آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 23؍ذوالحجہ 1440ھ 25؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وفاقی وزیر صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کی درخواست پر عالمی ادارہ صحت کا ایک سات رکنی وفد کراچی پہنچ گیا ہے۔

وفد کی آمد کا مقصد پاکستان کے بڑے سرکاری اور پرائیویٹ اسپتالوں کو مریض دوست اسپتالوں میں تبدیل کرنا، اسپتالوں میں مریضوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کرنا، مریضوں کو اسپتالوں سے لاحق ہونے والی بیماریوں سے بچانا اور پاکستان کے لئے مختصر، درمیانی اور طویل المدتی صحت کی پالیسیاں بنانے میں حکومت کی مدد کرنا ہے۔

وفد کے اراکین اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اور پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کا دورہ کریں گے اور وفاقی وزیر صحت ڈاکٹر ظفر مرزا سے ملاقات کریں گے۔

دوسرے مرحلے میں وفد کے اراکین لاہور جنرل اسپتال اور شوکت خانم میموریل کینسر اسپتال کا دورہ کریں گے۔ جب کہ تیسرے مرحلے میں وفد کے اراکین جناح اسپتال کراچی اور آغا خان یونیورسٹی اسپتال کراچی کا دورہ کریں گے۔

عالمی ادارہ صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی اسپتالوں میں مریضوں کے تحفظ کے اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے وہ صحتیاب ہونے کے بجائے مزید بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔

عالمی ماہرین صحت کے مطابق پاکستان میں وائرل ہیپاٹائٹس کے مریضوں کی تعداد اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ ہوچکی ہے۔ دوسری جانب پاکستان  کے شہر لاڑکانہ میں ایچ آئی وی کی وبا سے اب تک 900 سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں، جن میں ساڑھے سات سو سے زائد بچے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے ماہرین کے مطابق ایچ آئی وی اور ہیپاٹائٹس کے مقابلے میں اینٹی بائیوٹک ادویات کے خلاف قوت مزاحمت رکھنے والے بیکٹیریا پاکستان کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن سکتے ہیں۔

جس کی ایک مثال سندھ میں پھیلنے والا ایکس ڈی آر ٹائیفائیڈ بخار ہے جو کہ تیسری جنریشن کی اینٹی بائیوٹک ادویات کے خلاف قوت مزاحمت رکھتا ہے۔

وفاقی وزارت صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ عالمی اداروں کے تعاون سے پاکستان میں صحت کے شعبے میں اصلاحات لائی جا رہی ہیں، جس کے نتیجے میں مریضوں کے مفادات کا تحفظ ہو سکے گا۔

صحت سے مزید