ہیں کہ عبید بن عمیر سے مروی ہے کہ حضرت ایّوبؑ کے دو بھائی تھے۔ ایک دن آپؑ سے ملنے آئے، تو بُو کی وجہ سے قریب نہ آ سکے اور دُور کھڑے ہوگئے۔ پھر ایک دُوسرے سے کہا کہ’’ اگر اللہ تعالیٰ، ایّوبؑ میں کوئی بھلائی یا خیر جانتا، تو اسے اس طرح تکلیف میں مبتلا نہ کرتا۔‘‘ اس بات سے حضرت ایّوبؑ اس قدر غم زدہ ہوئے کہ کبھی کسی بات سے اتنی تکلیف نہ ہوئی ہوگی۔ آپؑ نے فوراً بارگاہِ ربّ العزّت میں دُعا کے لیے ہاتھ بلند کیے۔ قرآنِ پاک میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ’’ جب اُنہوں نے اپنے پروردگار سے دُعا کی کہ’’ مجھے ایذا ہو رہی ہے اور تُو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے‘‘، تو ہم نے اُن کی دُعا قبول کرلی اور اُنہیں جو تکلیف تھی، وہ دُور کر دی اور اُن کو بال بچّے بھی عطا فرمائے اور اپنی مہربانی سے اُن کے ساتھ اتنے ہی اور (بخشے) اور عبادت کرنے والوں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ (سورۃ الانبیاء 83،84) قرآن کریم میں ایک اور جگہ ارشاد ہے’’ اور ہمارے بندے ایّوبؑ کو یاد کرو، جب اُنہوں نے اپنے ربّ کو پکارا کہ’’ (اے اللہ) شیطان نے مجھ کو ایذا اور تکلیف دے رکھی ہے۔‘‘ (ہم نے کہا کہ زمین پر) پاؤں مارو (دیکھو) یہ (چشمہ نکل آیا) نہانے کو ٹھنڈا اور پینے کو (شیریں)‘‘۔ (سورۂ ص، 41،42)

شیطان، طبیب کے بھیس میں

حضرت مفتی محمّد شفیعؒ نے سورۂ ص کی آیات 41 سے 44 تک کی تشریح کرتے ہوئے تحریر فرمایا ہے کہ’’جب اُنہوں نے اپنے رَبّ کو پکارا کہ شیطان نے مجھے رنج اور آزار پہنچایا ہے۔ اور یہ رنج و آزار بعض مفسّرین کے مطابق وہ ہے، جو امام احمدؒ نے’’ کتاب الزہد‘‘ میں ابنِ عبّاسؓ سے روایت کیا ہے کہ’’ حضرت ایّوبؑ کی بیماری کے زمانے میں ایک بار شیطان ایک طبیب کی شکل میں اُن کی بیوی کو ملا تھا۔ اُنہوں نے اُسے طبیب سمجھ کر علاج کی درخواست کی، توشیطان نے کہا’’ اس شرط پر کہ اگر اُن کو شفا ہو جائے، تو یوں کہہ دیں کہ’’ تُو نے شفا دی،‘‘ میں اور کچھ نذرانہ نہیں چاہتا۔‘‘ بیوی نے ایّوب علیہ السّلام سے ذکر کیا، تو اُنہوں نے فرمایا کہ’’ بھلی مانس ،وہ تو شیطان تھا۔ مَیں عہد کرتا ہوں کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھ کو شفا دے، تو مَیں تجھ کو سو قمچیاں ماروں گا۔‘‘ آپؑ کو سخت رنج پہنچا، اس سے کہ میری بیماری کی بہ دولت شیطان کا یہاں تک حوصلہ بڑھا کہ خاص میری بیوی سے ایسے کلمات کہلوانا چاہتا ہے، جو ظاہراً موجبِ شرک ہیں، گو تاویل سے شرک نہ ہوں۔ اگرچہ حضرت ایّوبؑ ازالۂ مرض کے لیے پہلے بھی دُعا کر چُکے تھے، مگر اس واقعے کے بعد اور زیادہ عاجزی اور تضرّع سے دُعا کی۔ ’’پس ہم نے اُن کی دُعا قبول کی اور حکم دیا کہ اپنا پائوں (زمین پر) مارو (چناں چہ) اُنہوں نے زمین پر پائوں مارا، تو وہاں سے ایک چشمہ پیدا ہوگیا۔’’ہم نے اُن سے کہا کہ ’’ یہ (تمہارے لیے) نہانے کا ٹھنڈا پانی ہے اور پینے کا ‘‘(یعنی اس سے غسل کرو اور پیو بھی، چناں چہ نہائے اور پانی پیا بھی اور بالکل اچھے ہوگئے) ’’اور ہم نے اُن کو اُن کا کنبہ عطا فرمایا اور اُن کے ساتھ (گنتی میں) اُن کے برابر اور بھی (دیے) اپنی رحمت خاص کے سبب سے اور اہلِ عقل کے لیے یادگار رہنے کے سبب سے (یعنی اہلِ عقل یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ صابرین کو کیسی جزا دیتے ہیں ۔‘‘ ایّوب علیہ السّلام نے اپنی قسم پوری کرنے کا ارادہ کیا، مگر چوں کہ بیوی نے اُن کی بہت خدمت کی تھی اور اُن سے کوئی گناہ بھی صادر نہیں ہوا تھا،اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے اُن کے لیے ایک تخفیف فرمائی اور (ارشاد فرمایا کہ اے ایّوبؑ)’’ تم اپنے ہاتھ میں ایک مُٹّھا سینکوں کا لو (جس میں سو،سو سینکیں ہوں) اور (اپنی بیوی کو) اس سے مار لو اور اپنی قسم نہ توڑو،‘‘ چناں چہ ایسا ہی ہوا۔ آگے ایّوب علیہ السّلام کی تعریف کی ہے کہ)’’ بے شک ہم نے اُن کو (بڑا) صابر پایا۔ اچھے بندے تھے کہ (اللہ کی طرف) بہت رجوع کرتے تھے۔‘‘ (معارف القرآن، ج 7 ص 520)بعض حضرات نے شیطان کے رنج و ایذا پہنچانے کی تفصیل یہ بیان کی ہے کہ حضرت ایّوب علیہ السّلام جس بیماری میں مبتلا ہوئے، وہ شیطان کے تسلّط کی وجہ سے آئی تھی اور ہوا یہ تھا کہ ایک مرتبہ فرشتوں نے حضرت ایّوبؑ کی بہت تعریف کی، جس پر شیطان کو سخت حسد ہوا اور اُس نے اللہ تعالیٰ سے دُعا کی کہ مجھے اُن کے جسم اور مال و اولاد پر ایسا تسلّط عطا فرما کہ جس سے میں اُن کے ساتھ جو چاہوں، سو کروں۔ اللہ تعالیٰ کو بھی حضرت ایّوبؑ کی آزمائش مقصود تھی، اس لیے شیطان کو یہ حق دے دیا گیا اور اس نے آپؑ کو اس بیماری میں مبتلا کر دیا۔ لیکن محقّق مفسّرین نے اس قصّے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ قرآنِ کریم کی تصریح کے مطابق، انبیاء علیہم السّلام پر شیطان کو تسلّط حاصل نہیں ہو سکتا۔ اس لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ اُس نے آپؑ کو بیمار کر دیا ہو۔ بعض حضرات نے شیطان کے رنج و آزار پہنچانے کی یہ تشریح کی ہے کہ بیماری کی حالت میں شیطان حضرت ایّوبؑ کے دِل میں طرح طرح کے وسوسے ڈالا کرتا تھا، جس سے آپؑ کو اور زیادہ تکلیف ہوتی تھی۔‘‘ (معارف القرآن۔ ج 7 ص 521)

دُعا کی قبولیت اور صبر کا انعام

حضرت ایوبؑ کی دُعا بارگاہِ الٰہی میں قبول کر لی گئی۔ اُنہوں نے اپنا پاؤں زمین پر مارا، جہاں سے ٹھنڈے اور شیریں پانی کا چشمہ پھوٹ پڑا۔پھر آپؑ نے اپنے کم زور اور لاغر جسم کو گویا اُس چشمے کے پانی پر ڈال دیا۔ جیسے جیسے جسم پر پانی پڑتا، جسم میں توانائی آتی جاتی۔ آپؑ دیر تک نہاتے رہے، یہاں تک کہ مکمل طور پر صحت مند ہوگئے۔ اُس وقت اُن کی اہلیہ وہاں موجود نہیں تھیں۔ ابنِ ابی حاتم نے فرمایا کہ حضرت ابنِ عبّاسؓ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ایّوبؑ کو جنّت کا جوڑا پہنا دیا تھا، پھر وہ ہَٹ کر ایک طرف بیٹھ گئے، تو اُن کی بیوی تشریف لائیں اور اُنہیں پہچان نہ سکیں۔ اُنھوں نے آپؑ ہی سے پوچھا ’’اے اللہ کے بندے !یہاں ایک آفت زدہ شخص ہوتا تھا، وہ کہاں گیا؟ شاید کہ اُسے کتّے لے گئے ہیں یا بھیڑیے؟‘‘ اور ایک گھڑی یوں ہی بات کی، پھر حضرت ایوبؑ نے فرمایا ’ مَیں ہی ایّوبؑ ہوں۔‘‘ اُنہوں نے عرض کیا ’’اے اللہ کے بندے! آپ مجھ سے مذاق کرتے ہیں؟‘‘ حضرت ایّوبؑ نے کہا’’ مَیں ہی ایّوبؑ ہوں، اللہ نے مجھے میرا جسم لَوٹا دیا ہے۔‘‘ مسندِ احمد میں حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا’’ حضرت ایّوبؑ غسل فرما رہے تھے کہ اُن پر سونے کی ٹڈیوں کا غول برسنا شروع ہوا، تو آپؑ اُن کو اپنے کپڑے میں سمیٹنے لگے، اس پر اللہ تعالیٰ نے پکارا’’ اے ایّوبؑ !کیا میں نے تجھ کو ان سے، جو تُو دیکھ رہا ہے، غنی نہیں کر دیا تھا؟‘‘ عرض کیا’’ کیوں نہیں میرے پروردگار، لیکن آپ کی برکت سے مجھے استغناء نہیں ہے۔‘‘ (قصص الانبیاء۔ ابنِ کثیر)

اِن اللہ مع الصابرِین

آزمائش و امتحان اور مصائب و آلام پر صبر و شُکر میں، حضرت ایّوبؑ ضرب المثل ہیں۔ اللہ ربّ العزّت نے آپؑ کو صبر و شُکر کا وہ مقام عطا فرمایا کہ رہتی دُنیا تک لوگوں کے لیے’’ صبرِ ایوبؑ‘‘ مشعلِ راہ بن گیا۔ اللہ تعالیٰ نے جوں جوں آپؑ کی آزمائشیں بڑھائیں، ویسے ویسے اُن کی عبادت و ریاضت بڑھتی چلی گئی، یہاں تک کہ صبح و شام کا ہر ہر لمحہ یادِ الٰہی میں صَرف ہوتا رہا۔ قرآنِ پاک میں مختلف مقامات پر مصائب و تکالیف میں صبر کرنے والوں کو بے شمار اَجر و ثواب کی نوید سُنائی گئی ہے۔٭ جن لوگوں نے صبر کیا، ہم ان کو ان کے اعمال کا بہت اچھا بدلہ دیں گے (سورۃ النحل 96)٭ ان لوگوں کو ان کے صبر کے بدلے جنّت کے بالاخانے عطا ہوں گے اور وہاں فرشتے دُعائوں اور سلام سے ان کا استقبال کریں گے (سورۂ الفرقان 75)٭ جو لوگ صبر سے کام لیتے ہیں، اُن کو بے حساب ثواب دیا جائے گا (سورۂ الزمر 10)٭ اور ان کے صبر کے بدلے اُنہیں جنّت کے باغات اور ریشمی لباس عطا فرمائے گا (سورہ الدھر 12)

عُمرِ مبارکہ

حضرت ایّوبؑ کی عُمرِ مبارکہ کے بارے میں مفسّرین کی مختلف آرا ہیں۔ اکثر نے آپؑ کی عُمر 140 سال بتائی ہے، جب کہ ابنِ جریرؒ کے مطابق آپؑ کی عُمر93 سال تھی۔

ایک اور نقطۂ نظر

’’ بعض روایات میں حضرت ایّوب علیہ السّلام کی بیماری میں اُن کے جسم میں کیڑے پڑنے کی بات کو غلط کہا گیا ہے، صحیح بات کیا ہے؟‘‘ جامعۃ العلوم الاسلامیہ علّامہ بنوری ٹاؤن، کراچی کے دارلافتاء کا اس سوال کے جواب میں کہنا ہے کہ’’مفتی محمّد شفیع رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت ایّوب علیہ السّلام کی بیماری کے متعلق ’’معارف القرآن‘‘ میں لکھا ہے’’قرآنِ کریم میں اِتنا تو بتایا گیا ہے کہ حضرت ایّوب علیہ السّلام کو ایک شدید قسم کا مرض لاحق ہو گیا تھا، لیکن اس مرض کی نوعیت نہیں بتائی گئی۔ احادیث میں بھی اس کی کوئی تفصیل آں حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول نہیں۔ البتہ بعض آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ آپؑ کے جسم کے ہر حصّے پر پھوڑے نکل آئے تھے۔ یہاں تک کہ لوگوں نے گِھن کی وجہ سے آپؑ کو ایک کُوڑی(کچرے کے ڈھیر) پر ڈال دیا تھا۔ لیکن بعض محقّق مفسّرین نے ان آثار کو درست تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ انبیاء علیہم السّلام پر بیماریاں تو آ سکتی ہیں، لیکن اُنہیں ایسی بیماریوں میں مبتلا نہیں کیا جاتا، جن سے لوگ گِھن کھانے لگیں۔ حضرت ایّوب علیہ السّلام کی بیماری بھی ایسی نہیں ہو سکتی، بلکہ یہ کوئی عام قسم کی بیماری تھی، لہٰذا وہ آثار، جن میں حضرت ایّوب علیہ السّلام کی طرف پھوڑے، پھنسیوں کی نسبت کی گئی ہے یا جن میں کہا گیا ہے کہ آپؑ کو کُوڑے پر ڈال دیا گیا تھا، روایتاً اور درایتاً قابلِ اعتماد نہیں ہیں۔‘‘لہٰذا آپؑ کے بدن میں کیڑے پڑنے کی بات درست نہیں ۔( واللہ اعلم)