آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات14؍ ذیقعد1440ھ18؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’اچھے والدین‘ بننا آسان نہیں ہے، یہ ایک محنت طلب کام ہے۔ اچھے والدین ہر ممکن حد تک بچے کے بہترین مفاد میں فیصلے کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کو پرفیکٹ بننا پڑے گا، دنیا میں کوئی بھی پرفیکٹ نہیں ہوتا۔ اسی طرح، والدین کو بھی یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کوئی بھی بچہ پرفیکٹ نہیں ہوتا، اس لیے والدین کو اپنے بچوں سے اُمیدیں وابستہ کرتے وقت یہ بات ضرور ذہن نشین رکھنی چاہیے۔ انھیں اپنے بچوں کے لیے اعلیٰ معیارات مقرر کرنے سے پہلے اپنے لیے اعلیٰ معیارات مقرر کرنے پڑیں گے۔ یہاں اچھے والدین بننے کے لیے چند مفید مشورے پیش کیے جارہے ہیں۔ یقیناً، ان میں سے کئی مشورے پر عمل کرنا نہ تو آسان ہے اور نہ ہی ان پر جلد عمل درآمد ممکن ہے۔ تاہم اگر آپ ان پر کام کرتے رہیں تو یقیناً یہ آپ کے اچھے والدین بننے میں ضرور معاون و مددگار ثابت ہوں گے۔

پیار کا اظہار کرنا

بچے کو اپنا پیار دِکھائیں۔ ’ضرورت سے زیادہ پیار‘ نامی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ پیار بچے کو کبھی بھی بگاڑ نہیں سکتا۔ ہاں، جب پیار کے نام پر آپ انھیں مادی چیزیں، ڈھیل، کم توقعات اور ضرورت سے زیادہ تحفظ دیں گےتو اس بات کے امکانات ہیں کہ آپ کا بچہ بگڑ جائے۔ بچے کو پیار دینا ایک سادہ سا عمل ہے، جیسے گلے لگانا، اس کے ساتھ وقت گزارنا اور اس کے مسائل کو سنجیدگی اور غور سے سُننا۔ پیار کے اس طرح اظہار سے بچوں میں اچھا احساس پیدا کرنے والے ہارمونز جیسے آکسی ٹوسن، اوپیوئڈ اور پرولیکٹن جاری ہوتے ہیں۔ یہ نیوروکیمیکل، بچوں میں اطمینان، سکون اور جذباتی گرماہٹ پیدا کرتے ہیں اور وہ بڑے ہوکر لچکدار شخصیت کے مالک بنتے ہیں۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ ایسے بچے والدین کے بہت قریب رہتے ہیں۔

رول ماڈل بنیں

اپنے بچوں کو صرف یہ نہ بتائیں کہ وہ کیا کریں، بلکہ آپ ان سے جو چاہتے ہیں وہ انھیں کرکے دِکھائیں۔ انسان کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہ دوسروں کی نقالی کرکے بھی سیکھ سکتا ہے۔ انسان کی پروگرامنگ اس طرح کی گئی ہے کہ وہ کچھ سمجھنے کے لیے کسی عمل کی کاپی کرتا ہے اور پھر اسے اپنی زندگی میں شامل کرلیتا ہے۔ خصوصاًبچے، اپنے والدین کے ہر عمل پر نظر رکھتے ہیں۔ اس لیے آپ اپنے بچوں کو جو بنانا چاہتے ہیں، پہلے خود ویسا بن کر دِکھائیں۔ اپنے بچوں کی عزت کریں، انھیں مثبت رویہ اور رجحان دِکھائیںاور ان کے جذبات کو سمجھیں۔

مثبت رجحان

بچے ایک ارب دماغی خلیوں (نیورون) کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں، جو نسبتاً بہت کم کنکشن رکھتے ہیں۔ یہ کنکشن ہماری سوچ پیدا کرتے ہیں، ہمارے عمل کا باعث ہوتے ہیں، ہماری شخصیات کو بناتے اور اس بات کا تعین کرتے ہیں کہ ہم کیا ہیں۔ اپنے بچوں کو مثبت تجربات دیں، وہ ان تجربات سے دنیا کو دیکھیں گے اور دوسروں کو مثبت تجربات منتقل کرینگے۔ اگر آپ انھیں منفی تجربات دینے کا راستہ اختیار کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ آپ انھیں شخصی ترقی کیلئے ضروری ماحول فراہم کرنے میں ناکام ہورہے ہیں۔ بچوں کیساتھ نغمے گائیں، دوڑیں، پارک جائیں، ہنسیں اور ان کے جذباتی نخرے مثبت انداز میں لیں۔ بچوں میں نظم و ضبط پیدا کرنے کیلئے مثبت رہنا مشکل ہوتا ہے۔ تاہم اچھے والدین ’پازیٹو ڈسپلن‘ پر عمل کرتے اور سزا دینے سے پرہیز کرتے ہیں۔

محفوظ پناہ گاہ بنیں

آپ کے بچے میں یہ احساس رہنا چاہیے کہ بطور والدین آپ اس کے اشاروں کو سمجھتے، فوری مثبت ردِ عمل دیتے اور اس کی ضروریات کے معاملے میں حساس ہیں۔ بچے کو گھر کے ایک فرد کے طور پر قبول کریں اور اس کی مدد کریں۔ آپ اپنے بچے کیلئے ایک محفوظ پناہ گاہ بنیں، جہاں سے وہ پوری دنیا کی کھوج لگا سکے۔ جو والدین اپنے بچوں کی ضرورت یا مشکل میں فوری ردِ عمل دِکھاتے ہیں اور انھیں اپنے ہونے کا فوری احساس دِلاتے ہیں، ان کے بچے بہتر جذباتی، سماجی اور دماغی صحت کے مالک ہوتے ہیں۔

ابلاغ اور ہم آہنگی

کمیونی کیشن کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ اپنے بچوںسے بات کریں اور ان کو بھی غور سے سُنیں۔ ’اوپن لائن کمیونیکیشن‘ رکھنے والے والدین کے تعلقات اپنے بچوں کے ساتھ انتہائی گرمجوش رہتے ہیں اور کسی بھی مسئلے کی صورت میں بچے سب سے پہلے اپنے والدین کے پاس آتے ہیں۔ بچوں کے ساتھ والدین کے بہتر ابلاغ کی ایک وجہ بھی ہے:دراصل اس طرح آپ اپنے بچے کے دماغ کے مختلف حصوں کے مابین ہم آہنگی پیدا کرتے ہیں۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ انسانی جسم کے مختلف اعضاء ، صحت مند جسم کو برقرار رکھنے کے لیے ایک دوسرے سے جُڑے رہتے ہیں اور مل کر کام کرتے ہیں۔ اسی طرح، جس بچے کے دماغ کے مختلف حصے ہم آہنگی سے کام کرتے ہیں، وہ بچہ موڈی کم اور تعاون و ہم احساسی دِکھانے والا زیادہ ہوتا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں