آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل12؍ربیع الثانی 1441ھ 10؍ دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

ڈاکٹر رفعت سلطانہ

گزشتہ دنوں صحرائی لوکسٹ (Schistocerca gregaria)کا بدترین حملہ (break out)صوبہ سندھ کےضلع خیرپورکے علاقے ٹھری میرواہ، فقیر جوتاڑ اور دوہرہ کے مقام پر رپورٹ ہوا ۔یہ خبر سننے کے بعدماہرینِ علم ِ حشرات الارض (Entomologist)کی نیندیں اڑ گئیں۔ کہنے کو تو یہ حشروں کا جھنڈ (Swarm) ہوتاہے، لیکن اس کی تباہ کاریاں اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ممکنہ قحط سالی سالوں تک ملک میں اقتصادی بحران کا پیش خیمہ ہوسکتی ہے۔اس حملے کی پیش گوئی اپریل کے مہینے میں کی جاچکی تھی جو اب خیرپور، سندھ اور بلوچستان میں حقیقت بن چکا ہے۔ Schistoceraکی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی انسانی تہذیب کی ہے۔ Locustکی تباہ کاریوں کا زرعی اراضی پر گہرا اثرہوتا ہے ۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایتھوپیا میں قحط سالی کی بنیادی وجہ صرف اور صرف Locust کا خطرناک ترین Swarm تھا ،جس کے نمودار ہونے کے بعد لوگوں کو سالوں تک کھانےکو کچھ میسر نہ ہو سکا۔ سیکڑوں کی تعداد میں لوگ بھوک اور افلاس کا شکار ہوئےاور سالوں تک ایتھوپیا دوبارہ ایک مستحکم ملک نہیں بن سکا۔ قدرتی آفتوں میں سے یہ بدترین آفت ہے۔

حالیہ دنوں میں ضلع خیرپوراورتھر کے علاقے میں اس کا (Out Break)اوردال بندین، بلوچستان میں پے در پے ہونے والے حملوں نے پاکستان کے لیے ایک اور جنگی محاذ کھول دیا ہے۔ اب ملک اقتصادی بحران کےبدترین دورکےلیےتیارہوجا ئے۔ حالیہ رپورٹ کے مطابق متاثرہ علاقوں میں چار یا پانچ ہزار کے لگ بھگ Locustایک درخت پر موجودتھے۔

سوال یہ ہے کہ آخر یہ کیا بلاہے، Swarmکیا ہے، اس کی تباہ کاریاں کیا ہیں، اس کا نزول کیسے ہوتا ہے اور ایک عام ساحشرہ کسی ملک کی اقتصادیات کو کیسے اور کیوں سخت نقصان پہنچاتا ہے؟دراصل یہ کلاس (Insecta )کے ایک اہم (orthoptera)کے گروپ (Acrididea)کا بہت نمایاں رکن ہے۔یہ حشرات گروہوں کی تشکیل (Swarm formation)اور اپنی نقل پذیری (Migration)کی خصوصیات کے لیےبہت مشہور ہیں۔اس خاندان کی ایک قسم (schistocerca gregaria)جب تنہا حالت میں (Solitary Phase)میں زندگی گزارتی ہے تو بالکل بے ضرر ہوتی ہے، لیکن بعض حالا ت میں اس کی تعداد میں حیرت انگیز حد تک اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس وقت یہ گروہ کی صورت (gregarian Phase)اختیار کر لیتی ہے اور پھر جب یہ طویل مسافت طے کر کے کسی بھی سرسبز وشاداب خطے میں پڑائو ڈالتی ہے تو وہ زمین بنجر اراضی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ کسانوں کی سالوں کی محنت اور ملکی معیشت دونوں ہی برباد ہو جاتی ہیں۔ اس سے ہونےوالا نقصان ملکی معیشت پر سنگین اثرات مرتب کرتا ہے۔

اس گروہ کی د و حالتوں (gregarious)اور (Solitary)میں اس قدر نمایاں فرق ہوتا ہے کہ اکثر اس پر نوعی فرق (Specific differences)کا گمان پیدا ہونے لگتا ہے۔ ان کے بیرونی خدوخال میں نمایاں فرق ہے۔ دراصل تنہا(Solitary)حالت کبھی بھی (Swarm)نہیں بنا سکتی۔ اس کا جسمانی رنگ عموماً Greenish Brown ، سطح بالکل ہم وار اور صاف ستھری ہوتی ہے۔اس حشرے کا رنگ سطح زمین سے ملتا جلتا ہوتاہے،یہ اکیلا رہنا پسند کرتا ہے اور کسی بھی قسم کی سرگرمی میں ملوث نہیں ہوتا۔دوسری طرف خوش گوار (Gregarious)حالت ہے ،جس کو لوگ بدنام ِزمانہ حشرے( Locust)کے نام سے جانتے ہیں ۔اس کے نابالغوں میں اس کا جسمانی رنگ ہلکا گلابی اوربالغوں میں کِھلتا ہوا ہوتا ہے ۔اس میں تقریباًپانچ developmental stages ہوتے ہیں۔اس کےآخری یعنی پانچویں stage سے اس کے خوش گوار ہونے کا پتاچلتا ہے ۔ اس کی سطح پر سیاہ رنگ کے نمایاں Bandsنمودار ہونا شروع ہو جاتے ہیں جو بالغ ہونے پر بہت زیادہ نمایاں ہو جاتے ہیں ۔اس کی صرف یہ خصوصیت ہی فوری شناخت کا ذریعہ ہے کہ locustکی اب خوش گوار فارم بے دار ہونے لگی ہے اور یہ کردار اس کو تنہا سے ممتازبناتا ہے ۔مزید بر آںsolitary مرحلے کے بالغ رکن عموماً رات کو سفر کرتے ہیں ۔ gregarious مرحلےکے اراکین دن کےوقت سفر کرتے ہیں، رات کو کسی بھی سرسبزوشاداب اراضی کو اپنا ٹھکانہ بناتے ہیں اور پھر صبح تک اسےچٹ کرجاتے ہیں۔پھر وہ دوسری منزل کی طرف روانہ ہو جاتے ہیں ۔

یہ تو سب جانتے ہیں کہ Locustبدترین حشرات میں سے ایک حشرہ ہے۔ ماضی سے شواہد ملتے ہیں کہ Locustتقریباً 16ملین مربع کلو میٹر تک تباہ کاریوں کا موجب بنتاہے۔ اس کی حد margaritaria سے شروع ہوکر جنوبی افریقا کےصحرائے صحاراکو پار کر کےجزیرہ نما عرب (Arabian Peninsula)کے علاقوں سے گزرتی ہوئی شمال مغربی بھارت سے ہوتی ہوئی پاکستان کا رخ کرتی ہے۔اطلاعات کے مطابق اب تک تقریباً 60 ممالک اس Swarmکی لپیٹ میں ہیں جو تقریباً 32ملین مربع کلو میٹر کے رقبے کے ساتھ سطح زمین کابیس فی صد بنتا ہے۔ٹِڈّی دل ہوا کے بہائو پرسفر کرتا ہےاورایک دن میں 100سے 200کلو میٹرز کی مسافت طے کرلیتاہے۔ اس دوران اس کی اُڑنے کی صلاحیت تقریباً 2000میٹر سطح سمندر سے بلندہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ اٹلس ہندوکش یا ہمالیہ کی چوٹیوں کو نہیں پہنچ سکتا اور نہ ہی یہ افریقا کے گھنے جنگلات اور مرکزی یورپ کا رخ کرتاہے۔ تاہمLocust Swarmباقاعدہ بنیادوں پرRed Sea،افریقا اورجزیرہ نما عرب کو بآسانی اپنی آماج گاہ بناتارہتا ہے۔

ٹِڈّی دل Locustکا خطرناک ترین Plasue 1987-1989کے دوران رپورٹ ہوا تھا جو افریقا، Atlantic Oceanسے ہوتا ہوا Caribbeanکے مقام پر نمودار ہوا تھا اور اس Swarmکو علاقہ عبور کرنے میں تقریباً 10دن لگے تھے۔ایک دل 40سے80ملین Locust پر مشتمل ہوتا ہے، تاہم خطرناک صورت حال میں ان کی تعداد 50سے 100ملین تک بھی ہو سکتی ہے ۔ Locustکی عمومی عمر 3سے 6ماہ ہوتی ہے۔ اس کی ہر نسل میں نمبر بڑھتے ہیں اورسالانہ اس کی تقریباً 6نسلیں ملتی ہیں۔پاکستان میں اس کے دوbreading season موسم گرما اور موسم بہار ہیں اور صرف دو ہی نسلیں ہیں۔

ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق ایک Locust اوسطاً 2 گرام غذا استعما ل کرتا ہے جو اس کے مجموعی وزن کے برابر ہوتا ہے۔یہ تقریباً 4000غذائی اجناس کو اپنی خوراک بناتا ہے۔اس کی مرغوب غذائوں میں مکئی، باجرہ، چاول، کپاس، گندم، گنا، پھل، پھول، کھجوریں ، کیلا، مختلف جڑی بوٹیاں، گھاس پھوس وغیرہ شامل ہیں۔ جنوبی افریقا میں اس کا خطرناک (Break Out) 2004-2005میں رپورٹ ہوا تھا۔ بدقسمتی سے موجودہ صورت حال میں پاکستان کا بدلتا ہوادرجۂ حرارت ، موسمی تغیرات، غیرضروری اور وقت سے پہلے بارشیں ہوناوہ موسمی تغیرات ہیں جن کی وجہ سے Locustکے افزائش نسل کے مقام Breading Placeکو بہت تقویت ملی ہے اور ہزاروں کی تعداد میں اس کی Hatchingپاکستان کی اقتصادی حالت کو مزید ابتر کرنے کے لئے کافی ہے ۔ہمیں اس Swarmکی روک تھام کے لیے فوری اور موثر اقدامات کو یقینی بنانا ہوگا۔چناں چہ فوری طورپر فضائی اسپرے کیا جائے اورمقامی لوگوں کو اس (Break Out)کے متعلق فوری ہدایات اور معلومات فراہم کی جائیں۔ سندھ میں خیرپور اور تھر کے متاثر ہونے کے بعد اس کا (Break Out) بلوچستان میں دال بندین کے مقام پر رپورٹ ہوا ہے،لہذا ملک میں ہنگامی بنیادوں پر اس کی روک تھام کے لئے کوئی حکمت عملی اپنائی جائے اور متاثرہ علاقوں میں ایمرجنسی ڈیکلیئر کی جائے۔

حشرات کی انواع میں Locustوہ قسم ہے، جسے کنٹرول کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی معلوم ہوتاہے۔ Locustکو کنٹرول کرنے کی حکمت عملی کا آغاز1920-1930کی دہائیوں میں اٹلی کے مقام روم سے ہواتھا۔ماحولیاتی تبدیلیوں کے اس کی افزائش پر اثرات ، اس کے افزائش نسل کے مقامات کا تیکنیکی جائزہ لینا اور پھر رپورٹ تیار کر کے Locustسے متاثرہ ممالک کو بھیجنا اس کا بنیادی کام ہے۔ پاکستان میں حالیہ حملےکے بارے میں ہمیں FAO(Food and agricultural organization) جنوری کے آغاز میں بتا چکی تھی، لیکن بدقسمتی سے ہم نے اس پر قابو پانے کے لیے کوئی حکمت عملی نہیں اپنائی لہٰذا نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔  

سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے مزید
ٹیکنالوجی سے مزید