آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 23؍ذوالحجہ 1440ھ 25؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایک سادہ سا اصول ہے، اگرآپ چاہتے ہیں کہ آپ کا بچہ فرفر انگریزی بولے تو آپ کو گھر میں بھی انگریزی بول چال والا ماحول فراہم کرنا ہوگا۔ اسی طرح تعلیم کے طریقے جس قدر ٹیکنالوجی سے مربوط ہوتے جارہے ہیں، ہمیں اپنے بچوں کو تمام سہولتیں فراہم کرنی ہوںگی، جو اس دور اور ماحول میں انہیں کسی بھی حوالے سے اجنبی نہ رہنے دیں۔

ایڈاپٹو لرننگ (Adaptive Learning)کو ایڈاپٹو ٹیچنگ (Adaptive Teaching)بھی کہا جاتاہے۔ یہ ایک ایسا طریقۂ تعلیم ہے جو کمپیوٹر الگورتھمز کو باہم مربوط کرکے سیکھنے سکھانے کی سرگرمیوں پر مشتمل پروگرام مرتب کرتا ہے، یعنی آسان زبان میں اسے کمپیوٹر پروگرام کہہ لیں، جو بچوں کو سوال وجواب یا ہدایات کے ذریعے سیکھنے میں مدد دیتا ہے۔ اس میں کمپیوٹر بچوں کی ضرورت یا ذہنی استعداد کے مطابق پریزنٹیشنز ایڈاپٹ (Adapt)کرتاہے۔ مختلف شعبوں میں ایڈاپٹو لرننگ کا استعمال ہو رہاہے ۔

حالیہ برسوںمیں ایڈاپٹو لرننگ ٹیکنالوجی (Adaptive Learning Technology) فروغ پارہی ہے، خاص طور پر اعلیٰ تعلیم میں ارادی طورپر ا س کو اختیار کیا جارہاہے۔ ایڈاپٹو ٹیکنالوجی میں پیش رفت تعلیمی اداروں کی ان ضروریات کو پور ا کرنے کیلئے ہوئی، جو 2012ء میں سامنے آنے لگیں۔ ان کے زیر اثر مستقبل میں اختیار کیے جانے والے طریقہ تدریس کے خدوخال بھی واضح ہونے لگے اور ہمارے سامنے پانچ تھیمز آئیں، جو تعلیم کے میدان میں ہونے والے ارتقاء کی نشاندہی کرتی ہیں یعنی ■ تعلیمی اداروں کی مانگ کے نتیجے میں ایڈاپٹو پراڈکٹس نئی خصوصیات کے ساتھ تیار ہونے لگی ہیں۔ ایڈاپٹو لرننگ تعلیم کیلئے موزوں آپشن ہے، جس کی بنیاد اہلیت پر ہے لیکن یہ صرف مخصوص معاملات میں استعمال ہوتی ہے۔

ایڈاپٹو لرننگ کے ہوتے ہوئے ایڈاپٹو ٹیچنگ کاسامنے آنا بھی لازمی امر تھا، اس کا مطلب ہے کہ فیکلٹی کا کردار بھی نئی ٹیکنالوجی کے سانچے میں ڈھلنے لگا۔ ایڈاپٹو لرننگ کی آگاہی کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پہلے سے زیادہ ہے اور بے شمار تعلیمی ادارے اس ٹیکنالوجی کےپائلٹ پر کام کرچکے ہیں ، لیکن مکمل طور پر اس کااطلاق چند ایک جگہ ہی ہوسکاہے۔

پاکستان کے ثقافتی اور سماجی ماحول میں انگریزی زبان کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ایک پاکستانی طالب علم کو انگریزی زبان پڑھنے، لکھنے اور بولنے میں مہارت لانے کی ضرورت ہوتی ہےتاکہ وہ نہ صرف ملک میں بلکہ بیرون ملک بھی اچھی ملازمت حاصل کرسکے۔ جب ہزاروں کی تعداد میں طلبا انگریزی زبان سیکھنے کی جانب راغب ہوئے تو لامحالہ ایسے اساتذہ کی ضرورت بھی محسوس ہوئی، جو اس طلب کو پورا کرسکیں۔ اس کے حل کیلئے لینگویج ٹریننگ انسٹیٹیوٹ وجود میں آئے اور انگریزی زبان سکھانے کا ایک نیا طریقہ کار ایڈاپٹو انگلش لینگویج ٹیچنگ ٹول (Adaptive English Language Teaching Tool) کو پراجیکٹ کے طور پرمتعارف کروایا گیا۔ اس پراجیکٹ کو تین ادارے مل کرتیار کررہے ہیں، جو سوفٹ ویئر، تدریسی مواد یعنی کونٹینٹ اور سوفٹ ویئر میں پریزینٹیشن دینے کیلئے ملٹی میڈیا کونٹینٹ کی تیار ی کے ذمہ دار ہیں۔ اس پراجیکٹ کا مقصد ایک کمپویٹر ایڈڈ (Computer aided) لینگویج لرننگ سسٹم تیار کرنا ہے، جو نویں کلاس کے طلبا کوانگریزی زبان سے بہرہ مند کردے۔ اس سلسلے میں تدریسی مواد اور اسباق، وزارتِ تعلیم پاکستان کے تیار کردہ تعلیمی نصاب کے مقاصد اور رہنمائی میں ترتیب دیے گئے ہیں، جو چھٹی سے بارہویں جماعت تک کیلئے ہیں۔ اس پراجیکٹ کے فوائددرج ذیل ہیں:

٭انگلش لینگویج ٹیچنگ ٹول سوفٹ ویئر پاکستان کے شہری، دیہی اور مضافاتی علاقوں میں پبلک اسکولوں کے اساتذہ کیلئے فائدہ مند ہے، جو اپنی فنکشنل انگلش میں بہتری لانا چاہتے ہیں اور ساتھ ہی اسے بطور ٹیچنگ ٹول اسے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

٭سرکاری اسکولوں کے طلبا کو اس سے بہت فائدہ ہوگا اور وہ اپنی انگریزی زبان کی صلاحیت میں اضافہ کرنے کے قابل ہوںگے۔

٭یہ پراجیکٹ پاکستان کے بے شمار سرکاری اسکولوں اور تعلیمی اداروں میں موجودہ طریقہ تدریس پر اچھےاثرات مرتب کرے گا۔

٭پاکستان کے اسکولوں اور کالجوں میں یہ پراجیکٹ ای لرننگ کی ترویج کے حوالے سے ابتدائی اقدامات میں سے ایک ہے۔

تعلیم سے مزید