• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’رمضان سے پہلے نازیبا ساڑھیاں اور اب سر پر ڈوپٹہ؟‘ لائیو کالر کے سوال پر جویریہ سعود کی وضاحت

تصاویر بشکریہ سوشل میڈیا
تصاویر بشکریہ سوشل میڈیا

 معروف اداکارہ، میزبان اور پروڈیوسر جویریہ سعود لائیو پروگرام کے دوران ایک کالر کے لباس سے متعلق سوال کے بعد ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گئیں۔

جویرِیہ سعود، جو لالی ووڈ اداکار سعود قاسمی کی اہلیہ ہیں، اکثر اپنے بیانات اور مارننگ شوز کے باعث میڈیا میں زیرِ بحث رہتی ہیں، اس سال بھی وہ رمضان ٹرانسمیشن کا حصہ ہیں، تاہم حالیہ دنوں ان کے لباس سے متعلق تنازع نے توجہ حاصل کر لی۔

اداکارہ نے حال ہی میں اپنے ملبوسات کے برانڈ کو ایک بین الاقوامی فیشن شو میں پیش کیا، جہاں معروف اداکارہ ثنا نواز شو اسٹاپر کے طور پر جلوہ گر ہوئیں، جویرِیہ سعود نے اپنی بیٹی کے ہمراہ ریمپ واک بھی کی، اس موقع پر انہوں نے سیاہ رنگ کی ساڑھی زیب تن کی تھی، جس کا بلاؤز نسبتاً مختصر تھا اور اس میں جسم نمایاں ہو رہا تھا۔

سوشل میڈیا پر ان کے اس لباس کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور متعدد صارفین نے اسے نامناسب قرار دیا، یہی معاملہ اس وقت دوبارہ زیرِ بحث آیا جب رمضان ٹرانسمیشن میں ایک لائیو کال کے دوران ایک کالر نے ان کے لباس پر سوال اٹھایا۔

لائیو کال کے دوران کالر نے جویریہ سعود سے سوال کیا کہ رمضان سے پہلے وہ بیرونِ ملک ایک فیشن شو میں ساڑھی پہنتی تھیں، جبکہ اب رمضان ٹرانسمیشن کے دوران سر پر دوپٹہ اوڑھ کر دینی گفتگو کر رہی ہیں۔

کالر نے یہ بھی پوچھا کہ اگر پہلے ایسا لباس پہنا گیا تو اب اچانک مذہبی انداز کیوں اپنایا جا رہا ہے۔ جس کے بعد کالر نے مولانا آزاد جمیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میری درخواست ہے کہ کوئی ایسا وظیفہ بتائیں کہ اب جویریہ ایسا نہ کریں۔

جویریہ سعود نے اس سوال کے جواب میں وضاحت دی کہ مذکورہ فیشن شو برطانیہ میں ہوا تھا اور وہاں شدید سردی تھی۔

 انہوں نے کہا کہ ساڑھی کے ساتھ مکمل باڈی سوٹ اور تھرمل لباس بھی پہنا ہوا تھا تاکہ موسم کی شدت سے محفوظ رہا جا سکے۔ 

پروگرام کے دوران جویریہ نے اپنے کمیز کی آستین سے باڈی سوٹ کی آستین بھی دکھائی اور کہا کہ ہر لباس کے ساتھ یہ پہنا ضروری ہوتا ہے، اور اس موقع پر بھی پہنا ہوا تھا۔

اداکارہ کے اس مؤقف پر بھی سوشل میڈیا پر ملے جلے ردعمل دیکھنے میں آئے، جہاں کچھ افراد نے ان کی وضاحت کو سراہا جبکہ دیگر نے اپنی تنقید برقرار رکھی۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید