آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ22؍ ذوالحجہ 1440ھ24؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سرکاری ملازمین ملک و قوم کی خدمت کرتے کرتے اپنی عمر گزار دیتے ہیں۔ اِس دوران وہ ہر طرح کے نامساعد حالات کا مقابلہ کرتے ہیں۔ کڑی دھوپ ہو یا تیز آندھی و طوفان، اُنہوں نے بروقت اپنی ڈیوٹی پر پہنچنا ہوتا ہے۔ وطنِ عزیز میں سرکاری ملازمین کی مدتِ ملازمت عموماً 25سے 30سال ہوتی ہے لیکن اکثر افراد اپنے معاشی مسائل کے باعث نوکری کے لئے آخری حد یعنی 60سال کی عمر کو پہنچنے تک نوکری جاری رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ریٹائرمنٹ کے موقع پر جو یکمشت رقم ملازمین کو ملتی ہے اُس سے وہ عام طور پر بیٹیوں کی شادیاں کرتے ہیں یا گھر کی تعمیر جیسے عرصہ دراز سے ادھورے رہ جانے والے امور انجام دیتے ہیں۔ یوں معمر ریٹائرڈ حضرات کی گزر اوقات کے لئے وہ معمولی رقم ہی بچتی ہے جو اُنہیں بعد از ریٹائرمنٹ سرکار ماہانہ پنشن کے نام پر جاری کرتی ہے لیکن بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیش نظر پنشن کی یہ رقم کافی نہیں ہوتی کہ وہ اپنی روز مرہ کی ضروریات پوری کر سکیں۔ پنشنرز کی اِس زبوں حالی کے پیش نظر حکومت نے ریٹائرڈ وفاقی سرکاری ملازمین کی پنشن میں 10فیصد اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ جس کا اطلاق سرکاری سول و مسلح افواج کے ریٹائرڈ ملازمین پر یکم جولائی 2019سے ہو گیا ہے۔ وزارت خزانہ کے نوٹیفکیشن کے مطابق پنشن میں اضافے کا اطلاق فیملی پنشن پر بھی ہوگا۔ علاوہ ازیں معذور سرکاری ملازمین کیلئے اسپیشل کنوئنس الائونس ایک ہزار روپے سے بڑھا کر دو ہزار روپے ماہانہ جبکہ معذوروں کیلئے کنوئنس الائونس معمول کے کنوئنس الائونس سے الگ ہوگا۔ وزارتِ خزانہ کا یہ اقدام نہایت خوش آئند ہے جس سے روز افزوں بڑھتی مہنگائی میں بزرگ پنشنرز کیلئے آسانی پیدا ہو سکے گی۔ ساتھ ہی ساتھ حکومت کو چاہئے کہ پنشنرز کیلئے پنشن کے حصول کے طریقہ کار کو مزید آسان بنائے تاکہ اُنہیں بار بار بینکوں کے چکر نہ لگانا پڑیں اور لمبی قطاروں میں کھڑا نہ ہونا پڑے۔

اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998