آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ 21؍ ذوالحجہ 1440ھ23؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کیا آپ کے ساتھ بھی ایسا ہوتاہے کہ صبح اٹھیں تو کمر میں درد ہو رہا ہو یا عمدہ نیند نہ آنے کے سبب آپ کا موڈ خراب ہو اور اس وجہ سے دن بھر انجام دیے جانےو الے سارے کام اور آپ کی کارکردگی متاثر ہو؟

کمر درد اور ناکافی نیند کی دیگر وجوہات بھی ہوسکتی ہیں،لیکن اگر آپ غور کریں تو ان میں سے ایک وجہ میٹرس بھی ہے۔ اگر میٹرس آرام دہ نہیں یا خراب ہوگیا ہے تو پھر آپ کو اسے تبدیل کرنے کے بارے میں غور کرنا چاہئے۔ ایک عمدہ میٹرس ارزاںقیمت پر نہیں ملتا، لہٰذا اسے خریدنے سے پہلے چند پہلوئوں پر بھی غور کرلینا چاہئے۔

سب سے پہلے تو یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ دنیا میں کہیں بھی ’’ بہترین ‘‘ میٹرس آ پ کو نہیں مل سکتا، ہاں آپ کے مزاج کی مطابقت سے آپ کو میٹرس مل سکتاہے یا پھر آپ میٹرس کے مطابق ایڈجسٹ ہونے لگتے ہیں۔ انسان اپنی زندگی کا ایک تہائی حصہ سونے میں گزارتا ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ ابھی تک نہیں جان سکا کہ ایک آئیڈیل میٹرس کیا ہوتاہے یا کیسا محسوس ہوتاہے۔

ماضی میں ڈاکٹر سخت گدے تجویز کرتے تھے، لیکن تازہ ترین سروے اور تحقیق اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ ریڑھ کی ہڈی کو اپنی جگہ رکھنے، آرام دہ نیند لینے اور معیاری آرام کیلئے آپ ایک ایسا میٹرس استعمال کریں، جو زیادہ سخت ہو اور نہ زیادہ نرم۔

2011ء میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق جب سات مختلف سختیوں کے حامل میٹرس لوگوں کو ایک مہینے کیلئے دیے گئے تو ان میں سے کوئی بھی ایک بات پر متفق نہیں تھا کہ کون سا میٹرس بہترین تھا۔ دراصل سخت اور درمیانہ سخت کی اصطلاح بھی مشروط تھی، یعنی ضروری نہیں کہ ایک کمپنی کا درمیانہ سخت میٹرس بھی اتناہی آرام دہ ہو جو دوسری کمپنی فراہم کرتی ہے۔

عموماً ہوتا بھی یہی ہے کہ آپ میڑس شاپ پر جاتے ہیں اور بیٹھ کر یا اچھل کر دیکھتے ہیں اور اپنی پسند کے مطابق یہ سوچ کر خرید لیتے ہیں کہ کچھ دن لیٹنے کے بعد میٹرس مزید دبیز ہو جائے گا۔لیکن اس میٹر س پر ایڈجسٹ ہونے میں مہینوں لگ جاتے ہیں، تب تک آپ کی نیند کوالٹی کی نہیں رہ پاتی۔ چلیں اگر کسی میٹرس پر سب کا اتفاق نہیں ہوتا اور ہمیں پرفیکٹ میٹرس نہیں مل پاتا، پھر بھی ہمیں کمرد رداور میٹرس کے تعلق کو تو دیکھنا ہوگا۔

دراصل ہم سب نے یہ بات ذہن میں بٹھالی ہے کہ ہمارا میٹرس نہ بہت زیادہ سخت ہو اور نہ بہت زیادہ نرم، یہی بات بہت سارے مطالعوں میں بھی سامنے آچکی ہےکہ ایک درمیانی سختی والا میٹرس کمردرد کیلئے بہتر ہوتا ہے۔

2014ء میں کینیڈا میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بھی مختلف سختیوں والے میٹرس کی افادیت کے بارے میں یہی بات سامنے آئی ہے کہ کمر درد کے حوالے سے سخت میٹرس کو کم موزوں پایا گیا ہے۔

آپ اپنے کمر درد اور ناکافی نیند کے مسائل کو دور کرنے کے لئے عمدہ قسم کے میٹرس کے انتخاب میں اپنی ترجیحات اور آئیڈیل آرام کو سامنے رکھیں تو آپ کو درج ذیل اقدامات کر گزرنے چاہئیں:

میٹرس کا ٹیسٹ کریں 

کچھ مطالعوں سے پتہ چلا ہے کہ آپ پر نئی چیز خریدنے کا جوش اس قدر حاوی ہوتا ہے کہ آ پ ا س کی فعالیت کو زیادہ اہمیت نہیں دے پاتے۔ میٹرس خریدنے کےلیے پُرجوش ہونے کے ساتھ آپ شوروم میں کچھ وقت میٹرس پر لیٹ یا بیٹھ کر دیکھ لیں کہ وہ آرام دہ ہے یا نہیں۔ اگر آپ کو آرام دہ نہ لگے اور کمر درد محسوس ہونے لگے تو اسے نہ خریدیں۔

جسم کے درجہ حرار ت کومد نظر رکھیں

بہت سے لوگوں کا درجہ حرارت عام لوگوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتاہے، اسی لئے ایسا میٹرس ان کیلئے زیادہ مناسب رہتا ہے، جو ہوا کی آمد و رفت کا نظام ہونے کے باعث ٹھنڈا رہتا ہے اور آرام دہ نیند فراہم کرتا ہے۔ ویسے بھی، چاہے آپ کا درجہ حرارت نارمل ہی کیوں نہ ہو، گرم آب و ہوا یا گرمیوں کے موسم میں آپ کیلئے ایسا میٹرس ضروری ہے جس میں سے ہوا اچھی طرح پاس ہوتی ہو۔

اپنی نیند کے بارے میں سوچیں

آپ کو اپنے لیٹنے کی پوزیشن کو بھی دھیان میں رکھنا ہوگا، کیونکہ سونے کے دوران آپ کا پورا وزن آپ کے جسم، جوڑوںاو ر گدے پر تقسیم ہوتا ہے۔ آپ اپنے سونے کے انداز کی مطابقت سے موزوں سختی والا میٹرس منتخب کرکے کمر درد اور نیند کی کمی کے مسائل پر قابو پاسکتے ہیں۔

اگر میٹرس بہت سخت ہے تو آپ کو محسوس ہوگا کہ آپ فرش پر لیٹے ہیں، جس سے آپ جسم کے مخصوص حصوں پر دباؤ پڑے گا اور اگر بہت زیادہ نرم ہوگا تو آپ خود کو اس میں دھنستا ہوا محسوس کریں گے۔ ایک درمیانے دبیز میٹرس پر آپ کے کندھے اور کولہے آرام دہ حالت میں رہیں گے۔ اسی طرح را ت کو آپ کے سونے کا انداز (posture) اچھا ہو گا، تو آپ کے جسم میں صبح جاگنے کے بعد درد نہیں ہوگا۔

صحت سے مزید