آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ7؍ ربیع الاوّل 1440ھ 16؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
کوئی اسے سرکس کہہ رہا ہے، کسی جغادری لکھاری نے100ٹن انقلاب کا نام دیا۔ کوئی Apple اورBanana یعنی سیب اور کیلے کا انقلاب بتا رہا ہے۔ جتنے ٹُن منہ اتنی بہکی بہکی باتیں سننے میں آ رہی ہیں سب حیران اور پریشان ہیں کہ ایک علامہ کینیڈا سے اٹھ کر ایک مہینے سے کم کے عرصہ میں کیا کیا طوفان کھڑے کر گیا اور کیسے کیسے بت توڑ گیا۔ قادری صاحب نے سیاست کا رخ ہی بدل دیا ہے۔ ہر لیڈر سوچ رہا ہے یہ کیا ہو گیا اور کس کی شہ پر کس نے یہ پلان بنایا کہاں سے پیسے آئے، کس نے سارا انتظام کیا اور ہر کام اس مشینی طریقے سے ہوا جیسے کمپیوٹر گیم چلایا جا رہا ہو۔ ہمارے بنانا کھانے والے وزیر صرف قادری صاحب کے ایک لاکھ سے زیادہ روبوٹ قسم کے عقیدت مندوں کا راستہ ہی صاف کرتے رہے کبھی پولیس بلاتے، کبھی رینجر اور خوب دل کھول کر پیسے خرچے کئے مگر پھر یہ خبر بھی آئی کہ وزارت داخلہ کو تو پیسے دیئے ہی نہیں گئے کیونکہ ان پر بھروسہ کم تھا خرچے براہ راست پولیس والوں نے کئے۔ جیسا قادری صاحب نے کہا تھا ایک گملا یا شیشہ نہیں ٹوٹا اور لاکھوں لوگ پنجاب سے اسلام آباد کے ڈی چوک پہنچ کر پانچ دن ٹھنڈی پکنک مناتے رہے۔ اس دوران دونوں طرف کے لیڈر خوب گرجے اور گونجے مگر برسا کوئی نہیں۔ دھمکیاں در دھمکیاں دی گئیں اور آخر ڈی چوک پر ڈی ڈے آ گیا۔ 90منٹ کی ڈیڈ لائن جیسے ہی ملی

سرخ فون بجنا شروع ہوگئے۔ میری اطلاع یہ ہے کہ سرخ فون ایک رات پہلے ہی بجنے لگے تھے جب جناب وزیر داخلہ نے تقریباً یہ اعلان کر دیا تھا کہ رات کے کسی پہر دھرنے پر دھاوا بول دیا جائے گا۔ اس رات گجرات کے ایک چوہدری کو بالکل اسی طرح کا فون آیا جیسا گجرات کے ایک اور چوہدری کو مارچ 2009ء کے لانگ مارچ کے وقت گوجرانوالہ میں آیا تھا۔ چوہدری صاحب کے طوطے اڑ گئے اور انہوں نے فوراً ایک بڑے ہی دھانسو قسم کے صاحب کو جگایا اور کہا کہ بنانا صاحب کو روکو ورنہ غضب ہو جائے گا۔ ان صاحب کی قادری صاحب پہلے ہی پورے ملک کے سامنے کافی عزت افزائی کر چکے تھے اور ان کو قادری صاحب کے گھر سے بن بلائے تشریف لانے کی پاداش میں واپس جانا پڑا تھا، وہ قادری صاحب نے ایک بڑا معرکہ مارا تھا۔ اب ان دونوں صاحبان نے جناب وزیر سیب اور کیلے کو روکا کہ کوئی گڑبڑ نہ ہو جائے۔ چند گھنٹے بعد جب دن چڑھا پھر بھی حکومت کسی بات چیت کو تیار نہ تھی سو قادری صاحب نے آخری ڈرون چلایا اور 90منٹ کی ڈیڈ لائن دے دی۔ اب چوہدری صاحب کی تمام چڑیاں اور طوطے پُھر ہوگئے۔ سرخ فون پھر بجے اور ان آخری لمحوں میں حکومت نے وہی کیا جو وہ بے شمار دفعہ کرتی آئی ہے یعنی سو ٹن فضلے میں کچھ پونڈ مواد اور اضافہ کر دیا۔ ذرا سوچئے،کچھ گھنٹوں پہلے قادری صاحب پر فقرے کسے جا رہے تھے، مذاق اڑایا جا رہا تھا، ان کے دھرنے میں شریک لوگوں کی تعداد کو ایک غیراہم تعداد کہا جا رہا تھا پھر اچانک تمام اہم ترین رہنما جن میں بزرگ اور برتر جیالے شامل تھے قادری صاحب کے چھوٹے سے اس ڈبے میں موجود تھے جسے 5-STAR کنٹینر کہا جا رہا تھا۔ کمال ہے جناب قادری کا انہوں نے اس مہارت سے ان تمام پکے اور مہمان لیڈروں کی وہ گت بنائی کہ وہ ساری عمر یاد کریں گے۔ پہلے تو انہوں نے اپنی باتیں منوائیں پھر اس سرکس میں ان تمام دس قومی رہنماؤں کو جوکر بنا کرکھڑا کیا۔ خود اپنے آپ کو ملک کے منتخب وزیراعظم کے برابر درجہ دیا۔ ان کمی وزیروں کے دستخط کرائے پھر خود ان لکھی ہوئی لکیروں کی پہلے تفسیر بیان کی ہر ایک کو دو منٹ کا ٹائم دیا کہ قوم کے سامنے ساری کہی ہوئی باتوں کو واپس لیں یعنی تھوکا ہوا چاٹیں جو انہوں نے کیا۔ ہنسی کے مارے لوگوں کے پیٹ پھٹ رہے تھے جب بڑے بڑے وزیر قوم کو بتا رہے تھے کہ لاکھوں لوگ دھرنے میں موجود ہیں،کتنا منظم اجتماع ہے کیا ان لوگوں کا حوصلہ ہے وغیرہ وغیرہ۔ یہی لوگ ایک دن پہلے تک گالیاں دینے میں ریس لگا رہے تھے۔ سو اچانک یہ کیا ماجرا ہوگیا کہ جنگل کا جنگل ہرا ہوگیا۔ ہوا وہی جو ہونا تھا یعنی ایک فون کال چوہدری کو گئی اور سب جمہوریت کے چمپیئن ڈھیر ہوگئے۔ مال پکڑنے والے لکھاری اورTV پر بیٹھے جغادری صرف 100ٹن فضلے ہی کا ذکر کرتے رہ گئے۔ قادری صاحب ان سب کو ناک رگڑوا کر راتوں رات گھر پہنچ گئے اور اپنے پیچھے ایک ایسی تاریخ لکھ گئے کہ عرصے تک اس کا تجزیہ ہوتا رہے گا۔
جو باتیں انہوں نے قوم کے سامنے وزیراعظم اور تمام سیاسی قیادت سے منوا لیں وہ بھلے فوری انقلاب نہ لائیں لیکن انقلابی ضرور ہیں اور اب سب شش و پنج میں ہیں کہ کیا کریں۔ ذرا سوچئے (1) انہوں نے لکھوا لیا کہ قومی اسمبلی اپنی مدت پوری نہیں کرے گی اور وقت سے پہلے تحلیل کر دی جائے گی تاکہ90دن تک مہلت مل جائے انتخاب کے لئے۔ اب اگر خورشید شاہ کی بات مانی جائے تو انتخاب مئی کی5 یا 6کو ہونا ہے۔ 90دن پیچھے آئیں تو اسمبلی کو5 یا6 فروری کو فارغ کرنا پڑے گا یعنی صرف15دن بعد آج سے۔ اگر منظور وسان کے خواب اور ان کے بیان صحیح ہیں کہ الیکشن اپریل میں ہوں گے تو پھر 90دن دینے کیلئے یہی ہفتہ رہ جاتا ہے یعنی 31جنوری تک اسمبلی توڑیں تو اپریل میں90دن بعد انتخاب ہو۔ (2) اس طرح آج سے دس دن بعد وزیراعظم سابق وزیراعظم ہوں گے اور وہ بھی آئینی طریقے سے اور خود صدر کو مشورہ دے کر کہ اسمبلی کو تحلیل کیا جائے۔ اب وزیراعظم تو اپنی گرفتاری سے بچنے کیلئے بے حدپریشان ہیں۔ میری اطلاع کے مطابق جب قادری صاحب نے 3رکنی ٹیم ان کے دستخط لینے بھیجی تو وہ کسی اور ہی مسئلے میں الجھے تھے اپنی ضمانت کرانے کے۔ زبردستی کر کے ان سےTV کے سامنے دستخط کرائے گئے اور وہ اپنے آپ کو قادری صاحب کی برابری پر لے آئے۔ اب اگر اس ہفتے عدالت عالیہ نے سخت موقف لے لیا کیونکہ جج حضرات کامران فیصل کے قتل یا خودکشی اور ایڈمرل فصیح بخاری کے رویّے سے ویسے ہی جلے بھنے بیٹھے ہیں تو کیا ہوگا۔ (3) اگر90دن میں الیکشن نہیں کرائے جاتے اور کم وقت دیا جاتا ہے تو یہ خیال رہے کہ قادری صاحب کے ایک لاکھ روبوٹ ہر حکم پر اور ہر جگہ ہر قسم کا دھرنا یا قربانی دینے کو ابھی موجود ہیں۔ ان کے لہجے میں قوت اور گرج اور بڑھ گئی ہے۔ وہ سیاست میں کودنے کیلئے تیار ہیں اور نواز شریف اور ان کے بھائی پر میزائل داغ چکے ہیں۔ ایک بات یقینی ہے جس پارٹی نے قادری صاحب سے انتخابی اتحاد کیا وہ بڑے مزے میں رہے گی۔ کم از کم ایک لاکھ کا Rent-a-crowd اس پارٹی کو مفت میں مل جائے گا۔ ہر جلسہ پُرہجوم ہوگا اور کئی چھوٹی چھوٹی جلسیوں کو کھا جائے گا۔ یہ الگ بات ہے کہ قادری صاحب ایک یا دو سیٹیں ہی جیت سکیں یا وہ بھی نہ ملیں۔
اب اس صورتحال میں ملک اور قوم اور اقتصادی اور بزنس کی کیا شکل بنے گی۔ نہ وزیراعظم کا یقین، نہ اسمبلیوں کی مدت کا پتہ، نہIMF کا کوئی مدد کا منصوبہ، نہ بلوچستان کی اسمبلی، نہ کوئی طالبان سے سیزفائر، نہ امریکہ سے امداد، نہ افغانستان سے بات چیت، نہ امن کی آشا، نہ کرکٹ کی بھاشا۔ رہ گئے لانگ مارچ اور دھرنے۔ قبائلی لوگوں نے تو 48گھنٹے کی ڈیڈ لائن بھی دے دی۔ دوسری طرف عدالتوں میں پیشیاں، وزیراعظم کے وارنٹ، ایڈمرل بخاری کے کامران فیصل کے قتل یا خودکشی میں پھنسنے کے بے انتہا امکانات، توقیر صادق کی واپسی کے مضمرات، صدر صاحب کا اسلام آباد سے تقریباً فرار، الیکشن کمیشن کی کمر مضبوط ہونا اور ان کا یہ اعلان کہ لانگ مارچ کے فیصلوں پر عمل کیلئے قانون میں ترمیمی بل تیار ہے، یہ سب آنے والے طوفانوں کی اطلاع دے رہے ہیں۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ جیسے ہی اس حکومت اور اسمبلی کی چھت اس حکومت کے سر سے ہٹی، یہ پورا کا پورا خیمہ اڑ جائے گا۔ قادری صاحب نے کچھ کیا ہو یا نہیں ان کے لانگ مارچ نے سب کو ننگا کر دیا ہے۔ اب فیصلے ہونا شروع ہوگئے ہیں اور جس جمہوریت کی مضبوطی کا ڈھونگ رچایا جا رہا تھا پچھلے 5سال سے وہ اب چوراہے پر سو ٹن انقلاب کے فضلے کے ساتھ کھڑی ہے، آنے والوں پرنظر رکھیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں