آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ13؍ذیقعد 1440ھ 17؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہائر ایجوکیشن اور عمومی تعلیم کے جائزے اور موازنے کے لیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ ہمارا معاشرہ معاشی نظام اور سوچ و فکر کی کس سطح پر کھڑا ہے۔ عملی زاویۂ نگاہ سے دیکھیں،تو پاکستان کا معاشی نظام، طبقاتی امتیاز کے خاندانی رسمِ وراثت پر استوار ہے۔ انگریزوں کی آمد سے قبل ہندوستان میں بادشاہت قائم تھی، جاگیرداری نظام نہیں تھا۔ درباری بہت زیادہ امیر اور عوام غربت کے مارے تھے۔ درباری دس ہزاری اور بیس ہزاری منصب پر براجمان ہوتے ، جس کا مطلب یہ ہوتا کہ منصب پر فائز درباری کا کام دس اور بیس ہزار ایکڑ اراضی سے لگان وصول کرنا ہے۔ انگریز جب ہندوستان پر قابض ہوا، تووہی درباری انگریز مُربّی کے غلام بن گئے، جو نہ صرف سازشی ٹولے کی حیثیت سے کام کرتے بلکہ انگریز سرکار کے تسلّط کا تحفّظ بھی کرتے ۔ زیادہ اچھے’’سازشیوں‘‘ کو اراضی سے نوازاجاتا اور یوں جاگیرداری نظام کی بنیاد پڑی۔ حیران کُن یا افسوس ناک بات یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کے اس برق رفتار دَور میں بھی اُس دَور کی کچھ باتیں جوں کی توں رائج ہیں، جیسےاُس وقت غیر معمولی صلاحیتوں کا حامل غریب کا بچّہ، شاذو نادر ہی کسی بڑے منصب پر پہنچ پاتا، یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ وَراثتی سیاست اور جائیدادیں رکھنے والوں کے بچّوں کو غربا کے بچّوں سے مختلف تعلیم دی جاتی ، تاکہ غریب بچّے پڑھ لکھ کرامیروں کا مقابلہ نہ کرسکیں۔یہی نظام آج بھی رائج ہے ۔ یورپ کے مشہورفلسفی، ریاضی دان ، برٹرینڈرسل جو جمہوری سوشلزم کےہامی تھے، اپنے ایک مضمون ’’تعلیم میں طبقاتی احساس کا مقام‘‘ میں لکھتے ہیں ’’سرمایہ داروں کی تجارتی سرگرمیاں ہی سارا سرمایہ دارانہ نظام نہیں اور یہ حقیقت ہے کہ سرمایہ داروں کی دولت کی وجہ سے ان کے بچّوں کو بھی ممتاز حیثیت مل جاتی ہے۔ اس سے میرا مقصد مارکس کے نظریئے پر تنقید کرنا نہیں، کیوں کہ مارکس کو اقتصادیات اور خاندان کے باہمی تعلق کا علم تھا۔ اس سے میرا مقصد اکثر ایسے انگریزی بولنے والے اشتراکیوں پر تنقید کرنا ہے ،جو یہ خیال کرتے ہیں کہ معاشرے کے اقتصادی ڈھانچے کا شادی اور خاندان سے کوئی ربط نہیں۔‘‘ ہندوستان اور پاکستان میں طبقاتی امتیاز کے علاوہ نسل، زبان اور ذات پات سے بھی خاندان کے اعلیٰ ہونےنیز شادی بیاہ وغیرہ کا فیصلہ کیا جاتاہے ، جب کہ عمومی تعلیم بھی اسی خرافات سے جُڑی ہے ، بلکہ شادی بیاہ کو جائیداد سے نتھی کرکے اس کے استحصال کو غیرت، جائیداد ِتحفّظ کی مختلف گھنائونی رسوم و رواج کے ساتھ جوڑ دیاگیا ہے۔کرپشن کے تمام راستے بھی اسی لیے اختیار کیے جاتے ہیں ، تاکہ ایک تو خاندان سیاست میں بالادستی حاصل کرسکے، دوسرا سماج میں خاندان کا نام مزید بلند ہو۔یوں طبقاتی تعلیم میں باپ یا خاندان کی حیثیت ہی اولاد کی سماجی حیثیت کا تعیّن کرتی ہے۔ پس جس معاشرے میں طبقاتی امتیازات موجود ہوں، اس میں بچّوں کو آگے بڑھنے کےمواقع محض ان کی صلاحیتوںیا تعلیمی کار کر دگی کی بنیاد پر نہیں،خاندان اور باپ کی دولت کی بنا پر حاصل ہوتے ہیں۔ غریبوں کو یہ باور کروایا جاتا رہتا ہےکہ ان کی قسمت میں امیروں کی ماتحتی ہی ہے۔ پاکستان جیسے مسلمان مُلک تک میںیہ نہیں بتایا جاتا کہ جاگیرداری یا وڈیرا شاہی انگریزوں کا رائج کردہ ’’کالا نظام‘‘ ہے، اسلام نہیں۔ اشرافیہ کو یہ خطرات لاحق ہیں کہ اگر اسلامی نظام پر عمل در آمد شروع ہوگیا، توغریب اُن کے غلام نہ رہیں گے، وہ اپنا حق مانگیں گے، ناانصافیوں کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوں گے۔ امیروں کو بغاوت اور اس کے نتیجے میں آنے والے انقلاب سے خوف آتا ہے، وہ اس بات سے خوف زدہ ہیںکہ انقلابِ فرانس والی خوںریزی نہ ہو، انارکی نہ پھیلے،اسی لیے دسترخوان لگائے جاتے ہیں کہ محتاج معاشرے کو فروغ مل سکے۔

ہائر ایجوکیشن ہو یا بنیادی تعلیم ، دونوں کو استوار اورفروخت کیا جاتا ہے تاکہ غریب کےنظام ِ تعلیم کی بنیاد نقل اور رٹّاہو۔ یوں سرکاری اسکولز میں تعلیم حاصل کرنے والے اکثر بچّے غلط سمت چل پڑتے ہیں۔پھر نصابِ تعلیم بھی ایسا مدوّن کیا جاتا ہے کہ غریب اور سفید پوش کی اولاد بزدل اور روبوٹ بن کر ملازمت کرے، اسے دورِ جدید میںغلامی کے مترادف ہی سمجھا جا سکتاہے۔گلوبلائزیشن کے دَور میں خاص طور پر جب سابق سوویت یونین اور سوشلزم کا انہدام ہوا، توسرمایہ دارانہ نظام بے لگام ہوگیا۔ پہلے سوشلزم کے ڈر سے یہ صُورتِ حال نہیں تھی۔ تعلیم کو جس طرح کاروبار بنادیا گیا ہے،یہ سوچ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ اب اس سے جہالت کس حد تک ختم ہوگی یہ تو پتا نہیں۔ البتہ، نسلِ نو کے ذہن تاریکی میں ضرور بھٹکتے رہیں گے۔سامراجی ممالک، جنہیں ترقّی یافتہ ممالک بھی کہا جاتا ہے، صدیوں آپس میں لڑتے جھگڑتےرہے،مگر آج سمجھ چکے ہیں کہ پُر امن رہنے ہی میں عافیت ہے۔ چند مغربی ماہرین کاکہنا ہے کہ وہ فورتھ انڈسٹریل جنریشن ایج میں پہنچ چکے ہیں ،جہاں آٹومیشن اور ٹیکنالوجی کی رفتار اس قدر تیز ہے کہ اس کی تعلیم و تربیت کی رفتار کم ہونے اور ہنرمندی(اِسکل گیپ) کی خلیج بڑھنے سے بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے۔اس قدر برق رفتاری سےبدلتی پہلی دنیا کے مقابلے میں پاکستان کہیں کھڑا نظر نہیں آتا۔ اس وقت بڑے بڑے دو نمبری ارب پتی بعض نجی یونی وَرسٹیاں خاصےمنافعےپر چلا رہے ہیں۔ بعض اسکولز کی ’’فرینچائز‘‘ دے کر لاکھوں روپے وصول بھی کررہے ہیں، چینلز ان خبروں کو جگہ بھی دیتے ہیں۔ عوام کے ذہن میں جھوٹا عقیدہ راسخ کیا جاتا ہے کہ نیکی اور آمدنی میں باہمی نسبت ہے۔ بدقسمتی سے ہمارا سماج طبقاتی نظام سے اس قدر متاثر ہےکہ ہر کوئی امیروں کے شوق اپنانا چاہتا ہے۔آج کل ہر بچّے کے ہاتھ میں اسمارٹ فون ہے، کھیل کے میدان ختم ہوگئےہیں۔حال ہی میںہارورڈ یونی وَرسٹی میں یہ سوال زیرِبحث آیا کہ ’’ہائر ایجوکیشن حاصل کرکے ملازمت حاصل کرنے سے فرد کو زیادہ فائدہ پہنچتا ہےیا ریاست کو؟‘‘ دیکھیںذرا کہ مغرب کی یونی وَر سٹیز کیسے کیسے تعمیری موضوعات پر تحقیق میں مصروف ہیں، جب کہ ہمارے یہاں تو پروفیسرز، دانش وَر یا میڈیا تعلیم کے کسی تحقیقی پہلو پر بات ہی نہیں کرتے۔دوسری جانب اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے بھی ذہنی تعطّل کا شکارنظر آتے ہیں، انہیں اپنے ساتھ ہونے والی بے انصافی کا احساس ہی نہیں ، وہ یونی وَرسٹیز کا رُخ قابلیت بڑھانے کے لیےنہیں ، ڈگریز کے حصول کے لیے کرتے ہیں۔ اسائنمنٹس ، نوٹس انٹرنیٹ سے بآسانی کاپی ، پیسٹ ہوجاتے ہیں، ایسے نوجوانوں سے قابلیت کی توقع کیسے اور کیوں کر کی جائے؟یقیناً ہر پاکستانی نوجوان کے ذہن میں یہ سوال ضرور اُبھرتا ہوگا کہ فارغ التّحصیل ہونے کے بعد ’’وائٹ کالرجاب‘‘ مل سکے گی یا نہیں۔ہمارے یہاںجونصاب پڑھایا جارہا ہے ، کیا وہ اگلے دس سال کی تبدیلیوں کو مدّ ِ نظر رکھ کر ترتیب دیا جاتا ہے یا صرف منافع کمانےکے لیےپرانے بوسیدہ نصاب کو پڑھاکر بری الذمّہ ہوا جاتا ہے؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ کچھ (بہت کم) نجی تعلیمی اداروں میں جدید تعلیم کو عالمی معروضی حالات کے مطابق پڑھانے کی کوشش کی جارہی ہے، لیکن یہ تعلیم غریب کے بس سے باہر ہے۔آج کے ترقّی یافتہ دَور میں آگے بڑھنے کے لیے ریفریشر کورسز اور پس ماندہ علاقوں میں جدید تعلیم کے ساتھ ووکیشنل تربیت دینےکی اشد ضرورت ہے۔ یہ بھی ضروری نہیں کہ پاکستان ٹیکنالوجی میں وہ نصاب پڑھائے، جو امریکا میں پڑھایا جارہا ہے۔ ہم اپنے مُلک ،جاب مارکیٹ اورقدرتی وسائل کی طاقت کو سامنے رکھ کر زراعت میں ڈیری فارمنگ ،لائیو اسٹاک میں آٹومیشن اور ٹیکنالوجی کو اختیار کرسکتے ہیں۔علاوہ ازیں، ایگروویل انڈسٹری اور فوڈ انڈسٹری کوفروغ دینے کی بھی ضرورت ہے۔فرانس، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا مکھن کا پہاڑ بنا کر مشرقِ وسطیٰ میں فروخت کررہے ہیں۔ہم دودھ کی پیداوار میں دنیا میں پانچویں نمبر پر ہیں ، مگر ہم نے یہاںملاوٹ کی انتہا کردی ہے،تو ملٹی نیشنل کمپنیز ان ممالک سے دودھ خرید کر ہمیں ہی منہگے داموں فروخت کررہی ہیں ۔ اس طرح ڈالرز باہر جارہے ہیںاور عوام منہگائی کی چکّی میں مزید پِستےچلے جا رہے ہیں، پر کسی کے ذہن میں یہ خیال نہیں آتا کہ ہم بھی مکھن ایکسپورٹ کر سکتے ہیں۔

قابلِ غوربات یہ ہے کہ امریکا جیسے ترقّی یافتہ مُلک میں بھی تعلیم کے نئے نئےمسائل سامنے آرہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق امریکا میںکالج سے فارغ التّحصیل 43فی صدطلبہ کو کم اجرت پرملازمتیں مل رہی ہیں۔ اس قسم کی ’’انڈر ایمپلائمنٹ‘‘ نے وہاںایک تباہ کُن صورت ِحال پیدا کردی ہے، کیوں کہ امریکا میں تعلیم کے لیےجو قرض دیا جاتا ہے، وہ 1.5ٹریلین ڈالرز ہے ،اس وقت 44ملین طلبہ اوسطاً فی کس 37ہزار ڈالرز کے قرض دار ہیں۔ اسٹک گلٹز اپنی کتاب ’’نابرابری کی قیمت‘‘ میں لکھتے ہیں ’’سیاہ فام طلبہ بغیر سود کے قرض بھی نہیں لیتے۔ نسلی امتیاز کی وجہ سے انہیں کم اجرت پر ملازمتیں ملتی ہیں، جس سے قرض واپس کرنا مزیدمشکل ہوجاتا ہے۔‘‘ پاکستان میں تعلیم کا کوئی معیارہی نہیں۔ حکم رانوں کی اکثریت نالائق اور کرپٹ رہی ہے،شعبۂ تعلیم پر دھیان کون دے۔ اس لیے ترقّی کے تمام راستے کرپشن اور قرضوں نے روک دیئے ہیں۔ ورلڈ اکنامک فورم میں دو سال پہلے بتایا گیا تھا کہ’’ 2022ء تک آٹومیشن کی وجہ سے 75ملین ملازمتیں لوگوں کو تتّربتّر کردیں گی۔ جہاں ملازمتوں کی گنجائش ہوگی، وہیں تیکنیکی کام میں ماہرافراد کو جانا اور رہائش پزیر ہونا پڑے گا۔ ‘‘ ورلڈ فورم میں یہ بھی بتایا گیا کہ اسی عرصے میں 133ملین نئی ملازمتیں گلوبل اکانومی میں دست یاب توہوں گی، لیکن ان ملازمتوں کے مطابق لوگوں کےپاس اسناد نہیں ہوں گی ۔ اس طرح کی بے روزگاری کو ’’اِسکل گیپ ‘‘ کہا جاتا ہے۔ورلڈ فورم میں بتایا گیا کہ یہ مسئلہ اس وقت تک حل نہیں ہوسکتا ، جب تک کہ ہائر ایجوکیشن گلوبل اکانومی کی نئی طلب کو پورا نہ کردے۔ پاکستان قبائلی اور نیم جاگیردارانہ نظام میں جکڑا ہوا ہے۔ اسے اپنے معروضی حالات اور اکنامک نیشنلزم (قدرتی وسائل اور زراعت) کے مطابق تعلیم و تربیت دینی ہوگی۔ آج پاکستان میں کالج کا معیارِ تعلیم انتہائی پست ہے۔ ’’نقل اور رٹّا کلچر‘‘عام ہے ۔ سب ہی کو مل کرسوچنا ہوگا کہ نوجوان کس طرف جارہے ہیں۔گراس روٹ لیول پر نظرِثانی کرنی ہوگی۔ اگر ایسا نہیں کیاگیا، تو پاکستانی نوجوان عالمی آٹومیشن اور ٹیکنالوجی کے سیلاب میں ڈوب جائیں گے۔ پرویز ہود بائی ایک مضمون میں لکھتے ہیں ’’اسلام آباد میں ہائر ایجوکیشن کمیشن میںمتعدد تنازعات بہت تیزی سے بدنیتی، بددلی اور نفرت انگیزی سے چل رہے ہیں۔ مستقبل میں یونی وَرسٹیوں کی کیا شکل بنتی ہے، یہ امر قابلِ غور ہے۔‘‘ دراصل پاکستان میں پہلے ہی تعلیم انتہائی زوال پزیر اور فنڈز کی کمی کا شکارہے ۔ ڈاکٹر طارق کئی مہینوں سے ایچ ای سی کے چیئرمین ہیں اور بجٹ کی حالت ناگفتہ بہ ہے۔ دوسری جانب کئی بڑے نام ،وزیرِاعظم عمران خان کے قریب آگئے ہیں۔ وہ اس شعبے کی بہتری کے لیےکیا کرتے ہیں،اس کا فیصلہ ماضی کو سامنے رکھ کر ہی کیا جا سکتا ہے۔تاہم، ان کے سنگِ میل اور کارہائے نمایاں کا جائزہ لینا انتہائی ضروری ہے۔ اگر تیسری دنیا میں وزیرِاعظم خود معیشت دان اور تعلیم کے تمام پہلوئوں پر دست رس رکھتا ہو، تو پھر کسی کی اونچی پوسٹ پر پہنچنے کے لیے خوشامد کرنے کی ہمّت نہیں ہوگی، کیوں کہ وزیرِاعظم کو خود علم ہوگا کہ کون کس جگہ پر موزوں کام کر سکتاہے۔ آج کل کئی خوشامدی بآسانی اونچی پوسٹس پر پہنچ جاتے ہیں، پھر جب نا تجربہ کاری کی وجہ سے اُن کی کار کر دگی صفر رہتی ہے، تو نقصا ن اور کسی کا نہیں، بلکہ مُلک کا ہوتا ہے۔شعبۂ تعلیم میں اہم پوسٹس پر پہنچنے والے افراد انتہائی قابلِ احترام ہوتے ہیں، کیوں کہ مُلک اورنوجوانوں کا مستقبل تعلیم ہی کے ساتھ نتھی ہے۔ سو، محکمۂ تعلیم میں ایسے قابل، تجربہ کار، محنتی اور مُلک و ملّت کی خدمت کے جذبے سے لیس افراد کی ضرورت ہے، جو عُہدوں ، مراعات یا زیادہ تن خواہ کے لالچ میں نہیں، مُلکی مفاد کی خاطر اس شعبے میں آئیں۔ ایسے لوگوں کی تلاش کے لیے وزیرِاعظم کوبڑے ناموں کی بہ جائے بڑے کام سرانجام دینے والوں کوپیشِ ِنظر رکھنا چاہیے، تب ہی کہیں جاکرپاکستان میں معیارِ تعلیم بلند اور نظام ِ تعلیم بہتر ہوگا۔ اورایسا نظام تشکیل پائے گا، جہاں تعلیمی ادارے تجارتی مراکز نہیں، علم و ہنر کا گہوارہ ہوں گے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں