• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیراعظم پاکستان کی طرف سے صحابہ کرامؓ کی شان میں گستاخی قابل مذمت ہے، مذہبی، سیاسی، سماجی رہنما

ہیلی فیکس(زاہدانور مرزا) علامہ قاری محمد عباس صدر مذہبی امور پی پی پی برطانیہ، سواد اعظم اہلسنت و الجماعت کے ناظم اعلی مولانا قاری عبدالرشید، جنرل سیکرٹری جمیعت علماء برطانیہ مولانا محمد اکرم اوکاڑوی، جمیعت علماء برطانیہ کے مرکزی امیر مولانا سید اسد میاں شیرازی،ختم نبوت فورم یورپ کے سیکرٹری جنرل مفتی فیض الرحمن،آصف نسیم راٹھور صدر پی پی پی بریڈفورڈ، ڈاکٹر شاہد عتیق سابق ممبر قومی اسمبلی و مذہبی سکالر، ماموں چوہدری عبدالقیوم، فرخ بشیر، علی اصغر چارلی، چوہدری محمد بشیر، راجہ اے ڈی خان نائب صدر پی پی پی برطانیہ صحابہ کرامؓ کی شان میں وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے گستاخی پر مذہبی سکالر اور سیاسی رہنماؤں کی طرف سے مذمتی مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ہے، جس میں علامہ قاری محمد عباس صدر مذہبی امور برطانیہ پاکستان پیپلز پارٹی نےکہا کہ پاکستانی قوم کی بد نصیبی ہے کہ ایسا وزیر اعظم پاکستانی عوام پر مسلط کر دیا گیا جس کو نہ تو دین کا علم ہے اور نہ ہی اسلامی تاریخ کا پتہ ہے ایک اسلامی ملک کا سربراہ جس کی حالت زار پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہےایک اہم اور حساس عہدے پر منتخب آدمی کی جنگ بدر میں شریک نہ ہونے والے صحابہ اور جنگ اُحد کے صحابہ کے بارے میں بے سرو پا گفتگو مسلم اُمّہ کیلئے انتہائی تذلیل و تکلیف دہ ہے اور توہین آمیز ہے، دین اسلام اور تاریخ اسلام سے نابلد انسان کو چاہئے کہ بات کرنے سے پہلے اس کی تحقیق کرے اگر تقریر کرنے کا بہت شوق ہے یا پھر یادداشت کمزور ہے تو غلط بیان کرنے سے بہتر ہے کہ آپ کسی کاغذ کے ٹکڑے پر لکھ کر بیان کر لیں یا پھر اپنے کسی پڑھے لکھے مشیر سے اچھی تقریر لکھوا لیں تاکہ دنیا کے اندر پاکستانی قوم کی رسوائی اور جگ ہنسائی نہ ہو ۔سیکرٹری جنرل جمیعت علماء برطانیہ مولانا محمد اکرم اوکاڑوی نے کہا کہ صحابہ کرام کے بارے میں بات کرتے وقت انداز گفتگو خوبصورت ہونا چاہئے اور ریسپکٹ فل الفاظ کا انتخاب کیا جانا چاہئے اگر اسلامی تاریخ بیان کرنا ہے تو پہلے اس کا مطالعہ کر لیں تاکہ آپ پوری پاکستانی قوم کی شرمندگی کا باعث نہ بنیں، صحابہ کرام اور بزرگ ہستیوں کے بارے میں الفاظ کے چناؤ اور انتخاب میں انتہائی احتیاط اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہئے اتنے بڑے اہم اور حساس عہدے پر فائز شخص کو ہرگز نازیبا الفاظ زیب نہیں دیتے، وزارت عظمی پر فائز شخص کو چاہئے کہ اپنے منصب کے تقدس کا لحاظ رکھتے ہوئے عقل و دانش سے کام لینا چاہئے تھا، سواد اعظم اہلسنت و الجماعت کے ناظم اعلی مولانا قاری عبد الرشید نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسلامی تاریخ سے نابلد شخص کو ایسے ناروا الفاظ سے قطعی طورپر گریز کرنا چاہئے یہ دین اسلام اور تاریخ اسلامی سے نا آشنا شخص توہین صحابہ کرام کا مرتکب ہوا ہے اس کو اعلانیہ طور پر توبہ کرنی چاہئے کیونکہ ٹیلیویژن پر اس نے صحابہ کرام کی شان میں غلط اور گستاخانہ انداز اختیار کیا ہے اس کے ان الفاظ سے تمام مسلم اُمّہ کی دل آزاری بھی ہوئی ہے۔ اس لئے ٹیلیویژن پر ہی معافی مانگے صحابہ کرام کی شان میں ایسے الفاظ کا استعمال کرنا جو ناپسندیدہ ہوں وہ توہین اور گستاخی کے زمرے میں آتے ہیں لہذا اس پر توبہ واجب ہے اور جو حواری اس کی پردہ پوشی اور دفاع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اُن پر بھی توبہ واجب ہے ورنہ یہ سب توہین صحابہ کے مرتکب تصور کئے جائیں گے پاکستانی مسلم عوام ایسی توہین آمیز باتوں کی متحمل نہیں ہو سکتی ۔سابق ممبر قومی اسمبلی و مذہبی اسکالر ڈاکٹر شاہد عتیق نےکہا ہے کہ تحریک انصاف کے کارکن اور رہنما اس بات کو ملحوظ رکھیں کہ محتاط علماء کرام نے عمران خان کو اس بات کا پورا موقع دیا کہ وہ اپنی اس گستاخانہ تقریر کی وضاحت کرے اور معافی مانگے لیکن اس نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی جس سے بجا طور پر یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ یہ الفاظ سوچے سمجھے ہیں تاکہ مُلک میں افرا تفری پیدا ہو اس نااہل حکومت کے سیاہ کارناموں سے قوم کی توجہ ہٹی رہے۔صدرپی پی پی بریڈفورڈ آصف نسیم راٹھور نے کہا ہے کہ صحابہ کرام وہ برگزیدہ اور مقدس ہستیاں ہیں جن کی شان اللہ تعالی نے خود قرآن پاک میں بیان فرمائی ہے اور حضور علیہ السلام نے بھی ان کی تعریفیں فرمائی ہیں اور جنت کی بشارتیں دی ہیں یہ انسان اس مقدس طائفہ کی شان میں گستاخی کرے۔تاریخ اسلام سے مکمل لا علم شخص کو کیا معلوم کہ کائنات کے اندر صحابہ جیسا کوئی بھی مسلمان پیدا ہوا اور نہ پیدا ہوگا انبیاء کے بعد سب سے افضل ترین اور بہترین از روئے ایمان و اعمال اور اللہ تعالی کے مقرب ترین لوگ صحابہ کرام ہی ہیں جن ہستیوں کا تذکرہ اللہ تعالی نے تورات اور انجیل کے اندر بھی فرمایا ان سے افضل نہ کوئی ولی نہ ہی کوئی غوث اور نہ ہی کوئی قطب ہو سکتا ہے ۔عمران خان کیا جانے صحابہ کی عظمت کو، صحابہ کے مقام کو، صحابہ کے مرتبہ کو، اولیاء، غوث، قطب، ابدال، صحابہ کی پاؤں کی خاک کے برابر بھی نہیں ہو سکتے ۔ جمیعت علماء برطانیہ کے مرکزی امیر سید اسد میاں شیرازی کا کہنا تھا کہ ایسا شخص جس کو دین اور تاریخ اسلام کی الف ب کا بھی پتہ نہیں ہے وہ جنگ اُحد میں مال غنیمت کو اکٹھا کرنے کو کہتا ہے کہ لوٹ مار کر رہے تھے اس کم فہم اور کم عقل انسان کو پتہ ہی نہیں کہ لوٹ مار کا لفظ کہاں بولا جاتا ہے،ہم صحابہ کے جانثار سپاہی ہیں کبھی بھی اُن کی شان میں گُستاخی برداشت نہیں کر سکتے، یہ کیسا مسلمان ہے جو بالکل ہی اخلاقیات سے عاری ہے اللہ تعالی ان لوگوں کو عقل سلیم عطا فرمائے۔ ختم نبوت فورم یورپ کے سیکرٹری جنرل مفتی فیض الرحمن نے کہا ہےکہ کاش عمران نیازی آپ نے سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حیات صحابہ رضوان اللہ تعالی عنہ کی سوانح عمری اور حالات زندگی کو علماء کرام اور اہل علم و دانش کی صحبت میں بیٹھ کر سیکھاہوتا تو آپ کیلئے کتنا اچھا ہوتا آپ کو ادراک ہی نہیں ہے کہ آپ کون سی غلطی اور گستاخی کر بیٹھے ہیں آپ نے رسول اللہ کے اصحاب کا دل دُکھایا ہے حکومتی ارکان میں سے کسی کی زبان سے صحابہ کی شان میں گستاخی پر ایک لفظ تک نہیں نکلا، کل قیامت کے دن سب کچھ کھل کر سامنے آجائے گا نہ یہ لوگ وزیر اعظم کو بچا سکیں گے اور نہ ہی وزیر اعظم ان لوگوں کو بچا سکے گا ۔کتنے بڑے بڑے علماء فقہاء حُکماء صُلحاء دانشور پڑھے لکھے حضرات پاکستان میں موجود ہیں عمران خان اس طرح تقریر کرتا ہے جیسا کہ سب ان پڑھ لوگ بیٹھے ہوئے ہیں ۔ رہنمائوں نے کہا کہ جمیعت علماء اسلام، پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن نے قومی اسمبلی میں ناموس صحابہ کے دفاع کی خاطر جو مؤقف اختیار کیا اُس کی بھر پور تائید کرتے ہوئے ان تمام جماعتوں کا شکریہ ادا کیا ۔اور اپوزیشن جماعتوں کو ایک تجویز دی کہ اس وقت سینیٹ آف پاکستان میں اپوزیشن اکثریت میں ہے لہذا سینیٹ میں صحابہ کرامؓ اور اہل بیتؓ کے ناموس کو تحفظ دلانے کی خاطر فی الفور ایک بل پیش کیا جائے۔

تازہ ترین