آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ17؍ ربیع الاوّل 1441ھ 15؍ نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

حالتِ احرام میں بدبو والی چیز کھانے کا حکم

تفہیم المسائل

سوال:حالتِ احرام میں سگریٹ نوشی کرنانیز بدبودارچیزیں جیسے کچاپیاز ،کچالہسن کھانا کیسا ہے؟ کیااچار کھانا جائز ہے ،گھر یا فیکٹری کے تیارکردہ اچار میں سے کسی بھی چیز کو آگ پر نہیں پکایاجاتا،گھر کاتیار کردہ اچار دھوپ میں اورفیکٹری کااچار کیمیکل سے پکایاجاتاہے۔(ریحان احمد ،کراچی )

جواب: امام احمد رضاقادریؒ نے حالتِ احرام میں خمیرہ تمباکو کا ایساحقہ پینا جائز قرار دیاہے ، جس میں سنبل اور مشک کی خوشبو کو ملایاگیاہو ،وہ ردالمحتار کے حاشیے پر لکھتے ہیں:ترجمہ:’’ اس سے خمیرہ تمباکو کا حکم مستفاد ہوتاہے کہ ا س میں سنبل اورمشک اوران کی مثل دیگر خوشبویات ڈالی جاتی ہیں،کیونکہ خمیرہ نہ تو کھایاجاتاہے اورنہ ہی پیاجاتاہے ، نہ اس کی اصل اورنہ ہی اس کاکوئی جُز ،بلکہ اس میں آگ اثر کرتی ہے اور اسے دھواں بنادیتی ہے ۔پس اس کی حقیقت بدل جاتی ہے اور حقیقت کے بدل جانے سے حکم بدل جاتاہے ،سو حقہ پینے والے نے نہ تو خوشبو کھائی ہے اور نہ ہی اسے پیا،اُس نے توفقط خوشبودار دھواں پیاہے، تو مناسب ہے کہ اس پر کوئی کفّارہ نہ ہو۔لیکن اگر خوشبو پائی جائے توکراہت ہوگی ،پھرجب کراہت کاحکم مطلق لگایا جائے ،تووہ تحریم کے لیے ہوتی ہے، پس ظاہراً اس سے گناہ گار ہونا لازم آتاہے ،بلکہ زیادہ ظاہر یہ ہے کہ اس خمیرے کا حکم آگ کے اثر انداز ہونے کہ وجہ سے مطبوخ والا ہوگیا اور شرح (ردالمحتار) سے یہ بات معلوم ہوگئی کہ مطبوخ (Cooked)کے استعمال کرنے پر نہ کوئی کفّارہ اورنہ کوئی کراہت ،کیونکہ اس کے مقابل انہوں نے اپنا یہ قول رکھاہے کہ اگر اس خمیرے کو پکایا نہیں اور اس پر خوشبو غالب ہے تو اس کا کھانا مکروہ ہے۔(جدّ الممتا رعلیٰ ردّ المحتار)تاہم اس سے قطعاً یہ مرادنہ لی جائے کہ مُحرِم کے لیے سگریٹ پینے کی اجازت دے دی گئی ،کراہت کا حکم بہرحال موجود ہے اور اتنے اہم فریضے کی ادائیگی کی سعادت کاتقاضا ہے کہ سگریٹ نوشی ترک کردے اور اللہ تعالیٰ سے اس پر قائم رہنے کی توفیق طلب کرے ۔صدرالشریعہ علامہ امجد علی اعظمی لکھتے ہیں: ’’ کھانے میں پکتے وقت خوشبو پڑی یا فناہوگئی توکچھ نہیں ،ورنہ اگر خوشبو کے اجزا زیادہ ہوں تووہ خالص خوشبو کے حکم میں ہے اورکھانا زیادہ ہو توکفّارہ کچھ نہیں مگر خوشبو آتی ہو تو مکروہ ہے۔پینے کی چیز میں خوشبو ملائی ،اگر خوشبو غالب ہے یا تین باریازیادہ بار پیاتو دَم ہے ،ورنہ صدقہ ۔تمباکو کھانے والے اس کا خیال رکھیں کہ احرام میں خوشبودار تمباکو نہ کھائیں کہ پتیوں میں تو ویسے ہی کچی خوشبو ملائی جاتی ہے اور قِوام میں بھی اکثر پکانے کے بعد مُشک وغیرہ ملاتے ہیں۔خمیرہ تمباکو نہ پینا بہترہے کہ اس میں خوشبو ہوتی ہے مگرپیاتوکفّارہ نہیں،(بہارِ شریعت)اچارمیں خوشبو کا استعمال نہیں ہوتا ،لہٰذا اگر مُحرِم اچار کھاتاہے ،تواس پر کوئی کفّارہ یا صدقہ نہیں ہے ۔

اقراء سے مزید