آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ22؍ربیع الاوّل 1441ھ 20؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

مریم تنویر

کراچی کا چڑیا گھر پاکستان کا قدیم ترین اور سب سے بڑا چڑیا گھر ہے۔ اسے 1878میں تعمیرکیاگیا۔ اسےمتعدد مقاصدکےلئے استعمال کیا گیا اور اس کے نام بھی تبدیل ہوتے رہے، اس کے باوجود یہ اب بھی کراچی کی قدیم ترین یادگاروں میں سے ایک ہے۔ کسی زمانے میں اسے گاندھی گارڈن بھی کہاجاتا تھا۔ یہ نشتر روڈ اور سر آغا خان روڈ پر واقع ہے۔کراچی چڑیا گھر میں جانوروں اور پرندوں کی نادر ونایاب نسلیں اور جانوروں کی خاصی بڑی تعداد موجود ہے جو تفریح کےلئے آنے والوں کی توجہ کا مرکز بنے رہتے ہیں ۔ یہاں بچوں کےلئے مختلف جھولے بھی نصب کئے گئے ہیں ۔

کراچی کے چڑیا گھر کی تاریخ کافی قدیم ہے ۔ 1775 میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے تاجروں کو سندھ کے حکمران کلہوڑو خاندان نے اس لیے بے دخل کردیا تھا کیونکہ وہ انگریزوں کے حوالے سے شکوک و شبہات کے شکار تھے۔بعد ازاں تالپور عہد اقتدار کی ابتدا میں مقامی ہندو تاجروں نے بھی برطانوی شہریوں کی موجودگی پر عارضی پابندی عائد کردی لیکن جب تالپور خاندان نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے سامنے خود کو جھکا لیا تو ناتھن کرو کو برطانوی ایجنٹ بنا کر 1799 میں کراچی اور ٹھٹھہ بھیجا گیا۔کروکر کی زیر قیادت ایسٹ انڈیا کمپنی نے کراچی کے صحرا جیسے مضافاتی علاقے میں 1799 میں ایک کارخانے کا آغاز کیا۔اس کارخانے کے گرد و نواح میں بڑے بڑے باغات لگائے گئے۔ مشتبہ سرگرمیوں پر ناتھن کرو کو 1800 عیسوی میں یہاں سے بے دخل کر کے کارخانہ بند کردیا گیا ۔ بعد ازاں یہ باغات حکومتی تحویل میں چلے گئے ،جنھیں مقامی طور پر سرکاری باغ کے نام سے پکارا جاتا تھا ۔ یہ باغ1833 میں کمانڈر چارلس کے تیار کردہ کراچی کے نقشے کابھی حصہ تھے۔ 1839 میں انگریزوں نے کراچی شہر میں اپنے فوجیوں کےلئے کوارٹرز تعمیر کیے تو 43 ایکڑ رقبے پر محیط باغ کو برطانوی فوجیوں کےلئے پھلوں اور سبزیوں کی کاشت کےلئے زیر استعمال لایا گیا ۔ اس کام کی کی نگرانی اسسٹنٹ کمشنر جنرل اور سپرنٹنڈنٹ آف گارڈنز میجر ڈبلیو بلینکنز کے سپرد کی گئی۔انہوں نے باغ کی تزئین نو کی اور اس میں آبپاشی کا انتظام لیاری ندی کے ذریعے کیا گیا،ی ندی کی مٹی یہاں ڈالی گئی ۔مختلف مما لک سے پھلوں ،پھولوں کے پودے منگا کر لگا ئے ۔ چند ہی سالوں میں اس باغ کو اتنی ترقی دی کہ یہاں پیدا ہو نے والی سبزیاں اور پھل بر طانوی فوجیوں کو کھلا نے کے علاوہ فروخت بھی کی جا نے لگی، جس سے باغ کو ایک معقول آمدنی ہو نے لگی۔ مورخین کہتے ہیں کہ 1845سے1847تک اس باغ میں اگا ئی جا نے والی سبزیاں ،پھل بلخصوص کیلیفورنیا سے منگائی گئی انگور کی بیلوں میں اتنا پھل لگا کہ اسے فروخت کر نے سے 17ہزار353 روپے کی آمدنی ہو ئی۔

فوجیوں اور ان کے خاندانوں کو تفریحی سہو لیات فرا ہم کر نے کے لئے 1860میں میونسپلٹی کے حوالے کر تے ہو ئے فوجیوں اور ان کے خاندانوں کو گھومنے پھرنے کی اجازت دے دی گئی، جس کے پیش نظر سر شام فو جی افسران اور ان کی بیگمات، جنہیں مقامی لوگ میم صاحبہ کہا کرتے تھےسیروتفریح کے لئے باغ میں آیا کرتے تھے اور انہیں فو جیوں میں بعض فو جی زبردست شکاری بھی تھے جو کہ جب بھی شکارکر نے جا تے تو شکار سے واپسی پر چھوٹے موٹے جانور اور پرندے یہاں لا کر چھوڑتے تھے ،جس سے باغ کی رونقیں دو با لا ہو گئیں۔ مورخین کا کہنا ہے کہ 1890 تک اس باغ میں ان ہی شکاریوں نے سینکڑوں کی تعداد میں جانور اور پرندے چھوڑے جو کہ پہلے تو کھلے عام گھومتے تھے، پھر انہیں پنجروں میں قید کر دیا گیا۔ اسی زما نے میں مقامی لوگوں کی جا نب سے باغ میں سیر و تفریح کی سہو لت صرف انگریز فوجیوں اور ان کے خاندان کو ملنے پر زبر دست احتجاج بھی کیا گیا ،جس پر مقامی لوگوں کو بھی ایک خاص اوقات کار کے تحت باغ میں تفریح کی اجازت مل گئی اس نے یہاں ایک ڈیری فارم کی بنیاد بھی رکھی۔ انگریز سرکار کی جانب سے باغ کی مرمت و انتظام کےلئے سو روپے ماہانہ فنڈز فراہم کیے جاتے تھے ۔1847 میں میجر بلینکنز نے اعلیٰ حکام کو رپورٹ پیش کی کہ انہوں نے دو سال تک باغ کےلئے کوئی مدد نہیں لی اس کے بجائے اس دورانیے میں اس نے حکومت کےلئے 17,032 روپے کا منافع کما کر دیا ۔مذکورہ منافع فوجیوں کے کھانے کےلئے سبزیوں‘حکومتی مویشیوں کے چارے کی نجی پارٹیوں کو فروخت اور مقامی اسپتال کو کبوتروں‘ خرگوشوں وغیرہ کی سپلائی سے حاصل کیا گیا۔ اس وقت باغ میں کم از کم 15 کنویں موجود تھے اور یہاں پانی کی فراہمی کا بہتر نظام بھی موجود تھا۔ جے ای اسٹاکس اپنی کتاب’’نوٹ آن دی بوٹنی آف سندھ‘‘(1846) میں لکھتے ہیں’’سر چارلس نیپئر بہترین کام کر رہے ہیں‘ انہوں نے شاراہوں اور گلیوں میں شجر کاری کرکے مزید ایک اور حکومتی باغ کی بنیاد رکھی ہے جو کہ گارڈن جھاڑیوں کا ڈپو ہے اور فوجیوں کےلئے تازہ یورپی سبزیوں کی سپلائی کا ذریعہ بھی ہے۔‘‘

حکومت نے اس باغ کو 1861 میں میونسپلٹی کے سپرد کردیا اور شرط یہ رکھی کہ اسے کرائے پر نہیں دیا جائے گا نہ ہی اسے کسی اور کو منتقل کیا جاسکے گا۔اس باغ کو 1869 میں ایک عوامی باغ میں تبدیل کردیا گیا اور تاریخی شواہد کے مطابق حوالگی کے کچھ عرصے بعد اس کا نیا نام کوئین وکٹوریہ گارڈن رکھ دیا گیا، جسے مقامی طور پر رانی باغ کے نام سے پکارا جاتا تھا ۔ سیر و سیاحت کے شوقین مصنف رچرڈ برٹن نے 1877 میں رانی باغ میں میٹھے پانی کی دستیابی اور موسیقی کے لیے بینڈ کی موجودگی کا بھی ذکر کیا ہے۔ میونسپلٹی چونکہ اس میں کچھ بہتری لانا چاہتی تھی اس لئے1878 میں یہاں ایک چڑیا گھر کی تیاری کا منصوبہ تیار کیا گیا ،جس کی انتظامی ذمہ داری ایک ٹرسٹ کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ امام آغا علی شاہ نے کراچی میں ایک محل تعمیر کروایا جو ‘پیر جی وادی’ کے نام سے مشہور تھااورجو زولوجیکل گارڈنز کے سامنے واقع تھا۔ انہوں نے کمشنر سندھ ہنری نیپئر بروس ارسکرین سے میں باغ کے دروازے کی تعمیر کی اجازت مانگی ۔اس کام کا خرچہ امام آغا علی شاہ نے اٹھا یا اور اس کا سنگ بنیاد اب بھی موجود ہے، جس پر گیٹ کی تعمیرکےلئے عطیہ درج کیا گیا ہے۔ایسا ہی کچھ دیگر سامراجی باغات میں بھی ہواایک چھوٹے چڑیا گھر کی بنیاد 1884 میں بنجامن ٹریل نے بطور گارڈن کمیٹی کے چیئرمین (وہ انڈو۔ یورپین ٹیلی گراف کمپنی کے ڈائریکٹر بھی تھے) کی حیثیت سے رکھی، جس میں ان کی معاونت ایچ ایم برڈ ووڈ نے کی۔ کرکٹ گراؤنڈز‘بینڈ کےلئے اسٹینڈ اور مضبوط راستوں کی بنیاد رکھی گئی۔ بنجامن ٹریل بیرون ملک سے پودوں کی درآمد کے حامی تھے اور ماہرین نباتات سے مشورے لیتے تھے۔ کراچی کے رہائشیوں نے جانوروں کے ابتدائی ذخیرے کا عطیہ پیش کیا اور یوں ایک خوبصورت اور بہترین باغ ابھر کر سامنے آیا۔ 1890 میں چڑیا گھر میں93 ممالیہ اور 465 پرندے موجود تھے۔ ڈبلیو اسٹارچن کو پہلے پروفیشنل سپرٹنڈنٹ کی حیثیت سے 1889 میں یہاں تعینات کیا گیا، جنھوں نے دس سال تک یہاں خدمات سرانجام دیں۔ ان کے جانشین یورپی سپرٹینڈنٹ بہتر کام کرنے سے قاصر رہے اور جلد ہی اپنی تعیناتی کے فوری بعد کام چھوڑ کر چلے گئے۔اس کے بعد پہلی بار مقامی افراد کو سپر نٹنڈنٹ کی پوزیشن پر رکھا گیا۔ آغاز میں علی محمد نے 1911 میں اپنی وفات تک کام کیا۔ ان کے بھائی علی مراد جو پہلے چڑیا گھر کے جانوروں کی نگرانی کا کام کرتے تھےنے 1911 میں سپرٹینڈنٹ کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ اس باغ کا دل ایک خوبصورت انداز سے تیار کردہ وکٹورین طرز کا فوارہ تھا جو 1883 میں میونسپلٹی اور این این پوچا جی نے مشترکہ طور پر بمبئی کے مخیر شخص کاؤس جی جہانگیر ریڈی منی کی یاد میں تعمیر کروایا تھا۔ 18 فٹ اونچا فوارہ 11 ہزار گیلن کے ایک ٹینک سے منسلک تھا جو پانی کو حرکت میں رکھتاتھا ۔سندھ کے کمشنر سر ایون جیمز (1891 سے 1900) نے صوبے میں نباتات اور جانوروں میں بہت زیادہ دلچسپی کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کیلیفورنیا کے انگور یہاں پرمتعارف کروائے اور ایک وائن یارڈ کو باغ کا حصہ بنایا جو کہ اپنے لذیذ انگوروں کی وجہ سے جلد ہی مشہور ہوگیا۔ یہاں متعدد اقسام کے انگور پائے جاتے تھے، جنھیں مقامی افراد کراچی گلاٹی کے نام سے جانتے تھے۔

مقامی مخیر افراد کی جانب سے عطیات کے کچھ شواہد پرانے سنگ بنیاد کی مدد سے بھی ملتے ہیں‘ جن میں سے ایک میں لکھا تھا’’اس پنجرے کی دھات سیٹھ ننھا مل بنارسی داس نے 1903 میں امداد میں پیش کی‘‘ ۔ ایک اور پر لکھا ہے ’’یہ پنجرہ خیرپور کے حکمران ہز ہائی نس میر سر فیض محمد خان تالپور نے 1905 میں پیش کیا‘‘۔1910 میں قائم ہونے والے بیومانٹ لانز مذکورہ تمام تبدیلیوں کے باوجود اپنی جگہ قائم رہے۔ ان لانز کا نام کراچی میونسپلٹی کے صدر اور چیئرمین گارڈن کمیٹی (10-1903) ٹی ایل ایف بیومانٹ کے نام پر رکھا گیا۔ تاہم چڑیا گھر کے بارے میں 1913 سے قبل حوالے بہت کم ملتے ہیں اور اس کے بعد Furrel اور Ludlow نے تحریر کیا کہ’’ اگرچہ کراچی ایک نیا شہر ہے، جہاں سیاحوں کی دلچسپی کے لیے زیادہ مقامات نہیں، مگروکٹوریہ گارڈن دیکھنے کے لائق مقام ہے۔ صدی کے ابتدائی حصے میں یہ گارڈن اور اس کے گرد و نواح پر پھیلا نباتاتی باغ عام افراد کے لیے اتوار کے روز کا مقبول مقام سیاحتی مرکز تھا۔ 1921 میں چڑیا گھر میں تین مالی، ایک کلرک پر مشتمل عملہ اور ایک دکان تھی۔1934 میں کراچی کے دورے کے دوران مہاتما گانڈھی کا اسی باغ میں شاندار استقبال کیا گیا، جس کا انتظام کراچی میونسپل کارپوریشن نے کیا تھا۔ اس تقریب کے دوران اعلان کیا گیا کہ اس جگہ کا نام وکٹوریہ گارڈن سے بدل کر مہاتما گاندھی گارڈن رکھنے کا فیصلہ کیا گیا اور یہی نام قیام پاکستان سے پہلے اور اس کے بعد ایک طویل عرصے تک رائج رہا اور جب قائد اعظم محمد علی جناح کی کوششوں اور کاوشوں سے پاکستان کا قیام عمل میں آیا تو اس کے چند سالوں بعدگاندھیگارڈن کا نام بدل کر کراچی زولوجیکل گارڈن رکھ دیا گیا اور کیو نکہ اس گارڈن کا حسن انتظام بلدیہ عظمی کے ہی سپرد رہا ،لہذا اس نے اس کی ترقی کے لئے مزید اقدامات کئے اور دوسرے مما لک سے پرندے اور جانور منگواکر انہیں چڑیا گھر کی زینت بنا یا گیا، جس کے پیش نظر اس وقت اس کا شمار ملک کے اہم چڑیا گھروں میں کیا جا تا تھا ۔چڑیا گھر کے انتظا مات کو چلا نے کے لئے بلدیہ عظمی کی جا نب سے جہاں عوام سے ٹکٹوں کی صورت میں رقم وصول کی جا تی ہے وہیں عوام کو مزید تفریحی سہو لیات فرا ہم کر نے کے لئے لگا ئے جا نے والے الیکٹرا نک جھو لے ،اسٹالز،پلے لینڈ اس کی آمدن کا ذریعہ ہیں۔

چڑیا گھر کے اطراف میں قائم دو منزلہ دکانیں اور دفا تربھی ہیں، جسے 1960میں جنرل اعظم خان نے لوگوں کو الاٹ کئے تھے اور عرصہ 60سال سے نچلے حصے میں بنا ئی گئی یہ دکانیں اسپیئر پارٹس ،پمپس جبکہ اس کی اوپری منزلوں پر امپورٹ ایکسپورٹ کے دفاتر کے ساتھ ساتھ بینڈ با جے بجا نے والے رزق حاصل کررہے تھے، مگر اچا نک بلدیہ عظمی نےنے چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس ثاقب نثار جنہوں نے شہر کراچی کی سڑکوں اور فٹ پا تھوں پر قائم تجاوزات کے خاتمے کا حکم جا ری کیا تھا کو آڑ بنا کر نہ صرف ایمپریس مارکیٹ ،کھوڑی گارڈن،جوڑیا بازار ،لائٹ ہاؤس کی مارکیٹوں کو تہس نہس کیا بلکہ اس مارکیٹ کی طرف بھی آگئے ان کے خیال میں اس سے چڑیا گھر کے جانوروں اور پرندوں پر برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور پھر اچا نک رینجرز ،پو لیس کی بھا ری نفری کی موجودگی میں پوری مارکیٹ مسمار کر دی گئیں،جس سے جہاں ہزاروں دکاندار کھلے آسمان کے نیچے آگئے، وہیں ان دفاتر اور دکانوں میں کام کر نے والے ہزاروں کی تعداد میں لوگ بے روزگاری کا عذاب جھیلنے پر مجبور ہوگئے ۔

کولاچی کراچی سے مزید