آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر18؍ ربیع الثانی 1441ھ 16 دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

’’ب ‘‘ جب حرف ِ جار کے طور پر عربی الفاظ کے ساتھ لگتا ہے تو اس کے نیچے کسرہ یعنی زیر لگتا ہے یعنی یہ ’’ب ِ ‘‘ہوجاتا ہے اور اسے بعض عربی الفاظ کے ساتھ ملانے کے لیے ’’ب ِ ‘‘ کے بعد الف اور لام (ال ) کا اضافہ کیا جاتا ہے۔ ’’ب ِ ‘‘ مختلف معنی میں آسکتا ہے ، مثلاً :

۱۔ میں کے معنی میں، جیسے : بِالا َقساط، یعنی اقساط میں ۔ بِالآخر یعنی آخر میں ۔

۲۔ساتھ کے معنی میں ، جیسے: بِالاتفاق اتفاق کے ساتھ، متفق ہو کر۔

۴۔قسم کے معنی میں ، مثال کے طور پر : وَاللہ بِاللہ یعنی اللہ کی قسم ۔

۵۔ سے کے معنی میں، جیسے:بِالخیر یعنی خیر سے ۔

لفظ ’’بِالکل ‘‘ (جس کا املا آج کل کے بعض کندذہن طالب علم ’’بلکل‘‘ کرتے ہیں اور جو بالکل غلط ہے )بھی اسی طرح بنا ہے ، یعنی ب ِ جمع ال جمع کُل، مطلب ہے پورے طور سے، مکمل طور پر۔

ان سب مثالوں میں ’’ب ‘‘ پر زیر پڑھا جائے گا۔

لیکن ’’بہ ‘‘کی تخفیف شدہ صورت یعنی ’’ بَ ‘‘ پر زبر ہے،جیسا کہ ’’بہ ‘‘ اور ’’بَ ‘‘ کے ضمن میں عرض کیا گیا تھا۔ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ با اور بہ (یا’’ بَ ‘‘) کسی ایک ہی لفظ کے ساتھ بھی آسکتے ہیں لیکن ان کے معنی مختلف ہوجائیں گے،جیسے باقاعدہ یعنی قاعدے سے، ضابطے کے ساتھ، ، مثلاً’’ان کا تقررباقاعدہ ہوا ہے‘‘۔دوسری صورت ہے’’بَ ‘‘ کے ساتھ یعنی بقاعدہ، معنی ہوں گے قاعدے کے مطابق، مثلاً:’’فارسی لفظ گزار ش کی جمع اردو والوں نے بقاعدہ ٔ عربی (یعنی عربی کے قاعدے سے ) گزارشات بنالی ہے‘‘۔

قرطاسِ ادب سے مزید