مانچسٹر (نمائندہ جنگ) انجمن محبان طریقت انٹرنیشنل موہڑہ شریف کے زیراہتمام جامعہ قاسمیہ زاہدیہ اسلامک سینٹر میں خواجگان موہڑہ شریف کے سالانہ عرس و جشن آمد رسولؐ کی محفل ولی عہد پیر جہانزیب بادشاہ قاسمی کی زیر صدارت منعقد ہوئی۔ صدر اتحاد المشائخ پاکستان،ممبر اسلامی نظریاتی کونسل حکومت پاکستان ڈاکٹر پیر شہزادہ فضیل ایازقاسمی والیٔ موئڑہ شریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ برصغیر پاک و ہند میں صوفیائے کرام نے اسلام کی ترویج و اشاعت میں جو کردار ادا کیا وہ تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ ان نفوس قدسیہ نے اپنی ساری زندگی اسلام اور مخلوق خدا کی خدمت کے لئے وقف کر رکھی تھی، وہ عوام الناس کی خدمت میں کمربستہ ہوئے، ان کے دکھ، درد میں شریک ہوئے، ان کے اس طرزعمل اور اخلاق عالیہ اور پاکیزہ زندگی کے اثر سے دلوں کی دنیا بدل گئی، اپنے تو اپنے، پرائے بھی ان کے گرویدہ ہوگئے، اور اسلام کی تعلیمات کو اپناکر صراط مستقیم پر گامزن ہوگئے۔آج اولیائے کرام کی ان ہی تعلیمات کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ اولیائے کرام نے اور علمائے حق نے ہر دور میں انسانیت کی رہبری کے لئے رشد و ہدایت کی قندیلیں روشن کیں، انہیں خون جگر سے سینچا اور ہر حال میں علم ہدایت بلند رکھا اور مخلوق خدا کو ہمیشہ سیدھا راستہ دکھایا اور اس مقصد کے حصول کے لئے بڑی دلیری اور جرات سے ظلم و جبر کی صعوبتیں برداشت کیں، مگر ان کے پایہ استقلال میں کمی نہ آئی اور ہمیشہ حق و صداقت کے پھ راستے پر قائم اور اس پر عمل کرنے کی تلقین کرتے رہے۔ ان خیالات کا اظہار سالانہ عرس خواجگان موہڑہ شریف،جشن آمد رسول،زیر اہتمام انجمن محبان طریقت انٹرنیشنل موہڑہ شریف اولڈہم،میں جامعہ قاسمیہ ،زاہدیہ اسلامک سنٹر اولڈہم میں ڈاکٹر فضیل ایاز قاسمی نے خطاب کرتے ہوئے کیا، جنہوں نے اسلامی تصوف کی اعلیٰ اور روشن تعلیمات اور اپنے جد کریم سرکار بغداد کی تعلیمات کے مطابق نہ صرف خود عمل کیا بلکہ ان کے نظریات و افکار کو دنیا بھر میں پہنچاکر اپنی ذمہ داریوں کو پورا کیا۔ علامہ شفیق الاسلام نے کہا کہ اولیا و صوفیا کی پوری جماعت میں سب سے زیادہ محبوبیت اور شہرت جس مرد خدا اور مرد حق کے حصے میں آئی وہ سرکار سیدنا غوث اعظم سیدنا عبدالقادر جیلانیؒ ہیں، کیا عام، کیا خواص، علما و امرا، حکماء سب طبقوں میں آپ کو یکساں اور لازوال عزت حاصل تھی۔ آپ کے اہم لقب ’’محی الدین‘‘ یعنی دین کو زندہ کرنے والا تھا۔آپ کا وجود اسلام کے لئے باد بہاری تھا۔آج دنیا بھر میں احیائے دین کی جو تحریک آپ نے گیارہویں شریف کے نام سے جاری کی تھی، آپ کے فیضان کے مظہر کے طور پر جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرا سارا خاندان اس آستانے سے فیضیاب ہے اور یہ عالیٰ نسب گھرانہ ہمیشہ دکھ، سُکھ میں ساتھ نبھاتا ہے۔علامہ قاری شفاء اللہ ،خلیفہ چوہدری محمد فاروق، خلیفہ ساجد قاسمی،رجہ محمد نوید قاسمی،حاجی محمد قربان،صوفی محمد طارق جہلمی نے بھی اظہار خیال کیا۔ پیر جہاں زیب بادشاہ نے اجتماعی دعا کی،پوری امتہ مسلمہ بالخصوص پاکستان کی سالمیت استحکام پاکستان اور افواج پاکستان کے بہادر جوانوں کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ پاک فوج اپنی جانوں کےنذرانے پیش کرکے ملک ،قوم کے دفاع کے دن رات کام کر رہی ہے۔