آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ20؍محرم الحرام 1441ھ 20؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستانی ٹیم کی پیشگوئی ممکن نہیں، پٹتی ہے یا پیٹتی ،ہلکا نہ لیا جائے

کراچی(جنگ نیوز) پاکستانی ٹیم ناقابل پیشکوئی، پٹتی ہے یا پیٹتی ،ہلکا نہ لیا جائے،بھارت 2سال میں 56میں سے 40میچ ،پاکستان 41میں سے 16 جیتا، 2017میں فادرز ڈےپر پاکستان فاتح رہا ،آج بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ فادرز ڈے پرہی ہوگا۔جیو’’پاک بھارت ٹاکرا‘‘ میں وسیم اکرم، محمدیوسف،رزاق ، سندیپ ،کپل ،سہواگ نےشہزاداقبال اور بھارتی میزبان سمت اوستھی سے گفتگو کی۔ پروگرام کے آغاز میں میزبان شہزاد اقبال کا کہنا تھاکہ آج ورلڈ کپ 2019کا سب سے بڑامقابلہ ہونے جارہا ہے، بعض ایکسپرٹ کا کہنا ہے کہ شاید یہ میچ فائنل سے زیادہ بڑا ہو کیوں کہ مقابلہ پاکستان بمقابلہ بھارت ہوگا، پاکستان کا ریکارڈانڈیا کے خلاف ورلڈ کپ میں بہت برا ہے کیوں کہ اب تک6میچز کھیلے گئے اور6 کے 6میچز پاکستان ہارگیا لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ آئی سی سی ایونٹس میں پاکستان کاریکارڈ پہلے بھی خراب تھا ، آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی میں بھی ہم کوئی میچ نہیں جیتے تھے لیکن پھر آیا 2017 کا آئی سی سی چیمپئن ٹرافی کا فائنل جو پاکستان نے

انڈیا کو بری طرح ہرایا،یہ ہی پاکستان کا ایک کلیئر فیکٹر ہے کہ پاکستان کبھی بھی کچھ بھی کرسکتا ہے اور دنیا میں کوئی بھی ٹیم ہو وہ اس چیز کو بہت ویلیو کرتی ہے کہ اگر پاکستان کا اچھا دن ہوا تو پاکستان بڑی سے بڑی اور مضبوط سے مضبوط ٹیم کو ہرا سکتا ہے۔شہزاد اقبال کا کہناتھا کہ جیو ’’ پاک بھارت ٹاکرا‘‘ میں پاکستان کی طرف سے وسیم اکرم،محمد یوسف ، عبد الرزاق، سکندر بخت موجود ہیں جبکہ بھارت کی جانب سے اے بی سی نیوز کے میزبان ”سمیت اوستھی“ ہیں اور ان کے پینل میںوریندر سہواگ ،سندیپ پٹیل ،کپل دیو موجود ہیں ۔پروگرام کے دوران سمیت اوستھی نے کہا کہ 6-0چل رہا ہے اور اب ستے پہ ستے کی باری ہے، 7-0ہونے والا ہے، شہزادپاکستان ورلڈ کپ میں ساتواں مقابلہ بھی ہارےگا جس پر شہزاد اقبال نے کہا کہ سمیت چیمپئنز ٹرافی میں بھی پاکستان کا ایسا ہی ریکارڈ تھا لیکن پھر ہم نے دیکھا کہ 18جون کو بھارت کو فائنل میں ہرا کر ہم نے وہ ریکارڈ تبدیل کردیا ۔ بھارتی میزبان نے کہا کہ پاکستان نےاس ورلڈ کپ میں ابھی تک 4میچ کھیلے ہیںاور پاکستان کے3 پوائنٹس ہیں جبکہ بھارت نے3میچ کھیلے ہیں اور بھارت کے5پوائنٹس ہیں تو کونسی ٹیم حاوی ہوئی کونسی ٹیم آ گے چل رہی ہے؟ جس پر شہزاد اقبال نے کہاکہ جی سمیت بالکل ٹھیک کہا انڈیا اس وقت فیورٹ ہے، ایکسپرٹ کا یہاں تک کہنا ہےکہ انڈیا ورلڈ کپ میں بھی فیورٹ ہے تاہم ایسا لگ رہا ہےکہ آئی سی سی نے بھارت کے ساتھ سازش کردی ہے،کیوں کہ 18 جون2017 کو جب آپ چیمپئنز ٹرافی کا فائنل ہارے تھے اس دن فادرز ڈے تھااور اتفاق دیکھیں 16جون 2019کو جب آج یہ میچ ہوگا اس دن بھی فادرز ڈےہوگا اس پر سمیت اوستھی نے کہا کہ انتظار کریں وقت بتائیگا کون کس کے ساھت ہے، چنتا نہ کریئے۔ پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وریندر سہواگ نے کہا کہ پاکستان انڈیا کے میچ میں انڈیا کی بیٹنگ کا مقابلہ پاکستان کی باؤلنگ سے ہوتا ہے، انڈیا کی باؤلنگ کیسی بھی ہو لیکن مقابلہ انڈیا کے بلے باز اور پاکستان کی باؤلنگ کے مابین ہوتا ہے، حسن علی کی فارم اتنی اچھی نہیں ہے لیکن محمد آمر بہتر گیند بازی کررہے ہیں۔ کپل دیو نے کہاکہ بھارت کی فارم تو چیمپئنز ٹرافی میں بھی تھی جب ہم ہارے تھے یہ کرکٹ ایسے نہیں کرسکتے کہedgeہے یا نہیں م اس دن آپ کا کونسا کھلاڑی بہتر کھیلے گا میں یہ مانتا ہوں کہ آج ہماری ہندوستان کی ٹیم پاکستان سے بہتر نظر آرہی ہے لیکن پھر بھی تحمل چاہیے صورتحال دیکھنی ہوتی ہے کہ پورے پچاس اوورز کھیلیں گے یا نہیں کھیلیں گے ، انڈیا کے پاس ویرات کوہلی ، دھونی جیسا تجربہ کار کھلاڑی ہے جو صورتحال کو قابو کرسکتا ہے اور شاید سرفراز کے پاس اتنا کوئی تجربہ کار کھلاڑی نہیں ۔ محمد یوسف نے کہا کہ آج کل کی کرکٹ میں جس طرح کی کرکٹ ہورہی ہے پچھلے 8،10سال سے، جس ٹیم کی بالنگ اچھی ہوگی اس ٹیم کے جیتنے کے امکانات زیادہ ہوں گے وہ اس ورلڈ کپ میں دیکھیں یا ماضی کے ورلڈ کپ میں دیکھیں ،انڈیا کی بیٹنگ ہمیشہ سے اچھی رہی ہے اس میں کوئی شک نہیں ، ماضی میں اس طرح کی باؤلنگ نہیں ہوتی تھی ایک آدھا بالر رہ جاتا تھا۔ کپل دیوتھے ،سری ناتھ ہوتا تھا یا کوئی ظہیر خان تھا ایک آدھا ہوتا تھا آج ان کے پاس تینوں فاسٹ بالر اچھے ہیں،اسپنرز بھی اچھے ہیں، بیلنس ٹیم بنی ہوئی ہے کام ہوا ہے ٹیم پر اور سب سے بڑی بات دھونی تجربہ کار ہیں وکٹ کے پیچھے ہوتے ہیں آٹھ دس سال انھوں نے کپتانی کی ہے وہ اس کو بہت فائدہ ہے ہماری ٹیم کے ساتھ بدقسمتی ہے کپتان کے ساتھ کوئی ایسا سینئر کھلاڑی، سینئر وہ ہوتا ہے جس نے پرفارم کیا ہو جس کو کرکٹ کا پتا ہو جو اچھا کھلاڑی ہو،۔ ہمارے ساتھ تھوڑی سی مشکلات اس بات کی آرہی ہے کہ سینئر کھلاڑی کو کھلانے کی مینجمنٹ اس طرح کی نہیں کہ اس کو کھلائیں یا نہ کھلائیں اور کھلائیں تو کس نمبر پر کھلائیں تو یہ بہت بڑی پرابلم چل رہی ہے ایک کرکٹ کے طور پر میں یہ بات کررہا ہوں کیوں کی حقیقی بات یہ ہے کہ اس وقت انڈیا کی ٹیم اچھی ہے لیکن دوسری طرف یہ بہت پریشر گیم ہوتی ہے پاکستان کی ٹیم ماضی میں بھی ورلڈکپ ہاری ہے 1999 میں ہماری اتنی بڑی ٹیم تھی کہ یہ بھی نہیں سوچ سکتے کہ یہ ہم سے جیتیں لیکن دباؤ تھا ، پریشر ہینڈل کیا ان کی صورتحال ایسی بنی وکٹیں گریں انھوں نے بورڈز پر رن لگائے ہوئے تھے یہ جیت گئے ہوسکتا ہے کہ کل ہماری ٹیم بورڈز پہ رن لگائے اچھا کھیلے یہ لوگ دباؤ میںآ ئیں اوپر سے روہت اورکوہلی آؤٹ ہوں ان پر دباؤ پڑے جیسے چیمپئنز ٹرافی میں پڑا تھا تو ہم بھی جیت سکتے ہیں ۔سمیت اوستھی نے کہاکہ چیمپئنز ٹرافی کی آپ لوگ بڑی بات کررہے ہیں چیمئنز ٹرافی کو بیتے دو سال ہوگئے ان دو سالوں کے اندر ہماری ٹیم نے کتنے میچ کھیلے اور آپ کی ٹیم نے کتنے میچ کھیلے یہ ڈیٹا یہ ریکارڈ آپ دیکھ سکتے ہیں بھارت 56 میچ کھیلا ہے اور بھارت کا winnig percentage 76 ہے 56 میں سے چالیس میچ جیتے ہیں پاکستان نے 41 میچ کھیلے ہیں اور وہ صرف 16 جیتا ہے winnig percentage 39کے آس پاس ہے اور اس سال تو پاکستان نے سولہ فیصد میچ جیتے ہیں جب کہ بھارت نے 66 فیصدمیچ جیتے ہیں تو یہ ٹیم انڈیا کی تیاری بھی دکھاتا ہے سندیپ جو آپ کہہ رہے ہیں سندیپ پاٹیل آپ کچھ کہنا چاہ رہے تھے بالنگ والی بات پہ جب محمد یوسف بول رہے تھے ۔ سندیپ پاٹیل نے کہا کہ جو حالات آج بھارتی ٹیم کے ہیں جو فارم بھارتی ٹیم نے دکھایا ہے میں نہ صرف اس ورلڈکپ کی بات کررہا ہوں اور زیادہ اتہاس میں جانا نہیں چاہیں گے کیوں اتیہاس بدلتے رہتے ہیں دیکھیں کھیل ایسا ہے جسیا اس دن وسیم جانتا ہے محمد یوسف جانتا ہے میرا دوست سکی بھی جانتا ہے کہ اس میچ کے دن جو کھلاڑی جو ٹیم کھیلتی ہے اور اگر کرکٹ کی بات کرے کرکٹ کے اتیہاس کی بات کرے تو پاکستان ایک ایسی ٹیم ہے جو most unpridictable ٹیم ہے اگر اسی ورلڈ کپ کی اگر ہم بات کریں کہ پٹتی ہے یا پیٹتی ہے دوسرے کو پہلے میچ میں وہ پٹ گئی تھی دوسرے میچ میں انگلینڈ جیسے جسے مانا جاتا ہے کہ بہت ہی اہم دعوے دار ہے اس ورلڈ کپ کے لیے اس لیے باتیں جو ہونی چاہئیں یہ کرنٹ افیئرز جو ہے ، کرنٹ فارم جو ہے اور جو چنتا ہمارے دوستوں کے من میں ہے جو ظاہر کیے ہیں انھوں نے کہ تھوڑا بیلنس وہ بگڑا ہوانظر آرہا ہے پاکستان کے خیمے میں لیکن ہلکا نہیں لینا چاہیے میں یہ ہی کہوں گا کہ آج اس وقت اس گھڑی میں بھارت کا پلڑا بالکل بھاری نظر آرہا ہے شہزاد اقبال نے کہاکہ جی آپ نے بالکل ٹھیک کہا پاکستان unpridictable ٹیم ہے کچھ پتا نہیں ہوتا کس دن کیا کردے انگلینڈ کے ساتھ ہمارااسی ورلڈ کپ میں میچ تھا ہم بارہ میچ ہارتے ہوئے جارہے تھے لیکن آئی سی سی کی نمبر ون ٹیم اور اس ٹورنامنٹ کی فیورٹ ٹیم کو بھی ہرادیا اور بالکل ٹھیک کہا سندیپ صاحب نے کہ اس دن کیا ہوتا ہے آپ کو یاد ہوگا چیمپئنز ٹرافی میں بھمرا کی ایک نو بال تھی جس میں فخر آؤٹ ہوئے لیکن وہ نو بال تھی اور وہیں سے گیم چینج ہوگیا پاکستان کی فیور میں آگیا عبد الرزاق انڈیا کا ٹاپ آرڈر سولڈ ہے مڈل آرڈر میں دھونی ہے پانڈیا ہے تو سولڈ ٹیم ہے پاکستان کی حکمت عملی یہ ہی ہونی چاہیے کہ جو شروع کی وکٹیں ہیں لیکن دھون کھیلیں گے بھی نہیں راہول شاید اوپن کریں تو ہمیں ٹاپ آرڈر کو اڑانا ہے جیسے چیمپئن ٹرافی میں ہوا تھا یہ ہی حکمت عملی ہونی چاہیے ہمیں وکٹیں لینی چاہیے جلد از جلد جتنا ممکن ہو۔ عبد الرزاق نے کہاکہ ہر کھلاڑی کی یہ ہی کوشش ہوتی ہے بالر کو دیکھا جائے تو وہ وکٹ لے بیٹسمین کو دیکھا جائے تو وہ رنز کرے تو یہ اب اس دن پتا چلے گا سب ہی یہ کہہ رہے ہیں جو ٹیم اچھا کھیلے ایک یادو کھلاڑیوں کی پرفارمنس آپ کو میچ جتوا سکتی ہے ،مین آف دی میچ ایک ہی ہوسکتا ہے جو پاکستان سے ہوسکتا ہے یا انڈیا سے ہوسکتا ہے یہ چیز ہمیں نہیں بھولنی چاہیے ٹھیک ہے ہم ورلڈ کپ میں انڈیا سے ہارتے رہے ہیں لیکن اگر ماضی میں دیکھا جائے ہمارے جتنے پرانے کھلاڑی ہیں وہ آپ اکٹھا کرلیں اور انڈیا کے پرانے کھلاڑیوں کو اکٹھا کرلیں اور ان کا میچ کروادیں تو پاکستان 110% سے بہتر ٹیم ہوگی تو یہ نہیں بھولنا چاہیے لیجنڈ کتنے گزرے ہیں آپ نے دیکھا ہوگا کہ 2006 سے پہلے انڈیا نے ہمارے ساتھ کھیلنا ہی چھوڑ دیا تھا اس چیز کو میں اس لیے زیادہ ڈسکس نہیں کرنا چاہتا کہ فائدہ کوئی نہیں ہے پر آپ کوئی اسٹیٹمنٹ نہیں دے سکتے یہ کرکٹ ہے اگر اس دن پاکستان کا اچھا دن ہوا تو انڈیا جتنا مرضی زور لگالے کبھی نہیں جیت سکتی اور ہمیں بھولنا نہیں چاہیے کہ پاکستان کی ٹیم ہے اور انڈیا کی ٹیم کے ساتھ میچ ہے۔

اہم خبریں سے مزید