آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل 15؍ صفرالمظفر 1441ھ 15؍اکتوبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

5Cs پر عمل کرکے تعلیمی دباؤ کا مقابلہ کریں

حالیہ برسوں میں والدین، اساتذہ اور ماہرینِ تعلیم، طلباء کے ذہنوں پر بڑھتے دباؤ کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا حل تعلیمی میدان میں طلباء کی شخصیت میں قوت اور لچک پیدا کرنے میں پنہاں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک طالب علم طویل مدتی تعلیمی چیلنجز (جیسے کہ دیرینہ بُری کارکردگی) کے مسئلے سے کس طرح نمٹتا ہے۔ آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے ماہرینِ نفسیات اینڈریو مارٹن اور ہربرٹ مارش نے اپنی تحقیقی رپورٹ میں تجویز پیش کی ہے کہ طلباء میں طویل مدتی قوت اور لچک پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ان میں تعلیمی چیلنجز کو مثبت انداز میں لینے کی صلاحیت کو اُبھارا جائے۔

آسٹریلوی ماہرینِ نفسیات نے اسے ’اکیڈمک بائنسی ‘ کا نام دیا ہے، جس کا مطلب تعلیمی میدان میں روزانہ درپیش آنے والی مشکلات، پریشانیوں اور ناکامیوں پر قابو پاتے ہوئے، پھر سے اُبھرنے کی طلباء کی صلاحیت ہے۔ مثلاً؛ بُرے گریڈز، استاد کی منفی آراء یا پھر اسکول کی اسپورٹس ٹیم میں جگہ نہ بنانا وغیرہ، یہ اور اس جیسے دیگر معاملات طلباء کی اسکولنگ کا عمومی حصہ ہوتے ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنے 19سالہ کیریئر میں کئی طلباء کو تعلیمی سفر میں پیش آنے والی ناکامیوں سے نکل کر آگے بڑھتے اور اُبھرتے دیکھا ہے، جبکہ کئی طالبِ علم ان ناکامیوں کا منفی اثر لے لیتے ہیں اور اس کے اثر سے نکل نہیں پاتے۔

محققین کہتے ہیں کہ تعلیمی میدان میں ان دھچکوں پر قابو پاکر پھر سے اُبھرنے والے طلباء ان روز مرہ جھٹکوں کو عارضی اور بے ضرر تصور کرتے ہیں۔ کچھ مضامین میں بُرے نتائج طویل مدتی کامیابی پر اثرانداز نہیں ہوتے، یہاں تک کہ اگر ضروری ہوں تو فائنل ایئر کے کچھ پیپرز بھی دوبارہ دیے جاسکتے ہیں۔ اسکول میں اساتذہ کی منفی آراء بھی سیکھنے کے عمل کا ایک اہم حصہ ہے، اسے دنیا کا اختتام نہیں سمجھنا چاہیے۔

تعلیمی میدان میں طلباء میں اس طرح کے جھٹکوں سے نکل آنے کی صلاحیت کو ایک اور نفسیاتی زاویے سے بھی دیکھا جاتا ہے، یعنی وہ طلباء جو روزمرہ کے اسکول کے چیلنجز سے بہتر طور پر نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، وہ جب عملی دنیا میں قدم رکھتے ہیں تو دفتر یا کام کی جگہ پر پیش آنے والے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بہتر طور پر تیار ہوتے ہیں۔

آپ کا تعلق چاہے کسی بھی شعبہ سے ہو، ملازمین اور آجر غیریقینی صورتِ حال کا شکار رہتے ہیں اور انھیں تقریباً ہر روز دباؤ کی صورتِ حال سے مؤثر طریقے سے نمٹنا ہوتا ہے۔تعلیم دان اور والدین، طلباء کو اسکول کی روز مرہ ناکامیوں اور پریشانیوں سے نمٹنے میں کس طرح مدد کرسکتے ہیں، آئیے جانتے ہیں۔

سکون اور توازن

سکون اور توازن جسے انگریزی میں کمپوژر(Composure) کہا جاسکتا ہے، یہ وہ خصوصیات ہیں، جو طلباء کو روز مرہ کے تعلیمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے درکار ہوتی ہیں۔ تاہم بے چینی، پریشانی اور اُلجھن طلباء کا سکون اور اعتماد چھین لیتی ہے۔ ایسے انزائٹی کاشکار طلباء اساتذہ کی ہدایات کو سُننے، پڑھنے اور نصاب کا جائزہ لینے کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے بجائے ایسے شواہد کی تلاش میں رہتے ہیں، جن کے باعث ان کا یہ یقین پختہ ہوسکے کہ وہ خطرے میں ہیں۔ تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ پُرسکون اور متوازن شخصیت برقرار رکھنے والے طلباء کم دباؤ لیتے ہیں۔

اعتماد

اعتماد کو انگریزی میں کانفیڈنس (Confidence)کہا جاتا ہے۔ اعتماد، طلباء کے اس تصور کا نام ہے، جس کے باعث وہ سمجھتے ہیں کہ وہ کسی بھی مضمون میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرسکتے ہیں۔ مثلاً؛ اگر کوئی طالبِ علم یہ سمجھتا ہے کہ ریاضی کا مضمون اس کی طاقت ہے تو ایسا طالبِ علم ریاضی کے کسی کوئز میں اپنی بُری کارکردگی کو عارضی لیتے ہوئے اپنی کمزوریوں پر کام کرے گا۔ اس کے برعکس، اگر کوئی طالب علم ریاضی کے نام سے ہی خوف کھاتا ہے تو وہ کوئز میں بُری کارکردگی کو اپنی نااہلی سمجھتے ہوئے مزید ناکامیوں میں ڈوبتا چلا جائے گا۔

عہد یا عزم

عہد یا عزم کو انگریزی میں کمٹمنٹ (Commitment)کہا جاتا ہے۔ یہ ایک طالب علم کی اس خصوصیت کا نام ہے، جس کے تحت وہ ہر طرح کے تعلیمی ٹاسک اور اسائمنٹ کو ہر صورت مکمل کرنے کے لیے پرعزم رہتا ہے۔ عارضی جھٹکوں سے کم اثر لینے والے طالب علموں کو بخوبی احساس ہوتا ہے کہ ’سیکھنے کا عمل‘ وقت اور سنجیدہ کوششیں مانگتا ہے۔ وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ آج کی ایک ناکامی مستقبل کی ناکامی نہیں ہے، اس لیے وہ خود میں بہتری لانے کے لیے ماہرینِ تعلیم کی آراء کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ ’بورڈ گیمز‘ اور ’ورڈ گیمز‘ بچوں میں تعلیمی صلاحیتیں اور استقامت پیدا کرنے کے لیے بہترین سرگرمیاں ثابت ہوسکتی ہیں۔

خود پر اختیار

خود پر اختیار کو انگریزی میں کنٹرول (Control) کہا جاتا ہے۔ طلباء چاہے وہ بچے ہوں یا نوجوان، انھیں اس بات کا یقین ہونا چاہیے کہ ان میں روزمرہ کے چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت ہے اور وہ مستقبل میں بہتر نتائج حاصل کرسکتے ہیں۔ ان کا مستقبل ان کے اپنے ہاتھوں میں ہے اور کسی ایک مضمون یا کوئز میں بُری کارکردگی یا استاد کی منفی آراء ان کے مجموعی حاصلات پر اثرانداز نہیں ہوسکتی۔ ان کے برعکس، جن طلباء کا خود پر اختیار نہیں ہوتا وہ اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار خارجہ عناصر جیسے والدین کی عدم توجہی، اساتذہ یا تعلیمی نظام کو قرار دیتے نظر آتے ہیں۔

ہم آہنگی

ہم آہنگی کو انگریزی میں کوآرڈینیشن (Coordination)کہاجاتا ہے۔ عارضی جھٹکوں کو خاطر میں نہ لانے والے طالبِ علم اپنے وقت کو استعمال کرنے کا باقاعدہ لائحہ عمل ترتیب دیتے ہیں اور کوئز کی تیاری اور اسائنمنٹ کی منصوبہ بندی وقت سے پہلے کرکے رکھتے ہیں۔ طویل یا مشکل اسائنمنٹس کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بانٹنا اور ہر حصے کو ایک سنگ میل سمجھ کر اسے حاصل کرنا، زندگی میں کامیابی کا ایک اہم ہنر ہے۔

تعلیمی دباؤ طلباء کی زندگی کا حصہ بن گیا ہے، تاہم آگے بڑھنے کی صلاحیت پیدا کرکے وہ انتشار انگیز لہروں کی زد میں آکر ڈوبنے کے بجائے ان پر سوار ہوکر منزل پاسکتے ہیں۔

تعلیم سے مزید