آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 23؍ذوالحجہ 1440ھ 25؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

...محمد وقار بھٹی...

جناح اسپتال کراچی میں سانگھڑ سے تعلق رکھنے والا گیارہ سالہ بچہ کتے کے کاٹنے کے نتیجے میں ہونے والی بیماری ریبیز سے جاں بحق ہوگیا ، جس کے بعد شہر میں ریبیز کے نتیجے میں ہونے والی اموات کی تعداد چار ہو گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق ریبیز ایک جان لیوا بیماری ہے جو پاگل کتے کے کاٹنے کے نتیجے میں ہوتی ہے لیکن اس بیماری سے مکمل طور پر محفوظ رہا جاسکتا ہے اگر متاثرہ فرد کو فوری طور پر ویکسین لگوا دی جائے اور کورس مکمل کروایا جائے۔

جناح اسپتال کراچی میں اب تک ساڑھے تین ہزار ایسے مریضوں کو لایا جا چکا ہے جن کو آوارہ کتوں نے کاٹا تھا بدقسمتی سے ان مریضوں میں بچوں کی تعداد 40فیصدسے زائد ہے۔

جناح اسپتال کراچی کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر سیمی جمالی کے مطابق اس وقت پاکستان میں کتے کے کاٹے کی ویکسین یعنی اینٹی ریبیز ویکسین کی شدیدکمی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسی صورتحال میں حکومتی اداروں خاص طور پر میونسپل اداروں کو کتوں کی تعداد میں کمی لانے کی شدید ضرورت ہے تاکہ عوام کو کتوں کے کاٹنے سے بچایا جا سکے۔

دوسری جانب انڈس اسپتال کراچی کے حکام نے انکشاف کیا ہے کہ ان کے اسپتال میں اب تک ریبیز کے نتیجے میں تین ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔

انڈس اسپتال سے وابستہ آفتاب گوہر کا کہنا ہے کہ کراچی اندرون سندھ اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے تین افراد اس سال ریبیز پاگل کتے کے کاٹنے کے نتیجے میں ہونے والی بیماری کے نتیجے میں جاں بحق ہو چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اسپتال میں روزانہ 30 سے 35 نئے مریض کتے کے کاٹنے کے نتیجے میں لائے جارہے ہیں ،یہ مریض نہ صرف کراچی بلکہ اندرون سندھ کے مختلف شہروں اور بلوچستان کے دور دراز علاقوں سے بھی لائے جارہے ہیں، پاکستان میں اس وقت اینٹی ریبیز ویکسین کی شدید کمی ہے کیونکہ یہ ویکسین بھارت میں بنائی جاتی ہے اور بھارتی حکام بہت ہی محدود پیمانے پر یہ ویکسین پاکستان کو فراہم کر رہے ہیں۔

جناح اسپتال ، سول اسپتال کراچی اور انڈس اسپتال کے ذرائع کے مطابق انہیں اینٹی ریبیز ویکسین حاصل کرنے میں شدید دشواریوں کا سامنا ہے۔

پاکستان میں انڈیا سے اینٹی ریبیز ویکسین درآمد کرنے والے ایک پرائیویٹ ادارے سے وابستہ عثمان غنی نے بھی تصدیق کی ہے کہ پاکستان میں اس وقت کتے کے کاٹے کی ویکسین نایاب ہے۔

ڈاکٹروں اور ماہرین نے حکومت سے درخواست کی ہے کہ وہ فوری طور پر اس مسئلے پر توجہ دیں اگر پاکستان یہ ویکسین نہیں بنا سکتا تو کم ازکم آوارہ کتوں کی تعداد میں کمی لانے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو اس بیماری سے بچایا جا سکے۔

متفرق سے مزید