آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل12؍ذیقعد 1440ھ 16؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فلسفے سے شغف رکھنے والوں کے لیے ڈنمارک سے تعلق رکھنے والے جدیدوجودیت (Existentialism) کے پہلے فلسفی شمار کیے جانے والے مبلغ، شاعر، سماجی نقاد اور مذہبی مصنف سورین کرکیگارڈ(Soren Kierkegaard) کا نام کسی تعارف کا محتاج نہ ہو گا۔ انہوں نے اخلاقیات، منطق، نفسیات اور فلسفہ مذہب کو اپنے ناقدانہ علامتی انداز میں اس طرح آشکار کیا کہ تقدس کے نام پر خرید و فروخت کرنےوالے کلیسا کو کاری ضرب پہنچی۔ عیسائی اخلاقیات کو سنوارنے کے لیے وہ فرد کے ذاتی انتخاب کو فوقیت دیتے ہیں اور آئیڈیل تصور کی نفی کرتے ہوئے کہتےہیں،’’عمل کے بغیر علم بے کارہے۔فرد کے لیے وہی سچ ہے جو اس کا ذاتی سچ ہے۔ کوئی بھی کام شروع کرنے سے پہلے خود کو جانیں تبھی کام کی سمت کا تعین کر سکیں گے۔ اصل علم لاعلمی سے ہوتا ہے، جیسے خدا نے یہ دنیا عدم سے بنائی۔ ہر نسل انفرادی طور پر علم کی تلاش شروع کرتی ہے۔ کوئی بھی فرد پچھلی نسل سے نہیں سیکھتا، ہر ایک کی راہ منفرد ہے‘‘۔

جدید وجودیت کے بانی سورین کرکیگارڈ نے کلیسا کی بالادستی ختم کرکے فرد کے وجود کو وقار بخشا اور بابائے وجودیت کہلائے۔ اُنہوں نے علی الاعلان کہا،’’موضوعیت سچ ہے اور سچ موضوعیت ہے‘‘۔ بیسویں صدی کے ادب پر ان کے گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ ڈبلیو ایچ آڈن،بورخیس، ڈون ڈی کلو، ہرمن ہیس، فرانز کافکا، ڈیوڈ لاج، فلینری اوکونر، واکرپرسی،رلکے،جے ڈی سلنگز اور جان اپ ڈائک کی تحریروں میں آپ کو کرکیگارڈ کے وجودی فلسفے کی گونج سنائی دے گی۔ وہ نفسیات بالخصوص کرسچن نفسیات، وجودی نفسیات اور تھراپی کے بانیوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ مارٹن ہیڈگر اور جین پال سارتر ان کے سخت ناقدین رہے۔ بیسویں صدی کے وجودیت و مابعد وجودیت پر کرکیگارڈ کے اثرات کو کسی طرح نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے خیالات ہیگل اورکانٹ سے اثر پذیر رہے۔ بات سے بات نکال کر توڑ تک پہنچنے اور راہ میں اُٹھنے والے سوالات کو چھوڑ کر وہ آنے والے فلسفیوں، ادیبوں، مصوروں اور ماہرین تعمیرات کے لیے رول ماڈل بن گئے۔ معروضی حقائق تک رسائی کے لیے موضوعی سچ کو برتر قرار دیتے ہوئے فرد کی ذاتی روحانی تطہیر اور علم سے سچی لگن پر زور دیتے ہوئے کہا،’’خالی باتوں سے کام نہیں چلے گا۔ عمل سے زندگی بنتی ہے،عقیدت و اخلاقیات کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ معاشرے کا کارآمد فردبننے کے لیے تعلقاتِ عامہ استوار کریں‘‘۔

طوفان بلاخیز حیات

ڈنمارک کے سب سے بڑے شہر اور دارالحکومت کوپن ہیگن میں 5مارچ 1813ء کو پیدا ہونے والے فلسفی، مبلغ اور ثقافتی ناقد سورین کرکیگارڈ کی حیات تلاطم خیز رہی۔ اُنہوں نے نہ صرف بیسویں صدی میں وجودیت و پروٹسٹنٹ مذہبی نقطۂ نظر پر اپنے دیرپا اثرات مرتب کیے بلکہ اپنے وقت کے مذہبی عالموں اور فلسفیوں کے قائم کردہ تصورات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انسانی وجود کو آشکار کیا۔ کرکیگارڈ کی زندگی پے درپےحادثات کا شکار رہی۔ ان کے والد مائیکل پیدرسین کرکیگارڈ ایک ریٹائرڈ بزنس مین تھے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی بچوں کی نشوونما میں وقف کر دی تھی۔

کرکیگارڈ نے 1830ء میں کوپن ہیگن یونیورسٹی میں داخلہ لیا،تاہم 1841ء تک اپنی تعلیم مکمل نہ کر سکے۔ ہیگل کی طرح مذہبی تعلیم کے حصول کے لیے انھوں نے یونیورسٹی میں داخلہ لیا، تاہم سچ کی تلاش میں ادب اور فلسفے کے مطالعہ میںڈوب گئے۔ یونیورسٹی میں تعلیم کے دوران ڈون جوآن اور فاؤسٹ کے مطالعے نے وجودی ماڈلز کی تجسیم میں اہم کردار ادا کیا۔ یہیں سے وہ اپنے والد اور ان کے عقیدے سے باغی ہوئے، مگر والد کی وفات کے بعد 1838ء میں والد کے عیسائی عقیدے کو قبول کیا اور گھر لوٹ آئے اور پھر سنجیدگی سے تعلیم پر توجہ دی۔ ’’سقراط کے نقطۂ نظر سے حکمت کا تصور‘‘نامی مقالہ جون 1841ء میں مکمل کیا اور ستمبر میں اس کا دفاع کیا۔

طنز و مزاح کے تاروپود میں ڈنمارک کے چرچ (لوتھرن) پر ایسے نشتر چبھوئے کہ 1849ء میں ’’سکنس اِن ٹوڈیتھ‘‘ عیسائیت کے لیے خطرہ قرار دی گئی مگر وہ عیسائیت پر تنقید سے باز نہیں آئے۔ کانٹ اور رومانی تحریک کی اثرپذیری سے ’’جمالیات‘‘ (Aesthetics)کی طرف راغب ہوئے ،جسے اُنہوں نے اخلاقیات کے دائرے میں مرتب کرتے ہوئے کہا، ’’خدا کی آواز سے روح کی تطہیر ہوتی ہے۔ مذہبی زندگی تین جہات:کشفِ ذات، حسن سلوک اور سچائی پر مشتمل ہے۔ موضوعیت و معروضیت کے مابین فرق کو تلاش کرنے کا بنیادی اصول یہ ہے کہ ایسے وجودی معاشرے کو تشکیل دیا جائے جہاں باعمل علم، انسان کا سب سے اعلیٰ ترین منصب و ہدف ہو۔ وجود کو وجود سے نہیں، عقیدت سے سمجھا جا سکتا ہے، ہیگل کی اخلاقیات عقیدے کی وضاحت نہیں کر سکتی۔ منطق سے خدا کے وجود کو ثابت کیا جا سکتا ہے‘‘۔

سورین کرکیگارڈ نے عمر کا بڑا حصہ کوپن ہیگن میں گزارا۔ وہ چار بار برلن اور ایک بار سوئیڈن گئے۔ کوپن ہیگن تب بھی نہ چھوڑا جب کورسینر جریدے نے ان کا مذاق اڑایا اور پھپتی کسی۔ وہ راہ چلتے لوگوں سےیوں بات چیت کرتے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو ، معمول کی طرح کیفے جاتے اور تھیٹر دیکھتے۔ ریڑھ کی ہڈی میں کمزوری کے باعث وہ گر گئے تھے، جس کے بعد فیڈرل اسپتال میں ایک ماہ بعد بستر علالت پر رہے اور بالآخر42سال کی عمر میں 11نومبر 1855ء کو فوت ہو گئے۔ وہ اپنے پیچھے 30کتابوں کی صورت فلسفیانہ سوالات کے ایسے مرغولے چھوڑ گئے، جنھیں بعدازاںجین پال ساوتر نے سلجھایا اور بیسویں صدی کے عظیم وجودی فلسفی کہلائے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں