آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات16؍ ربیع الاوّل 1441ھ 14؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

شدت پسند عناصر کا پروپیگنڈا 10 لاکھ سے زاید بچے پولیو کے قطروں سے محروم

شدت پسند عناصر کا پروپیگنڈا 10 لاکھ سے زاید بچے پولیو کے قطروں سے محروم
پولیو قطروں سے بچّوں کے بیمار ہونے کی افواہ پھیلنے کے بعد ایک بچی کو اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے

گوہر علی خان، پشاور

پولیو جیسا مُہلک وائرس ہمارے نونہالوں، قوم کے مستقبل کے لیے خطرہ بن چُکا ہے ۔ اس کا تدارک معاشرے کے تمام طبقات کی نہ صرف مشترکہ ذمّے داری بلکہ قومی فریضہ ہے، جس کی ادائیگی کے لیے نہ صرف یہ کہ اپنے 5برس تک کی عُمر کے بچّوں کو انسدادِ پولیو کے قطرے پلوائے جائیں، بلکہ انسدادِ پولیو مُہم کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا کرنے والوں کے خلاف یک جا ہو کر آواز بھی بلند کی جائے اور ان کی ہر سازش کو ناکام بنا دیا جائے، کیوں کہ پولیو وائرس سے بچائو کے قطرے نہ پینے سے بچّے زندگی بَھر کے لیے اپاہج ہو سکتے ہیں، جو مستقبل میں معاشرے کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرنے کی بہ جائے سماج پر بوجھ بن جائیں گے۔ بد قسمتی سے بعض شدّت پسند اور مُلک دشمن عناصر سب کچھ جانتے ہوئے بھی مُلک کے دوسرے حصّوں کی طرح خیبر پختون خوا میں بھی انسدادِ پولیو مُہم ناکام بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور اس سلسلے میں پولیو ورکرز اور اُن کے محافظین کی جان لینے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ یہ عناصر اب تک خیبر پختون خوا میں اپنا قومی فریضہ ادا کرنے والے 60سے زاید پولیو ورکرز اور ان کی حفاظت پر مامور سیکوریٹی اہل کاروں کو شہید کر چُکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صوبے میں ربع صدی سے زاید عرصے سے انسدادِ پولیو مُہم جاری رہنے کے باوجود پولیو جیسے خطرناک وائرس کا خاتمہ نہیں ہو سکا اور شاید رواں برس پاکستان کو پولیو فری مُلک قرار دینے کی کوششوں کے باوجود بھی پاکستانی قوم کا یہ خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہو سکے، کیوں کہ شر پسند عناصر انسدادِ پولیو مُہم کے خلاف مسلسل متحرک ہیں۔پولیو ورکرز اور اُن کی حفاظت پر مامور اہل کاروں کی شہادت کے واقعات کے بعد رواں برس خیبر پختون خوا میں پولیو کے کیسز میں اضافے کے ساتھ بچّوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکاری والدین کی تعداد میں بھی تشویش ناک حد تک اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے مُلک بَھر میں پولیو وائرس سے متاثرہ بچّوں کی تعداد بڑھنے کے ساتھ پاکستان کو ایک مرتبہ پھر عالمی سطح پر سفری پابندیوں کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے۔

انسدادِ پولیو پروگرام کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے چاروں صوبوں بشمول آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور قبائلی اضلاع میں 2012ء میں پولیو کے کُل 58کیسز سامنے آئے تھے، جن میں سے پنجاب میں 2، سندھ میں 4، خیبر پختون خوا میں 27، قبائلی اضلاع میں 20، بلوچستان میں 4اور گلگت بلتستان میں پولیو سے متاثرہ ایک بچّہ سامنے آیا ، جب کہ آزاد کشمیر میں کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔ 2013ء میں پولیو کے 97کیسز میں سے پنجاب سے 7اور سندھ سے 10کیسز رپورٹ ہوئے، جب کہ خیبر پختون خوا میں کام یاب مُہم کے باعث تعداد 27سے کم ہو کر 11ہو گئی۔ تاہم، قبائلی علاقہ جات میں پولیو سے متاثرہ بچّوں کی تعداد 20سے بڑھ کر 68ہو گئی۔ البتہ 2013ء میں بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں پولیو کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔ پولیو وائرس کے اعتبار سے2014ء انتہائی خوف ناک سال ثابت ہوا، کیوں کہ اس برس پولیو کے 307واقعات سامنے آئے۔ اسی سال پاکستانیوں پر سفری پابندیاں عاید کی گئی اور ان کے بیرونِ مُلک سفر کے لیے پولیو ویکسین کا سرٹیفکیٹ لازمی قرار دیا گیا۔ گرچہ 2014ء میں پنجاب میں نئے پولیو کیسز کی تعداد 7سے کم ہو کر 5ہو گئی تھی، لیکن سندھ میں 10سے بڑھ کر 30، خیبر پختون خوا میں 11سے بڑھ کر 68، قبائلی علاقہ جات میں 65سے بڑھ کر 179اور بلوچستان میں 4سے بڑھ کر 25ہو گئی۔ البتہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں صورتِ حال قابو میں رہی، جہاں 2014ء میں پولیو کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔ مؤثر انسدادِ پولیو مُہم کے باعث 2015ء میں پورے مُلک میں پولیو کیسز کی تعداد 307سے کم ہو کر 54پر آ گئی۔ 2015ء میں پنجاب میں پولیو کے کیسز 5سے کم ہو کر 2، سندھ میں 30سے کم ہو کر 12، خیبر پختون خوا میں 68سے کم ہو کر 17، قبائلی علاقہ جات میں 179سے کم ہو کر 16اور بلوچستان میں 25سے کم ہو کر 7ہو گئے۔ 2016ء میں مُلک بھر میں پولیو کے 20کیسز سامنے آئے۔ نیز، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے بعد پنجاب بھی پولیو فِری ہو گیا، جب کہ سندھ میں تعداد 12سے کم ہو کر 8، خیبر پختون خوا میں 17سے کم ہو کر 8، قبائلی علاقہ جات میں 16سے کم ہو کر 2اور بلوچستان میں بھی7سے کم ہو کر2رہ گئی۔ آیندہ برس بھی کام یابی کا یہ سفر جاری رہا اور 2017ء میں پورے مُلک میں پولیو کیسز کی تعداد 20سے کم ہوکر 8پر آگئی۔ اس سال پنجاب میں ایک، سندھ میں 2، خیبر پختون خوا میں ایک اور بلوچستان میں پولیو کے3 کیسز سامنے آئے، جب کہ حیرت انگیز طور پر گلگت بلتستان سے بھی، جو پہلے پولیو فِری تھا، ایک کیس سامنے آگیا۔ 2018ء میں پولیو کیسز کی تعداد 8سے بڑھ کر 12تک پہنچ گئی۔ گزشتہ برس پنجاب میں پولیو کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا، جب کہ سندھ سے ایک، خیبر پختون خوا میں 2، قبائلی علاقہ جات سے6اور بلوچستان سے 3کیسز سامنے آئے ، جب کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو پولیو فری قرار دے دیا گیا۔ رواں سال (تادمِ تحریر) 2018ء کے مقابلے میں مُلکی سطح پر پولیو کیسز کی تعداد 12سے بڑھ کر 20ہو چُکی ہے۔ 2019ء میں پنجاب سے، جہاں گزشتہ برس پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا تھا، پولیو کے 3کیسز سامنے آچُکے ہیں۔ اسی طرح سندھ میں بھی پولیو سے متاثرہ بچّوں کی تعداد 3تک پہنچ چُکی ہے، جب کہ خیبر پختون خوا میں پولیو کیسز کی تعداد 13اور قبائلی اضلاع میں 6سے کم ہو کر 5ہو گئی ہے۔ البتہ رواں سال بھی بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر بہ دستور پولیو فِری ہیں۔ حال ہی میں سامنے آنے والی ایک رپورٹ کے مطابق مُلک کے 12بڑے شہروں کے نالوں کے پانی میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے، جن میں پشاور، مردان، بنّوں اور شمالی وزیرستان شامل ہیں۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مُلک کے 59مختلف مقامات پر موجود نالوں کے پانی کے نمونے حاصل کر کے لیبارٹری بھجوائے گئے ، جن میں پولیو وائرس کی موجودگی کا انکشاف ہوا ۔ رپورٹ کے مطابق نالے کے پانی میں پولیو وائرس کی موجودگی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ ان شہروں میں موجود بچّوں کی ایک بڑی تعداد کی قوّتِ مدافعت مطلوبہ معیار سے کم ہے، جو کسی بھی وجہ سے پولیو سے بچائوکے قطرے پینے سے محروم رہ گئے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پولیو سے بچائو کے قطروں سے محروم رہ جانے والے بچّے نہ صرف اپنے لیے بلکہ نالوں کے پانی کے ذریعے پولیو وائرس کے پھیلائو سے دوسرے بچّوں کے لیے بھی خطرہ بن رہے ہیں۔

حکومت اور متعلقہ اداروں کی جانب سے انسدادِ پولیو مُہم کام یابی سے جاری تھی کہ کچھ عرصہ قبل پشاور کے ایک مقامی اسکول میں بچّوں کو پولیو سے بچائو کے قطرے پلانے کے دوران بعض بچّوں کی حالت خراب ہونے کی افواہ شہر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ نتیجتاً، شہر کے اسپتال بچائو کے قطرے پینے والے بچّوں سے کھچا کھچ بَھر گئے۔ والدین رات گئے تک سراسیمگی کے عالم میں اپنے بچّوں کو اسپتال لاتے رہے اور اس دوران صوبائی حکومت اور محکمۂ صحت والدین کو مطمئن کرنے کے لیے میڈیا پر مسلسل ان افواہوں کو بے بنیاد اور سازش قرار دینے میں مصروف رہے، مگر مُلک دشمن قوّتیں اپنے مذموم مقاصد میں کام یاب رہیں اور حکومت و انسدادِ پولیو کے ادارے والدین کو مطمئن کرنے میں ناکام نظر آئے۔ والدین کی توجّہ حکومت کی یقین دہانیوں کی بہ جائے افواہوں پر مرکوز تھی۔ اس صورتِ حال نے صوبائی حکومت اور محکمۂ صحت کو ہلا کر رکھ دیا۔ کچھ ہی دیر میں مُلک بَھر میں یہ افواہ پھیل گئی اور ہزاروں والدین حقیقت جانے بغیر ہی مختلف اسپتالوں میں پہنچ گئے۔ اسی طرح اسکولز میں موجود بچّوں کے والدین بھی تشویش میں مبتلا ہو گئے کہ کہیں اُن کے بچّوں کو بھی تو پولیو سے بچائو کے قطرے نہیں پلائے گئے اور وہ خوف زدہ ہو کر اسکولز پہنچ گئے۔ اس افواہ کو پھیلانے میں جہاں سوشل میڈیا نے اہم کردار ادا کیا، وہیں بعض نجی اسکولز کے سربراہان نے بھی حکومتی رِٹ کو چیلنج کرتے ہوئے پولیو ورکرز کو اسکولز آنے سے روکنے اور بچّوں کو اُن کے گھروں میں جاکر قطرے پلانے کے لیے میڈیا کا سہارا لیا۔ نیز، ایک سازش کے تحت ویڈیو بنا کر افواہ پھیلائی گئی، جس کے بعد 40ہزار سے زاید بچّے صرف خوف کی وجہ سے مختلف اسپتالوں میں لائے گئے۔

پشاور کے اس واقعے کے بعد پولیو سے بچائو کے قطرے پلانے سے انکار کرنے والے والدین کی تعداد میں خوف ناک حد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور ایک محتاط اندازے کے مطابق صرف خیبر پختون خوا میں قطرے پلانے سے انکاری والدین کی تعداد 7لاکھ تک پہنچ چُکی ہے، جو اپریل میں 57ہزار تھی۔ مذکورہ واقعے کے بعد لاکھوں بچّے بچائو کے قطرے پینے سے محروم ہیں، مگر اس سے بھی زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ اس قدر گھنائونی سازش کے باوجود حکومت نے بے حِسی کا مظاہرہ کیا اور مُلک بَھر میں والدین کو ذہنی اذیّت میں مبتلا کرنے والے مُٹّھی بَھر شر پسند عناصر اور بعض نجی اسکولز کے ذمّے داران کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ البتہ محض خانہ پُری کے لیے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی، جس کی رپورٹ حال ہی میں منظرِ عام پر آئی ہے، جسے چیف سیکریٹری کے سامنے پیش کیا گیا۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بعض نجی اسکولز کی انتظامیہ اور مذہبی رہنمائوں کے منفی کردار کی وجہ سے ایک قومی فریضے کو شدید نقصان پہنچا۔ اس رپورٹ میں امن و امان کی صورتِ حال خراب کرنے کا ذکر کیا گیا ہے اور ایک درجن سے زاید نجی اسکولز کی انتظامیہ کے خلاف سخت ترین کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔ نیز، قومی فریضے کو نقصان پہنچانے والے اسکولز کی رجسٹریشن فوری طور پر منسوخ کرنے سفارش بھی کی گئی ہے۔ گرچہ رپورٹ میں بعض مقامی ناظمین اور مساجد میں اعلان کر کے عوام میں خوف و ہراس پھیلانے والے افراد کے خلاف بھی کارروائی کی سفارش کی گئی ہے، مگر حیرت انگیز طور پر تحقیقاتی رپورٹ میں اس مسئلے کے مستقل حل اور انسدادِ پولیو مُہم کے خلاف مستقل بنیادوں پر پروپیگنڈا کرنے والوں، پولیو ورکز کو نشانہ بنانے والوں اور والدین کو پولیو سے بچائو کے قطرے نہ پلانے پر اُکسانے والے مُلک دشمن اور شر پسند عناصر کے خلاف کسی قسم کے ٹھوس اقدامات کی سفارشات سامنے نہیں آئیں۔ البتہ انکوائری رپورٹ میں ایک معقول تجویز یہ دی گئی ہے کہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے کے لیے ائمہ مساجد اور مساجد کے لائوڈ اسپیکرز کے استعمال کے حوالے سے ایس او پیز بنائے جائیں۔ نیز، ایف آئی اے کو سوشل میڈیا پر انسدادِ پولیو مُہم کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا خصوصی ٹاسک دیا جائے۔

تاہم، ضرورت اس اَمر کی ہے کہ پاکستان کے مستقبل کے معماروں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے سے روکنے اور عالمی سطح پر پاکستان کی بدنامی کا باعث بننے والے چند شدّت پسند عناصر کی سرکوبی کے لیے قانونی سازی کی جائے۔ نیز، والدین کو اپنے بچّوں کو پولیو سے بچائو کے قطرے نہ پلوانے پر اُکسانے، انسدادِ پولیو مُہم کے خلاف پروپیگنڈا کرنے اور پولیو ورکرز اور اُن کے محافظین کو نشانہ بنانے والے شر پسند عناصر کے خلاف دہشت گردی کی خصوصی عدالتوں میں مقدّمات چلائے جائیں اور اس قسم کے اقدامات کو دہشت گردی کے زمرے میں شامل کرنے کے لیے مؤثر قانون سازی کی جائے۔ واضح رہے کہ دُنیا کے متعدد ممالک اپنی ٹھوس اور کام یاب حکمتِ عملی کے باعث اس خطرناک مرض سے نجات حاصل کر چُکے ہیں، مگر پاکستان بہ دستور اُن چند بد قسمت ممالک میں شامل ہے کہ جو مُٹّھی بھر شدّت پسند عناصر کے بے بنیاد پروپیگنڈے کی وجہ سے ہنوز اس خطرناک وائرس کے خلاف برسرِ پیکار ہے، جس کی سزا پوری قوم کو نہ صرف اقوامِ عالم میں بدنامی کی صورت مل رہی ہے، بلکہ ہمارے بچّوں کا مستقل بھی دائو پر لگ گیا ہے۔ اب پولیو کے حوالے سے پاکستانی قوم عالمی سطح پر مزید بدنامی برداشت کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتی اور اب وہ وقت آ گیا ہے کہ انسدادِ پولیو مُہم کے خلاف سازش کرنے والے عناصر کو بے نقاب کر کے اُن سے آہنی ہاتھو ں سے نمٹا جائے۔ ایسے عناصر کے خلاف دہشت گردی ایکٹ کے تحت کارروائی ہونی چاہیے، تاکہ پاکستان کو ’’پولیو فِری مُلک‘‘ بنانے کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو سکے۔ علاوہ ازیں، قومی فریضے کی ادائیگی کی راہ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے پولیو ورکرز اور اُن کی حفاظت پر مامور سیکوریٹی اہل کاروں کے ورثاء کو پولیو فنڈز سے خصوصی شہداء پیکیج بھی دیا جانا چاہیے، کیوں کہ یہی ہمارے اصل ہیروز ہیں، جو سخت موسم و حالات کی سختیاں جھیلتے ہوئے ، تمام خطرات کے باوجود دُور دراز علاقوں میں جا کر قوم کے نونہالوں کا مستقبل محفوظ بنا رہے ہیں۔ یاد رہے، اگر اس جان لیوا وائرس سے چھٹکارا حاصل نہ کیا گیا، تو مستقبل میں پاکستان کو ایک مرتبہ پھر عالمی سطح پر سفری پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ لہٰذا، ممکنہ پابندیوں کی ابھی سے پیش بندی کرتے ہوئے پاکستان کو رواں سال پولیو فِری مُلک قرار دلوانے کے لیے ہر سطح پر بھرپور اقدامات کرنے چاہئیں، تاکہ دوسری اقوام کی طرح پاکستانی قوم بھی ایک باوقار قوم کی طرح سَر اُٹھا کر جی سکے۔

سنڈے میگزین سے مزید