آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 14؍رمضان المبارک 1440ھ20مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دُنیا بَھر میں ہر سال انٹرنیشنل کاؤنسل آف نرسز کے زیرِ اہتمام 12 مئی کو ’’انٹرنیشنل نرسنگ ڈے‘‘ایک منتخب کردہ تھیم کے ساتھ منایا جاتا ہے۔امسال کا تھیم"Nurses: A voice to lead-Health for All''ہے۔یہ یوم منانے کا مقصداس شعبے کی اہمیت اُجاگر کرنے کے ساتھ نرسز کو ان کی خدمات پر خراجِ تحسین پیش کرنا بھی ہے۔ امسال یہ دِن اس لیے بھی خاص اہمیت کا حامل ہے کہ عالمی ادارۂ صحت اور انٹرنیشنل کاؤنسل آف نرسز کے اشتراک سے جن 16مُمالک میںتین سالہ گلوبل کمپین کا اجراء"Nursing Now"کے عنوان سے کیا گیا ہے، اُن میں پاکستان بھی شامل ہے۔اورپاکستان سے منتخب کردہ اراکین میں آغا خان یونی ورسٹی اسپتال کے اسکول آف نرسنگ اینڈ مڈوائفری کے ڈین ڈاکٹر ڈیوڈ آرتھربھی ہیں۔ واضح رہے کہ رواں برس کے آغاز میں صدر مُملکت، ڈاکٹر عارف علوی کی زیرِ صدارت فرسٹ پاکستان نرسنگ اینڈ مڈوائفری سمٹ کا انعقاد ہوا تھا، جس میں نرسنگ اینڈ مڈوائفری کے شعبےمیں بہتری لانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

یاد رہے،گزشتہ چند برسوں میں نرسنگ اور مڈوائفری کےشعبوں نے مختلف سمتوں اور جہتوں میں تیزی سے جدّت و ترقّی کی منازل طے کی ہیں۔ اب ایک نرس روایتی تصوّر سے ہٹ کر ریسرچ ڈیپارٹمینٹس، آرگنائزیشنز، اسکولز اور انٹرنیشنل ریسرچ سینٹرز میں بھی کام کرسکتی ہے،تو مڈوائف پریکٹس کرنے کےعلاوہ پڑھاسکتی،اپنا کلینک تک کھول سکتی ہے۔ نرس اور مڈوائف کے ایڈوانس رول کے حوالے سے ہم نے آغا خان یونی ورسٹی اسپتال کے اسکول آف نرسنگ اینڈ مڈوائفری کی اسسٹنٹ ڈین، سینئر انسٹرکٹر مڈوائف اور چلڈرن اسپتال آغا خان یونی ورسٹی کراچی کی نرس مینجر سے بات چیت کی، جو قارئین کی نذر ہے۔

خیرالنساءاجانی نے مئی1992ء میں آغا خان میٹرنٹی ہوم، گارڈن، کراچی سے ایک سالہ ڈپلوما اِن مڈوائفری نرسنگ کے بعد1996ء میں ڈپلوما اِن نرسنگ کیا۔بعد ازاں،2002ء میں نرسنگ ہی کےشعبے میں گریجویشن اور2008ء میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنے کے بعداب پی ایچ ڈی کررہی ہیں۔ انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز آغا خان یونی ورسٹی اسپتال سے بطور اسسٹنٹ انسٹرکٹر کیا اورپھر ترقّی کی منازل طے کرتے ہوئے، اسکول آف نرسنگ اینڈ مڈوائفری میں اسسٹنٹ پروفیسراور اسسٹنٹ ڈین کےعُہدوں تک پہنچیں۔

س: حکومتِ پاکستان کی جانب سے 2019ء کو ’’نرسنگ کا سال‘‘ قرار دیا گیاہے،تو اس کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

ج: اصل میں نرسنگ جس سطح کا شعبہ ہے، پاکستان ہی نہیں کئی اور مُمالک میں بھی اُسے اتنی اہمیت نہیں دی جاتی، تو حکومتِ پاکستان کی جانب سے2019ء کو’’نرسنگ ائیر‘‘ قرار دیئے جانے کا مقصد بھی نرس کے ایڈوانس رول کو سامنے لانا ہے،تاکہ اس شعبے کی اہمیت اُجاگر ہوسکے۔

س:عالمی ادارۂ صحت اور انٹرنیشنل کاؤنسل آف نرسز کے اشتراک سے تین سال کے لیے گلوبل کمپین کا اجراء "Nursing Now" کے عنوان سے کیا گیا، جب کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار "First pakistan nursing and midwifery summit" کا انعقاد ہوا، تو اس کی تفصیلات سے کچھ آگاہ کریں؟

ج: یہ اعزاز کی بات ہے کہ پاکستان کو اس عالمی مہم کا حصّہ بنایا گیا ہے، جو عالمی ادارۂ صحت اور انٹرنیشنل کاؤنسل آف نرسز کے اشتراک سے 16مُمالک میں شروع کی گئی ہے۔ پاکستان میں آغا خان یونی ورسٹی اسپتال مُلک بَھر کے سرکاری و نجی اسپتالوں، میڈیکل یونی ورسٹیز اور کالجز کے ساتھ مل کر لیڈ کر رہا ہے،تاکہ ہر سطح پر نرسز کو آگے بڑھنے کا بَھرپور موقع مل سکے۔ اگرچہ اس میں وقت لگے گا، لیکن ہم پاکستان میں نرسنگ کے شعبے کو اس کے اصل مقام تک لے جانے کے حوالے سے بہت پُراُمید ہیں۔

س: عالمی ادارہ ٔصحت نے کتنے مریضوں پر ایک نرس کا پیمانہ مقرر کر رکھا ہے۔ نیز، کیا دُنیا بَھر سمیت پاکستان میں مریضوں کی تعداد کے پیشِ نظر نرسز کی تعداد تسلی بخش ہے؟

ج:دیکھیں، عالمی ادارۂ صحت کے مطابق انتہائی نگہداشت یونٹ میں ایک مریض، ایک نرس، جب کہ جنرل کیئر یونٹ میں5سے8 مریضوں کے لیے ایک نرس کا تناسب ہے، لیکن جب ہم اس پیمانے کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستان میں نرسز کی مطلوبہ صورتِ حال کا جائزہ لیتے ہیں، تو شدید کمی نظر آتی ہے۔ تاہم، چند ایک اسپتالوں خصوصاً آغا خان اسپتال میں نرسز اور مریضوں کا تناسب عالمی ادارۂ صحت کے مقررکردہ پیمانےکے عین مطابق ہے۔

س: تعداد میں کمی کی وجوہ کیا ہیں؟

ج: نرسز کی کمی کی بنیادی وجہ معاشرے میں رائج فرسودہ سوچ ہے، جس کی بناء پر طلبہ اسے منتخب کرتے ہوئے جھجکتے ہیں۔ پھر نرسنگ کے تعلیمی اداروں کا بھی فقدان پایا جاتا ہے، جب کہ مراعات میں کمی اوعدم تحفّظ جیسے عوامل بھی نظرانداز نہیں کیے جاسکتے۔

س: پاکستان میں میل نرسز کی تعداد، کام کے معیار سے متعلق بھی کچھ بتائیں؟

ج: پاکستان میں اب میل نرسنگ کا رجحان بڑھ رہا ہے، مگر مجموعی طور پر خواتین نرسزکی شرح بُلند ہے۔ نیز،’’ نرسنگ نائو‘‘ کے ایجنڈے میں اس حوالے سے بھی ڈسکشن کی جارہی ہے۔

س: نرسنگ کو بہ طور کیریئر اپنانے کے لیے اہلیت اور اسپیشلائزیشن وغیرہ کے حوالے سے طلبہ کی کچھ رہنمائی کریں؟

ج: جی بالکل،اس شعبے میں داخلے کے لیے انٹر سائنس کے طلبہ کو ترجیح دی جاتی ہے۔ ماضی میں چوں کہ نرسنگ کا آغاز کسی تعلیمی نصاب کے بغیر ہوا تھا، اسی لیے مختلف کورسز کروائے جاتے تھے۔ بعد ازاں، باقاعدہ طور پر دو سالہ ڈپلوما کروایا جانے لگا اور اب اس فیلڈ میںگریجویشن، ماسٹرز اور پی ایچ ڈی بھی کرسکتے ہیں۔ نیز، مختلف شعبوں مثلاً برن، کارڈیک، کلینیکل، کمیونٹی ہیلتھ کیئر، ڈائی بیٹز، ڈائی لیسز، سائیکاٹیری اور پیڈیاٹرک وغیرہ میں اسپیشلائزیشن کی جاسکتی ہے، تو نرس پریکٹیشنرز بھی بن سکتے ہیں۔ پاکستان میں اب کئی نرسنگ اسکولز اور کالجز کُھل چُکے ہیں، جہاں ایڈوانس نرسنگ کی تعلیم دی جارہی ہے۔

س: نرس پریکٹیشنرز"Nurse practitioner"سے کیا مُراد ہے؟

ج: وہ نرس، جسے باقاعدہ طور پر مریضوں کا علاج کرنے کی اجازت دی جائے،وہ نرس پریکٹیشنز کہلاتی ہے۔لیکن مرض پیچیدہ ہونے کی صورت میں کیس مستندمعالج تک ریفر کرنا، اُس کی اوّلین ذمّے داری ہے۔

س: اس شعبے کو بہ طور کیریئر اپنانے میں ترقّی کے کیا مواقع موجود ہیں؟

ج: اگر سرکاری سطح پر بات کی جائے، تو ایک نرس گریڈ 20تک ترقّی کر سکتی ہے، جب کہ نجی اسپتالوں میں اِسی گریڈ کے مساوی عہدے ہیں۔اسی طرح نرسنگ کے تعلیمی اداروں میں ڈین تک کے عُہدے پر بھی فائز ہوسکتے ہیں۔

س: کیا آپ کو لگتا ہے کہ ہمارے یہاں بھی کبھی وہ وقت آئے گا ،جب معاشرےمیں نرسز کو ان کا جائز مقام حاصل ہوگا؟

ج: جی بالکل، جس پُرخلوص جذبے کے ساتھ ہم اس پروگرام کو لیڈ کر رہے ہیں، تو مثبت تبدیلیوں کے روشن امکانات ہیں، لیکن بات وہی ہے کہ اگر کوئی خود روایتی نرس رہنا چاہے ، تو اسے زبردستی ایڈوانس رول ادا کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔

نورین لالانی نے نیویارک کی ایک معروف یونی ورسٹی سے نرسنگ میں گریجویشن کے بعد"Neonatal Nurse"کے شعبےمیں ماسٹر زکیا اور اس وقت چلڈرن اسپتال، آغا خان یونی ورسٹی، کراچی میں بطور نرس منیجر فرائض انجام دے رہی ہیں۔ان سے ہونے والی گفتگو پیشِ خدمت ہے۔

س:آپ نے نوزائیدہ بچّوں کی نرسنگ کا شعبہ کیوں منتخب کیا؟

ج: دراصل مَیں نےجب پریکٹس شروع کی، تو مجھے نوزائیدہ بچوّں کے انتہائی نگہداشت یونٹ میں کام کا موقع ملا، جہاں 26 ویں یا27ویں ہفتے کے بچّے ،جو مختلف طبّی آلات سے منسلک ہوتے ہیں،ان کی خاص احتیاط کے ساتھ تیمارداری کی جاتی ہےاور اتنے چھوٹے بچّوں کو طبّی آلات کے ساتھ مینیج کرنا بلاشبہ انتہائی مہارت کا کام ہے۔تب ہی مَیں نے فیصلہ کر لیاتھا کہ مجھےاسی فیلڈ ہی میں آگے بڑھنا ہے۔ ویسے بھی اس فیلڈ میں اسپیشلائزیشن کی شرح تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔

نرسنگ ائیر: معاشرے کی ماں کا سال
نورین لالانی

س: ایسا کون سا جذبہ ہے، جو ایک نرس کو (اگر وہ ماں بھی ہے) اپنی اولاد سے بڑھ کر اَن جان مریض کی تیمار داری پر مجبور کرتا ہے؟

ج: نرس اور مریض انسانیت کے رشتے سےبندھے ہوتے ہیں اور یہی رشتہ، ہر رشتے سے بالاتر ہے،جو ہمیںایک اَن جان مریض کی تیمار داری پر مجبور کر دیتا ہے اور یہ میرامشاہدہ و تجربہ ہے کہ جب ہم بہ طور نرسز مریضوں کی تیمار داری کرتے ہیں، توہمارے اپنے ذاتی، گھریلو مسائل اور پریشانیاں بھی کم ہونے لگتی ہیں۔اصل میں جب کوئی مریض صحت یاب ہو کر اپنے گھر جارہا ہوتا ہے، تو ہماری بےلوث خدمت کے صلے میں اُس کے ہونٹوں پر جو پُرخلوص دُعائیں ہوتی ہیں، وہ ہماری زندگیوں سے بھی کئی پریشانیاں گھٹا دیتی ہیں۔

س: پاکستان میں نرسز کی مراعات میں اضافے اور انہیں تحفّظ فراہم کرنے کے حوالے سے آئے روز احتجاجوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے، جن کے نتیجے میں مریضوں کو مشکلات کاسامنا کرنا پڑتا ہے، تو کیا ان معاملات و مسائل کا کوئی مستقل حل نہیں نکالا جا سکتا؟

ج: اس ضمن میں سرکاری طور پر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ دیکھیں جب نرس کسی کراہیت کے اظہار کے بغیر ہر طرح کے مریضوں کی تیمارداری کرتی ہے، تو اُس کا بھی یہ حق بنتا ہے کہ اُسے بہتر مراعات حاصل ہو اور اُسے تحفّظ فراہم کیا جائے۔ اور اگر یہ مسائل حل ہوجائیں، تو پھر کسی احتجاج کی نوبت ہی پیش نہ آئے۔

س: پچھلے کچھ عرصے سے بعض نجی اسپتالوں میں غلط انجیکشن لگائے جانے کے حوالے سے مسلسل خبریں آرہی ہیں، تو ایسا کیوں ہورہا ہے؟

ج: صرف اتنا ہی کہوں گی کہ اسپتال کا سسٹم اتنا مضبوط ہونا چاہیے کہ نرس تک غلط انجیکشن پہنچ ہی نہ پائے۔ پھر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بعض اسپتالوں میں نرسز پر ورک لوڈ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ کئی نرسز خود بھی اوور ٹائم کرتی ہیں اور بعض نرسز ایک اسپتال میں ڈیوٹی اوقات مکمل کر کے کسی دوسرے اسپتال میں ڈیوٹی انجام دینے پہنچ جاتی ہیں، تو اس حوالے سے بھی چیک اینڈ بیلنس ہونا چاہیے۔

مرینہ بیگ نےآغا خان یونی ورسٹی سے تین سالہ نرسنگ ڈپلومے کے بعد ایک سالہ مڈوائفری ڈپلوما کیااور پھر2010ء میں بی ایس سی نرسنگ کی ڈگری بھی حاصل کرلی۔اب اسکول آف نرسنگ اینڈ مڈوائفری میں بہ طور سینئر انسٹرکٹر خدمات انجام دینے کے ساتھ اسکاٹ لینڈ کی ایک یونی ورسٹی سے ایم ایس سی اِن مڈوائفری کر رہی ہیں۔اُن سے ہونے والی بات چیت ملاحظہ فرمائیں۔

نرسنگ ائیر: معاشرے کی ماں کا سال
خیر النساءاجانی

س: مڈوائف بننے کا فیصلہ حالات کی مجبوری تھا یا شوق کی تکمیل؟

ج: گریجویشن کے دوران ہمارا ایک پراجیکٹ زچّہ و بچّہ کے حوالے سے تھا، جس کے بعد ہی مَیں نے مڈوائف بننے کا ارادہ کرلیا تھا۔

س: مڈوائف کو عرفِ عام میں دائی کہا جاتا ہے،تو اگرکوئی آپ کو دائی کہے تو…؟

ج: بُرا نہیں لگتا،کیوں کہ ہمارے معاشرے میں دائی اور مڈوائف کا فرق ہی واضح نہیں ۔روایتی دائی کا پیشہ نسل دَر نسل منتقل ہوتا ہے،جس میںتعلیمی قابلیت کی بھی کوئی قید نہیں۔اس کے برعکس مڈوائف کسی تسلیم شدہ ادارے سے ڈگری حاصل کرنے کےساتھ لائسنس یافتہ بھی ہو،تو ہی پریکٹس کرسکتی ہے۔

س: مڈوائف کے فرائض میں کیا کیا کام شامل ہیں؟

ج: حمل ٹھہرنے سے لے کر زچگی تک اور بعدازاں (کم از کم ایک سال تک)زچّہ و بچّہ کی دیکھ بھال ہمارے فرائض میں شامل ہے،تاہم دورانِ حمل پیچیدگیوں سے محفوظ رہنے سے متعلق احتیاطی تدابیر، ورزش، متوازن غذاکے استعمال وغیرہ کے حوالے سے معلومات فراہم کرنا بھی ہماری ہی ذمّے داریوں میں شامل ہے۔ایک مڈ وائف زچگی کے لو رسک کیس ہینڈل کرسکتی ہے، البتہ پیچیدگی کی صورت میں اُس کا یہ فرض ہے کہ وہ فوری طور پر کیس کسی مستندمعالج کوریفر کردے۔ ترقّی یافتہ مُمالک میں مڈوائیو کی اہمیت تسلیم شدہ ہے، کیوں کہ وہاں جب کوئی حاملہ زچگی کے لیے اسپتال جاتی ہے، تو نارمل کیس مڈوائف ہی کے ہاتھوں انجام پاتے ہیں۔ افسوس کہ ہمارے اسپتالوں میں ایسا کوئی نظام رائج نہیں ہے، البتہ آغا خان اسپتال اس حوالے سےکام کر رہا ہے اور جلد ہی تربیت یافتہ مڈوائیو زچگی کے نارمل کیس ہینڈل کیا کریں گی۔

نرسنگ ائیر: معاشرے کی ماں کا سال
مرینہ بیگ

س: 2006 ء میں پہلی بار سرکاری نگرانی میں یونی سیف، این جی اوز اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے تعاون سے ’’کمیونٹی مڈوائف پروگرام‘‘ کا آغاز کیا گیا، لیکن افادیت کے اعتبار سے یہ کچھ زیادہ سود مند ثابت نہیں ہوا، جب کہ بعض ترقّی یافتہ مُمالک میں بھی اس پیشے کو مختلف وجوہ کے باعث کچھ زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی، کیوں؟

ج: دیکھیں،جب اس پروگرام کا آغاز ہوا تو اس حوالے سے کئی چیلنجز سامنے آئے۔ سرِفہرست تومعاشرے میں دائی اور مڈوائف کا فرق واضح نہ ہونا ہے،لہٰذا شعورکی کمی کے باعث گائوں، دیہات حتیٰ کہ چھوٹے شہروں میں بھی روایتی دایوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔ پھر بعض مڈوائیو بھی اپنے کام میں مہارت حاصل نہ کر سکیں۔ چوں کہ دورانِ تربیت انہیں معقول معاوضہ دیا گیا، لیکن جب آزادانہ پریکٹس شروع کی ، تو کاروباری سمجھ بوجھ نہ ہونے کے باعث خاصی معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اِسی طرح لیڈی ہیلتھ ورکر، لیڈی ہیلتھ وزیٹرز ،روایتی دایوں اور مڈوائیو میں بھی مربوط تعاون کا فقدان رہا۔نیز، ایل ایچ ڈبلیو زاور ایل ایچ ویز حکومت کی نگرانی میں کام کرتی ہیں، جب کہ سی ایم ڈبلیو یعنی کمیونٹی مڈوائف کی کوئی اونرشپ نہیں۔ اسے دو سالہ تربیت کے بعد آزادانہ پریکٹس کے لیے کہا جاتا ہے اور اس کی بھی کوئی مانیٹرینگ وغیرہ نہیں کی جاتی۔ تو ایسی کئی وجوہ کی بنا پر یہ پروگرام اپنے اپنے علاقوں میں سود مند ثابت نہ ہوسکا۔مجموعی طور پرہمارے یہاں بلوچستان میں تو سی ایم ڈبلیو پروگرام تقریباً ناکام ہی رہا، البتہ پنجاب میں صورتِ حال بہتر ہے۔ جب کہ سندھ اس پروگرام کو فالو کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔کئی ترقّی یافتہ مُمالک میںاس حوالے سے شعور وآگہی کا فقدان پایا جاتا ہے،تویورپ، سویڈن، ڈنمارک، آسٹریلیا جیسے کئی مُلک کمیونٹی مڈوائف پروگرام کے رول ماڈل ہیں۔ اصل میںوہاں کی حکومت نے ایک سسٹم بنا دیا ہے،جس پر سختی سے عمل درآمد کیاجاتا ہے۔

س: مڈوائف بننے کا کیا طریقۂ کار ہے؟

ج: اسکول آف نرسنگ اینڈ مڈوائفری، آغا خان یونی ورسٹی نے 2012ء میں مڈوائفری میں گریجویشن کا آغاز کیا اور اب تک تین بیج پاس آؤٹ ہوچُکے ہیں۔ اس دوران ہم طلبہ میں آزادانہ پریکٹس کے حوالے سے اعتماد پیدا کرنے کے لیے ابتدا میں سمیولیشن بیس ٹریننگ کرواتے ہیں، پھر تربیت کے مختلف مراحل کے بعد آزادانہ پریکٹس کروائی جاتی ہے اورکم از کم40کام یاب زچگیاں کروانے کے بعد ہی ڈگری دی جاتی ہے۔ (عکّاسی: اسرائیل انصاری)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں